پاکستان میں ایک نئی سیاست کا جنم ہو چکا ہے جبکہ پرانی سیاست بستر مرگ پر دم توڑرہی ہے۔ایک طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں صرف جھوٹ کا ہی بول بالا تھا۔ ٹی وی کے مذاکروں سے لے کر اخباروں کے کالموں تک، لیڈروں کی تقریروں سے لے کر بینروں اور پوسٹروں تک ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ تھا۔ہر لیڈر اور سیاسی پارٹی جلسوں اور جلوسوں میں ترقی اور خوشحالی لانے کے دعوے کرتی تھی لیکن عملی طور پر ان کی تمام تر سیاست مفاد پرستی، ٹھیکوں، رشوت خوری، کرپشن، بد عنوانی، فراڈ اور زیادہ سے زیادہ لوٹ مار پر مبنی تھی۔خواہ مذہب کے نام پر سیاست کی تجارت کرنے والی پارٹیاں ہوں یا قوم پرستی کے نام پر کاروبار چمکانے والی پارٹیاں،اسٹیبلشمنٹ کے وفادار اور پالتو سیاستدان ہوں یا مزدوروں کے نام پر ووٹ کھانے والی پارٹیاں ہر طرف ایک ہی اصول تھا کہ سیاست سب سے منافع بخش کاروبار ہے اور جو اس سے مفاد حاصل نہیں کرتا وہ بیوقوف ہے۔تمام سیاسی کارکنوں کو بھی یہی تربیت دی جا تی تھی اور انہیں بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے لیڈروں کے تلوے چاٹنے کی مشقیں کروائی جاتی تھیں۔ پارٹیوں کے لیڈر اپنے سے بڑے لیڈر یا پھر کسی جرنیل ، جج یا بیوروکریٹ کے سامنے یہی مشقیں دہراتے تھے جبکہ پاکستانی ریاست پر براجمان یہ حکمران سامراجی آقاؤں کے تلوے چاٹ کر اسی سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے۔

1883ء میں جب لندن میں کارل مارکس کی وفات ہوئی تو اسے لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں اس کی بیوی کے ساتھ دفن کیا گیا جو دو سال قبل وفات پا گئی تھی۔ اس موقع پر مارکس کے چند قریبی ساتھی موجود تھے جن میں اس کا دیرینہ دوست، نظریاتی ساتھی اور انقلابی دوست فریڈرک اینگلزبھی تھا۔ اس موقع پراپنے مختصر مگر جامع تاریخی خطاب کا اختتام اینگلز نے ان الفاظ پر کیا تھا، ’’اس کا نام اور کام صدیوں تک زندہ رہے گا۔‘‘

سولر پینلز، واشنگ مشینوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر بھاری محصولات لگانے کے بعد ٹرمپ اب چین سے جھگڑا مول لینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس کی نئی تجاویز کے نتیجے میں60 ارب ڈالر کی چینی برآمدات متاثر ہوں گی جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔