تاریخ جتنی تاخیر سے مرتب ہوتی ہے، حقائق اتنے ہی واضح اور ٹھوس ہو کر منظر عام پر آتے ہیں۔ کسی بھی طبقاتی سماج میں تاریخ ہمیشہ حکمران طبقات مرتب کرتے ہیں۔ ریاستی مورخین اور سرکاری دانش ور تاریخی واقعات کو بالادست طبقات کے نظریات اور مفادات سے مطابقت رکھنے والے زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ جہاں بات نہ بن پائے وہاں ’’نظریہ سازش‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دانشورانہ غیر دیانتداری کو ’’تاریخ کا قتل ‘‘کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکمران طبقات کے باہمی تضادات خود بہت سے تاریخی حقائق کو عیاں اور بے نقاب کر دیتے ہیں۔

گزشتہ اتوار ونزویلا کے محنت کش عوام اور نوجوانوں نے ایک بار پھر انقلابی جوش و ولولے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف ونزویلا (PSUV) کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ آج بھی ونزویلا کے عوام رد انقلاب کے حملوں اور تمام تر مشکلات کے باوجود 2002ء میں ہوگو شاویز کی جانب سے شروع کئے گئے انقلابی عمل کا دفاع کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ سوشلسٹوں کو دائیں بازوکے 43فیصدکے مقابلے میں 54 فیصد ووٹ ملے۔ PSUV اور اس کے اتحادیوں نے 196 جبکہ دائیں بازو کی اپوزیشن نے 53 میونسپل نشستیں حاصل کیں۔ پچھلے چند مہینوں میں بولیوارین انقلاب کے حامیوں کی دائیں بازو پر انتخابی سبقت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں 1.49فیصد ووٹوں کی برتری کے مقابلے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں PSUVکو 6.52 فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ PSUV اور اتحادیوں کے 234 جبکہ اپوزیشن کے 67 میئر منتخب ہوئے ہیں۔ ٹرن آؤٹ 58.92 فیصد رہا جو کہ اس طرح کے انتخابات کے معاملے میں یورپ کے کئی ممالک سے زیادہ ہے۔

، 7 اور 8دسمبر 2013ء کو میمن گوٹھ کراچی میں موسم سرما کے نیشنل مارکسی یوتھ سکول کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے 160 سے زائد کامریڈز نے شرکت کی۔ سکول میں مجموعی طور پر پانچ موضوعات زیر بحث آئے اور کامریڈز نے سیاسی اور نظریاتی بحثوں نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔

اسلام آباد سے مظفر آباد جاتے ہوئے کوہالہ پل سے دریائے نیلم پار کیا جاتا ہے۔ جہاں کشمیر کے پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کی خوبصورتی دل کو لبھاتی ہے وہاں خستہ حال انفراسٹرکچر اپنی بوسیدگی کا احساس دلاتا ہے۔ کسی بھی ذی شعورانسان کو اس جنت بے نظیر کے قدرتی حسن سے زیادہ یہاں کے باسیوں کی بدحالی کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ چشموں کی فراوانی کے باوجود پینے اور استعمال کے پانی کا حصول ایک مشقت طلب کام ہے۔ سڑکیں ایک طرف سے بننا شروع ہوتی ہیں تو دوسری طرف سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ علاج معالجے کی سہولیات برائے نام ہیں۔ روزگار نا پید ہے۔ غربت عام ہے۔

’’اگر منڈیلا اور شاویز کی وفات پر سامراج کے سرخیل جریدے اکانومسٹ کی کوریج دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے منڈیلا ہیرو تھا اور شاویز ولن‘‘

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو شہر ترید (دریائے رائن کے کنارے والے پروشیا) میں پیدا ہوئے۔ مارکس کے باپ ایک یہودی وکیل تھے جنہوں نے 1824ء میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا۔ پورا گھرانہ خوش حال تھا، مہذب تھا مگر انقلابی نہیں تھا۔ ترید میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ پہلے بون میں پھر برلن یونیورسٹی میں، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ 1841ء تک ان کی باقاعدہ طالب علمی آخری منزل کو پہنچ گئی اورانہوں نے ایپیکیوریس کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ خیالات کے لحاظ سے کارل مارکس اس وقت تک فلسفی ہیگل کے عینی ( خیال پرستانہ) نظریے کو مانتے تھے۔ برلن میں بھی ان کا حلقہ ’’ہیگل کے بائیں بازو والے حامیوں‘‘ کا تھا (مثلاً برونو باؤئر وغیرہ)۔ ان لوگوں کی کوشش یہ رہتی تھی کہ ہیگل کے فلسفے سے لا مذہبیت کے خیالات اور انقلابی نتیجے اخذ کریں۔

وینزویلا میں 8 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن ہونے جارہے ہیں اور اس سے پہلے ہی وہاں افواہ سازی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اشیا کی قیمتوں میں بدترین اضافے اور معیشت کو سبوتاژکرنے کی کوششیں بھی اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہیں۔ وینزویلاکے صدرماڈورونے اس سارے عمل کوحکومت کے خلاف ایک ’’سست رفتار بغاوت‘‘ (Slow Motion Coup) قراردیاہے۔ سرمایہ داروں اور سامراجیوں کے ایسے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے کئی سالوں کے دوران افراط زر کی شرح 74 فیصد جبکہ اشیا کی قلت کی شرح22فیصد تک جا چکی ہے۔

بجلی، پٹرولیم اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد شاید کوئی کسر باقی رہ گئی تھی کہ اب دوا ساز کمپنیوں کی ’’پرزور فرمائش‘‘ پر ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے پہلے ہی باہر ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے منافعے اور اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ محنت کشوں کی اجرتیں اور غریب عوام کی آمدن میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے۔

23 نومبر کو جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ کے قریب کامونکی میں واقع ماسٹر ٹائل کے گیٹ کے سامنے سینکڑوں برطرف ملازمین نے پر زور احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کش بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور فیکٹری میں ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا جس کے نتیجے میں فیکٹری میں کام بند ہوگیا۔

بالشویک انقلاب کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر کامریڈ لال خان حیدر آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کی حاصلات اور سوویت یونین کی زوال پزیری کی وجوہات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

صدیوں سے حکمران روس کے ظالم اور جابر بادشاہوں کی سرزمین پر جنہیں زار کہا جاتا تھا اکتوبر 1917ء کا انقلاب انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ پہلی دفعہ محنت کش، محروم اور صدیوں سے ظلم اور استحصال کا شکار اکثریت نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کیا اور ایک مزدور ریاست تشکیل دی۔ عوام کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم سمیت تمام بنیادی ضروریات کا مسئلہ حل ہوا اورانسان تسخیر کائنات کی راہ پر گامزن ہوا جس میں پہلی دفعہ کوئی شخص اس کرہ ارض کی حدود سے باہر نکل کر خلا میں داخل ہوا۔

ڈرون حملے ہوں یا ملالہ کی کتاب کا ’’معمہ‘‘، میڈیا پر ہونے والی ہر بحث و تکرار کو موجودہ نظام کی حدود و قیود تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ آزاد خیال اور قدامت پرست، دونوں طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی عقل اور دانش سرمایہ داری کی اخلاقیات، سیاسیات اور معاشیات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اسلامی پارٹیاں اور دایاں بازو اس سماجی جمود کے عہد میں معاشرے پر چھائی ظاہری رجعت کے بلبوطے پر جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی اور دائیں بازو کے یہ دانشور امریکی سامراج کے جبر و استحصال کے خلاف پائی جانے والی عوامی نفرت کو بنیاد پرستی کے راستوں پر ڈال کر سماج کو ماضی بعید کے اندھیروں میں غرق کر دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، سیاسی انتشار اور سماجی خلفشار نے عوام کی نفسیات کو شل کر کے سیاسی بے حسی کی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ لیکن ان اذیت ناک حالات میں بھی عام آدمی کے لئے رجعتی سیاست دانوں کے دلائل میں کوئی کشش موجود نہیں ہے۔ ’’غیر سول‘‘ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے یہ کروڑوں ’’جاہل‘‘ انسان اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ماضی کے تعصبات اور مذہبی بنیاد پرستی میں ان کے مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ چنانچہ سماج کی بھاری اکثریت رجعتی ملاؤں اور مذہبی رہنماؤں سے نہ تو متاثر ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی حمایت کرتی ہے۔ دوسری طرف وہ لبرل اور سیکولر حضرات ہیں جنہیں کسی انقلابی تبدیلی کا کوئی ادراک نہیں، اگر کبھی تھا تو یہ لوگ اس سے منحرف ہوچکے ہیں۔ یہ لبرل دانشور جب ’’میڈیا مناظروں‘‘ امریکی سامراج کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اپناتے ہیں تو مذہبی عناصر بغیر کسی منطقی دلیل کے بھی اپنے آپ کو سرخرو سمجھتے ہیں۔