اس ملک کی اشرافیہ اور ان کی نمائندگی کرنے والے دانشور پچھلی کئی دہائیوں سے جمہوریت اور آمریت کی بحث کرتے چلے آرہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بننے والے پرویز مشرف کے نام نہاد ٹرائل نے اس بحث کو ایک بار پھر سے گرم کر دیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی سامراج نے سرد جنگ کے پس منظر میں اپنے سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں فوجی آمریتیں مسلط کی تھیں۔ پاکستان میں ایوب خان اور ضیا الحق، چلی میں جنرل پنوشے اور سپین میں جنرل فرانکو سمیت سابقہ نوآبادیاتی ممالک میں دائیں بازو کی وحشیانہ آمریتوں کو مالی اور سفارتی امداد کے ذریعے مضبوط کیا گیا۔ سوویت یونین کے انہدام، چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے نئے عالمی منظر نامے میں سامراج کے لئے کئی آمریتیں بے فائدہ ہوچکی تھیں۔ سامراجی استحصال اور تسلط کو قائم رکھنے کے لئے نئے سیاسی ساخت درکار تھی۔ ’’مصالحت کا نظریہ‘‘ (Theory of Reconcialtion) اسی عہد میں تراشا اور مسلط کیا گیا تھا جس کے تحت ضیاالحق کی آمریت کے بعد پیپلز پارٹی کو کئی بار اقتدار دیا گیا۔

بیسویں صدی کے عظیم مارکسسٹ فلاسفر، بالشویک انقلاب کے قائد اور تمام عمر سامراجیت کے خلاف عالمگیر سوشلسٹ انقلاب کی جنگ لڑنے والے محنت کش طبقے کے انتھک سپاہی کامریڈ ولادیمیر لینن کی 90ویں برسی کے موقع پر ہم ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’سامراج، سرمایہ داری کی آخری منزل‘‘ اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

طبقاتی جدوجہد کی 32ویں کانگریس 8-9 مارچ کو ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہونے جارہی ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی پہلی مجوزہ دستاویز ’’عالمی تناظر‘‘ شائع کر رہے ہیں۔

19 جنوری کو بنوں میں ہونے والے بم دھماکے میں ایف سی کے 22 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ 15 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 20 جنوری کی صبح راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب آر اے بازار میں بم دھماکے سے تیرہ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بچوں سمیت انتیس سے زائد افراد زخمی ہیں۔ تحریک طالبان نے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ ’’حکومت خلوص ثابت کرے تو مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ ‘‘ اس بیان کا ہر لفظ اس ملک کے حکمرانوں کے منہ پر زور دارطمانچہ ہے۔

طالبان کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ اور ’’جنگ‘‘ کا معاملہ سٹینڈ پر کھڑے اس سائیکل کے مانند ہے جس کا پہیہ تو گھوم رہا ہے لیکن باقی سب کچھ ساکت ہے۔ ’’اچھے طالبان‘‘ اور ’’برے طالبان‘‘ کی بے معنی اصطلاحات ایک بار پھر استعمال کی جارہی ہیں۔ یہاں ’’اچھائی‘‘ اور ’’برائی‘‘ مطلق نہیں بلکہ اضافی ہے۔ امریکی سامراج کے پالے ہوئے طالبان پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کوبرے لگتے ہیں جبکہ پاکستانی ریاست کے ’’اسٹریٹجک اثاثے‘‘ امریکیوں کی نظر میں برے ہیں۔ پھر مذہبی جنونیوں کے کچھ مسلح گروہ ایسے بھی ہیں جو دونوں قوتوں کے لئے بیک وقت اچھے یا برے ہیں۔ اچھے برے طالبان کی پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کے بے حسی دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ نہ تو ان میں دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی کے عفریت پر قابو پانے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی نیت۔ ان کے بیانات ریڈیو پاکستان یا پی ٹی وی کے خبرنامے سے مختلف نہیں ہیں جو 67 سالوں میں تبدیل نہیں ہوا۔ حکمرانوں کے چہرے بدل جاتے ہیں، عادات و اطوار اور طریقہ کار وہی رہتا ہے۔ میڈیا کی آزادی کا بہت شور ہے لیکن ’’آزادی‘‘ کی انتہاؤں پر بھی اس نظام کی تنگ حدود سے آگے کی بات کرنا کم و بیش ناممکن ہے۔

کسی بھی قوم یا ملک کے دوبنیادی اثاثے ہوتے ہیں، اس کے باسی یا اسکے ذرائع پیداوار اور وسائل۔ اگر ہم پاکستان کے حکمرانوں کے بیانات اور تقاریر کاجائزہ لیں، ذرائع ابلاغ کے پروگراموں اور ترانوں پر غور کریں تو ہمیں ہر طرف سے ’’قومی مفادات‘‘، ’’حب الوطنی‘‘، ’’ملکی سا لمیت‘‘ وغیرہ کے نعرے ہی نعرے سنائی دیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ان حکمران طبقات کو ملک اور وطن کا اتنا درد ہے کہ وہ جان بھی دے دیں گے۔ لیکن اگر ان کی پالیسیوں، عزائم اور عملی وارداتوں کا جائزہ لیں تو یہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے حکمران دوہرے معیاروں منافقت اور وطن فروشی کے سردار نظر آئیں گے۔ حب الوطنی، قوم پرستی اور ملکی سالمیتوں کے نعرے عوام کو اس شاونزم کی جذباتیت کے ذریعے ذہنی طور پر مطیع اور محکوم بنانے کے لیے استعمال کئے جاتے ہیں۔ اگر ہم اس ملک کے عوام کی بھاری اکثریت کی زندگیوں کاجائزہ لیں تو اس ملک کی تاریخ کا ہر دن ان کے عذابوں میں اضافے کا ہی باعث بنتا ہے۔ یہاں کے محنت کشوں کی زندگیاں اتنی تلخ، محرومی اتنی شدید اور زندگی کی ضروریات کی قلت اتنی زیادہ ہے کہ اس ملک کی بھاری اکثریت کا جینا ایک عذابِ مسلسل بن گیاہے۔ جہاں تک اس ملک کی محنت، صنعت وزراعت، معدنیات اور دوسرے اثاثوں اور معاشی شعبوں کا جائزہ لیں تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کس بے دردی سے یہ ان قومی اثاثوں کو اجاڑ رہے ہیں اور ان قومی ملکیت میں سے نکلنے والے اداروں کو زیادہ تر بیرونی سامراجی اجارہ داریاں یا پھر ان حکمرانوں کے سرمائے کے بڑے مگر مچھ نگل رہے ہیں۔ یہ اس ملک کے اثاثوں کو اس گھریلو سامان کی طرح اونے پونے داموں بیچ دینا چاہتے ہیں جیسے کوئی بگڑا ہوا آوارہ سپوت اپنے خاندانی اثاثوں کو فروخت کرکے اپنی عیاشی اور بدکاری کے لیے استعمال کرتا ہے۔ ہمارے حکمران ان اجارہ داریوں سے لیے گئے کمیشنوں کو اپنے پہلے سے موجود دولت کے انباروں میں مزید اضافے کی زہریلی ہوس کی پیاس کو مٹانے کے لیے استعمال کریں گے۔

موجودہ حکومت کے دوسرے سیاسی اور انتظامی فیصلوں کی طرح بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سیاستدانوں کے تذبذب اور ٹھوس فیصلہ سازی میں ناکامی کے پیش نظر ہر معاملے میں عدلیہ مداخلت کررہی ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ریاستی معاملات میں عدلیہ کا کردار جتنا بڑھ گیا ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ اقتصادی اور سیاسی طور پر نحیف حکمران طبقے کے لئے فیصلے کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا چلا جارہا ہے۔ حکمران دراصل عدلیہ کی مداخلت سے خوش بھی ہیں کیونکہ اس طریقے سے پیچیدہ معاملات تاخیر زدگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عدالتی اور ریاستی نظام میں اشرافیہ کی سہولت کے لئے رکھے جانے والے چور راستوں کی وجہ سے کیس ہمیشہ کے لئے التوا کا شکار ہو کر عوام کی یادداشت اور میڈیا کی سرخیوں سے غائب ہوجاتے ہیں۔

’’ذوالفقارعلی بھٹو کے ہئیر سٹائل اور باڈی لینگویج کی نقالی کر لینے سے پارٹی کو 1970ء کی طرح عوام میں مقبول نہیں بنایا جاسکتا۔ پارٹی کو ایک نئے جنم اور ازسر نو ابھار کے لئے ایک بار پھر انقلابی سوشلزم کا پروگرام اپنانا ہوگا۔‘‘

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے الفاظ کی حرارت میں اضافہ کرتے ہوئے 3 جنوری 2014ء کو یہ دھماکہ خیز بیان دیا ہے کہ وہ ’’اردو بولنے والے سندھیوں‘‘ کے لئے الگ صوبہ یا ملک بنانے کی طرف جائیں گے۔ یہ دراصل کراچی میں آپریشن کرنے والی پاکستانی ریاست کے لئے ایک دھمکی ہے۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ دو عشروں سے زیادہ عرصہ تک کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کا حصہ رہنے کے بعد اب ایم کیو ایم کو اقتدار سے باہر رہنا مشکل محسوس ہورہا ہے۔ سرکاری طور پر کراچی میں جاری حالیہ آپریشن کا مقصد اگرچہ دہشت گرد وں اور بھتہ خوروں کا خاتمہ بتایا جارہا ہے تاہم محسوس یہ ہورہا ہے کہ انتخابی سیاست میں ایم کیو ایم کی برتری قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ’’کچھ عناصر‘‘ بھی اس آپریشن کی زد میں آرہے ہیں۔ ایم کیو ایم کی کراچی اور حیدر آباد میں احتجاجی ریلیاں بنیادی طور پر کراچی میں جاری اسی آپریشن کو روکنے کی ایک کاوش ہیں۔ سندھ میں اپنا گورنر ہونے کے باوجود ایم کیو ایم کا یہ رونا دھونا دراصل اس کی سیاسی ساکھ کی زوال پزیری اور سماجی بنیادوں کے کھوکھلے پن کی غمازی کرتا ہے۔ حالیہ انتخابات کے بعد اقتدار میں حصہ حاصل کرنے میں ناکامی نے ایم کیوایم کے سیاسی اور تنظیمی بحران کو اور بھی شدید کر دیا ہے۔

جہاں مالی مفادات، سیاسی طاقت اور خارجہ پالیسی پر اختلافات کی وجہ سے پاکستان کے حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کے درمیان تناؤ شدت پکڑ رہا ہے وہاں اس سماج کے باسیوں کی وسیع اکثریت کے لئے غربت، محرومی اور بے روزگاری کی اذیتوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ صورتحال بحثییت مجموعی سرمایہ دارانہ نظام کے شدید معاشی، سیاسی اور سفارتی بحران کی غماز ہے۔ لینن نے قبل از انقلاب صورتحال کی سب سے بڑی نشانی حکمران طبقے کے آپسی تضادات کی شدت کو قرار دیا تھا۔

تاریخ جتنی تاخیر سے مرتب ہوتی ہے، حقائق اتنے ہی واضح اور ٹھوس ہو کر منظر عام پر آتے ہیں۔ کسی بھی طبقاتی سماج میں تاریخ ہمیشہ حکمران طبقات مرتب کرتے ہیں۔ ریاستی مورخین اور سرکاری دانش ور تاریخی واقعات کو بالادست طبقات کے نظریات اور مفادات سے مطابقت رکھنے والے زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ جہاں بات نہ بن پائے وہاں ’’نظریہ سازش‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دانشورانہ غیر دیانتداری کو ’’تاریخ کا قتل ‘‘کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکمران طبقات کے باہمی تضادات خود بہت سے تاریخی حقائق کو عیاں اور بے نقاب کر دیتے ہیں۔

گزشتہ اتوار ونزویلا کے محنت کش عوام اور نوجوانوں نے ایک بار پھر انقلابی جوش و ولولے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف ونزویلا (PSUV) کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ آج بھی ونزویلا کے عوام رد انقلاب کے حملوں اور تمام تر مشکلات کے باوجود 2002ء میں ہوگو شاویز کی جانب سے شروع کئے گئے انقلابی عمل کا دفاع کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ سوشلسٹوں کو دائیں بازوکے 43فیصدکے مقابلے میں 54 فیصد ووٹ ملے۔ PSUV اور اس کے اتحادیوں نے 196 جبکہ دائیں بازو کی اپوزیشن نے 53 میونسپل نشستیں حاصل کیں۔ پچھلے چند مہینوں میں بولیوارین انقلاب کے حامیوں کی دائیں بازو پر انتخابی سبقت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں 1.49فیصد ووٹوں کی برتری کے مقابلے حالیہ بلدیاتی انتخابات میں PSUVکو 6.52 فیصد زیادہ ووٹ ملے ہیں۔ PSUV اور اتحادیوں کے 234 جبکہ اپوزیشن کے 67 میئر منتخب ہوئے ہیں۔ ٹرن آؤٹ 58.92 فیصد رہا جو کہ اس طرح کے انتخابات کے معاملے میں یورپ کے کئی ممالک سے زیادہ ہے۔