13 جولائی، 2018ء کے منحوس دن برطانیہ میں 2003ء کے عراق جنگ مخالف احتجاجوں کے بعد منظم ہونے والے سب سے بڑے احتجاجوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال کیا۔ اس احتجاج کا دیو ہیکل حجم ہی برطانوی سماج میں موجود بے پناہ غم و غصے اور بغاوت کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی ہے۔

تھریسا مئے ابھی محض تین ہفتے قبل اپنے یورپ نواز ممبران پارلیمنٹ کی کھوکھلی بغاوت سے جانبر ہی ہوئی تھی کہ اب ایک بار پھر اپنی پارٹی کے سخت گیر انخلا پسند دھڑے سے نبرد آزما ہے، جس کی وجہ سے پچھلے سال کے عام انتخابات کے بعد سے تاحال تھریسا حکومت کا یہ سب سے بڑا اور خوفناک بحران ہے۔

ایسا ہونا طے نہیں تھا۔ نیویارک کے موجودہ کانگریس کے ممبر جو کرولی، جو کوئینز کاؤنٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ بھی ہے اور ڈیموکریٹس کے دوبارہ اکثریت میں آنے کی صورت میں اس نے ایوان کے سپیکر کے طور پر نینسی پیلوسی کی جگہ بھی لینا تھی، کو ایک 28 سالہ کارکن الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز نے شکست دے دی جو اپنے آپ کو ایک سوشلسٹ کہتی ہے اور DSA کی ممبر ہے۔

کل 2 جولائی کو عوام نے بہت بڑی تعداد میں میکسیکو کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ جس میں 18,229 عوامی نشستوں کا فیصلہ ہونا تھا، لیکن ان میں سے سب سے اہم صدارت کی نشست تھی۔ میسر معلومات کے مطابق 8 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے یہ میکسیکو کی تاریخ کی سب سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی شرح تھی۔

امریکی ’’جمہوریت‘‘ ایک ایسی مشین ہے جسے صدیوں میں اس طرح سے کامل بنایا گیا ہے کہ چاہے جو بھی منتخب ہو بینکوں اور ارب پتیوں کے مفادات کی اچھے سے ترجمانی ہوتی رہے۔ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ، جو طاقت کے اصولوں کے مطابق کھیلنے سے انکار کرتا ہے، امریکہ کا پینتالیسواں صدر کیسے بن گیا؟

عالمی سطح پر چینی ”کیمونسٹ پارٹی” (CCP) پہلے سے بڑھ کر پر اعتماد دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی چینی محنت کش طبقہ سرمایہ داری کے تلخ حقائق کے خلاف حرکت میں آتا نظر آرہا ہے۔ مئی سے اب تک تین بڑے پیمانے کی ملک گیر ہڑتالیں ہو چکی ہیں جو کرین آپریٹرز اور فاسٹ فوڈ ڈلیوری کرنے والے محنت کشوں سے شروع ہوئیں اور ابھی حال ہی میں ٹرک ڈرائیوروں کی بھی ہڑتال دیکھنے میں آئی ہے۔ محنت کش طبقے کے حجم کے مقابلے میں یہ ہڑتالیں چھوٹی ہیں مگر محنت کشوں کے منظم ہونے کی صلاحیت سے معلوم ہوتا ہے کہ چینی محنت کش طبقے کی ایک پرت جدوجہد کی طرف دھکیلی جا چکی ہے۔

سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی ملاقات بنا کسی گرما گرمی کے اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے، جو کم از کم G7 سے تو بڑھ کر ہی تھا۔ لیکن درحقیقت وہ بمشکل ہی کسی چیز پر متفق ہوئے۔

سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی ملاقات بنا کسی گرما گرمی کے اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے، جو کم از کم G7 سے تو بڑھ کر ہی تھا۔ لیکن درحقیقت وہ بمشکل ہی کسی چیز پر متفق ہوئے۔

>جمعرات کے روز ٹرمپ کے کینیڈا، جاپان، میکسیکو اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی ڈیڈ لائن گزر گئی۔ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم پر جن محصولات کی دھمکی دی تھی وہ لاگو ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ٹرمپ نے عالمگیریت کی نفی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کے دن ہونے والی G7 کی میٹنگ میں باقی 6 ملکوں کے وزرائے خزانہ امریکہ کے خلاف متحد ہو گئے اور امریکہ کے فیصلے پر اپنی ’’مشترکہ تشویش اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا۔

تامل ناڈو انڈیا میں درجنوں پر امن مظاہرین کو ریاستی اداروں نے اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ ایک ایسی فیکٹری کی بندش کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے جو ماحول کی خرابی اور مقامی لوگوں کی اموات کا باعث بن رہی تھی۔ لوئی تھامس تامل ناڈو سے رپورٹ کرتے ہیں۔

یہ مضمون اپریل 1939ء میں لکھا گیا، یہ ٹراٹسکی کے قتل سے قبل انقلابی مارکسزم کی سچائی کے متعلق اس کی آخری تحریروں میں سے ایک ہے۔ یہ مضمون 1939ء میںOtto Ruhleکی جانب سے کی جانے والی مارکس کی سرمایہ کی تلخیص کے تعارف کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اسے ایک پمفلٹ کے طور پر بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ پمفلٹ انٹرنیٹ پر سب سے پہلے ’’مارکسزم کے دفاع میں(marxist.com)‘‘ ویب سائٹ پر شائع ہواتھا۔

سرمایہ دارانہ نظام کے سنجیدہ نمائندے اس خدشے کو لے کر سخت خوفزدہ ہیں ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری یہ تجارتی تنازعہ کہیں کھلی معاشی جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے۔ فنانشل ٹائمز کے ایک حالیہ اداریے میں ایسوسی ایٹ ایڈیٹر مارٹن وولف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ساتھ 337 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی غرض سے چینی مصنوعات پر (آنے والے دو سالوں میں) 200 ارب ڈالر کے ٹیرف لاگو کرنے کے منصوبے کو انتہائی غیر ذمہ داری پر مبنی پاگل پن قرار دیا۔ مگر ٹرمپ کے پاگل پن میں ہی اس کا طریقہ واردات چھپا ہے۔ وہ غالباً ڈرا دھمکا کر بدمعاشی سے ڈیل کرنے کے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بہر طور ٹرمپ کا اشتعال انگیز رویہ پہلے سے ہی زبوں حال عالمی معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا رہا ہے۔