حال ہی میں انتخابی مہم کے دوران بورس جانسن، جیرمی کوربن اور جو سوینسن نے لندن میں برطانیہ کی کنفیڈریشن آف انڈسٹری کی ایک کانفرنس میں چوٹی کے صنعت کاروں سے خطاب کیا۔ سوینسن نے اس بات پر زور دیا کہ لبرل ڈیموکریٹس ”کاروبار کی فطری پارٹی“ ہیں کیونکہ وہ بریگزٹ کو روکنا چاہتے ہیں۔ جانسن نے وعدہ کیا کہ کاروبار پر عائد ٹیکسوں میں کمی کے ساتھ ”استحکام“ یقینی بنایا جائے گا۔

”یورپ پر ایک بھوت منڈلا رہا ہے“۔ اس شہرہئ آفاق جملے کے ساتھ کمیونسٹ مینی فیسٹو کے مصنفین نے انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کیا۔ یہ 1848ء کا سال تھا، جب پورا یورپ انقلاب کی لپیٹ میں تھا۔ لیکن اب ایک بھوت صرف یورپ ہی نہیں پوری دنیا پر منڈلا رہا ہے۔ یہ عالمی انقلاب کا بھوت ہے۔

چند سال پہلے پاسدارانِ انقلاب کے ایک کمانڈر اور بسیجی مسلح جتھے کے درمیان ایک گفتگو کی ریکارڈنگ منظرِ عام پر آئی جس میں 2009ء کی ’سبز تحریک‘ زیرِ بحث تھی۔ اس گفتگو میں کمانڈر نے کچھ اس طرح سے بات کی کہ ”یہ لوگ (گرین تحریک میں شامل افراد) کھاتے پیتے گھرانوں کے خوبرو لونڈے ہیں، ان سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن ایک مرتبہ تباہ حال اور محروم علاقوں کی بے سروپا عوام سڑکوں پر آگئی تو اس وقت ہمیں واقعی ہم خوفزدہ ہوں گے“۔

وہ دن آ چکا ہے۔