نظریات سے عاری سیاست کی پارٹیاں اور رہنما ایسے شتر بے مہا بن جاتے ہیں جن کی کوئی سمت ہوتی ہے نہ مقصد اور منزل۔ حالیہ لانگ مارچوں اور دھرنوں کے سرخیل لیڈروں کی نان سٹاپ تقاریرمیں تذبذب، تضاد، مضحکہ خیز استدلال اور بے معنی وعظ و نصیحت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ ’خطبات‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ اور فہم سے بالاتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک فرد کی تقریر میں تھوڑی سی تاخیر سے بھی ’کنسرٹ‘ کے شرکا کے جذبات ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔ ’’انقلاب‘‘ کا یہ تماشا ثقافت سے محروم حکمرانوں کے ایک مصنوعی شہر میں رچایا جارہا ہے جو معاشی اور صنعتی طور پر غیر اہم ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی اور سیاسی طور پر کسی انقلابی روایت سے عاری ہے۔

’’جرنیلوں نے جب فوجی کُو کرنا ہوتا ہے تو میڈیا پر باقاعدہ اعلان کے بعد کور کمانڈروں کی میٹنگ اور پھر پریس ریلیز جاری نہیں ہوا کرتی۔ ۔ ۔‘‘

ISIL کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں ’’خلافت‘‘ کے نفاذ اور کرد انتظامیہ کی طرف سے کردستان میں ریفرنڈم کے اعلان کے بعد عراق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ممکنہ جغرافیائی تقسیم کا تناظر زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ مسلح جنگجوؤں کی نسبتاًچھوٹی تعداد کے ہاتھوں عراق کے بڑے علاقوں پر تیزی سے قبضہ کرنے سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہوا؟ شمال میں موصل جیسے شہروں پر قبضہ کرنے والے گروپوں پر عراقی مسلح افواج کوبہت زیادہ عددی برتری حاصل تھی لیکن عراقی فوج ہوامیں اڑ گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ گہرائی میں کچھ ہو رہا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات نے پورے براعظم کے سیاسی منظرنامے کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ فرانس، یونان اور بر طانیہ جیسے ممالک میں اسٹیبلشمنٹ مخالف پارٹیوں نے بڑی فتوحات حاصل کی ہیں جس کی وجہ سے بڑی سیاسی پارٹیوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی ہیں۔ یہ موقف مکمل طور غلط ثابت ہو چکا ہے کہ یہ الیکشن دائیں بازو اور یہاں تک کہ فاشزم کی طرف جھکاؤ کا اظہار کررہے ہیں۔

15جون بروز اتوار کی صبح شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ کاروائی کا آغاز فضائی حملوں سے کیا گیا۔ 18 جون کو آنے والی خبروں کے مطابق عسکریت پسندوں کے 60 فیصد ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے 40 فیصد حصے پر فوج نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آپریشن کی فوری وجہ کراچی ایئرپورٹ پر ازبک دہشت گردوں کے حملے کو قرار دیا جارہا ہے۔ اس حملے کے بعد ریاست کے حاوی حصوں کی جانب سے راست قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری بیانات جو بھی ہوں گرین سگنل عسکری قیادت نے ہی دیا۔ عسکری قیادت کی جانب سے جمودتوڑنے کا فیصلہ کرنے کی بنیادی وجہ فوج کی نچلی پرتوں میں پنپنے والا شدید دباؤ ہے۔ ریاستی مشینری کے بالائی حصوں میں دولت کی سرایت اور سماج میں فیصلہ کن ریاستی اداروں کی گرتی ہوئی ساکھ کے پیش نظر یہ قدم اٹھانا شاید ناگزیر ہوچکا تھا۔

کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایک عرصے سے دہشت گردی کا ناسور ایک معمول بن کر اس سماج میں پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس دہشت گردی کی کئی اقسام ہیں۔ ظاہری مقاصد اور تراکیب بھی مختلف ہیں۔ لیکن کراچی سے لے کر خیبر تک ہونے والی دہشت گردی میں ایک قدر بہر حال مشترک ہے: کاروائیاں کروانے والوں کی مسلسل اور بھاری سرمایہ کاری۔ ان بھاری رقوم کو دہشت گردی پر صرف کر کے ہزاروں لوگوں کا قتل عام کرنے والوں کے مقاصد سمجھے بغیر اس بربریت کی اصل وجوہات تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ بیماری کی تشخیص کے بغیر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔

نریندرا مودی کی جانب سے حلف برداری کی تقریب پر میاں نواز شریف کو دی جانے والی دعوت، میاں صاحب کی قبولیت اور راشتریا بھون پہنچ جانے کے واقعات کو علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر غیر معمولی کوریج تو ملی ہے لیکن یہ سارے اقدامات اور واقعات بحث وتکرار اور تنازعات کا باعث بھی بنے ہیں۔

مریکیوں کے خوراک سے متعلق خراب رویوں کا شورتو بہت مچایا جاتا ہے لیکن ان رویوں کے اسباب پر بات نہیں ہوتی۔ مارکس نے واضح کیا تھا کہ حالات شعور کا تعین کرتے ہیں۔ آپ کا مادی اور سماجی ماحول آپ کے انتخاب کے حدود کا تعین کرکے چیزوں کی پسند و نا پسند کا فیصلہ کرتا ہے۔ زیادہ تر امریکیوں کے لیے خوراک کا انتخاب آمدن، وقت، دستیابی، تشہیر اور آس پاس رہنے والے انسانوں کے سماجی معیار پر منحصر ہے۔ انفرادی خواہشوں کا انحصار بھی سماجی اور ثقافتی روایات پر ہوتا ہے، جن کا تعین مادی حالات کرتے ہیں۔ اگر تمام انسان سائنسی طورپر تیار کردہ سستی اور نمکیات، چربی اورنشاستہ کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے والی غذا خرید سکتے ہوں تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی ’’مرضی‘‘ کیا ہوگی؟

عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی بڑے پیمانے پر فتح اور دائیں بازو کے پاپولسٹ سیاسی رہنما کے طور پر نریندرا مودی کے ابھار نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں لبرل اور سیکولر دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ یہ حضرات امید لگائے ہوئے تھے کہ شاید انتخابات کے نتائج کارپوریٹ میڈیا کی پیشین گوئی سے مختلف ہوجائیں لیکن BJP نے نہ صرف لوک سبھا میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی اکثریت حاصل کی ہے بلکہ کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کو بھی خاک چاٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ کانگریس کی شکست میں اگرچہ کرپشن اور مہنگائی جیسے عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے تاہم BJP کی فتح کی وجوہات صرف یہاں تک ہی محدود نہیں ہیں۔

ترکی کے شہر سوما میں کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کی تعداد 274 ہوگئی ہے جبکہ 100 سے زائد مزدور تاحال زیر زمین پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ حادثہ ترکی میں گزشتہ ایک دہائی کی نام نہاد ’’معاشی ترقی‘‘ میں پوشیدہ بدترین استحصال کی صرف ایک جھلک ہے۔ ترکی کے عوام اس وقت شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ میڈیا پر ہلاک ہونے والے محنت کشوں کی لاشوں کی فوٹیج چلنے کے بعد عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس وقت حادثے کی جگہ پر امدادی کارکنان کے علاوہ سینکڑوں محنت کش آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ جمع ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کل پیپلز پارٹی قیادت نواز شریف کی تعریفوں کے پل باندھنے کے لئے کسی موقع کی تلاشِ مسلسل میں مصروف رہنے لگی ہے۔ 12 مئی کو پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے کے اقدام کو نواز شریف کا عظیم کارنامہ قرار دیا ہے۔ یہ سیاستدان بھی کیسے بھلے مانس ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ خارجہ پالیسی کا تعین کہیں اور ہوتا ہے، ایک دوسرے کو کبھی لعن طعن تو کبھی مبارک بادیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ریاست، سیاست اور معیشت کے ایسے کلیدی فیصلے سیاسی حکمران نہیں بلکہ مالیاتی سرمائے کے حاوی دھڑے اور سامراجی آقا کرتے ہیں۔