15دسمبر 2018ء بروز ہفتہ، بختیار لیبر ہال لاہور میں پروگریسو یوتھ الائنس کے انتہائی شاندار مرکزی کنونشن کا انعقاد ہوا۔کنونشن میں ملک بھر سے طلبہ و طالبات اور بیروزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجودشرکت کی۔کنونشن کا بنیادی مطالبہ ہر سطح پر مفت تعلیم کی فراہمی اور طلبہ یونین کی بحالی تھا۔ اس کے علاوہ دیگر مطالبات کے حق میں بھی قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت شامل تھی۔کنونشن کی مقرر ہ جگہ ایوان اقبال کا مرکزی ہال تھی، مگر لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام دشمن حربے استعمال کیے گئے اور مفت تعلیم اور طلبہ یونین کی بحالی کے نعروں پر ہونے والے اس کنونشن کو ناکام کرنے کی گھناؤنی کوشش کی گئی۔ اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کرتے ہوئے کنونشن سے صرف ایک دن قبل ایوان اقبال میں پروگرام کرنے کیلئے اپنا ہی دیا گیااین او سی منسوخ کر دیا گیا۔ وجہ پوچھنے پر یہ کہا گیا کہ ’’اوپر‘‘ سے حکم آیا ہے کہ یہ پروگرام نہیں ہو سکتا اور یہ کہ ہم تفصیلات بتانے کے مجاز نہیں ہیں اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ہیں۔ اس پر کنونشن کے منتظمین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ انہیں تحریری شکل میں وضاحت دی جائے لیکن ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا اور منتظمین کے ساتھ انتہائی ہتک آمیز سلوک کرتے ہوئے انہیں سخت کاروائی کی دھمکیاں دی گئیں۔

فرانس کی سماجی اور سیاسی صورتحال خوفناک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہ سے کم عرصے میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے ملک کو انقلابی بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دہلیز پار بھی ہو سکتی ہے۔ تحریک کو آگے دھکیلنے میں کیا چیز فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؟

ریولوشن (IMT کا فرانسیسی سیکشن) کے طالب علم ممبران نے مونٹ پیلیئے یونیورسٹی میں ہونے والے عام اکٹھ میں مندرجہ ذیل قراردار منظور کی۔ یہ ٹولوز میں ایک طلبہ کے اکٹھ میں بھی پیش کی گئی(جس پر آج رائے شماری ہو گی) اور اسے نانٹیر اور لیون میں بھی پیش کیا جائے گا۔ اس میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک کی حمایت کی گئی ہے اور میکرون کی قابل نفرت حکومت کو گرانے کے لیے ہڑتالوں کی مہم چلانے کا کہا گیا ہے۔