چین میں کورونا وائرس کی وبا ایک خطرناک شکل اختیار کرچکی ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق تا دم تحریر،چین میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مصدقہ تعداد6ہزار (اب یہ تعداد لگ بھگ 24ہزار کو پہنچ چکی ہے) تھی جن کی اکثریت کا تعلق ہوبے صوبے کے دارالحکومت ووہان سے ہے۔تاہم نو اور صوبوں سے بھی سو سے زائد حتمی کیسز کی رپورٹ آئی ہے، جن میں سے بیشتر مریضوں کا تعلق صنعتی صوبوں ژی جیانگ اور گوانگڈونگ سے ہے۔کورونا وائرس اب چین سے نکل کر تھائی لینڈ، آسٹریلیا اور امریکہ تک پھیل رہا ہے۔

سماج سے کٹا عالمی حکمران طبقہ اس ہفتے سالانہ ملاقات کے لیے اکٹھا ہوا۔ لیکن اپنے وضع کردہ لبرل نظام کو چاروں اطراف خطرات میں گھرا دیکھ کر دنیا کے امیر ترین افراد اور ان کے نمائندوں کا موڈ مایوس کن اوراداس تھا۔

12 دسمبرکو ہونے والے برطانوی انتخابات تاریخی اہمیت کے حامل تھے۔ان انتخابات کے نتائج حسب معمول انتہائی غیر متوقع تھے جن میں دائیں بازو کی ٹوری پارٹی بورس جانسن کی قیادت میں واضح اکثریت جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے جبکہ لیبر پارٹی جیرمی کاربن کی قیادت میں بائیں بازو کا انتہائی انقلابی منشور دینے کے باوجود اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اس صوتحال کا سائنسی تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل کی جدوجہد کے لیے اہم نتائج اخذ کیے جا سکیں جو اس طبقاتی کشمکش کے شدت اختیار کرنے کا عہد ہے۔