مارکسزم کی سچائی کو آج پوری دنیا کے حالات ثابت کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام آج حالتِ مرگ کو پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ سال 2011ء انقلابی اٹھانوں کا سال تھا اور ان تمام تر انقلابی تحریکوں نے ثابت کیا کہ یہ نظام انسانوں کو سہولتیں دینے سے قاصر ہو چکا ہے اور اس نظام میں انسانی سماج کو آگے بڑھانے کی سکت ختم ہو چکی ہے۔ مگر یہ اپنی نزع کے عالم میں بھی ہر طرف بربادیاں بکھیر رہا ہے اور نسلِ انسانی ان اذیتوں سے کراہ رہی ہے۔ ...

پاکستان پوسٹ آفس ڈائریکٹوریٹ جنرل ایمپلائز یونین اسلام آباد کے انتخابات 11 مارچ 2013 کو منعقد ہوئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق PTUDC کے کامریڈز کے انقلابی گروپ نے 70% ووٹ لیکر پیپلز پارٹی قیادت اور نام نہاد ’انقلابیوں‘ کے حمایت یافتہ اتحاد گروپ کو تاریخ کی شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ ممکنہ شکست سے بچنے کے لئے اتحاد گروپ نے حالیہ انتخابات کورکوانے کی ہر ممکن کوشش کی اور پیپلز پارٹی کی وفاقی وزارتِ اطلاعات اور پیپلز لیبر فیڈریشن کے حکومتی آشیرباد سے ہائیکورٹ اور NIRC میں دو دفعہ ان انتخابات کے خلاف حکمِ امتناہی حاصل کیا۔

تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس  آنچل  سے  اک  پرچم  بنا  لیتی  تو  اچھا تھا

مجاز لکھنوی کی یہ نظم 1930ء کی دہائی میں لکھی گئی تھی لیکن اس میں تحریر سے نصف صدی قبل افغانستان کے ایک واقعے کی گونج سنائی دیتی ہے۔میوند کی ملالئی جولائی 1880ء میں میدان جنگ میں ماری گئی جب اس کی عمر صرف 17سال تھی اور وہ برطانوی اور ہندی افواج کے خلاف دوسری افغان جنگ میں برسرِ پیکار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ملالئی نے، جسے ملالہ بھی کہا جاتا ہے،اپنے دوپٹے سے عَلم بنایا اور زندگی و موت کی جدوجہد میں اپنے افغان ساتھیوں قیادت کی۔