’’اس میزائل گردی سے انفراسٹرکچر، توانائی اور پانی کی فراہمی کے ذرائع کی جو تباہی ہوگی اس کاخمیازہ کون بھگتے گا؟ وہ بچے، بوڑھے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ اس جارحیت کی زد میں آئیں گے جن کا رونا رو کر امریکہ سامراجی جارحیت کرنے کی طرف جارہا ہے‘‘

شام میں 30 ماہ سے جاری بھیانک خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک جبکہ کئی لاکھ زخمی، اپاہج اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ دو دن پہلے دارلحکومت دمشق کے قریب باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ایک تصادم کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متاثرین کے درد ناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ دونوں اطراف اس حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد امریکی ریاست کے کچھ دھڑوں کی جانب سے صدر اوباما پر تنازعے میں براہ راست فوجی مداخلت کے لئے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کی قدامت پرست ریپبلکن پارٹی کے ایک لیڈر جان مکین نے اوباما حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر اس معاملے کو دبا دیا گیا تو دنیا بھر کے ظالم آمروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی چھوٹ مل جائے گی۔‘‘ ڈیموکریٹک پارٹی کے خارجہ امور کی کمیٹی میں نمائندے ایلیٹ اینگل نے کہا ہے کہ ’’اگر ہم اپنے اتحادیوں سے مل کر اسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے قاتلانہ استعمال کے خلاف رد عمل نہیں کریں گے تو جارح ممالک اس کو سبز بتی سمجھیں گے۔‘‘ امریکہ کے ایک روشن خیال مفکر گور وائیڈل نے امریکی سیاست کے بارے میں کہا تھا کہ ’’امریکہ میں ایک سرمایہ دارانہ پارٹی ہے جس کے دو دائیں بازو کے دھڑے (ریپبلکن اور ڈیموکریٹ) ہیں۔‘‘

7 اور 8 جولائی2013ء کوکشمیر کے شہر راولاکوٹ میں نیشنل مارکسی سکول (گرما) کا انعقاد کیا گیا جس میں پورے پاکستان سے 270 سے زائدکامریڈز نے شرکت کی۔ دو روز تک جاری رہنے والا یہ سکول مجموعی طور پر چارسیشن پر مشتمل تھا۔ سکول سے ایک دن پہلے راولاکوٹ میں ایک یوتھ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔