دنیا بھر سے اپنے قارئین کی پر زور فرمائش پر ہم طبقاتی جدوجہد کی 33ویں کانگریس 2014ء کے دونوں دنوں کی مکمل تصاویر شائع کر رہے ہیں۔ (فوٹو گرافی: کامریڈ علی منگول)

برسوں بیت گئے پاکستان کے عوام کی سماعتوں نے کچھ اچھا نہیں سنا۔ آنکھیں ہیں کہ ہر روز کسی نئے صدمے سے پھٹی ہی چلی جا رہی ہیں۔ احساس شل ہو چکے ہیں اور حق بولنے والوں کی زبان گونگی ہوتی جا رہی ہے اور میڈیا ہے کہ گولی، بارود، موت، جرائم، دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ جیسی لفاظی کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ کہنا کچھ بھی چاہ رہا ہو اصطلاحات یہی استعمال کرتا ہے۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد بائیں بازو کے لیڈروں، نظریہ دانوں اور سیاسی کارکنان کی ایک پوری نسل نظریاتی تنزلی اور مایوسی کا شکار ہوگئی تھی۔ دو دہائیاں گزر گئیں۔ تذبذب اور بیگانگی بڑھتی رہی۔ سٹالن ازم کے پاش پاش ہونے پر سامراجیوں نے مارکسزم کی ناکامی اور موت کا اعلان کردیا۔ مارکسسٹوں کو کتنی دہائیاں سٹالن ازم کو بے نقاب کرنے میں لگ گئیں لیکن جب سٹالن ازم کا بت ٹوٹا تو پھر ہر الزام، ہر جرم اور ہر ناکامی کے لئے مارکسزم کو مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا۔ ایک زمانے میں ماسکو اور بیجنگ کی پوجا کرنے والے حکمرانوں کی اس یلغار کا حصہ بن گئے۔