جنگ کے شروع ہونے سے پہلے تک بالشویک پارٹی سوشل ڈیموکریٹک انٹرنیشنل کا حصہ تھی۔ 4 اگست 1914ء کو جرمنی کی سوشل ڈیموکریسی نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد یہ تعلق ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا اور بالشویزم اور سوشل ڈیموکریسی کے درمیان ایک نا ختم ہونے والا اور غیر مصالحانہ جدوجہد کا دور شروع ہو گیا۔

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں ہر سربراہ مملکت کا سب سے زیادہ توجہ طلب بیرونی دورہ، امریکہ کا ہوتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں رائج معاشی، سماجی اور اقتصادی نظام کا عالمی سطح پر حتمی آقا امریکہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ تاریخ کی سب سے طاقتور معاشی و سیاسی قوت اور دنیا کا پولیس مین بن کر ابھرا تھا۔ اس سے پیشتر یہ کردار بڑی حد تک برطانوی سامراج ادا کرتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ماسوائے پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملے کے، امریکی سرزمین جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی تھی لیکن جنگ کے پانچ سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ میں حالت جنگ کے ایمرجنسی قوانین نافذ رہے۔ ان جبری قوانین کے ذریعے امریکی محنت کشوں کے حقوق صلب کئے گئے اور ان کے بھرپور استحصال سے بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کی شکل میں قدر زائد کا ذخیرہ جمع کیا گیا۔ عالمی جنگ کے اختتام تک یورپ اور جاپان برباد ہوچکے تھے۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے برطانیہ اوریورپ کی دوسری سامراجی قوتوں کی معاشی، صنعتی اور عسکری طاقت مفلوج ہو چکی تھی چنانچہ عالمی سرمایہ داری کو بچانے اور سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدودکرنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ جیمز مارشل نے یورپ اور جاپان کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا جسے ’’مارشل پلان‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارشل پلان کے تحت جنگ کے دوران اکٹھی ہونے والی امریکی صنعتی پیداوار کو یورپ اور دوسرے تباہ حال ممالک میں صرف کرکے امریکی سرمایہ داروں نے بے پناہ مالیاتی فائدہ اٹھایا اور یوں امریکہ دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا۔ ساری سرمایہ دارانہ دنیا اس کی مقروض ہوچکی تھی چنانچہ امریکہ نے عالمی پولیس مین اور غالب سامراج کا رتبہ حاصل کر لیا۔

کاپوریٹ میڈیااور حکمران طبقات کے اہل دانش تمام تر سماجی تضادات کو حکمرانوں کے مابین سیاسی و معاشی اختلافات تک محدود کر کے رکھ دیتے ہیں۔ عوام کو حکمرانوں کے باہمی اختلافات میں الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ داخلی معاشی یا اقتصادی پالیسیاں ہوں یا افغانستان جیسا خارجی مسئلہ، ہمارے سامنے صرف حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کی حمایت یا مخالفت کی آپشن رکھی جاتی ہے۔ آج کل حکمران اشرافیہ کے ’لبرل‘ اور ’سیکولر‘ دھڑے پورے زور و شور سے یہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ بہادر اس خطے سے چلا گیا توطالبان اور مذہبی جنونی پاکستان کو تاراج کر دیں گے۔ دوسری طرف ریاست اور حکمران طبقے کے مذہبی بنیاد پرست دھڑے پاکستان کے تمام تر مسائل کی وجہ امریکہ کو قرار دیتے ہیں، اپنے آپ کو امریکہ دشمن قرار دینے والے یہ رجعتی عناصر ’’اسلامی فلاحی ریاست‘‘ کے قیام کے لئے ہر طرح کی دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو جائز سمجھتے ہیں۔ ذرائع ابلاغ پر براجمان تجزیہ نگاروں کی دانش نہ صرف خود اسی تضاد تک محدود ہے بلکہ لبرل ازم اور بنیاد پرستی کی اس جعلی لڑائی کو محنت کش عوام کی نفسیات پر بھی مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔