مستونگ میں ہزارہ کمیونٹی کا حالیہ قتل عام ماضی قریب میں شروع ہونے والے ایک ایسے سلسلے کی کڑی ہے جس کا انت پورے خطے میں بربریت کا بھیانک تناظر پیش کررہا ہے۔ شام اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک دوسرے سے متصادم مذہبی آمریتیں پاکستان میں بھی معصوم لوگوں کو اپنی پراکسی جنگ کا ایندھن بناتی چلی جارہی ہیں۔ کیا یہ خونی کھیل کبھی ختم ہوگا یا مذہبی عقائد کو جواز بنا کر اس مظلوم قومیت کا ایک ایک بچہ ذبح کر دیا جائے گا؟اس نظام کی سیاست اور ریاست کے پاس اس دہشت گردی کا کوئی حل ہے نہ ہی حکمران اپنی رعایا کے اس حصے کو تحفظ فراہم کرنے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔

اس ملک کی اشرافیہ اور ان کی نمائندگی کرنے والے دانشور پچھلی کئی دہائیوں سے جمہوریت اور آمریت کی بحث کرتے چلے آرہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بننے والے پرویز مشرف کے نام نہاد ٹرائل نے اس بحث کو ایک بار پھر سے گرم کر دیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی سامراج نے سرد جنگ کے پس منظر میں اپنے سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں فوجی آمریتیں مسلط کی تھیں۔ پاکستان میں ایوب خان اور ضیا الحق، چلی میں جنرل پنوشے اور سپین میں جنرل فرانکو سمیت سابقہ نوآبادیاتی ممالک میں دائیں بازو کی وحشیانہ آمریتوں کو مالی اور سفارتی امداد کے ذریعے مضبوط کیا گیا۔ سوویت یونین کے انہدام، چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے والے نئے عالمی منظر نامے میں سامراج کے لئے کئی آمریتیں بے فائدہ ہوچکی تھیں۔ سامراجی استحصال اور تسلط کو قائم رکھنے کے لئے نئے سیاسی ساخت درکار تھی۔ ’’مصالحت کا نظریہ‘‘ (Theory of Reconcialtion) اسی عہد میں تراشا اور مسلط کیا گیا تھا جس کے تحت ضیاالحق کی آمریت کے بعد پیپلز پارٹی کو کئی بار اقتدار دیا گیا۔

بیسویں صدی کے عظیم مارکسسٹ فلاسفر، بالشویک انقلاب کے قائد اور تمام عمر سامراجیت کے خلاف عالمگیر سوشلسٹ انقلاب کی جنگ لڑنے والے محنت کش طبقے کے انتھک سپاہی کامریڈ ولادیمیر لینن کی 90ویں برسی کے موقع پر ہم ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’سامراج، سرمایہ داری کی آخری منزل‘‘ اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔