نظریات سے عاری سیاست کی پارٹیاں اور رہنما ایسے شتر بے مہا بن جاتے ہیں جن کی کوئی سمت ہوتی ہے نہ مقصد اور منزل۔ حالیہ لانگ مارچوں اور دھرنوں کے سرخیل لیڈروں کی نان سٹاپ تقاریرمیں تذبذب، تضاد، مضحکہ خیز استدلال اور بے معنی وعظ و نصیحت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ ’خطبات‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ اور فہم سے بالاتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک فرد کی تقریر میں تھوڑی سی تاخیر سے بھی ’کنسرٹ‘ کے شرکا کے جذبات ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔ ’’انقلاب‘‘ کا یہ تماشا ثقافت سے محروم حکمرانوں کے ایک مصنوعی شہر میں رچایا جارہا ہے جو معاشی اور صنعتی طور پر غیر اہم ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی اور سیاسی طور پر کسی انقلابی روایت سے عاری ہے۔

’’جرنیلوں نے جب فوجی کُو کرنا ہوتا ہے تو میڈیا پر باقاعدہ اعلان کے بعد کور کمانڈروں کی میٹنگ اور پھر پریس ریلیز جاری نہیں ہوا کرتی۔ ۔ ۔‘‘