پوری دنیا کی طرح سکھر میں بھی یکم مئی 2013ء کو محنت کشوں کا عالمی دن پورے جوش و جذبے سے منایا گیا۔ مختلف مزدور تنظیموں نے شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیاں نکالیں اور جلسے کئے۔ ایک ریلی حرا میڈیکل کمپلیکس سکھر سے بھی نکالی گئی جس کا انعقاد پاک واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کی جانب سے کیا گیا تھاجس میں پاکستان موٹرورکس ایسوسی ایشن سکھر، سندھ پیرا میڈیکل اسٹاف سکھر، پاکستان ورکرز فیڈریشن، ریلوے مزدور یونین، ایریگیشن یونین، CBA یونین پی ٹی سی ایل، اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین نے شرکت کی۔PTUDC کے کامریڈز ریلی میں پلے کارڈز کے ساتھ شریک ہوئے۔ ریلوے یونین کی جانب سے پروگرام کا انعقاد لوکو شیڈ روہڑی میں کیا گیا۔ شام میں اسی جگہ محفلِ موسیقی کا انعقاد کیا گیا۔

Source: سکھر میں محنت کشوں کا عالمی دن

یوم مئی 2013ء کے موقع پر لاہور پریس کلب میں جدوجہد لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑے پیمانے پر مزدور تنظیموں نے شرکت کی اور مشترکہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری دی۔ کانفرنس کا آغاز کامریڈ غفار نے ایک انقلابی ترانہ گا کر کیا۔

’سیاسی پارٹیاں مزدور دشمن قوانین اور کنٹریکٹ لیبر کے خاتمے کا اعلان کریں، آئی ایم ایف کے عوام دشمن ایجنڈے سے لاتعلقی کا عہد کریں اور تمام برطرف مزدوروں کو بحال کرنیکا وعدہ کریں، سرمایہ داری کے خاتمے اور مزدوروں کے استحصال کے تمام ذرائع ختم کرنے کا اعلان کریں ۔پیداوار پر مزدور کا حق تسلیم کیا جائے۔مزدوروں کو بتایا جائے کی حکمران طبقے نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں مزدوروں کیلئے کیا کیا ہے اور اب اگلے پانچ سالوں میں انکے پاس کونسا پروگرام ہے۔مزدوروں پر معاشی حملے کرنے والوں کو ووٹ کیوں دیا جائے اور جن پارٹیوں کا معاشی ایجنڈا ’’منڈی کی معیشت‘‘ کے اصولوں کی تابعداری ہے وہ مزدوروں سے کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں۔شکاگو کے شہیدوں نے آٹھ گھنٹے کے کام کے لئے اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان میں کھلے عام مزدوروں سے بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کرایا جارہا ہے۔فیکٹری ایکٹ اور مزدور قوانین بے اثر ہوچکے ہیں، لیبر ڈیپارٹمنٹ مالکان کے مفادات کے لئے کام کرتا ہے، مزدور عدالتوں میں جج نہیں ہیں، بیس بیس سال مقدمے چلتے ہیں، فیس دینے کی اہلیت سے محروم مزدوروں کو کسی جگہ انصاف نہیں ملتا۔ساری سیاسی پارٹیوں میں گھوسٹ لیبر ونگ ہیں، مزدوروں کے مفادات کے خلاف کام کرکے خود کو مزدوروں اور کسانوں کے نمائندگا ن ظاہرکیا جاتا ہے۔کروڑ پتیوں کی جمہوریت میں مزدوروں کے خلاف قوانین بنتے ہیں ۔مزدوروں کے مفادات کا تحفظ اکثریتی 99 فی صد طبقے کے اقتدار پر

اس کرہ ارض پر حصول زر کے لیے ایک حشر بپا ہے۔ ایک طبقہ دولت کے انبار اور اثاثوں کے لاامتناعی اضافے کی اندھی دوڑ میں ہر قدر، ہر انسانی احساس اور معاشرتی زندگی کی تہذیب کو روندتا چلا جارہا ہے۔ ہوس کی اس وحشت میں حکمران طبقہ اگرچہ آپس میں برسرپیکار ہے اور اس کے مختلف دھڑوں کے درمیان لوٹ مار کی تقسیم پر جاری تصادم، سماج کو جہنم بناتا جارہا ہے لیکن لوٹ مار، استحصال اور حکمرانی کی ضمانت فراہم کرنے والے سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت اور اس کی بقا کے لئے حکمران ہمیشہ متحد ہوتے ہیں۔

پچھلے چند ماہ میں ایم کیو ایم نے اپنے آپ کو ’’ملک گیر‘‘ ’’قومی‘‘ پارٹی بنانے کا عمل تیز تر کردیا ہے۔اس میں کشمیر اور بلتستان میں انتخابات میں حصہ لینے اور ’’ووٹ بینک‘‘ حاصل کرنے کے بعد پنجاب پر ایک بڑے پیمانے کی یلغار شروع کردی گئی ہے۔ اپریل میں لاہور اور ملتان میں ہونے والے ’’کنونشنوں‘‘ سے پیشتر کراچی کے ناظم اور ایم کیو ایم کے مختلف وزرا اورطاقت ور شخصیات نے پنجاب کے بہت سے خفیہ اور نیم خفیہ دورے کیے۔ ان میٹنگوں میں اس ملک میں عمومی حکمران سیاست کی طرز پر’’ اہم‘‘ صحافیوں‘ ’’معتبر‘‘ شخصیات اور سیاست کے پر اثر افراد کو مدعو کیا گیا۔

جب قدیم روم کا غلام دارانہ سماجی واقتصادی نظام دم توڑنے لگا اور معاشرہ شدید اضطراب، بے چینی اور خلفشار کا شکار ہوگیا تھاتوسماج کے اوپر مسلط شہنشاہوں کو نیچے سے بغاوت کا خطرہ لاحق ہوا۔ اس جھنجلاہٹ میں ان رومن شہنشاہوں نے افریقہ سے اناج درآمد کرنے کی بجائے شیر منگوانے شروع کردیئے اور روم کے کلازیم (شہر کے سب سے بڑے سٹیڈیم وتھیٹر) میں ان کو غلاموں پر چھوڑ کر خونریزی کا ایک ہولناک تماشا شروع کروایا گیا۔ غذائی قلت اور محرومیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے عوام کو ان وحشت ناک تماشوں میں ذہنی طور پر غرق کرنے کاکھیل شروع کردیا گیا، لیکن یہ گھناؤنا کھلواڑ بھی زیادہ دیر چل نہیں سکا اور ناگزیر طور پرسلطنت روم کا انہدام ہو کر رہا۔ پاکستان میں جنرل ضیاء الحق کی سفاک آمریت میں بھی ظلم ودرندگی کا ایسا ہی بازار گرم ہو اتھا جب ملک بھر میں لگنے والی ٹکٹکیوں پر نوجوانوں اور محنت کشوں کو باندھ کر کوڑے برسائے گئے، بائیں بازو کے سینکڑوں انقلابیوں کو اس نظام کے خلاف جدوجہد کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ہزاروں کو ملک کے طول وعرض میں پھیلی ہوئی اذیت گاہوں میں پابند سلاسل کردیا گیا۔ اس تاریک عہد میں روم کلازیم کے تماشوں کی طرح مذہب کے ساتھ ساتھ کرکٹ کے تماشے کو حب الوطنی کے جذبات ابھارنے اور حقیقی سماجی تضادات سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لئے بے دریغ استعمال کیا گیا۔ روم کے شہنشاہوں کی طرح ض

گزشتہ اتوار کو وینز ویلا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں 1.6 فیصد کے قلیل فرق سے نکولس ماڈورو کی فتح کے بعد سے انقلابِ وینزویلا کو لاحق خطرات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ یہ انقلابی عمل اپریل 2002ء تب شروع ہوا جب امریکی سامراج کی پشت پناہی سے فوجی اشرافیہ کے ایک دھڑے نے صدر ہوگو شاویز کا تختہ الٹنے کی کوشش کی۔ اس کُو (Coup) کے جواب میں وینزویلا کے محنت کشوں، نوجوانوں، فوج کے سپاہیوں اور نوجوان افسروں نے بغاوت کر دی، اپنے محبوب لیڈر کی مدد کو عوام لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ عوامی تحریک کے شدید دباؤ اور اس کے قابو سے باہر ہوجانے کے خوف سے امریکی سامراج اور وینزویلا میں اس کے آلہ کاروں کو پسپائی اختیار کرنی پڑی اور فوجی بغاوت کے 48گھنٹے بعد ہی ہوگو شاویز بطور صدر بحال ہو گئے۔ مارچ 2013ء میں کینسر سے شاویز کی موت کے بعد ہونے والے ان صدارتی انتخابات میں شاویز کے نامز کردہ جانشین ماڈورو کامیاب ہوئے ہیں لیکن دائیں بازو کی حزب اختلاف کے امیدوا ر اور وینزویلا کی اشرافیہ کے چہیتے اینریک کاپریلس نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اگرچہ ماڈورو نے اپوزیشن کی جانب سے انتخابی نتائج کا آڈٹ کروانے کے مطالبے کو تسلیم کیا ہے لیکن ایک بار پھر سامراج کی ایماء پر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اپوزیشن کے غنڈے ملک بھر میں جلاؤ گھیراؤ کر رہے ہیں۔

دہشت گردی کی درندگی ہو یا مہنگائی غربت اور بیروزگاری کی اذیت، نا خواندگی اور لاعلاجی کا ظلم ہو یا ریاستی جبر میں معصوم انسانوں کے جسموں کے بے حرمت لاشے ویرانوں میں پھینکے جا رہے ہوں، یا پھر بجلی، پانی اور سینی ٹیشن کی اذیت ناک کیفیت ہو۔ ۔ ۔ پاکستان کی وسیع تر آبادی جن عذابوں کا شکار ہے اس سے ان کی زندگی ایک جبر مسلسل کی سزا بن چکی ہے۔

یہ کیسا سماج ہے جہاں گاڑیوں کی بہتات ہے اور عوام ٹرانسپورٹ کی اذیت سے دوچار ہیں۔ ہر بندے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے لیکن پاؤں میں جوتی نہیں ہے۔محلات نما کوٹھیوں پر مشتمل ہاؤسنگ اسکیمیں اگرپھیل رہی ہیں تو فٹ پاتھوں پر سونے والوں کا ہجوم بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے لیکن لوڈ شیڈنگ ہے کہ بڑھتی جارہی ہے۔ بجلی جتنی مہنگی ہے اسکی ترسیل اتنی ہی ناقابل اعتماد ہے۔ ایک طرف منرل واٹر کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دوسری جانب گندے پانی سے بیماریوں کی وباکروڑوں زندگیوں کو موت کی آغوش میں دھکیل رہی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں اور تعلیم کا کاروبار زوروں پر ہے لیکن آبادی میں ناخواندگی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ امیروں کے لئے فائیو سٹار ہسپتال کھلتے چلے جا رہے ہیں لیکن غریب دوائیوں سے بھرے میڈیکل سٹوروں کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ رہے ہیں۔ امراء کی شادیوں میں عروسی جوڑوں اور دکھاوے پر کروڑوں اخراجات ہورہے ہیں لیکن محنت کش گھرانوں میں ایسی بیٹیاں بھی کم نہیں کہ جہیز کے پیسے جوڑتے جوڑتے جن کے بالوں میں چاندی اتر چکی ہے۔ معاشی ترقی کی شرح میں جتنا اضافہ ہوتا ہے سماجی غربت اس سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔

اس برس ہونے والے عام انتخابات کے لیے امید واروں کی جانچ پڑتال کا سارا عمل ایک منافقانہ تماشہ بن کر رہ گیا ہے۔ ظالم فوجی آمر ضیا الحق کی جانب سے آئین میں شامل کیے جانے والے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کروانے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اہلکاروں کی جنونی کوششوں کے خلاف شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ مفلوج معیشت، سلگتے سماج اور سیاست میں عمومی زوال کا اظہار موجودہ عہد میں اس تباہ حال سماج کی اقدار، اخلاقیات، رویوں اور اطوار میں میں گراوٹ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ متوقع امیدواروں سے پوچھے جانے والے شرمناک سوالات اور جمہوریت کے علمبرداروں کے گھٹیا جوابات کسی بے معنی اور بیہودہ ناٹک کی مانند ہیں اور یہ تمام تر ڈرامہ اس ناکام ریاست کے اہلکاروں اور حکمران طبقات کی بیمار ذہنیت کی درست عکاسی کرتا ہے۔

اس سال فروری کے وسط میں سعودی عرب میں ایک سال سے پھنسے ہوئے سات سو پاکستانی محنت کشوں کے ساتھ ہونیوالے فراڈ کی خبر اس وقت منظر عام پر آئی جب ان میں سے ایک محنت کش کی دس فروری کو کام کے دوران حادثے میں موت واقع ہو گئی۔ ترکی کی MAPA نامی تعمیراتی کمپنی نے ایک سال پہلے سات سوپاکستانی محنت کشوں کو ویزے جاری کئے لیکن سعودی عرب پہنچنے پر نہ صرف یہ انکشاف ہوا کہ ان محنت کشوں کو دیئے جانیوالے ویزے جعلی تھے بلکہ ان محنت کشوں کیساتھ مختلف پیشوں اور تنخواہوں کے حوالے سے کئے جانے والے معاہدے بھی جھوٹے ہیں۔