بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریر کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سابقہ صدور کی (الیکشن) مہم کا وہ وعدہ جسے وہ پورا کرنے سے قاصر رہے، میں پورا کر رہا ہوں۔ میرا آج کا یہ بیان اسرائیل فلسطین تنازعے کے حوالے سے ایک نویکلا زاویۂ نگاہ ہے جو نئے در وا کرے گا۔‘‘

1917ء میں برپا ہونے والا انقلاب روس بلاشبہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ تھا۔ 1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا اور اجتماعی ملکیت کی بنیادوں پر ایک غیر طبقاتی سماج تعمیر کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس میں فروری 1917ء میں جنم لینے والی انقلابی تحریک حتمی تجزئیے میں پہلی عالمی جنگ کی تباہی، شدید معاشی وریاستی بحران، بے انتہا غربت اور بدحالی جیسے معروضی عوامل کی پیداوار تھی لیکن اکتوبر 1917ء میں انقلاب کی کامیابی ان معروضی حالات کا خودرو نتیجہ ہر گز نہ تھی۔ یہ انقلابی تحریک بھی دیگر بے شمار عوامی بغاوتوں کی طرح ضائع ہو جاتی اگر اس کی قیادت کرنے کیلئے بالشویک پارٹی موجود نہ ہوتی۔ وہ بالشویک پارٹی جس کا خالق، نظریہ دان اور سیاسی قائد لینن تھا۔ بلاشبہ انقلاب کے دوران بالشویک پارٹی کے ہزاروں کیڈرز اور دیگر کئی قائدین نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا، لیکن تمام تر تاریخی شواہد اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ لینن اور ٹراٹسکی(خاص طور پر اول الذکر) کے بغیر انقلاب کی کامیابی نا ممکن تھی۔ اسی طرح انقلاب سے پہلے کے طویل عرصے میں انقلابی پارٹی کی تعمیر کے ہر مرحلے میں ہمیں لینن کا بطور نظریہ دان، سیاسی قائد اور منتظم ایک کلیدی کردار نظر آتا ہے۔ انقلاب روس اور اس کے نتیجے میں تخلیق ہونے والی دنیا کی تاریخ لینن کے ذکر کے بغیر بالکل ویسے ہی ادھوری ہے جیسے جدید یورپ کی تاریخ نپولین کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ بلا شبہ مارکس اور اینگلز کو آج تک میسر آنے والا سب سے بہترین شاگرد تھااور مارکسزم کو عمل میں ڈھالنے کے اپنے ہنر کی بدولت دنیا بھر کے محنت کشوں کا عظیم استاد۔ لیکن لینن کو یہ مقام کیونکر حاصل ہوا؟ کیا اس میں کچھ ایسی پیدائشی صفات تھیں جو کسی اور میں نہیں ہو سکتیں یا پھر اس کے پاس کوئی ایسا خفیہ جادوئی منتر تھا جس کا صرف اسے ہی علم تھا۔ کچھ ایسا تو ہر گز نہ تھا پھر لینن کی عظمت اور اس کے تاریخی مقام کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب کھوجنا ہی اس تحریر کا بنیادی مقصد ہے اور یہی وہ خراج تحسین ہے جس کا لینن حقدار ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، پروفیسر اور تاریخ دان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مارکسزم پر حملہ کر کے اس کو بدنام کیا جا سکے۔ یہاں ہم مارکسزم کے متعلق پھیلائے گئے کچھ عام مغالطوں کا مطالعہ کریں گے۔