یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات نے پورے براعظم کے سیاسی منظرنامے کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ فرانس، یونان اور بر طانیہ جیسے ممالک میں اسٹیبلشمنٹ مخالف پارٹیوں نے بڑی فتوحات حاصل کی ہیں جس کی وجہ سے بڑی سیاسی پارٹیوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی ہیں۔ یہ موقف مکمل طور غلط ثابت ہو چکا ہے کہ یہ الیکشن دائیں بازو اور یہاں تک کہ فاشزم کی طرف جھکاؤ کا اظہار کررہے ہیں۔

15جون بروز اتوار کی صبح شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ کاروائی کا آغاز فضائی حملوں سے کیا گیا۔ 18 جون کو آنے والی خبروں کے مطابق عسکریت پسندوں کے 60 فیصد ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے 40 فیصد حصے پر فوج نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آپریشن کی فوری وجہ کراچی ایئرپورٹ پر ازبک دہشت گردوں کے حملے کو قرار دیا جارہا ہے۔ اس حملے کے بعد ریاست کے حاوی حصوں کی جانب سے راست قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری بیانات جو بھی ہوں گرین سگنل عسکری قیادت نے ہی دیا۔ عسکری قیادت کی جانب سے جمودتوڑنے کا فیصلہ کرنے کی بنیادی وجہ فوج کی نچلی پرتوں میں پنپنے والا شدید دباؤ ہے۔ ریاستی مشینری کے بالائی حصوں میں دولت کی سرایت اور سماج میں فیصلہ کن ریاستی اداروں کی گرتی ہوئی ساکھ کے پیش نظر یہ قدم اٹھانا شاید ناگزیر ہوچکا تھا۔

کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایک عرصے سے دہشت گردی کا ناسور ایک معمول بن کر اس سماج میں پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس دہشت گردی کی کئی اقسام ہیں۔ ظاہری مقاصد اور تراکیب بھی مختلف ہیں۔ لیکن کراچی سے لے کر خیبر تک ہونے والی دہشت گردی میں ایک قدر بہر حال مشترک ہے: کاروائیاں کروانے والوں کی مسلسل اور بھاری سرمایہ کاری۔ ان بھاری رقوم کو دہشت گردی پر صرف کر کے ہزاروں لوگوں کا قتل عام کرنے والوں کے مقاصد سمجھے بغیر اس بربریت کی اصل وجوہات تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ بیماری کی تشخیص کے بغیر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔