ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کا استقبال اپنے ہی نرالے انداز میں کیا: فلوریڈا میں امرا کی تسکین کے لئے اپنے پر تعیش تفریحی ’مار آ لاگو‘ کلب میں اپنے سیاسی اور سماجی حواریوں کے ساتھ جس میں امریکی سماج کی اشرافیہ کے تمام نمائندگان، فلمی ستاروں سے لے کر ارب پتیوں تک، موجود تھے۔

قریباً سات سال قبل 2011ء میں بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پچھلے چند دنوں سے تیونس کے نوجوانوں نے ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرتبہ، آئی ایم ایف کے ایما پر مسلط ہونے والے مجوزہ بجٹ کیخلاف پورے ملک میں احتجاج لہر دوڑگئی ہے۔ درجنوں سرگرم احتجاجیوں کو گرفتار اور ایک احتجاجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ’’Fech Nastannou؟‘‘ (ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟) تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک آمر کا تخت الٹنے کے باوجود غربت، بیروزگاری اور مستقبل سے مایوسی کے مسائل حل نہیں ہو سکے جن کی وجہ سے 2011ء کی دیوہیکل تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

گذشتہ دو ہفتوں سے دیوہیکل عوامی احتجاجوں کی لہر ایران بھر کے شہروں اور قصبوں میں پھیل چکی ہے۔ غربت، مہنگائی، افلاس کے ساتھ ساتھ ایرانی اشرافیہ بالخصوص ملا اشرافیہ کی دولت اور کرپشن کے خلاف پنپتا غم وغصہ خودرو انداز میں پھٹ پڑا۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق، ان احتجاجوں میں 21 کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ 1700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واشنگٹن سے لے کر لندن تک مغربی لیڈروں نے ایرانی عوام کے انسانی حقوق کے ’دفاع‘ میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔