اکثر کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے لیکن ضرورت اور ایجاد کا باہمی تعلق درحقیقت جدلیاتی ہے۔ کوئی ایجاد جب سماج کے اکثریتی حصے کی پہنچ میں آجائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ضرورت بن جاتی ہے۔ بجلی کے حوالے سے بھی یہ بات بالکل درست ہے۔ بجلی انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ پنجابی میں ایک بہت دلچسپ روایتی کہانی ہے۔ ایک غریب کسان رات کے اندھیرے میں گندم کی بوری چھت پر لیکر جارہا تھا۔ اس کے ساتھی نے ماچس جلائی تاکہ سیڑھیوں کو روشن کرسکے۔ کچھ لمحوں بعد ماچس بجھ گئی۔ اس کسان نے غصے سے کہا ’’تم نے تو مجھ سے میرا اندھیرا بھی چھین لیا ہے۔‘‘ جب ماچس بجھی تو اس کی آنکھیں، جو اندھیرے کا عادی ہوگئی تھیں ، وہ پہلے کی طرح اندھیرے میں دیکھنے سے قاصر تھیں۔ بجلی، لوڈ شیڈنگ اور پاکستانی عوام کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ’صاف اور شفاف‘ عام انتخابات میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر سو فیصد سے زیادہ اور کچھ جگہوں پر دو سو فیصد ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں خاص طور پر صورتحال اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز رہی۔ڈیلی ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ’’اگرچہ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح 50 فیصد سے زیادہ تھی، تاہم مقامی بلوچ سیاسی کارکنان کے مطابق یہ شرح محض 3 فیصد رہی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں اور بلوچستان نیشنل فرنٹ، بلوچ ری پبلیکن پارٹی جیسی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بلوچ اکثریتی علاقوں میں پہیہ جام ہڑتالوں کی وجہ سے انتخابات سے قبل جلسے جلوس ممکن نہیں ہو سکے اور الیکشن کے روز صوبے بھر میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح بہت ہی کم رہی۔‘‘

ایک سو ستائیس سال پہلے 1886ء میں شکاگو کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کے لمبے اوقات کار کے خلاف چلنے والی تحریک کو ریاستی دھشت گردی کے ذریعے خون میں ڈبو دیا گیا اورمزدوروں کے قتل عام کا مقدمہ بھی مزدور راہنماؤں پر درج کرکے بالآخر ان کو موت کی سزا دے دی

’’اگر ہم عام سوچ اور تاریخ کا مذاق نہیں اڑا رہے تو پھر یہ واضح ہے کہ جب تک مختلف طبقے وجود رکھتے ہیں ہم خالص ’’جمہوریت‘‘ کی بات نہیں کرسکتے، سرمایہ دارانہ جبر کے تحت یہ ’’جمہوریت‘‘ محدود، اپاہج، جھوٹی اور منافقانہ رہتی ہے جو امیروں کے لئے ایک جنت اور استحصال زدہ غریبوں کے لئے ایک پھندہ، ایک لعنت، ایک دھوکہ ہوتی ہے۔ ‘‘ (ولادیمیر لینن، 10اکتوبر1918ء)

جب بھی کوئی سماجی نظام تاریخی طور پر متروک ہوجائے تو اس کا بحران معاشرے کی رگوں اور شریانوں میں ایک شورش اور خلفشار پیدا کردیتا ہے۔ ایسے معاشروں کی زندگی کا ہر پہلو، ہر شعبہ گلنے سڑنے لگتا ہے۔ حکمران اس نظام کو مسلط رکھنے کے لیے ہر حربہ، ہرہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں۔ آج عالمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے جس نے ہر ملک، ہر معاشرے میں کہرام مچا رکھا ہے۔

پنجاب اور پختوں خواہ میں بے پناہ وسائل کے استعمال سے منعقد کئے جانے والے ’’دائیں بازو‘‘ کے جلسوں کے برعکس الیکشن سے محض چند دن پہلے پورا سماج سناٹے میں ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ انتخابات کا دور دورہ ہو اور عام لوگ اس سے یوں لاتعلق ہوجائیں۔ ہم نے بچپن سے بے شمار انتخابات دیکھے ہیں، اتنا جوش خروش انتخابی جلسوں میں نہیں ہوتا تھا جتنا محلوں، دوکانوں، بازاروں اور گلی کوچوں میں۔ جہاں ووٹر، نوجوان، بچے اور بزرگ گرما گرم سیاسی بحثوں میں مصروف ہوا کرتے تھے۔ اپنی پسند کی پارٹی کے حق میں دلائل دینے والوں اور مخالف پارٹی کے خلاف چارج شیٹ کرنے والوں نے باہیں ٹانگی ہوتی تھیں اور بیچ بچاؤ کرانے والے روک رہے ہوتے تھے۔ بچے گلیوں میں اپنی اپنی پارٹی کے پرچم لے کر نعرے بازی کرتے۔ بزرگ تجزے کرتے اور خبروں کا نچوڑ پیش کرتے، مگر اب یہ سب نہیں ہورہا۔ اب تو لگتا ہے کہ ’’پیڈ کارکنوں‘‘ اور بہت ہی سرگرم پرتوں کے علاوہ باقی ملک اس الیکشن سے خود کو بچانے کی کوشش کررہا ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ کوئی جادو اگلے چند روز میں کیفیت کو بدل دے گا بلکہ لگتا ہے کہ ووٹروں کی نسبتاََ کم تعداد اپنا ووٹ کاسٹ کرنے جائے گی۔ اس بیگانگی کی وجہ بہت سیدھی ہے۔ لوگوں کی ایک بہت بڑی تعداد کا اس نظام اور اس کے زیرِ اثر ہونے والے انتخابات سے اعتبار اٹھ گیا ہے۔ لوگوں نے ہر الیکشن سے پہلے نعرے اور وعدے سنے ہیں اور انتخابات کے بعدصرف جواز سننے کو ملے ہیں۔ ماضی قریب میں تقریباََ ہر سیاسی جماعت کئی کئی بار اقتدار میں مکمل پر جزوی طور پر شریک کاررہی ہے مگر لوگوں کے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی چلے گئے ہیں۔

حیدرآباد ٹریڈیونین ڈیفنس کمیٹی کی جانب سے محنت کشوں کے عالمی دن یکم مئی یوم مزدور کے موقعے پر شکاگو کے شہیدوں کو سرخ سلام پیش کرنے کے لئے حیدر چوک حیدرآباد سے پریس کلب تک ایک ریلی نکالی گئی جس میں شہر کے مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں محنت کشوں، کسانوں، ٹریڈ یونین رہنماؤں، طلباء اور بیروزگار نوجوانوں سمیت ریلوے محنت کش یونین ،ریلوے ورکرز یونین، ...

پوری دنیا کی طرح سکھر میں بھی یکم مئی 2013ء کو محنت کشوں کا عالمی دن پورے جوش و جذبے سے منایا گیا۔ مختلف مزدور تنظیموں نے شہر کے مختلف علاقوں سے ریلیاں نکالیں اور جلسے کئے۔ ایک ریلی حرا میڈیکل کمپلیکس سکھر سے بھی نکالی گئی جس کا انعقاد پاک واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک یونین کی جانب سے کیا گیا تھاجس میں پاکستان موٹرورکس ایسوسی ایشن سکھر، سندھ پیرا میڈیکل اسٹاف سکھر، پاکستان ورکرز فیڈریشن، ریلوے مزدور یونین، ایریگیشن یونین، CBA یونین پی ٹی سی ایل، اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین نے شرکت کی۔PTUDC کے کامریڈز ریلی میں پلے کارڈز کے ساتھ شریک ہوئے۔ ریلوے یونین کی جانب سے پروگرام کا انعقاد لوکو شیڈ روہڑی میں کیا گیا۔ شام میں اسی جگہ محفلِ موسیقی کا انعقاد کیا گیا۔

Source: سکھر میں محنت کشوں کا عالمی دن

یوم مئی 2013ء کے موقع پر لاہور پریس کلب میں جدوجہد لیبر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑے پیمانے پر مزدور تنظیموں نے شرکت کی اور مشترکہ طور پر چارٹر آف ڈیمانڈ کی منظوری دی۔ کانفرنس کا آغاز کامریڈ غفار نے ایک انقلابی ترانہ گا کر کیا۔

’سیاسی پارٹیاں مزدور دشمن قوانین اور کنٹریکٹ لیبر کے خاتمے کا اعلان کریں، آئی ایم ایف کے عوام دشمن ایجنڈے سے لاتعلقی کا عہد کریں اور تمام برطرف مزدوروں کو بحال کرنیکا وعدہ کریں، سرمایہ داری کے خاتمے اور مزدوروں کے استحصال کے تمام ذرائع ختم کرنے کا اعلان کریں ۔پیداوار پر مزدور کا حق تسلیم کیا جائے۔مزدوروں کو بتایا جائے کی حکمران طبقے نے پچھلے چونسٹھ سالوں میں مزدوروں کیلئے کیا کیا ہے اور اب اگلے پانچ سالوں میں انکے پاس کونسا پروگرام ہے۔مزدوروں پر معاشی حملے کرنے والوں کو ووٹ کیوں دیا جائے اور جن پارٹیوں کا معاشی ایجنڈا ’’منڈی کی معیشت‘‘ کے اصولوں کی تابعداری ہے وہ مزدوروں سے کس منہ سے ووٹ مانگتے ہیں۔شکاگو کے شہیدوں نے آٹھ گھنٹے کے کام کے لئے اپنی جان کی قربانی دی مگر پاکستان میں کھلے عام مزدوروں سے بارہ سے اٹھارہ گھنٹے کام کرایا جارہا ہے۔فیکٹری ایکٹ اور مزدور قوانین بے اثر ہوچکے ہیں، لیبر ڈیپارٹمنٹ مالکان کے مفادات کے لئے کام کرتا ہے، مزدور عدالتوں میں جج نہیں ہیں، بیس بیس سال مقدمے چلتے ہیں، فیس دینے کی اہلیت سے محروم مزدوروں کو کسی جگہ انصاف نہیں ملتا۔ساری سیاسی پارٹیوں میں گھوسٹ لیبر ونگ ہیں، مزدوروں کے مفادات کے خلاف کام کرکے خود کو مزدوروں اور کسانوں کے نمائندگا ن ظاہرکیا جاتا ہے۔کروڑ پتیوں کی جمہوریت میں مزدوروں کے خلاف قوانین بنتے ہیں ۔مزدوروں کے مفادات کا تحفظ اکثریتی 99 فی صد طبقے کے اقتدار پر

اس کرہ ارض پر حصول زر کے لیے ایک حشر بپا ہے۔ ایک طبقہ دولت کے انبار اور اثاثوں کے لاامتناعی اضافے کی اندھی دوڑ میں ہر قدر، ہر انسانی احساس اور معاشرتی زندگی کی تہذیب کو روندتا چلا جارہا ہے۔ ہوس کی اس وحشت میں حکمران طبقہ اگرچہ آپس میں برسرپیکار ہے اور اس کے مختلف دھڑوں کے درمیان لوٹ مار کی تقسیم پر جاری تصادم، سماج کو جہنم بناتا جارہا ہے لیکن لوٹ مار، استحصال اور حکمرانی کی ضمانت فراہم کرنے والے سرمایہ دارانہ نظام کی حفاظت اور اس کی بقا کے لئے حکمران ہمیشہ متحد ہوتے ہیں۔