پچھلے اتوار ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے ساتھ ایک فون کال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دونوں نے شمالی شام سے امریکی افواج کے انخلاء اور ترک فوج کشی پر اتفاق کر لیا ہے۔ کل سے حملہ شروع ہو چکا ہے۔

کشمیر میں ظلم و جبر کی ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے اور اس خطے کے تمام حکمران طبقات سمیت دنیا بھر کی سامراجی طاقتیں اس خونی کھیل میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ بیس روز سے زائد ہو چکے ہیں اور وادی کشمیر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن جاری ہے اور وادی کی اسی لاکھ سے زائد آبادی کو موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سات لاکھ کے قریب فوج آزادی کے جذبے سے سرشار عوام کو کچلنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے۔ 5اگست کو مودی کے گھناؤنے فیصلے کے بعد سے اب تک تمام تر علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہر شخص کے لیے ہر قسم کی نقل و حرکت بند ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہوتی جارہی ہے جبکہ ادویات کی عدم دستیابی اور علاج کی سہولیات نہ ملنے کے باعث بہت سے افراد موت کے منہ میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ عید اور جمعہ کے اجتماعات پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور تمام کاروبار زندگی مکمل طور پر بند کیا جا چکا ہے۔ سرکاری دفاتر، سکول ،کالج سمیت ہر قسم کے بنیادی ضرورت کے اداروں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور حکمران طبقات کی خواہش ہے کہ یہاں رہنے والے ہر شخص کی زبان پر بھی تالے لگا دیے جائیں۔لیکن انتہائی سخت ترین جبر کے باوجود کچھ جگہوں پر احتجاج دیکھے گئے ہیں اور وادی کے عوام تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ میڈیا کے داخلے پر بڑے پیمانے پر پابندی عائد ہے اور صرف حکومت نواز صحافیوں کو وہاں جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ مقامی میڈیا کو مکمل طور پر خاموش کروا دیا گیا ہے اس لیے وہاں کی صورتحال کی تفصیلات دنیا بھر کے سامنے نہیں آسکتیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ جرات مند صحافیوں کی کاوشوں کے باعث تھوڑی بہت اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ جن کے مطابق وہاں احتجاج کا سلسلہ کسی نہ کسی حد تک جاری ہے جن پر بھارت کی قابض افواج کی جانب سے فائرنگ بھی کی جارہی ہے جبکہ آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔کچھ صحافی حالیہ دنوں میں پیلٹ گن کے متاثرہ افراد کے انٹرویو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے ظلم و جبر کے قصے سنائے ہیں۔اس کے علاوہ احتجاجوں کی کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں ایک احتجاج میں دس ہزار سے زائد افراد کی شرکت کی خبر دی گئی ہے۔ سب سے اہم ترین امر اس احتجاج میں خواتین کی بچوں سمیت بڑے پیمانے پر شرکت تھی جنہوں نے بلند آواز میں آزادی کے نعرے لگائے۔

5 اگست کو مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت اور باشندہ ریاست کے قانون کو تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی دفعات 370 اور35A کا خاتمہ صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی ہے۔ لمبے عرصے سے قائم ایک مخصوص توازن کو حتمی سمجھنے والوں اور اسی قسم کے حقائق سے اخذ کردہ فارمولوں کے ذریعے اس خطے کی سیاست، سماجی حالات اور سفارتی تعلقات کا تجزیہ کرنے والوں کے شعور کو اس اچانک اور غیر متوقع فیصلے نے اس قدر شدت سے جھنجوڑا ہے کہ ان کو اپنا دماغی توازن بحال کرنے اور نئی صورتحال کی تفہیم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں اس خطے کے حکمران طبقات کے کے کچھ دھڑوں کے ساتھ وہ سبھی لبرلز اور نام نہاد بائیں بازو کے خود ساختہ دانشور سر فہرست ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ کچھ بھی بدل نہیں سکتا ہر طرف جمود ہی جمود ہے، موجود توازن کو قائم رکھنا حکمران طبقات کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لئے اس کو بدل دینے والے اقدامات کے بارے میں تو حکمران طبقات کا کوئی بھی حصہ تصور تک نہیں کر سکتا، سامراجی طاقتوں کے بھی مفادات اسی صورتحال کو قائم رکھنے میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ اس قسم کی سوچ رکھنے والوں کی سماعتوں پر ایک اچانک دھماکے کی زوردار آواز کی مانند ہے جس نے ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، اگرچہ یہ لوگ بے حس و حرکت نہیں ہوئے نہ ہی ان کی قوت گویائی معطل ہوئی ہے اسی لئے یہ چلتے پھرتے ہیں اور بولتے بھی ہیں لیکن تخیل کی حواس باختگی ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہی۔