پیوٹن حکومت، جو اپنی بقا کے لیے بڑھتے ہوئے بے رحم اور ظالمانہ جبر پر انحصار کر رہی ہے، کی بنیادوں میں دراڑیں پڑنا شروع ہوگئی ہیں۔ حکومت بحران کے دور میں داخل ہو چکی ہے اور روسی آبادی کی بڑی اکثریت اس پر کھلے عام تنقید کر رہی ہے۔ اس ساری صورتحال کے پیشِ نظر، سوال ابھرتا ہے کہ؛ روسی وفاق (رشین فیڈریشن) کی کمیونسٹ پارٹی کا رد عمل اب کیا ہوگا؟

7 اپریل 2021ء کو، جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول، اور بوسان جہاں اہم بندرگاہ بھی موجود ہے، میں ووٹروں نے حکومتی ڈیموکریٹک پارٹی (ڈی پی) کو زبردست انداز میں مسترد کیا۔ اگرچہ اس کے نتیجے میں قدامت پرست پیپل پاور پارٹی (پی پی پی) نے ان دو اہم شہروں کا اقتدار سنبھال کیا ہے مگر درحقیقت یہ جنوبی کوریا کے عوام کی جانب سے صدر ’مُون جے اِن‘ اور پورے سیاسی اسٹبلشمنٹ دونوں کے خلاف نفرت کا اظہار تھا۔ دنیا بھر کے کئی دیگر ممالک کی طرح، یہاں بھی محنت کش طبقے کے گرد منظم سیاسی متبادل کی اشد ضرورت ہے۔

انگلینڈ بھر میں فٹ بال شائقین کے بڑے پیمانے پر مظاہروں کی بدولت یورپی سپر لیگ کے منصوبوں کو بالآخر شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ شائقین کی ایک بڑی فتح ہے۔ لیکن ’عام عوام کے کھیل‘ پر منافع خوری اور اس کی لوٹ مار کو روکنے کی لڑائی اب بھی جاری ہے۔