جمعرات 2 اپریل کو ایران اور دنیا کے طاقتور ترین سامراجی ممالک نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کے خاکے پر دستخط کیے۔ اس میں ایران پر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان بارہ سالہ تنازعہ کے خاتمے کے آغاز کی نشاندہی کر تی ہے۔ لیکن ان مذاکرات کے در پردہ کیا ہے اور اس معاہدے کا مطلب کیا ہے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نے 30 مارچ کو لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں اعلان فرما یاہے کہ ’’2018ء تک پنجاب کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا۔‘‘ موصوف نے یہ وضاحت بہرحال نہیں کہ وہ کسی فرقے کے مدرسے میں پڑھے گا یا کسی ’’کانونٹ‘‘ سکول میں داخل ہو گا، سرکاری سکول جائیگا یا نجلی سکول سے تعلیم خریدے گا، انگریزی میڈیم نصاب پڑھے گا یا اردو میڈیم؟ پنجابی حکمرانوں نے پنجاب میں پنجابی زبان، تہذیب اور ثقافت کو ویسے ہی قتل کر دیا ہے۔ اب پتا نہیں یہ بیان ٹاٹوں والے سکولوں کے لئے تھا یا ائیر کنڈیشنڈ فائیو سٹار سکولوں کے بارے۔ پنجاب کا ہر بچہ ایسے سکولوں میں تعلیم حاصل کرے گا جہاں پیدل فاصلے سے بچوں کو لینے کے لئے لمبی گاڑیوں کی طویل قطاریں ہوتی ہیں یا ان سکولوں میں جہاں کڑکتی دھوپ اور جما دینے والی سردی میں میلوں چل کر بچے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر ’’کمرہ جماعت‘‘ چھت سے بھی محروم ہوتا ہے۔ یہ بھی نہیں پتا کہ میاں صاحب کسی سرکاری پروگرام کا ذکر کر رہے ہیں یا پھر بچی کھچی سرکاری تعلیم کی نجکاری کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’’پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ‘‘ کے معجزات پر مشتمل کوئی مہم ہو۔ ویسے میاں صاحب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ تمام بچے پڑھیں گے تو ان جیسے سیٹھ گھرانوں کی سفائیاں کون کرے گا،برتن کون دھوئے گا، گھریلو مشقت کون کرے گا؟یہ کام آخر بیگمات کے کرنے کے تو ہرگزنہیں! اور پھر ان کے طبقے کو سستی چائلڈ لیبر کہاں سے ملے گی؟

اس سال سپین میں جنرل الیکشن کی تیاری کی مہم کا آغاز ’’پوڈیموس‘‘ (Podemos) نے 31جنوری 2015ء کو میڈریڈمیں احتجاج کی کال دے کر کیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ احتجاج یونان میں سائریزا کی جیت کے فوراً بعد ہواہے جس میں لاکھوں لوگوں نے کٹوتیوں (Austerity) کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرین پرامید تھے کہ اس معاشی ذلت سے نجات ممکن ہے۔

ایک وقت تھا جب سفارش سے بڑے کام کروائے جاتے تھے۔ ان زمانوں میں منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی بھی ہوا کرتی تھی۔ آج کے زمانے میں یہ طریقے بہت ’’کمزور‘‘ ہوگئے ہیں۔ حکمران طبقے اور سامراجی کمپنیوں کی شرح منافع میں اضافہ اب ذخیر اندازی جیسے ’’قدیم‘‘ طریقوں سے ممکن نہیں رہا ہے۔ ماضی کی چوری چکاری اب معاشی ڈاکہ زنی میں بدل چکی ہے۔ ذات برادری، رشتہ داری یا دوستی کے رشتوں کو سرمائے کے جبر نے کچل دیا ہے۔ سرمائے کے بڑھتے ہوئے سماجی و اخلاقی کردار کی وجہ سے نوکریاں اب بکتی ہیں یا پھر سفارش کا تبادلہ سفارش سے کرنا پڑتا ہے۔ کام کے بدلے ہی کام ہوتا ہے۔ خونی رشتوں کی گرمائش بھی سرد پڑ گئی ہے۔ دوستیاں بڑی عریانی سے مطلب پرستی میں بدل گئی ہیں۔ باہمی گفتگو کے معیار گر کر مطلب اور ’’مقصد‘‘ تک محدود ہوگئے ہیں۔ معاشی اونچ نیچ نہ صرف سماجی رتبے کا پیمانہ بن گئی ہے بلکہ ہر رشتے میں سرایت کرکے جذبات کو مفلوج اور مادی مفادات کے تابع کررہی ہے۔

انسان کتنا ہی بے بس ہو، معاشرہ کتنا ہی بے حس ہوجائے لیکن رگ جان میں ایسے خلیے ضرور ہوتے ہیں جنہیں کوئی واقعہ سلگا دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت کرب اور اذیت کو جنم دیتی ہے لیکن پھر روح کے زخم بھی جاگ کر غصے کو جنم دیتے ہیں، ظلم و بربریت کے خلاف انتقام کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ افراد میں بکھرا ہوا دکھ جب شریانوں میں دوڑ کر ظلم سے انتقام کی اجتماعی تڑپ کو بیدار کرتا ہے تو بکھری ہوئی گھائل بغاوت مجتمع اور بیدار ہو جاتی ہے۔

ذرائع پیداوار کی ذاتی ملکیت عالمی سطح پر ایک بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔ نظام اپنی موت آپ مر رہا ہے اور یہ صورتحال ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ملک پر ناگزیر طور پر گہرے سیاسی اور سماجی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ فرانسس فوکویاما، جس نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد مشہور زمانہ ’’تاریخ کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا تھا، اب کہتا ہے کہ ’’امریکہ دیگر جمہوری سیاسی نظاموں کی نسبت زیادہ سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔‘‘ سادہ لفظوں میں سرمایہ داری اور اس کے ادارے سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے استعفے نے اس بحران کو مزید عیاں کر دیا ہے جس سے امریکی سامراج داخلی اور خارجی طور پر دو چار ہے۔ اس سے چند روز قبل امریکی پارلیمنٹ کے وسط مدتی انتخابات میں اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بیشتر ڈیموکریٹ امیدوار تو انتخابی مہم میں خود کو اوباما اور اس کی پالیسیوں سے دور ثابت کرتے رہے۔

آج کے عہد کا سب سے گہرا تضاد انتہاؤں کو چھوتی ہوئی معاشی ناہمواری ہے۔ بہتات میں بھی قلت ہے۔ دولت کے انبار چند ہاتھوں میں مجتمع ہورہے ہیں۔ ذرائع پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ کرہ ارض پر موجود تمام انسانوں کی ضروریات سے کہیں زیادہ پیداوار کی جاسکتی ہے لیکن نسل انسان کی اکثریت غربت، محرومی اور ذلت میں غرق ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ کارل مارکس ہی تھا جس نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل سرمایہ دارانہ نظام کی اساس واضح کرتے ہوئے لکھا تھاکہ’’ایک جانب دولت کا ارتکاز درحقیقت عین اسی وقت دوسری جانب بدحالی، مشقت کی اذیت، غلامی، جہالت، ظلم اور ذہنی پسماندگی کا ارتکاز ہے۔‘‘

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے معاشروں میں مبالغہ آرائی سے ابھارا جانے والا فرد کا کردار نہ صرف سیاسی اور شعوری پسماندگی کو جنم دیتا ہے بلکہ بعض اوقات متعلقہ شخصیات کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔ ملالہ یوسفزئی اس مظہر کی تازہ مثال ہے۔ اس بچی کو چھوٹی سی عمر میں سر پر گولی مار کر موت سے تقریباً ہمکنار کر دیا۔ پھر انتہائی زخمی حالت میں وہ پردیس جا پہنچی جہاں اس کو اور اس کے والدین کو شائبہ بھی نہیں تھا کہ سامراجی حکمرانوں کے پیار محبت میں کیا کیا مقاصد لپٹے ہوں گے۔

محنت کشوں کی پہلی عالمی تنظیم ’’انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن‘‘ کے قیام کے 150 سال اور بالشویک انقلاب کی 97ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے زیر اہتمام ملک بھر میں سیمینار اور جلسے منعقد کئے گئے جن کی تفصیل ہم اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

س ملک میں ہر روز سینکڑوں انسان وقت سے بہت پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لاعلاجی، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ ٹریفک حادثات ان قابل انسداد اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ منگل 11 نومبر کی صبح ایسا ہی ایک اندوہناک حادثہ خیرپور سندھ کے نزدیک ٹھری بائی پاس پر پیش آیا۔ مسافروں سے بھری بس ٹرک سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں 21 خواتین اور 14 سال سے کم عمر 19 بچوں سمیت 60 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس سے کچھ دن قبل 2نومبر کو واہگہ بم دھماکے میں بھی کم و بیش اتنے ہی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 4 نومبر کو قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں مذہبی جنونیوں نے ایک عیسائی جوڑے کو زندہ جلا ڈالا۔ صرف دس دنوں میں رونما ہونے والے یہ تین دردناک واقعات اس جبر مسلسل کے عکاس ہیں جس میں اس ملک کے کروڑوں محنت کش عوام نسل درد نسل مبتلا ہیں۔

انسانی زندگی مختلف ادوار کا امتزاج ہے جس میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ انسان آگے کی طرف سفر کرتا ہے مگر تمام انسانی زندگی میں جوانی وہ عرصہ ہو تا ہے جب انسان قدرت کی تمام نعمتوں سے بھر پور استفادہ اٹھاسکتا ہے مگر موجودہ بحران زدہ گلے سڑے سماجی ڈھانچے میں جوانی کا عہد اب کمزوریوں، ناانصافیوں، ظلم اور زیادتیوں کا عہد بن چکا ہے۔ جس میں داخل ہوتے ہی اپنے والدین اور عزیز اقارب کی طرف سے مہیا محبت و الفت کے تمام لمحات کسی تصوراتی دنیا کے قصے کہانیاں لگتی ہیں۔ یہ وہ عہد بن چکا ہے جب انسان کے سامنے بناوٹی اور بازاری غلاف میں لپٹی مکاریاں، دھوکہ دہی اور فریب عیاں ہونا شروع ہوتا ہے۔

MARXIST.COM SUMMER BREAK

In Defence of Marxism, is taking a break from regular publication. We will resume daily updates again in September 2017.