ایندھن سبسڈی میں حیران کن کٹوتیوں کے بعد پورے ایران میں پھوٹنے والے احتجاجوں کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ گلی محلوں اور چوکوں چوراہوں پر عوام کی جرأت مند اور دلیرانہ جدوجہد کے باوجود ملا آمریت نے تحریک کو پانچ دنوں میں کچل دیا ہے۔ لیکن یہ آمریت کی فتح نہیں بلکہ آمریت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔

حال ہی میں انتخابی مہم کے دوران بورس جانسن، جیرمی کوربن اور جو سوینسن نے لندن میں برطانیہ کی کنفیڈریشن آف انڈسٹری کی ایک کانفرنس میں چوٹی کے صنعت کاروں سے خطاب کیا۔ سوینسن نے اس بات پر زور دیا کہ لبرل ڈیموکریٹس ”کاروبار کی فطری پارٹی“ ہیں کیونکہ وہ بریگزٹ کو روکنا چاہتے ہیں۔ جانسن نے وعدہ کیا کہ کاروبار پر عائد ٹیکسوں میں کمی کے ساتھ ”استحکام“ یقینی بنایا جائے گا۔

”یورپ پر ایک بھوت منڈلا رہا ہے“۔ اس شہرہئ آفاق جملے کے ساتھ کمیونسٹ مینی فیسٹو کے مصنفین نے انسانی تاریخ میں ایک نئے دور کے آغاز کا اعلان کیا۔ یہ 1848ء کا سال تھا، جب پورا یورپ انقلاب کی لپیٹ میں تھا۔ لیکن اب ایک بھوت صرف یورپ ہی نہیں پوری دنیا پر منڈلا رہا ہے۔ یہ عالمی انقلاب کا بھوت ہے۔