12 دسمبرکو ہونے والے برطانوی انتخابات تاریخی اہمیت کے حامل تھے۔ان انتخابات کے نتائج حسب معمول انتہائی غیر متوقع تھے جن میں دائیں بازو کی ٹوری پارٹی بورس جانسن کی قیادت میں واضح اکثریت جیتنے میں کامیاب ہو گئی ہے جبکہ لیبر پارٹی جیرمی کاربن کی قیادت میں بائیں بازو کا انتہائی انقلابی منشور دینے کے باوجود اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔اس صوتحال کا سائنسی تجزیہ کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ مستقبل کی جدوجہد کے لیے اہم نتائج اخذ کیے جا سکیں جو اس طبقاتی کشمکش کے شدت اختیار کرنے کا عہد ہے۔

فرانس کے صدرمیکرون کی پینشن ردِ اصلاحات کے خلاف کل (5 دسمبر) کی عام ہڑتال میں پورے فرانسیسی سماج کی ”جدوجہدیں یکجا“ ہو گئیں۔ CGT (ہڑتال کی قائد ٹریڈ یونین) کے مطابق 10 لاکھ 50 ہزار افراد نے مظاہروں میں شرکت کی یعنی 1995ء میں الین جوپے کے ردِ اصلاحات پروگرام کے خلاف ہونے والی مزاحمت کے بعد تاحال یہ فرانس کی سب سے بڑی تحریک ہے۔ پیلی واسکٹ تحریک کی روح سڑکوں پر محسوس کی جا سکتی ہے جہاں (قائدین کی محدودیت کے باوجود) محنت کش طبقہ نہ صرف پینشن ردِ اصلاحات بلکہ پوری حکومت کے خلاف اپنے غم و غصے کا براہِ راست اظہار کر رہا ہے۔

ایندھن سبسڈی میں حیران کن کٹوتیوں کے بعد پورے ایران میں پھوٹنے والے احتجاجوں کو دو ہفتے گزر چکے ہیں۔ گلی محلوں اور چوکوں چوراہوں پر عوام کی جرأت مند اور دلیرانہ جدوجہد کے باوجود ملا آمریت نے تحریک کو پانچ دنوں میں کچل دیا ہے۔ لیکن یہ آمریت کی فتح نہیں بلکہ آمریت پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہو چکی ہے۔