کشمیر میں ظلم و جبر کی ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے اور اس خطے کے تمام حکمران طبقات سمیت دنیا بھر کی سامراجی طاقتیں اس خونی کھیل میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ بیس روز سے زائد ہو چکے ہیں اور وادی کشمیر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن جاری ہے اور وادی کی اسی لاکھ سے زائد آبادی کو موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سات لاکھ کے قریب فوج آزادی کے جذبے سے سرشار عوام کو کچلنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے۔ 5اگست کو مودی کے گھناؤنے فیصلے کے بعد سے اب تک تمام تر علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہر شخص کے لیے ہر قسم کی نقل و حرکت بند ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہوتی جارہی ہے جبکہ ادویات کی عدم دستیابی اور علاج کی سہولیات نہ ملنے کے باعث بہت سے افراد موت کے منہ میں دھکیلے جا رہے ہیں۔ عید اور جمعہ کے اجتماعات پر بھی مکمل طور پر پابندی عائد کی جا چکی ہے اور تمام کاروبار زندگی مکمل طور پر بند کیا جا چکا ہے۔ سرکاری دفاتر، سکول ،کالج سمیت ہر قسم کے بنیادی ضرورت کے اداروں پر تالے پڑے ہوئے ہیں اور حکمران طبقات کی خواہش ہے کہ یہاں رہنے والے ہر شخص کی زبان پر بھی تالے لگا دیے جائیں۔لیکن انتہائی سخت ترین جبر کے باوجود کچھ جگہوں پر احتجاج دیکھے گئے ہیں اور وادی کے عوام تمام تر رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے اپنے بنیادی انسانی حقوق کے لیے آواز بلند کر رہے ہیں۔ میڈیا کے داخلے پر بڑے پیمانے پر پابندی عائد ہے اور صرف حکومت نواز صحافیوں کو وہاں جانے کی اجازت دی جارہی ہے۔ مقامی میڈیا کو مکمل طور پر خاموش کروا دیا گیا ہے اس لیے وہاں کی صورتحال کی تفصیلات دنیا بھر کے سامنے نہیں آسکتیں۔ لیکن اس کے باوجود کچھ جرات مند صحافیوں کی کاوشوں کے باعث تھوڑی بہت اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ جن کے مطابق وہاں احتجاج کا سلسلہ کسی نہ کسی حد تک جاری ہے جن پر بھارت کی قابض افواج کی جانب سے فائرنگ بھی کی جارہی ہے جبکہ آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔کچھ صحافی حالیہ دنوں میں پیلٹ گن کے متاثرہ افراد کے انٹرویو کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں جنہوں نے ظلم و جبر کے قصے سنائے ہیں۔اس کے علاوہ احتجاجوں کی کچھ ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جس میں ایک احتجاج میں دس ہزار سے زائد افراد کی شرکت کی خبر دی گئی ہے۔ سب سے اہم ترین امر اس احتجاج میں خواتین کی بچوں سمیت بڑے پیمانے پر شرکت تھی جنہوں نے بلند آواز میں آزادی کے نعرے لگائے۔

5 اگست کو مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت اور باشندہ ریاست کے قانون کو تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی دفعات 370 اور35A کا خاتمہ صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی ہے۔ لمبے عرصے سے قائم ایک مخصوص توازن کو حتمی سمجھنے والوں اور اسی قسم کے حقائق سے اخذ کردہ فارمولوں کے ذریعے اس خطے کی سیاست، سماجی حالات اور سفارتی تعلقات کا تجزیہ کرنے والوں کے شعور کو اس اچانک اور غیر متوقع فیصلے نے اس قدر شدت سے جھنجوڑا ہے کہ ان کو اپنا دماغی توازن بحال کرنے اور نئی صورتحال کی تفہیم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں اس خطے کے حکمران طبقات کے کے کچھ دھڑوں کے ساتھ وہ سبھی لبرلز اور نام نہاد بائیں بازو کے خود ساختہ دانشور سر فہرست ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ کچھ بھی بدل نہیں سکتا ہر طرف جمود ہی جمود ہے، موجود توازن کو قائم رکھنا حکمران طبقات کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لئے اس کو بدل دینے والے اقدامات کے بارے میں تو حکمران طبقات کا کوئی بھی حصہ تصور تک نہیں کر سکتا، سامراجی طاقتوں کے بھی مفادات اسی صورتحال کو قائم رکھنے میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ اس قسم کی سوچ رکھنے والوں کی سماعتوں پر ایک اچانک دھماکے کی زوردار آواز کی مانند ہے جس نے ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، اگرچہ یہ لوگ بے حس و حرکت نہیں ہوئے نہ ہی ان کی قوت گویائی معطل ہوئی ہے اسی لئے یہ چلتے پھرتے ہیں اور بولتے بھی ہیں لیکن تخیل کی حواس باختگی ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہی۔

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ خطے کی بعد از تقسیم تاریخ کا سب سے بڑا اور دھماکہ خیز اقدام ہے۔ آنے والے عرصے میں اپنے اثرات کے حوالے سے یہ ممکنہ طور پر تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ کہلائے گا۔ مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو اس نے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور ایک حوالے سے اس تنازعہ کی اب تک کی کیفیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ 5اگست 2019ءسے پہلے گزشتہ 72 سالوں کے دوران کشمیر تنازعہ کی ایک خاص حیثیت تھی جس کو پاک بھارت ساڑھے تین جنگوں ،دوطرفہ مذاکرات اور عالمی سفارتکاری سمیت کشمیر میں جاری تحریک کے مجموعی اثرات بھی تبدیل نہیں کر سکے، اس حیثیت کو بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن تبدیلی ہے جو اس پورے خطے کی سیاست، معیشت اور سفارتکاری سمیت سماج کے ہر پہلو پر دور رس اثرات مرتب کرے گی۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے یہ ایک بالکل نئے مرحلے کا آغاز ہے لیکن اس کی نوعیت اور سمت بالکل غیر متوقع ہے جس نے زیادہ تر سیاسی حلقوں کو کنفیوز کر کے رکھ دیا ہے۔ یہ اقدام زیادہ تر لوگوں کے لئے حیران کن ہے کیوں کہ مسئلہ کشمیر میں کسی پیش رفت کی توقع رکھنے والے بھی اس قسم کی تبدیلی کا تصور نہیں کر سکتے تھے۔ سوشل میڈیا سمیت ابلاغ کے سبھی ذرائع اس اقدام پر تند و تیز مباحثوں کے ذریعے اس کی تفہیم کی کوششوں میں مصروف ہیں لیکن کہیں بھی کوئی تسلی بخش وضاحت نہیں کر پا رہا۔سب سے زیادہ بانجھ پن پر مبنی مو ¿قف نام نہاد بائیں بازو کا ہے جو اس کو مودی کے ہندوتوا کے نظریات یا ہندو فاشزم کا شاخسانہ قرار دے رہے ہیں۔ درحقیقت یہ اقدامات عالمی سطح پر سرمایہ داری نظام کے زوال اور شکست و ریخت کے عمل کی پیداوار ہیںجن کو اس عمومی تبدیلی کے عمل کے تسلسل میں ہی درست طور پر سمجھا جا سکتا ہے۔ سرمایہ داری نظام کے نامیاتی زوال کے اس تبدیل شدہ عہد کا انقلابی تحریکوں کے ابھار ، رد انقلابی خانہ جنگیوں سمیت وحشیانہ ریاستی جبر کی نئی اور پہلے سے زیادہ درندگی پر مبنی شکلوں کے ذریعے اظہار ہو رہا ہے۔دنیا کے ہر خطے میں طویل عرصے سے قائم سیاسی و سماجی توازن دھماکا خیز انداز میں ہر قسم کے واقعات کے ذریعے ٹوٹ کر بکھر رہا ہے۔