Urdu

تھریسا مئے ابھی محض تین ہفتے قبل اپنے یورپ نواز ممبران پارلیمنٹ کی کھوکھلی بغاوت سے جانبر ہی ہوئی تھی کہ اب ایک بار پھر اپنی پارٹی کے سخت گیر انخلا پسند دھڑے سے نبرد آزما ہے، جس کی وجہ سے پچھلے سال کے عام انتخابات کے بعد سے تاحال تھریسا حکومت کا یہ سب سے بڑا اور خوفناک بحران ہے۔

ایسا ہونا طے نہیں تھا۔ نیویارک کے موجودہ کانگریس کے ممبر جو کرولی، جو کوئینز کاؤنٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ بھی ہے اور ڈیموکریٹس کے دوبارہ اکثریت میں آنے کی صورت میں اس نے ایوان کے سپیکر کے طور پر نینسی پیلوسی کی جگہ بھی لینا تھی، کو ایک 28 سالہ کارکن الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز نے شکست دے دی جو اپنے آپ کو ایک سوشلسٹ کہتی ہے اور DSA کی ممبر ہے۔

کل 2 جولائی کو عوام نے بہت بڑی تعداد میں میکسیکو کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ جس میں 18,229 عوامی نشستوں کا فیصلہ ہونا تھا، لیکن ان میں سے سب سے اہم صدارت کی نشست تھی۔ میسر معلومات کے مطابق 8 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے یہ میکسیکو کی تاریخ کی سب سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی شرح تھی۔

امریکی ’’جمہوریت‘‘ ایک ایسی مشین ہے جسے صدیوں میں اس طرح سے کامل بنایا گیا ہے کہ چاہے جو بھی منتخب ہو بینکوں اور ارب پتیوں کے مفادات کی اچھے سے ترجمانی ہوتی رہے۔ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ، جو طاقت کے اصولوں کے مطابق کھیلنے سے انکار کرتا ہے، امریکہ کا پینتالیسواں صدر کیسے بن گیا؟

عالمی سطح پر چینی ”کیمونسٹ پارٹی” (CCP) پہلے سے بڑھ کر پر اعتماد دکھائی دے رہی ہے اور اس کے ساتھ ہی چینی محنت کش طبقہ سرمایہ داری کے تلخ حقائق کے خلاف حرکت میں آتا نظر آرہا ہے۔ مئی سے اب تک تین بڑے پیمانے کی ملک گیر ہڑتالیں ہو چکی ہیں جو کرین آپریٹرز اور فاسٹ فوڈ ڈلیوری کرنے والے محنت کشوں سے شروع ہوئیں اور ابھی حال ہی میں ٹرک ڈرائیوروں کی بھی ہڑتال دیکھنے میں آئی ہے۔ محنت کش طبقے کے حجم کے مقابلے میں یہ ہڑتالیں چھوٹی ہیں مگر محنت کشوں کے منظم ہونے کی صلاحیت سے معلوم ہوتا ہے کہ چینی محنت کش طبقے کی ایک پرت جدوجہد کی طرف دھکیلی جا چکی ہے۔

سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی ملاقات بنا کسی گرما گرمی کے اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے، جو کم از کم G7 سے تو بڑھ کر ہی تھا۔ لیکن درحقیقت وہ بمشکل ہی کسی چیز پر متفق ہوئے۔

سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی ملاقات بنا کسی گرما گرمی کے اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے، جو کم از کم G7 سے تو بڑھ کر ہی تھا۔ لیکن درحقیقت وہ بمشکل ہی کسی چیز پر متفق ہوئے۔

>جمعرات کے روز ٹرمپ کے کینیڈا، جاپان، میکسیکو اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی ڈیڈ لائن گزر گئی۔ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم پر جن محصولات کی دھمکی دی تھی وہ لاگو ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ٹرمپ نے عالمگیریت کی نفی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کے دن ہونے والی G7 کی میٹنگ میں باقی 6 ملکوں کے وزرائے خزانہ امریکہ کے خلاف متحد ہو گئے اور امریکہ کے فیصلے پر اپنی ’’مشترکہ تشویش اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا۔

تامل ناڈو انڈیا میں درجنوں پر امن مظاہرین کو ریاستی اداروں نے اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ ایک ایسی فیکٹری کی بندش کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے جو ماحول کی خرابی اور مقامی لوگوں کی اموات کا باعث بن رہی تھی۔ لوئی تھامس تامل ناڈو سے رپورٹ کرتے ہیں۔

یہ مضمون اپریل 1939ء میں لکھا گیا، یہ ٹراٹسکی کے قتل سے قبل انقلابی مارکسزم کی سچائی کے متعلق اس کی آخری تحریروں میں سے ایک ہے۔ یہ مضمون 1939ء میںOtto Ruhleکی جانب سے کی جانے والی مارکس کی سرمایہ کی تلخیص کے تعارف کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اسے ایک پمفلٹ کے طور پر بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ پمفلٹ انٹرنیٹ پر سب سے پہلے ’’مارکسزم کے دفاع میں(marxist.com)‘‘ ویب سائٹ پر شائع ہواتھا۔

سرمایہ دارانہ نظام کے سنجیدہ نمائندے اس خدشے کو لے کر سخت خوفزدہ ہیں ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری یہ تجارتی تنازعہ کہیں کھلی معاشی جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے۔ فنانشل ٹائمز کے ایک حالیہ اداریے میں ایسوسی ایٹ ایڈیٹر مارٹن وولف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ساتھ 337 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی غرض سے چینی مصنوعات پر (آنے والے دو سالوں میں) 200 ارب ڈالر کے ٹیرف لاگو کرنے کے منصوبے کو انتہائی غیر ذمہ داری پر مبنی پاگل پن قرار دیا۔ مگر ٹرمپ کے پاگل پن میں ہی اس کا طریقہ واردات چھپا ہے۔ وہ غالباً ڈرا دھمکا کر بدمعاشی سے ڈیل کرنے کے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بہر طور ٹرمپ کا اشتعال انگیز رویہ پہلے سے ہی زبوں حال عالمی معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا رہا

...

پیر کے دن ایک طرف یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کے افتتاح کا تماشا چل رہا تھا جبکہ اسی وقت دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی سنائپرز نے 59 فلسطینی مظاہرین کو قتل اور 2700 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے بدترین مظالم کے باوجود، غزہ کے فلسطینیوں کی 1948ء کے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق اور 12 سال سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف عوامی تحریک ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اپنی جھوٹ، غلط بیانی اور منافقت سے بھرپور تقریر میں اس نے اعلان کیا کہ اس کی حکومت پھر سے ایران پر ’’بد ترین معاشی پابندیاں‘‘ لاگو کرے گی۔

سال 2018ء کا یوم مئی ایک ایسے عہد میں منایا جائے گا جب سرمایہ داری کی تاریخ کا سب سے گہرا اور بد ترین بحران دسویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پورے کرۂ ارض پر تلاطم خیز تبد یلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انقلابات اور رد انقلابات،جنگیں اور خانہ جنگیاں،پرانی سامراجی طاقتوں کا زوال اور نئی سامراجی قوتوں کا ابھار،کئی ریاستوں کا انہدام اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلقات،شدید معاشی بحران اور بے نظیر طبقاتی تفاوت،بے تحاشہ زائد پیداواری صلاحیت اور بے تحاشہ غربت وقلت،صنعتی آٹومیشن میں بے مثال بڑھوتری اور خوفناک بیروز گاری،ایک طرف محنت کشوں کی عام ہڑتالیں تو دوسری طرف داعش جیسی انسانیت سوز رجعتی تنظیموں کا ابھار،بڑھتا ہوا سامراجی جبر اور محکوم قومیتوں کی تیز ہوتی جدوجہد،سماجوں

...

پاکستان میں ایک نئی سیاست کا جنم ہو چکا ہے جبکہ پرانی سیاست بستر مرگ پر دم توڑرہی ہے۔ایک طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں صرف جھوٹ کا ہی بول بالا تھا۔ ٹی وی کے مذاکروں سے لے کر اخباروں کے کالموں تک، لیڈروں کی تقریروں سے لے کر بینروں اور پوسٹروں تک ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ تھا۔ہر لیڈر اور سیاسی پارٹی جلسوں اور جلوسوں میں ترقی اور خوشحالی لانے کے دعوے کرتی تھی لیکن عملی طور پر ان کی تمام تر سیاست مفاد پرستی، ٹھیکوں، رشوت خوری، کرپشن، بد عنوانی، فراڈ اور زیادہ سے زیادہ لوٹ مار پر مبنی تھی۔خواہ مذہب کے نام پر سیاست کی تجارت کرنے والی پارٹیاں ہوں یا قوم پرستی کے نام پر کاروبار چمکانے والی پارٹیاں،اسٹیبلشمنٹ کے وفادار اور پالتو سیاستدان ہوں یا مزدوروں کے نام پر ووٹ کھانے والی پارٹیاں ہر

...