Urdu

سنگاپور میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن کے درمیان ہونے والی ملاقات بنا کسی گرما گرمی کے اپنے انجام کو پہنچ گئی۔ مسکراہٹوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے، جو کم از کم G7 سے تو بڑھ کر ہی تھا۔ لیکن درحقیقت وہ بمشکل ہی کسی چیز پر متفق ہوئے۔

>جمعرات کے روز ٹرمپ کے کینیڈا، جاپان، میکسیکو اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی ڈیڈ لائن گزر گئی۔ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم پر جن محصولات کی دھمکی دی تھی وہ لاگو ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ٹرمپ نے عالمگیریت کی نفی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کے دن ہونے والی G7 کی میٹنگ میں باقی 6 ملکوں کے وزرائے خزانہ امریکہ کے خلاف متحد ہو گئے اور امریکہ کے فیصلے پر اپنی ’’مشترکہ تشویش اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا۔

تامل ناڈو انڈیا میں درجنوں پر امن مظاہرین کو ریاستی اداروں نے اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ ایک ایسی فیکٹری کی بندش کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے جو ماحول کی خرابی اور مقامی لوگوں کی اموات کا باعث بن رہی تھی۔ لوئی تھامس تامل ناڈو سے رپورٹ کرتے ہیں۔

یہ مضمون اپریل 1939ء میں لکھا گیا، یہ ٹراٹسکی کے قتل سے قبل انقلابی مارکسزم کی سچائی کے متعلق اس کی آخری تحریروں میں سے ایک ہے۔ یہ مضمون 1939ء میںOtto Ruhleکی جانب سے کی جانے والی مارکس کی سرمایہ کی تلخیص کے تعارف کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اسے ایک پمفلٹ کے طور پر بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ پمفلٹ انٹرنیٹ پر سب سے پہلے ’’مارکسزم کے دفاع میں(marxist.com)‘‘ ویب سائٹ پر شائع ہواتھا۔

سرمایہ دارانہ نظام کے سنجیدہ نمائندے اس خدشے کو لے کر سخت خوفزدہ ہیں ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری یہ تجارتی تنازعہ کہیں کھلی معاشی جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے۔ فنانشل ٹائمز کے ایک حالیہ اداریے میں ایسوسی ایٹ ایڈیٹر مارٹن وولف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ساتھ 337 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی غرض سے چینی مصنوعات پر (آنے والے دو سالوں میں) 200 ارب ڈالر کے ٹیرف لاگو کرنے کے منصوبے کو انتہائی غیر ذمہ داری پر مبنی پاگل پن قرار دیا۔ مگر ٹرمپ کے پاگل پن میں ہی اس کا طریقہ واردات چھپا ہے۔ وہ غالباً ڈرا دھمکا کر بدمعاشی سے ڈیل کرنے کے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بہر طور ٹرمپ کا اشتعال انگیز رویہ پہلے سے ہی زبوں حال عالمی معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا رہا

...

پیر کے دن ایک طرف یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کے افتتاح کا تماشا چل رہا تھا جبکہ اسی وقت دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی سنائپرز نے 59 فلسطینی مظاہرین کو قتل اور 2700 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے بدترین مظالم کے باوجود، غزہ کے فلسطینیوں کی 1948ء کے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق اور 12 سال سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف عوامی تحریک ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اپنی جھوٹ، غلط بیانی اور منافقت سے بھرپور تقریر میں اس نے اعلان کیا کہ اس کی حکومت پھر سے ایران پر ’’بد ترین معاشی پابندیاں‘‘ لاگو کرے گی۔

سال 2018ء کا یوم مئی ایک ایسے عہد میں منایا جائے گا جب سرمایہ داری کی تاریخ کا سب سے گہرا اور بد ترین بحران دسویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پورے کرۂ ارض پر تلاطم خیز تبد یلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انقلابات اور رد انقلابات،جنگیں اور خانہ جنگیاں،پرانی سامراجی طاقتوں کا زوال اور نئی سامراجی قوتوں کا ابھار،کئی ریاستوں کا انہدام اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلقات،شدید معاشی بحران اور بے نظیر طبقاتی تفاوت،بے تحاشہ زائد پیداواری صلاحیت اور بے تحاشہ غربت وقلت،صنعتی آٹومیشن میں بے مثال بڑھوتری اور خوفناک بیروز گاری،ایک طرف محنت کشوں کی عام ہڑتالیں تو دوسری طرف داعش جیسی انسانیت سوز رجعتی تنظیموں کا ابھار،بڑھتا ہوا سامراجی جبر اور محکوم قومیتوں کی تیز ہوتی جدوجہد،سماجوں

...

پاکستان میں ایک نئی سیاست کا جنم ہو چکا ہے جبکہ پرانی سیاست بستر مرگ پر دم توڑرہی ہے۔ایک طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں صرف جھوٹ کا ہی بول بالا تھا۔ ٹی وی کے مذاکروں سے لے کر اخباروں کے کالموں تک، لیڈروں کی تقریروں سے لے کر بینروں اور پوسٹروں تک ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ تھا۔ہر لیڈر اور سیاسی پارٹی جلسوں اور جلوسوں میں ترقی اور خوشحالی لانے کے دعوے کرتی تھی لیکن عملی طور پر ان کی تمام تر سیاست مفاد پرستی، ٹھیکوں، رشوت خوری، کرپشن، بد عنوانی، فراڈ اور زیادہ سے زیادہ لوٹ مار پر مبنی تھی۔خواہ مذہب کے نام پر سیاست کی تجارت کرنے والی پارٹیاں ہوں یا قوم پرستی کے نام پر کاروبار چمکانے والی پارٹیاں،اسٹیبلشمنٹ کے وفادار اور پالتو سیاستدان ہوں یا مزدوروں کے نام پر ووٹ کھانے والی پارٹیاں ہر

...

1883ء میں جب لندن میں کارل مارکس کی وفات ہوئی تو اسے لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں اس کی بیوی کے ساتھ دفن کیا گیا جو دو سال قبل وفات پا گئی تھی۔ اس موقع پر مارکس کے چند قریبی ساتھی موجود تھے جن میں اس کا دیرینہ دوست، نظریاتی ساتھی اور انقلابی دوست فریڈرک اینگلزبھی تھا۔ اس موقع پراپنے مختصر مگر جامع تاریخی خطاب کا اختتام اینگلز نے ان الفاظ پر کیا تھا، ’’اس کا نام اور کام صدیوں تک زندہ رہے گا۔‘‘

سولر پینلز، واشنگ مشینوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر بھاری محصولات لگانے کے بعد ٹرمپ اب چین سے جھگڑا مول لینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس کی نئی تجاویز کے نتیجے میں60 ارب ڈالر کی چینی برآمدات متاثر ہوں گی جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

6مارچ 2018ء کو پورے مہاراشٹر سے 35ہزار کسانوں نے ممبئی کی طرف زمینوں کے مالکانہ حقوق، قرضوں کی معافی، پیدا کردہ اجناس کی مناسب قیمت، آدی واسیوں کی عزت و تکریم اور زراعت کے شعبے میں بہتری(ہندوستان کی آدھی مزدور قوت اور معیشت کا 14 فیصد) کے مطالبات کے ساتھ مارچ کیا۔

اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کرنے میں مصروف تھا، کسی نے کردوں کی خلاف اس وحشیانہ کارروائی پر کوئی توجہ نہیں دی جنہوں نے ترکی پر کبھی حملہ نہیں کیا۔

پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

بعد كل تلك الضجة الكبيرة والدعاية والمناورات الصاخبة داخل أروقة الأمم المتحدة، ها هو ما يسمى بوقف إطلاق النار في سوريا قد فشل فجأة وبشكل مخجل ولا رجعة فيه. لقد كان في الواقع مجهضا، مات حتى قبل ولادته.

اگرچہ، دسمبر کے آخر اور جنوری میں ایران کو ہلا دینے والی تحریک بیٹھ چکی ہے اور کچھ بھی حل نہیں ہوا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ یہ تحریک دہائیوں سے پنپتے غم و غصہ اور بے چینی کا اظہار تھی۔

خواتین کے اس عالمی دن کے موقع پر ہم اپنے قارئین کے لئے عظیم انقلابی رہنما روزا لکسمبرگ کی تقریر کا اردو ترجمہ شائع کر رہے ہیں جو کہ روزا لکسمبرگ نے 1912ء میں جرمنی میں خواتین کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئی کی۔ اس تقریر میں روزا یہ بیان کرتی ہے کہ خواتین کے یکساں سیاسی حقوق کے حصول کیلئے عوامی تحریک، محنت کش طبقے کی آزادی کی عمومی لڑائی کے اظہار کے سوا کچھ بھی نہیں، اسی میں اس کی طاقت اور مستقبل پوشیدہ ہے۔

بالإضافة إلى المجموعات التي سبق ذكرها، كان هناك تيار آخر حاضر في كونفرانس براغ، وإن بصفة "غير رسمية". كانت الشرطة السرية القيصرية، الأوخرانا، قد نجحت في وضع مخبريها في أعلى مستويات المسؤولية داخل الحزب، وكان بعضهم، وبالضبط اثنين منهم، حاضرين خلال المؤتمر البلشفي التأسيسي، بدون علم بقية المندوبين. لم يكن مندوب موسكو سوى العميل المخبر السيئ السمعة: رومان مالينوفسكي، العضو في فريق الدوما البلشفي، والذي رافقه في هذه المناسبة عميل آخر هو أ. رومانوف، مندوب المنطقة الصناعية المركزية. كانت كل خطابات وقرارات الكونفرانس معروفة للشرطة بسبب تقاريرهما المفصلة. وفي محاولة لحماية أعضاء اللجنة المركزية الجديدة من خطر الاعتقال، تم استخدام أساليب سرية خاصة للحماية من الشرطة. فقد كتب كل مندوب

...

رجائیت اور امید کی ایک لہر پچھلے بدھ سے جنوبی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، جب سے جیکب زوما صدارت کے عہدے سے مستعفی ہوا ہے۔ زوما کی صدارت کا 9 سالہ بدعنوانی سے عبارت دور بالآخر ختم ہونے پر سب نے سکون کا سانس لیا۔ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ’’صبحِ نو‘‘ طلوع ہونے کی نوید سنا رہے ہیں۔ لیکن مارکس وادیوں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ جنوبی افریقہ کو درپیش بحران کا تعلق کسی ایک شخص، پارٹی یا حکمران طبقے کے کسی ایک ٹولے سے نہیں ہے۔ سیاسی بحران مجموعی طور پر سرمایہ داری کے بحران کا محض ایک اظہار ہے۔ اور جب تک یہ نظام باقی ہے، صرف چہرے تبدیل کرنے سے کسی قسم کی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔

(یہ مضمون، venezuelanalysis.com پر شائع ہوا تھا جس میں رکارڈو واز نے وینزویلا کی صورتحال کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ عالمی سامراجی یلغار سے بچنے کے لیے وینزویلا کی عوام کو یہ لڑائی اپنی قومی گماشتہ بورژوازی کے خلاف لڑنی ہوگی۔)

پیپسی کولا فیکٹری فیصل آباد کے محنت کش گذشتہ روز 29 جنوری کو اس وقت ہڑتال پر چلے گئے جب ان کے 3 ساتھی محنت کشوں کو انتظامیہ کی جانب سے بغیر کوئی وجہ بتائے، بغیر کسی پیشگی نوٹس کے نوکری سے برخاست کردیا۔ اصل میں یہ تینوں محنت کش تنخواہوں اور دیہاڑی میں اضافہ کیلئے سرگرم تھے، جو ایک طرف محنت کشوں کو تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کرنے کی اپیل کرتے تھے تو دوسری جانب انتظامیہ کے سامنے اس مطالبہ کو رکھتے تھے۔ اس نام نہاد ملٹی نیشنل کمپنی کے مزدوروں کو نہ تو مستقل روزگار کی سہولت موجود ہے نہ دوسری مراعات۔ چند ماہ قبل اسی فیکٹری کی انتظامیہ نے کئی سالوں سے کام کرتے آرہے مزدوروں کو حیلے بہانوں سے مکالنا شروع کردیا جس کے خلاف محنت کشوں میں شدید غم وغصہ موجود تھا۔ کئی ملازمین جو کہ

...

عالمی مارکسی رجحان(IMT) کے پاکستانی سیکشن ’’لال سلام‘‘ کی دوسری کانگریس کا آغاز بروز ہفتہ، 20 جنوری 2018ء کی صبح ایوانِ اقبال لاہور میں ہوا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کا استقبال اپنے ہی نرالے انداز میں کیا: فلوریڈا میں امرا کی تسکین کے لئے اپنے پر تعیش تفریحی ’مار آ لاگو‘ کلب میں اپنے سیاسی اور سماجی حواریوں کے ساتھ جس میں امریکی سماج کی اشرافیہ کے تمام نمائندگان، فلمی ستاروں سے لے کر ارب پتیوں تک، موجود تھے۔

قریباً سات سال قبل 2011ء میں بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پچھلے چند دنوں سے تیونس کے نوجوانوں نے ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرتبہ، آئی ایم ایف کے ایما پر مسلط ہونے والے مجوزہ بجٹ کیخلاف پورے ملک میں احتجاج لہر دوڑگئی ہے۔ درجنوں سرگرم احتجاجیوں کو گرفتار اور ایک احتجاجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ’’Fech Nastannou؟‘‘ (ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟) تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک آمر کا تخت الٹنے کے باوجود غربت، بیروزگاری اور مستقبل سے مایوسی کے مسائل حل نہیں ہو سکے جن کی وجہ سے 2011ء کی دیوہیکل تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

گذشتہ دو ہفتوں سے دیوہیکل عوامی احتجاجوں کی لہر ایران بھر کے شہروں اور قصبوں میں پھیل چکی ہے۔ غربت، مہنگائی، افلاس کے ساتھ ساتھ ایرانی اشرافیہ بالخصوص ملا اشرافیہ کی دولت اور کرپشن کے خلاف پنپتا غم وغصہ خودرو انداز میں پھٹ پڑا۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق، ان احتجاجوں میں 21 کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ 1700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واشنگٹن سے لے کر لندن تک مغربی لیڈروں نے ایرانی عوام کے انسانی حقوق کے ’دفاع‘ میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔

ایران میں مسلسل احتجاجوں کا کل پانچواں دن تھا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مزید سخت اقدامات شروع کر دئے ہیں۔ پانچویں دن احتجاجوں کا حجم کچھ کم ہوا ہے، کچھ کریک ڈاؤن کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ ابھی تک تحریک کوکوئی مضبوط محور نہیں ملا جس کے ارد گرد منظم ہو کر تحریک بھرپور فعال ہو سکے۔ ریاست نے انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر کریک ڈاؤن کر کے رسائی انتہائی محدود کر دی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کئی احتجاجوں کی خبر، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور قصبوں سے، باہر کی دنیا تک نہیں پہنچ رہی۔

مندرجہ ذیل اعلامیہ عالمی مارکسی رجحان کے کیٹالان سیکشن کے کامریڈز نے جاری کیا ہے۔ اس میں 21 دسمبر کے ’’غیر قانونی اور زبردستی مسلط کردہ‘‘ کیٹالان کے انتخابات میں کامریڈز کی CUP کے لئے حمایت، 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ کی شدید مخالفت اور جمہوریہ کیٹالان کی تحریک کے لئے ضروری لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریر کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سابقہ صدور کی (الیکشن) مہم کا وہ وعدہ جسے وہ پورا کرنے سے قاصر رہے، میں پورا کر رہا ہوں۔ میرا آج کا یہ بیان اسرائیل فلسطین تنازعے کے حوالے سے ایک نویکلا زاویۂ نگاہ ہے جو نئے در وا کرے گا۔‘‘

1917ء میں برپا ہونے والا انقلاب روس بلاشبہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ تھا۔ 1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا اور اجتماعی ملکیت کی بنیادوں پر ایک غیر طبقاتی سماج تعمیر کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس میں فروری 1917ء میں جنم لینے والی انقلابی تحریک حتمی تجزئیے میں پہلی عالمی جنگ کی تباہی، شدید معاشی وریاستی بحران، بے انتہا غربت اور بدحالی جیسے معروضی عوامل کی پیداوار تھی لیکن اکتوبر 1917ء میں انقلاب کی کامیابی ان معروضی حالات کا خودرو نتیجہ ہر گز نہ تھی۔ یہ انقلابی تحریک بھی دیگر بے شمار عوامی

...

گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، پروفیسر اور تاریخ دان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مارکسزم پر حملہ کر کے اس کو بدنام کیا جا سکے۔ یہاں ہم مارکسزم کے متعلق پھیلائے گئے کچھ عام مغالطوں کا مطالعہ کریں گے۔

انقلاب روس کے سو سال پر پوری دنیا میں اس عظیم انقلاب کی یاد میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب محنت کش طبقے کی اس میراث پر سرمایہ داروں اور ان کے گماشتوں کی جانب سے حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ بہت سی نئی کتابیں اور مضامین شائع کیے جارہے ہیں جن میں اس انقلاب کے واقعات کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس پر ہر قسم کے غلیظ الزامات لگائے جاتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں سرمایہ داری کا مکمل غلبہ ہے لیکن اس کے باوجود انسانیت سسک رہی ہے اور آبادی کا وسیع ترین حصہ غربت، ذلت اور محرومی کی اتھاہ گہرائیوں میں زندگی گزار رہا ہے۔ ہر جانب جنگیں، خانہ جنگیاں اور خونریزی نظر آتی ہے جہاں بے گناہوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود

...

’’روس اور دنیا کے انقلاب دونوں کی کامیابی کا انحصار دویا تین دن کی لڑائی پر ہے۔‘‘

میں یہ سطریں 8(21)اکتوبر کو لکھ رہا ہوں اور بہت کم امید ہے کہ یہ 9اکتوبر تک پیٹروگراڈ پہنچ جائیں گی۔ ممکن ہے کہ یہ بہت تاخیر سے پہنچیں کیونکہ شمالی سوویتوں کی کانگریس کی تاریخ 10اکتوبر طے ہو چکی ہے۔

لیکن پھر بھی میں اپنا ’’ایک تماشائی کا مشورہ‘‘ ضرور دینا چاہوں گاکیونکہ امکان ہے کہ پیٹروگراڈ سمیت پورے ’’علاقے‘‘کے مزدوروں اور سپاہیوں کا ایکشن جلد شروع ہو جائے گا اور ابھی اس کا آغاز نہیں ہوا۔

بدأ آلان وودز، محرر موقع الدفاع عن الماركسية marxist.com، جولة خطابية في أمريكا اللاتينية مع لقاءات من تنظيم الماركسيين في الأرجنتين وباراغواي والبرازيل. وستستمر الجولة في نوفمبر مع سلسلة من الاجتماعات في مدينة مكسيكو، التي ستكون من تنظيم إستيبان فولكوف (حفيد تروتسكي) ومتحف تروتسكي.

|تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: ولید خان|
29ستمبر 2017ءگزشتہ پیر کے دن لاکھوں عراقی کردوں نے ایک ریفرنڈم میں عراق سے علیحدگی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔ منتظمین کے مطابق 92.73 فیصد ووٹروں نے کرد آزادی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ شرکت کی شرح 72.16 فیصد تھی۔ عراقی کرد عوام کی بھاری اکثریت نےواضح کر دیا ہے کہ ان کا عراق کی نیم فرقہ پرست مرکزی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

جمعرات 2 اپریل کو ایران اور دنیا کے طاقتور ترین سامراجی ممالک نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کے خاکے پر دستخط کیے۔ اس میں ایران پر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان بارہ سالہ تنازعہ کے خاتمے کے آغاز کی نشاندہی کر تی ہے۔ لیکن ان مذاکرات کے در پردہ کیا ہے اور اس معاہدے کا مطلب کیا ہے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نے 30 مارچ کو لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں اعلان فرما یاہے کہ ’’2018ء تک پنجاب کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا۔‘‘ موصوف نے یہ وضاحت بہرحال نہیں کہ وہ کسی فرقے کے مدرسے میں پڑھے گا یا کسی ’’کانونٹ‘‘ سکول میں داخل ہو گا، سرکاری سکول جائیگا یا نجلی سکول سے تعلیم خریدے گا، انگریزی میڈیم نصاب پڑھے گا یا اردو میڈیم؟ پنجابی حکمرانوں نے پنجاب میں پنجابی زبان، تہذیب اور ثقافت کو ویسے ہی قتل کر دیا ہے۔ اب پتا نہیں یہ بیان ٹاٹوں والے سکولوں کے لئے تھا یا ائیر کنڈیشنڈ فائیو سٹار سکولوں کے بارے۔ پنجاب کا ہر بچہ ایسے سکولوں میں تعلیم حاصل کرے گا جہاں پیدل فاصلے سے بچوں کو لینے کے لئے لمبی گاڑیوں کی طویل قطاریں ہوتی ہیں یا ان سکولوں میں جہاں کڑکتی

...

اس سال سپین میں جنرل الیکشن کی تیاری کی مہم کا آغاز ’’پوڈیموس‘‘ (Podemos) نے 31جنوری 2015ء کو میڈریڈمیں احتجاج کی کال دے کر کیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ احتجاج یونان میں سائریزا کی جیت کے فوراً بعد ہواہے جس میں لاکھوں لوگوں نے کٹوتیوں (Austerity) کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرین پرامید تھے کہ اس معاشی ذلت سے نجات ممکن ہے۔

ایک وقت تھا جب سفارش سے بڑے کام کروائے جاتے تھے۔ ان زمانوں میں منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی بھی ہوا کرتی تھی۔ آج کے زمانے میں یہ طریقے بہت ’’کمزور‘‘ ہوگئے ہیں۔ حکمران طبقے اور سامراجی کمپنیوں کی شرح منافع میں اضافہ اب ذخیر اندازی جیسے ’’قدیم‘‘ طریقوں سے ممکن نہیں رہا ہے۔ ماضی کی چوری چکاری اب معاشی ڈاکہ زنی میں بدل چکی ہے۔ ذات برادری، رشتہ داری یا دوستی کے رشتوں کو سرمائے کے جبر نے کچل دیا ہے۔ سرمائے کے بڑھتے ہوئے سماجی و اخلاقی کردار کی وجہ سے نوکریاں اب بکتی ہیں یا پھر سفارش کا تبادلہ سفارش سے کرنا پڑتا ہے۔ کام کے بدلے ہی کام ہوتا ہے۔ خونی رشتوں کی گرمائش بھی سرد پڑ گئی ہے۔ دوستیاں بڑی عریانی سے مطلب پرستی میں بدل گئی ہیں۔ باہمی گفتگو کے معیار گر کر مطلب اور ’’مقصد‘‘ تک

...

انسان کتنا ہی بے بس ہو، معاشرہ کتنا ہی بے حس ہوجائے لیکن رگ جان میں ایسے خلیے ضرور ہوتے ہیں جنہیں کوئی واقعہ سلگا دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت کرب اور اذیت کو جنم دیتی ہے لیکن پھر روح کے زخم بھی جاگ کر غصے کو جنم دیتے ہیں، ظلم و بربریت کے خلاف انتقام کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ افراد میں بکھرا ہوا دکھ جب شریانوں میں دوڑ کر ظلم سے انتقام کی اجتماعی تڑپ کو بیدار کرتا ہے تو بکھری ہوئی گھائل بغاوت مجتمع اور بیدار ہو جاتی ہے۔

ذرائع پیداوار کی ذاتی ملکیت عالمی سطح پر ایک بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔ نظام اپنی موت آپ مر رہا ہے اور یہ صورتحال ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ملک پر ناگزیر طور پر گہرے سیاسی اور سماجی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ فرانسس فوکویاما، جس نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد مشہور زمانہ ’’تاریخ کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا تھا، اب کہتا ہے کہ ’’امریکہ دیگر جمہوری سیاسی نظاموں کی نسبت زیادہ سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔‘‘ سادہ لفظوں میں سرمایہ داری اور اس کے ادارے سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے استعفے نے اس بحران کو مزید عیاں کر دیا ہے جس سے امریکی سامراج داخلی اور خارجی طور پر دو چار ہے۔ اس سے چند روز قبل امریکی پارلیمنٹ کے وسط مدتی انتخابات میں اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بیشتر ڈیموکریٹ امیدوار تو انتخابی مہم میں خود کو اوباما اور اس کی پالیسیوں سے دور ثابت کرتے رہے۔

آج کے عہد کا سب سے گہرا تضاد انتہاؤں کو چھوتی ہوئی معاشی ناہمواری ہے۔ بہتات میں بھی قلت ہے۔ دولت کے انبار چند ہاتھوں میں مجتمع ہورہے ہیں۔ ذرائع پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ کرہ ارض پر موجود تمام انسانوں کی ضروریات سے کہیں زیادہ پیداوار کی جاسکتی ہے لیکن نسل انسان کی اکثریت غربت، محرومی اور ذلت میں غرق ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ کارل مارکس ہی تھا جس نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل سرمایہ دارانہ نظام کی اساس واضح کرتے ہوئے لکھا تھاکہ’’ایک جانب دولت کا ارتکاز درحقیقت عین اسی وقت دوسری جانب بدحالی، مشقت کی اذیت، غلامی، جہالت، ظلم اور ذہنی پسماندگی کا ارتکاز ہے۔‘‘

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے معاشروں میں مبالغہ آرائی سے ابھارا جانے والا فرد کا کردار نہ صرف سیاسی اور شعوری پسماندگی کو جنم دیتا ہے بلکہ بعض اوقات متعلقہ شخصیات کے لئے بھی وبال جان بن جاتا ہے۔ ملالہ یوسفزئی اس مظہر کی تازہ مثال ہے۔ اس بچی کو چھوٹی سی عمر میں سر پر گولی مار کر موت سے تقریباً ہمکنار کر دیا۔ پھر انتہائی زخمی حالت میں وہ پردیس جا پہنچی جہاں اس کو اور اس کے والدین کو شائبہ بھی نہیں تھا کہ سامراجی حکمرانوں کے پیار محبت میں کیا کیا مقاصد لپٹے ہوں گے۔

محنت کشوں کی پہلی عالمی تنظیم ’’انٹرنیشنل ورکنگ مین ایسوسی ایشن‘‘ کے قیام کے 150 سال اور بالشویک انقلاب کی 97ویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے زیر اہتمام ملک بھر میں سیمینار اور جلسے منعقد کئے گئے جن کی تفصیل ہم اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

س ملک میں ہر روز سینکڑوں انسان وقت سے بہت پہلے زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔ لاعلاجی، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کے ساتھ ساتھ ٹریفک حادثات ان قابل انسداد اموات کی بڑی وجہ ہیں۔ منگل 11 نومبر کی صبح ایسا ہی ایک اندوہناک حادثہ خیرپور سندھ کے نزدیک ٹھری بائی پاس پر پیش آیا۔ مسافروں سے بھری بس ٹرک سے جا ٹکرائی۔ حادثے میں 21 خواتین اور 14 سال سے کم عمر 19 بچوں سمیت 60 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ اس سے کچھ دن قبل 2نومبر کو واہگہ بم دھماکے میں بھی کم و بیش اتنے ہی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 4 نومبر کو قصور کے نواحی علاقے کوٹ رادھا کشن میں مذہبی جنونیوں نے ایک عیسائی جوڑے کو زندہ جلا ڈالا۔ صرف دس دنوں میں رونما ہونے والے یہ تین دردناک واقعات اس جبر مسلسل کے عکاس ہیں جس میں اس ملک کے کروڑوں

...

انسانی زندگی مختلف ادوار کا امتزاج ہے جس میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ انسان آگے کی طرف سفر کرتا ہے مگر تمام انسانی زندگی میں جوانی وہ عرصہ ہو تا ہے جب انسان قدرت کی تمام نعمتوں سے بھر پور استفادہ اٹھاسکتا ہے مگر موجودہ بحران زدہ گلے سڑے سماجی ڈھانچے میں جوانی کا عہد اب کمزوریوں، ناانصافیوں، ظلم اور زیادتیوں کا عہد بن چکا ہے۔ جس میں داخل ہوتے ہی اپنے والدین اور عزیز اقارب کی طرف سے مہیا محبت و الفت کے تمام لمحات کسی تصوراتی دنیا کے قصے کہانیاں لگتی ہیں۔ یہ وہ عہد بن چکا ہے جب انسان کے سامنے بناوٹی اور بازاری غلاف میں لپٹی مکاریاں، دھوکہ دہی اور فریب عیاں ہونا شروع ہوتا ہے۔

جمعہ 17 اکتوبر کو مالاکنڈ میں کامریڈ ساجد عالم کی وفات پر پراگریسو یوتھ الائنس (PYA) اور پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے زیر اہتمام تعزیتی ریفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں طلبہ، محنت کشوں، سیاسی کارکنان اور مقامی افراد نے شرکت کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض ناصر امین نے سر انجام دئیے جبکہ PTUDC کے انٹرنیشنل سیکرٹری کامریڈ لال خان ریفرنس کے مہمان خصوصی تھے۔

مشہور ترقی پسند امریکی مصنف ویڈال گور نے امریکہ کی سیاست پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’امریکہ میں سرمایہ داروں کی ایک پارٹی ہے جس کے دو دائیں بازو ہیں۔‘‘ ویڈال گور کی مراد ریپبلکن اور ڈیموکریٹ پارٹیوں سے تھی۔ امریکی حکمران طبقے کی نمائندہ یہ دونوں پارٹیاں ’’اختلافات‘‘ کا جتنا بھی ناٹک رچاتی رہیں، استحصالی سرمایہ دارانہ نظام کو قائم رکھنے اور دنیا بھر میں امریکی سامراج کے تسلط کو برقرار رکھنے کے معاملے میں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ اگر آج کے عہد میں پاکستان کے سیاسی منظر نامے کا جائزہ لیا جائے تو لوٹ مار کے گرد جنم لینے والے ثانوی نوعیت کے ’’اختلافات‘‘ کے باوجود ہمیں پاکستان میں سرمایہ داروں کی ایک ہی سیاسی جماعت ملتی ہے جس کے کئی دائیں بازو ہیں۔ پاکستانی معیشت،

...

داعش کے جنگجو ترکی اور شام کی سرحد پر محصور قصبے کوبانی کے قریب ہو تے جارہے ہیں۔ ہزاروں خوفزدہ کُرد کمک اور رسد لانے کے لیے ترکی چلے گئے ہیں لیکن انہیں ترک فوج کی رکاوٹ کا سامنا ہے جو انہیں کمک، رسد اور ہتھیار سرحد پار لے جانے سے روک رہی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب دنیا تماشائی بنی ہوئی ہے، کوبانی کے عوام ایک ناقابل بیان قتل عام کے خطرے سے دوچار ہیں۔