Urdu

(28 نومبر 2020ء کو فریڈرک اینگلز کی 200ویں سالگرہ منائی گئی۔ اس موقع پر سوشلسٹ اپیل کے مدیر راب سیول، اینگلز کی اہم خدمات پر روشنی ڈالتے ہیں جو اس نے مارکسزم کے نظریات کو پروان چڑھانے میں ادا کیے اور جس کے لیے ہم ہمیشہ اس کے مشکور رہیں گے۔)

26 نومبر کو ہندوستان کے شہری اور دیہی علاقوں کے پچیس کروڑ لوگوں نے عام ہڑتال میں حصہ لیا۔ دس مرکزی ٹریڈ نونینوں کی کال پر ہونے والی یہ ہڑتال، مودی کے چھ سالوں کے حکومتی دورانیے میں پانچویں بار ہوئی ہے۔

انڈیا کی آبادی کا ایک بڑا حصہ زراعت سے منسلک ہے۔ یہ سیکٹر انڈیا کی کل مجموعی پیداوار (GDP) کا 17 فیصد ہے۔ لیکن سرمایہ داری نے زرعی سیکٹر میں حالاتِ کام میں کوئی خاطر خواہ ترقی نہیں دی اور ہر گزرتے دن کے ساتھ صورتحال شدید گھمبیر ہو رہی ہے۔ یکے بعد دیگرے سرمایہ دارانہ حکومتوں کی لبرلائزیشن اور نجکاری پالیسیوں سے کسان مسلسل قرضوں کی دلدل میں ڈوبتے چلے جا رہے ہیں۔ گلی سڑی سرمایہ داری میں کسان زندہ رہنے کے لئے تاجروں اور عالمی کارپوریشنوں کے رحم و کرم پر ہیں جبکہ ان کا معیارِ زندگی مسلسل گرتا جا رہا ہے۔ حال ہی میں منظور ہونے والے زرعی قوانین کسانوں پر خوفناک حملہ ہے جو پہلے ہی ذلت کی چکی میں پِس رہے ہیں اور پورے ملک میں سالانہ ہزاروں کسان خودکشیاں کر رہے ہیں۔

روس میں حالیہ کاراباخ جنگ پر دو نکتہ نظر موجود ہیں۔ ایک طرف لبرلز ہیں جو NATO کے تربیت یافتہ ترک جرنیلوں اور اسرائیلی ڈرونز کے مداح ہیں تو دوسری طرف پیوٹن کے خفیہ اور کھلم کھلا مداح لیوا (روسی۔یوکرائینی میڈیا پر) ہمیں بتا رہے ہیں کہ انقلابیوں (نام نہاد یا حقیقی) کو ہمیشہ جنگوں میں شکست ہوتی ہے۔ ان دونوں خیالات میں حقیقت کی رمق تک موجود نہیں۔ بورژوا انقلابات میں تشکیل پانے والی ملیشیاؤں نے شاندار فتوحات حاصل کیں۔ صرف انیسویں صدی میں ہی نہیں بلکہ ناگورنو۔کاراباخ جمہوریہ کی تاریخ کا آغاز تین دہائیوں پہلے ہونے والی جنگ میں آرمینی ملیشیا کی فتح سے ہوتا ہے۔ اس وقت آذربائیجان زیادہ امیر تھا اور اس کی فوج زیادہ بڑی اور اسلحہ سے بہتر لیس تھی لیکن اگر آذربائیجان کو اس جنگ میں کچھ

...

دیوہیکل احتجاجی تحریک نے تھائی لینڈ کے سماج کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں جس نے حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ فوجی حکومت (جس کا دفاع بادشاہت اور بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام دونوں کر رہے ہیں) کا خاتمہ کرنے کے لیے اس تحریک کے صف اول میں موجود جوانوں کو محنت کش طبقے تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔

کورونا وباء کی دوسری لہر اس وقت یورپ کو تخت و تاراج کر رہی ہے۔ یہ صورتحال ناگزیر ہونے کے بجائے حکومتوں کی خوفناک پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت سرمایہ داروں کی دولت کو عوامی صحت پر فوقیت حاصل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مالکان زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کی قیمت ادا کریں! وباء سے لڑنے کے لئے سرمایہ داری کا خاتمہ کر ڈالو!

اسٹیبلشمنٹ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں کہ جو بائیڈن 2020ء صدارتی انتخابات جیت چکا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے تنگ کروڑوں امریکیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ لیکن امریکی سماج میں پولرائزیشن بدستور موجود ہے اور خود بائیڈن اسی حکمران سیاست کا نمائندہ ہے جس کا اظہار ٹرمپ تھا۔ مزدوروں اور نوجوانوں کو حقیقی طبقاتی بنیادوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے متبادل کی اشد ضرورت ہے۔

مورخہ 8 نومبر رات تقریباً 1:30 بجے سادہ کپڑوں میں ملوث دو ویگو گاڑیاں اور تین پولیس موبائل سوار مسلح اہلکاروں نے پروگریسو یوتھ الائنس کے سرگرم کارکن امر فیاض کو لیاقت میڈیکل اینڈ ہیلتھ یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے واقع پانی پمپ سے بندوق کے زور پر اغوا کر لیا اور تادمِ تحریر امر فیاض لاپتہ ہے۔ امر فیاض گذشتہ کئی سالوں سے پروگریسو یوتھ الائنس سے وابستہ ہیں اور مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، روزگار اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے ”مارکسزم؛ عہد حاضر کا واحد سچ“ نامی کتاب کا سندھی ترجمہ بھی کیا جو ان کی علم دوستی کا واضح ثبوت ہے۔

امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات کئی حوالوں سے اہمیت اختیار کر چکے ہیں اوران انتخابات کے نتائج کے اثرات یقیناپوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ لیکن ٹرمپ اور جو بائیڈن میں سے کوئی بھی یہ الیکشن جیت جائے عالمی سطح پر جاری عدم استحکام، ورلڈ آرڈر کا بکھرتا شیرازہ اور مالیاتی بحران کی شدت کسی طور بھی کم نہیں ہو گی بلکہ پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ شدت سے آگے بڑھے گا۔ یہ دونوں امیدوار ہی حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور دونوں کا تعلق ہی دائیں بازو سے ہے۔ امریکہ کے محنت کش عوام کی اپنی کوئی سیاسی پارٹی ابھی تک موجود نہیں اور دونوں پارٹیاں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور دونوں دائیں بازو کے نظریات کی حامل ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے برنی

...

حالیہ عرصے میں امریکی اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے اویغور عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر چین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ نے تو سنکیانگ میں تعینات چین کے اعلیٰ ریاستی حکام پر اس حوالے سے پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں اور اویغور قوم پر چینی ریاست کے ظلم و جبر کی کہانیاں آئے دن مغربی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ پریس کے مطابق لاکھوں اویغور اس وقت حراستی مراکز میں قید ہیں جبکہ دیگر کو انتہائی جبر کا سامنا ہے۔ لیکن اب ایسا کیا ہوا کہ مغربی سامراجی روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اویغور عوام کی حالت زار پر شورو غوغا مچا رہے ہیں؟

29 ستمبر بروز منگل دہلی ہسپتال میں ایک دلت خاتون دم توڑ گئی، جس کو اتر پردیش کے ضلع ہتھ رس میں چار مردوں نے اجتماعی زیادتی اور اذیت کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے سے ملک بھر کی عوام میں شدید غصّہ پھیل رہا ہے۔ اس بھیانک اور وحشی حملے نے ایک بار پھر اس بربریت کی نشاندہی کر دی جس کا سامنا بھارت کی غریب اور نچلی ذات کی خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے اور جس کی جڑیں اس بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں۔

ہم محنت کشوں، طلبہ کارکنان اور دنیا بھر کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہیٹی کی جدوجہد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔ اس کے لیے اس بیانیے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور سوشل میڈیا پر مندرجہ ذیل ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے تصوریں اور اپنے بیانات لگائیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ عرصے میں ہونے والی جنگ، سوویت یونین کے انہدام اور سرمایہ داریانہ بحالی کی خونی میراث ہے۔ یہ ایک بربریت زدہ جنگ ہے جس میں چاروں اطراف رجعتیت کا غلبہ ہے۔ اس جنگ میں مداخلت کرنے والی تمام سامراجی قوتیں مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں لیکن اصل مظلوم دونوں اطراف کا محنت کش طبقہ ہے جو اپنے قائدین کے سفاک اور رجعتی کھلواڑ کی قیمت اپنے خون سے ادا کر رہا ہے۔ صرف عالمگیریت اور طبقاتی جدوجہد محنت کشوں کو اپنے حقیقی دشمنوں، یعنی ان کے اپنا سرمایہ دار طبقے، کے خلاف صف آراء کر سکتی ہے۔

اس سال مارچ کے مہینے میں لوئی ول شہر کے تین پولیس افسران بریونا ٹیلر اور اس کے بوائے فرینڈ کے گھر کے اندر زبردستی گھس گئے۔ پولیس نے اپارٹمنٹ میں 32 فائر کیے اور گولیوں کی بوچھاڑ نتیجے میں ٹیلر دم توڑ گئی۔ سرمایہ دارانہ عدالتوں کے حالیہ فیصلے میں کسی بھی افسر پر ماورائے عدالت قتل کا فرد جرم عائد نہیں کیا گیا۔ فیصلے کے خلاف شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا اور ملک کے کم از کم درجن شہروں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

کئی ہفتے جارج فلائڈ کے قتل پر نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف جنم لینے والے احتجاج پورے امریکہ کو جھنجھوڑتے رہے۔ سماج کی ہر پرت نے اس تحریک کی حمایت کی۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی یعنی تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی احتجاج میں کم از کم ایک مرتبہ شرکت کی۔ اگرچہ کچھ شہروں میں عوامی احتجاج ابھی بھی جاری ہیں لیکن زیادہ تر ملک میں عوامی سیلاب کا ریلا ختم ہو گیا ہے کیونکہ انہیں اس سے انقلابی راستہ نہیں ملا۔۔ فی الحال۔