Urdu

کسی بھی قوم یا ملک کے دوبنیادی اثاثے ہوتے ہیں، اس کے باسی یا اسکے ذرائع پیداوار اور وسائل۔ اگر ہم پاکستان کے حکمرانوں کے بیانات اور تقاریر کاجائزہ لیں، ذرائع ابلاغ کے پروگراموں اور ترانوں پر غور کریں تو ہمیں ہر طرف سے ’’قومی مفادات‘‘، ’’حب الوطنی‘‘، ’’ملکی سا لمیت‘‘ وغیرہ کے نعرے ہی نعرے سنائی دیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ان حکمران طبقات کو ملک اور وطن کا اتنا درد ہے کہ وہ جان بھی دے دیں گے۔ لیکن اگر ان کی پالیسیوں، عزائم اور عملی وارداتوں کا جائزہ لیں تو یہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے حکمران دوہرے معیاروں منافقت اور وطن فروشی کے سردار نظر آئیں گے۔ حب الوطنی، قوم پرستی اور ملکی سالمیتوں کے نعرے عوام کو اس شاونزم کی جذباتیت کے ذریعے ذہنی طور پر مطیع اور محکوم بنانے کے لیے

...

موجودہ حکومت کے دوسرے سیاسی اور انتظامی فیصلوں کی طرح بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سیاستدانوں کے تذبذب اور ٹھوس فیصلہ سازی میں ناکامی کے پیش نظر ہر معاملے میں عدلیہ مداخلت کررہی ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ریاستی معاملات میں عدلیہ کا کردار جتنا بڑھ گیا ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ اقتصادی اور سیاسی طور پر نحیف حکمران طبقے کے لئے فیصلے کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا چلا جارہا ہے۔ حکمران دراصل عدلیہ کی مداخلت سے خوش بھی ہیں کیونکہ اس طریقے سے پیچیدہ معاملات تاخیر زدگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عدالتی اور ریاستی نظام میں اشرافیہ کی سہولت کے لئے رکھے جانے والے چور راستوں کی وجہ سے کیس ہمیشہ کے لئے التوا کا شکار ہو کر عوام کی یادداشت اور

...

’’ذوالفقارعلی بھٹو کے ہئیر سٹائل اور باڈی لینگویج کی نقالی کر لینے سے پارٹی کو 1970ء کی طرح عوام میں مقبول نہیں بنایا جاسکتا۔ پارٹی کو ایک نئے جنم اور ازسر نو ابھار کے لئے ایک بار پھر انقلابی سوشلزم کا پروگرام اپنانا ہوگا۔‘‘

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے الفاظ کی حرارت میں اضافہ کرتے ہوئے 3 جنوری 2014ء کو یہ دھماکہ خیز بیان دیا ہے کہ وہ ’’اردو بولنے والے سندھیوں‘‘ کے لئے الگ صوبہ یا ملک بنانے کی طرف جائیں گے۔ یہ دراصل کراچی میں آپریشن کرنے والی پاکستانی ریاست کے لئے ایک دھمکی ہے۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ دو عشروں سے زیادہ عرصہ تک کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کا حصہ رہنے کے بعد اب ایم کیو ایم کو اقتدار سے باہر رہنا مشکل محسوس ہورہا ہے۔ سرکاری طور پر کراچی میں جاری حالیہ آپریشن کا مقصد اگرچہ دہشت گرد وں اور بھتہ خوروں کا خاتمہ بتایا جارہا ہے تاہم محسوس یہ ہورہا ہے کہ انتخابی سیاست میں ایم کیو ایم کی برتری قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ’’کچھ عناصر‘‘ بھی اس آپریشن کی زد میں آرہے ہیں۔

...

جہاں مالی مفادات، سیاسی طاقت اور خارجہ پالیسی پر اختلافات کی وجہ سے پاکستان کے حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کے درمیان تناؤ شدت پکڑ رہا ہے وہاں اس سماج کے باسیوں کی وسیع اکثریت کے لئے غربت، محرومی اور بے روزگاری کی اذیتوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ صورتحال بحثییت مجموعی سرمایہ دارانہ نظام کے شدید معاشی، سیاسی اور سفارتی بحران کی غماز ہے۔ لینن نے قبل از انقلاب صورتحال کی سب سے بڑی نشانی حکمران طبقے کے آپسی تضادات کی شدت کو قرار دیا تھا۔

تاریخ جتنی تاخیر سے مرتب ہوتی ہے، حقائق اتنے ہی واضح اور ٹھوس ہو کر منظر عام پر آتے ہیں۔ کسی بھی طبقاتی سماج میں تاریخ ہمیشہ حکمران طبقات مرتب کرتے ہیں۔ ریاستی مورخین اور سرکاری دانش ور تاریخی واقعات کو بالادست طبقات کے نظریات اور مفادات سے مطابقت رکھنے والے زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ جہاں بات نہ بن پائے وہاں ’’نظریہ سازش‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دانشورانہ غیر دیانتداری کو ’’تاریخ کا قتل ‘‘کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکمران طبقات کے باہمی تضادات خود بہت سے تاریخی حقائق کو عیاں اور بے نقاب کر دیتے ہیں۔

گزشتہ اتوار ونزویلا کے محنت کش عوام اور نوجوانوں نے ایک بار پھر انقلابی جوش و ولولے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف ونزویلا (PSUV) کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ آج بھی ونزویلا کے عوام رد انقلاب کے حملوں اور تمام تر مشکلات کے باوجود 2002ء میں ہوگو شاویز کی جانب سے شروع کئے گئے انقلابی عمل کا دفاع کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ سوشلسٹوں کو دائیں بازوکے 43فیصدکے مقابلے میں 54 فیصد ووٹ ملے۔ PSUV اور اس کے اتحادیوں نے 196 جبکہ دائیں بازو کی اپوزیشن نے 53 میونسپل نشستیں حاصل کیں۔ پچھلے چند مہینوں میں بولیوارین انقلاب کے حامیوں کی دائیں بازو پر انتخابی سبقت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں ہونے والے صدارتی

...

، 7 اور 8دسمبر 2013ء کو میمن گوٹھ کراچی میں موسم سرما کے نیشنل مارکسی یوتھ سکول کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے 160 سے زائد کامریڈز نے شرکت کی۔ سکول میں مجموعی طور پر پانچ موضوعات زیر بحث آئے اور کامریڈز نے سیاسی اور نظریاتی بحثوں نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔

اسلام آباد سے مظفر آباد جاتے ہوئے کوہالہ پل سے دریائے نیلم پار کیا جاتا ہے۔ جہاں کشمیر کے پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کی خوبصورتی دل کو لبھاتی ہے وہاں خستہ حال انفراسٹرکچر اپنی بوسیدگی کا احساس دلاتا ہے۔ کسی بھی ذی شعورانسان کو اس جنت بے نظیر کے قدرتی حسن سے زیادہ یہاں کے باسیوں کی بدحالی کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ چشموں کی فراوانی کے باوجود پینے اور استعمال کے پانی کا حصول ایک مشقت طلب کام ہے۔ سڑکیں ایک طرف سے بننا شروع ہوتی ہیں تو دوسری طرف سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ علاج معالجے کی سہولیات برائے نام ہیں۔ روزگار نا پید ہے۔ غربت عام ہے۔

’’اگر منڈیلا اور شاویز کی وفات پر سامراج کے سرخیل جریدے اکانومسٹ کی کوریج دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے منڈیلا ہیرو تھا اور شاویز ولن‘‘

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو شہر ترید (دریائے رائن کے کنارے والے پروشیا) میں پیدا ہوئے۔ مارکس کے باپ ایک یہودی وکیل تھے جنہوں نے 1824ء میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا۔ پورا گھرانہ خوش حال تھا، مہذب تھا مگر انقلابی نہیں تھا۔ ترید میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ پہلے بون میں پھر برلن یونیورسٹی میں، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ 1841ء تک ان کی باقاعدہ طالب علمی آخری منزل کو پہنچ گئی اورانہوں نے ایپیکیوریس کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ خیالات کے لحاظ سے کارل مارکس اس وقت تک فلسفی ہیگل کے عینی ( خیال پرستانہ) نظریے کو مانتے تھے۔ برلن

...

وینزویلا میں 8 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن ہونے جارہے ہیں اور اس سے پہلے ہی وہاں افواہ سازی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اشیا کی قیمتوں میں بدترین اضافے اور معیشت کو سبوتاژکرنے کی کوششیں بھی اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہیں۔ وینزویلاکے صدرماڈورونے اس سارے عمل کوحکومت کے خلاف ایک ’’سست رفتار بغاوت‘‘ (Slow Motion Coup) قراردیاہے۔ سرمایہ داروں اور سامراجیوں کے ایسے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے کئی سالوں کے دوران افراط زر کی شرح 74 فیصد جبکہ اشیا کی قلت کی شرح22فیصد تک جا چکی ہے۔

بجلی، پٹرولیم اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد شاید کوئی کسر باقی رہ گئی تھی کہ اب دوا ساز کمپنیوں کی ’’پرزور فرمائش‘‘ پر ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے پہلے ہی باہر ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے منافعے اور اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ محنت کشوں کی اجرتیں اور غریب عوام کی آمدن میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے۔

23 نومبر کو جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ کے قریب کامونکی میں واقع ماسٹر ٹائل کے گیٹ کے سامنے سینکڑوں برطرف ملازمین نے پر زور احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کش بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور فیکٹری میں ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا جس کے نتیجے میں فیکٹری میں کام بند ہوگیا۔

بالشویک انقلاب کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر کامریڈ لال خان حیدر آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کی حاصلات اور سوویت یونین کی زوال پزیری کی وجوہات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

صدیوں سے حکمران روس کے ظالم اور جابر بادشاہوں کی سرزمین پر جنہیں زار کہا جاتا تھا اکتوبر 1917ء کا انقلاب انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ پہلی دفعہ محنت کش، محروم اور صدیوں سے ظلم اور استحصال کا شکار اکثریت نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کیا اور ایک مزدور ریاست تشکیل دی۔ عوام کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم سمیت تمام بنیادی ضروریات کا مسئلہ حل ہوا اورانسان تسخیر کائنات کی راہ پر گامزن ہوا جس میں پہلی دفعہ کوئی شخص اس کرہ ارض کی حدود سے باہر نکل کر خلا میں داخل ہوا۔

ڈرون حملے ہوں یا ملالہ کی کتاب کا ’’معمہ‘‘، میڈیا پر ہونے والی ہر بحث و تکرار کو موجودہ نظام کی حدود و قیود تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ آزاد خیال اور قدامت پرست، دونوں طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی عقل اور دانش سرمایہ داری کی اخلاقیات، سیاسیات اور معاشیات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اسلامی پارٹیاں اور دایاں بازو اس سماجی جمود کے عہد میں معاشرے پر چھائی ظاہری رجعت کے بلبوطے پر جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی اور دائیں بازو کے یہ دانشور امریکی سامراج کے جبر و استحصال کے خلاف پائی جانے والی عوامی نفرت کو بنیاد پرستی کے راستوں پر ڈال کر سماج کو ماضی بعید کے اندھیروں میں غرق کر دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، سیاسی انتشار

...

’پارٹی ڈسپلن‘‘ کی خلاف ورزی پر اے این پی سے حال ہی میں نکالے گئے سابق وفاقی وزیر، اعظم خان ہوتی نے پارٹی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ 28 اکتوبر کو پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اسفند یار ولی، افراسیاب خٹک اور ان کے ٹولے نے ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض پشتون قوم کا سودا کیا ہے، یہ لوگ اے این پی کے 800شہدا کے خون سے اپنے محلوں کے چراغ روشن کر رہے ہیں، پچھلے پانچ سالوں میں اے این پی کو فروخت کیاگیا، افراسیاب خٹک نے امریکہ سے خفیہ معاہدہ کروایا۔ ۔ ۔‘‘ دوسری طرف اے این پی کی قیادت نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور اعظم ہوتی کے ہی بیٹے امیر حیدر ہوتی سے جوابی پریس کانفرنس کروائی ہے جس میں امیر ہوتی نے اپنے والد کی مذمت کرتے

...

جنگ کے شروع ہونے سے پہلے تک بالشویک پارٹی سوشل ڈیموکریٹک انٹرنیشنل کا حصہ تھی۔ 4 اگست 1914ء کو جرمنی کی سوشل ڈیموکریسی نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد یہ تعلق ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا اور بالشویزم اور سوشل ڈیموکریسی کے درمیان ایک نا ختم ہونے والا اور غیر مصالحانہ جدوجہد کا دور شروع ہو گیا۔

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں ہر سربراہ مملکت کا سب سے زیادہ توجہ طلب بیرونی دورہ، امریکہ کا ہوتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں رائج معاشی، سماجی اور اقتصادی نظام کا عالمی سطح پر حتمی آقا امریکہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ تاریخ کی سب سے طاقتور معاشی و سیاسی قوت اور دنیا کا پولیس مین بن کر ابھرا تھا۔ اس سے پیشتر یہ کردار بڑی حد تک برطانوی سامراج ادا کرتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ماسوائے پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملے کے، امریکی سرزمین جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی تھی لیکن جنگ کے پانچ سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ میں حالت جنگ کے ایمرجنسی قوانین نافذ رہے۔ ان جبری قوانین کے ذریعے امریکی محنت کشوں کے حقوق صلب کئے گئے اور ان کے بھرپور استحصال سے بڑے

...

کاپوریٹ میڈیااور حکمران طبقات کے اہل دانش تمام تر سماجی تضادات کو حکمرانوں کے مابین سیاسی و معاشی اختلافات تک محدود کر کے رکھ دیتے ہیں۔ عوام کو حکمرانوں کے باہمی اختلافات میں الجھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ داخلی معاشی یا اقتصادی پالیسیاں ہوں یا افغانستان جیسا خارجی مسئلہ، ہمارے سامنے صرف حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کی حمایت یا مخالفت کی آپشن رکھی جاتی ہے۔ آج کل حکمران اشرافیہ کے ’لبرل‘ اور ’سیکولر‘ دھڑے پورے زور و شور سے یہ عوام کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر امریکہ بہادر اس خطے سے چلا گیا توطالبان اور مذہبی جنونی پاکستان کو تاراج کر دیں گے۔ دوسری طرف ریاست اور حکمران طبقے کے مذہبی بنیاد پرست دھڑے پاکستان کے تمام تر مسائل کی وجہ امریکہ کو قرار دیتے ہیں، اپنے آپ کو

...

شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو گا کہ اس ملک میں کوئی سانحہ، کوئی حادثہ رونما نہ ہو اور ٹیلیوژن کے سکرین پر اندوہناک مناظر دیکھنے کو نہ ملیں۔ دہشت گردوں کے حملے، خود کش دھماکے، قدرتی آفات کی تباہی، قیمتوں میں آئے روز اضافہ، غریب خاندانوں کی اجتماعی خودکشیاں، پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے بچوں یا جسمانی اعضا کی فروخت۔ ۔ ۔ یہ سب یہاں کا معمول بن چکا ہے۔ اگر دہائیاں نہیں تو کئی سال ضرور بیت چکے ہیں کہ ہر طرف سے سرمایہ داری کی تاریکیوں میں گھرے اس ملک کے عوام نے کوئی پرمسرت خبر سنی ہو۔ محرومی، مایوسی اور عدم استحکام اس ملک کے کروڑوں بد نصیب باسیوں کی زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔

کراچی ایک دفعہ پھر اخباری سرخیوں کی زینت بنا ہوا ہے۔ پھر سے نام نہاد ’آپریشن کلین اپ‘ شروع کر دیا گیا ہے جس کا نتیجہ بھی ماضی کی روایات کے مطابق پہلے سے زیادہ گندگی اور غلاظت کی صورت میں بر آمد ہو گا۔ صاف اور دو ٹوک وجہ یہ ہے کہ اقتدار پر براجمان حکمران طبقے کے مفادات اور ترجیحات کے تحفظ کے لیے تعفن آمیز درندگی کی اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر ضرورت ہے۔ سیاسی پارٹیاں اور سکیورٹی ادارے جرائم پیشہ افراد (یعنی خود اپنے) خلاف شفاف اور غیر جانبدارانہ آپریشن کا ناٹک کر رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ سنجیدہ بھی ہیں۔ اس لیے نہیں کہ ان کے دل میں اچانک معصوم شہریوں کے لیے ہمدردی پیدا ہو گئی ہے بلکہ اس لیے کہ وہ کچھ بے لگام اور ناپسندیدہ قاتلوں کی جگہ اطاعت شعاراور ہونہا درندوں کو لا کر

...

30 ستمبر کی آدھی رات کو واشنگٹن کے حکمران ایوانوں (کیپٹل ہل) میں امریکی سیاست دانوں کے مابین تکرار اپنی انتہا پر تھی۔ ہر کوئی دوسرے کو امریکی حکومت کا بجٹ پاس نہ ہونے پر حکومتی اداروں کی بندش کے لئے مورد الزام ٹھہرا رہا تھا۔ حکومتی اداروں کی اس تالہ بندی سے آٹھ لاکھ سرکاری ملازمین کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا جبکہ 13لاکھ سے زائد محنت کشوں کو بغیر اجرت کے کام کرنا پڑ رہا ہے۔ 10 دن سے امریکہ کے ریاستی ادارے بند ہیں اور امریکی فوج کے سوا ہر شعبے، ایجنسی اور ادارے (بشمول خلائی ایجنسی ناسا) کے ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ صرف انتہائی لازمی شعبوں مین مخصوص ہنر رکھنے والے ملازمین کو فارغ نہیں کیا گیا مثلاً انٹرنیشنل خلائی سٹیشن میں موجود خلابازوں کو آکسیجن اور دوسری تکنیکی

...

تیونس اور مصرکے انقلابی واقعات سے متاثر ہو کر شام میں پھوٹنے والی انقلابی لہر، زوال پذیری کا شکار ہوکر فرقہ وارانہ خونریزی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ایک انقلابی قیادت سے محرومی کے باعث امیدیں المیوں میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ دوسری طرف امریکی سامراج کا منافقانہ اور دھمکی آمیزتذبذب مضحکہ خیزہے اور واضح طورپر امریکی طاقت کی حدودوقیود کو ظاہرکرتاہے۔ طویل عرصے سے امریکہ اپنے آپ کو کسی کا جوابدہ نہیں سمجھتا‘ تاہم شام کی صورتحال پر اوباما کی ہچکچاہٹ نے دنیا میں طاقتوں کے نئے توازن کو عیاں کیا ہے۔ اس حقیقت کے باوجود کہ امریکہ سب سے بڑی سامراجی طاقت ہے، امریکہ کی زیر سرپرستی ’’امریکی امن‘‘کی خواہشیں تتر بتر ہوچکی ہیں جس کے انتہائی دوررس اثرات بھی مرتب ہورہے ہیں۔ 12 سالوں کی بدترین خونریزیوں

...

عرب انقلابات سے مشرقِ وسطیٰ کی حکمران اشرافیہ کے مابین تنازعات پھٹ پڑے ہیں۔ اپنے اپنے ممالک میں محنت کشوں کی تحریکوں کو کچلنے کے ساتھ ساتھ وہ خطے میں بالادستی کے لیے آپس میں بھی لڑ رہے ہیں۔ اس جنگ میں دوست دشمن اور دشمن دوستوں میں بدل چکے ہیں۔ تاہم ان حکمرانوں کے طبقاتی مفادات واضح ہیں اور وہ ہر قیمت پر اس بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام کے جبر اور اپنی پر تعیش زندگیاں بچانا چاہتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے مجتمع ہونے والے تضادات اب پھٹ رہے ہیں اور سرمائے کی حکمرانی میں سٹیٹس کو اور حالات کو معمول پر رکھنے کی تمام کوششیں ناکام ہو رہی ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ کے افق پر ایک نئی جنگ کی تاریکی پھیل رہی ہے۔ جنگی جنون میں بدمست سرمائے کے منصوبہ ساز، شامی صدر بشار الاسد کو نوچ کھانے کے لیے غرا رہے ہیں۔ اکانومسٹ کے تازہ ترین شمارے کے ادارئیے کا عنوان ’’زور سے مارو‘‘ تھا اور سرِ ورق بشار الاسد کے چہرے کو چیرتی ہوئی کفن میں لپٹی لاشوں کی تصویر پر مشتمل تھا۔ اداریے کے اختتامی الفاظ تھے کہ ’’اگر اسد ذاتی طور پر امریکی میزائلوں کا نشانہ بنتا ہے تو بننے دو،وہ اور اس کے حواری خود زمہ دار ہیں۔ ‘‘دوسری جانب صدر اوباما کی ہچکچاہٹ کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے جو اب اضطراب میں تبدیل ہو رہی ہے۔ امریکہ کا دائیں بازو کا پریس ’محدود حملے‘ کی پالیسی پر نالاں ہے۔

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے طبل بج رہے ہیں۔ امریکی سامراج بحر روم میں شام کے قریب اپنا بحری بیڑہ لنگر انداز کئے ہوئے ہے اور اس برباد ملک پر بارود کی برسات کرنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سوموار کو پریس کانفرنس میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام بشارالاسد کی حکومت پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب شام کی حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور رجعتی عرب بادشاہتوں کے پروردہ مذہبی جنونیوں کو اس کیمیائی حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق ابھی تک حتمی طور پر مجرم کا تعین نہیں کیا جاسکتا اور تفتیش کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ روس، جوکہ اس تنازعے کا اہم فریق ہے، کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ کیمیائی

...

’’اس میزائل گردی سے انفراسٹرکچر، توانائی اور پانی کی فراہمی کے ذرائع کی جو تباہی ہوگی اس کاخمیازہ کون بھگتے گا؟ وہ بچے، بوڑھے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ اس جارحیت کی زد میں آئیں گے جن کا رونا رو کر امریکہ سامراجی جارحیت کرنے کی طرف جارہا ہے‘‘

شام میں 30 ماہ سے جاری بھیانک خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک جبکہ کئی لاکھ زخمی، اپاہج اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ دو دن پہلے دارلحکومت دمشق کے قریب باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ایک تصادم کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متاثرین کے درد ناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ دونوں اطراف اس حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد امریکی ریاست کے کچھ دھڑوں کی جانب سے صدر اوباما پر تنازعے میں براہ راست فوجی مداخلت کے لئے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کی قدامت پرست ریپبلکن پارٹی کے ایک لیڈر جان مکین نے اوباما حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر اس معاملے کو دبا دیا گیا تو دنیا بھر کے ظالم آمروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی چھوٹ مل جائے گی۔‘‘

...

7 اور 8 جولائی2013ء کوکشمیر کے شہر راولاکوٹ میں نیشنل مارکسی سکول (گرما) کا انعقاد کیا گیا جس میں پورے پاکستان سے 270 سے زائدکامریڈز نے شرکت کی۔ دو روز تک جاری رہنے والا یہ سکول مجموعی طور پر چارسیشن پر مشتمل تھا۔ سکول سے ایک دن پہلے راولاکوٹ میں ایک یوتھ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔

مورخہ 6 جولائی کوجموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقدہ ’’سوشلسٹ کشمیر کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سائنسی سوشلزم تاریخ کا واحد سچ ہے جو انسانیت کے بہتر اور محفوظ مستقبل کی نوید ثابت ہو سکتا ہے۔ سوشلزم کشمیر سمیت تمام محکوم قومیتوں کے قومی اور طبقاتی استحصال کے خاتمے کا ضامن نظریہ ہے جس پر کاربند ہوتے ہوئے اس خطہ سے سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے ایک غیر طبقاتی اور استحصال سے پاک سماج کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ قومی جمہوری انقلاب اور سرمایہ دارانہ بنیادوں پر قومی علیحدگی کے نظریات تاریخ کی کسوٹی پر متروک ہو چکے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام عالمی طور پر متروک ہو کر پوری دنیا میں انسانیت کو بربریت میں دھکیل رہا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، توانائی کا

...

جاہ و جلال سے بھرپور نواز شریف کی حلف برداری کی تقریب اورنئی جمہوری حکومت کے قیام کو حکمرانوں کے ذرائع ابلاغ نے عوام کے شعور پر مسلط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت تک اقتدار کی منتقلی کو بہت بڑا کارنامہ قرار دیا جارہا ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ حلف برداری کے بعد نواز شریف کی الیکشن مہم میں کئے گئے ’انقلاب‘ کے وعدے سبز باغ بن کے رہ گئے ہیں۔ حکومت کی یہ جمہوری تبدیلی، اس نظام کی ظلمتوں سے بدحال پاکستان کے کروڑں محنت کش عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں لائے گی۔ یہاں جمہوریت دولت کی لونڈی ہے۔ حالیہ انتخابات میں انتخابی مہم پر اخراجات کی بہت سی حدین مقرر کی گئیں لیکن سب جانتے ہیں یہ پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے۔ یہاں کے

...

مصر ی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہرے تادم تحریر جاری ہیں۔ مصری وزارتِ داخلہ کی اپنی رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ پورے ملک میں سڑکوں پر موجود ہیں۔ بعض عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ’’تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مظاہرے‘‘ ہیں اور مظاہرین کی تعداد تین کروڑ تک بتائی جارہی ہے۔ یہ تحریک 2011ء سے کئی گنا بڑی ہے۔ مظاہرین نے قاہرہ میں واقع اخوان امسلمون کے مرکزی دفتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔ پورے مصر میں اخوان المسلمون کا شائد ہی کوئی دفترایسا ہو جسے عوام نے اپنے قہر کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ریاست ہوا میں معلق ہے۔ مصری حکام کے مطابق اب تک پانچ وزراء محمد مورسی کی کابینہ سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ فوج نے مورسی حکومت کو مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لئے 48 گھنٹے کہ مہلت دی ہے۔ تشدد کے

...

22 جون کو کشمیر ریجن کی سالانہ ریجنل کانگریس کا انعقاد راولاکوٹ میں کیا گیا۔ عمومی طور پر کشمیر میں ترقی پسند سیاست میں ایک گراوٹ اور زوال کے ماحول کے باوجود IMT کے کشمیر ریجن کی کانگریس اپنی کامیابی کا ثبوت خود ہے۔487 کامریڈز نے کشمیر کے تمام اضلاع سے بھرپور انقلابی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

قطر میں طالبان کے دفتر کے ’’افتتاح‘‘ اور مذاکرات کے امکانات کے بارے میں گرما گرم خبریں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ قطر کے رجعتی حکمرانوں نے جو محل نما دفتر طالبا ن کو دیا ہے اس سے سعودی اور خلیجی بادشاہتوں کی طرف سے طالبان کے کچھ گروہوں کی پشت پناہی اور اس خطے میں اپنی اجارہ داری داری قائم رکھنے کی پالیسی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ طالبان نے اپنا پرچم لہرا کر اس دفتر کو ’’اسلامی امارات‘‘ کے مرکز کا درجہ دیا ہے جس پر حامد کرزئی بہت برہم ہے۔ اس نے القاعدہ سے ناطے توڑنے اور موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کرنے کی قبل از مذاکرات شرائط کو رد کر کے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو یہ بیان دینے پر مجبور کیا ہے کہ ’’مذاکرات اپنے آغاز سے پہلے ہی ناکام ہوسکتے ہیں۔‘‘ امریکی کٹھ پتلی حکومت کے صدر

...

2008ء میں سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی کریش کے بعد یورپ، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی معیشتیں بحالی کی بجائے مزید اقتصادی و مالیاتی بحرانوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہیں۔ عالمی سرمایہ داری کے ماہرین کا خیال تھا کہ ’’ابھرتی‘‘ ہوئی معیشتیں (جن میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں )سرمائے کے ڈوبتے ہوئے سفینے کو سہارا دیں گی اور سرمایہ داری کو اس عالمی بحران سے نکالنے میں کردار ادا کریں گی، لیکن پچھلے پانچ سالوں میں حکمرانوں کی یہ امیدیں اور خواب چکنا چور ہوچکے ہیں۔ چین کی شرح نمو 11 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد، ہندوستان کی 10 فیصد سے 5.5 فیصد جبکہ برازیل کی شرح نمو 7فیصد سے گر کر 0.9 فیصد تک آگئی ہے۔ یہ تمام تر ممالک جہاں سرمایہ دارانہ نظام کی

...

پاکستان کی سیاست میں عمران خان کی سونامی ’آنے اور چھا جانے‘ میں ناکام ہو گئی ہے۔ انتخابات کے نتائج آنے کے ساتھ تحریکِ انصاف کے حامیوں کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ مالیاتی سرمائے کے جبر اور پیپلز پارٹی کی موجودہ موقع پرست قیادت کی غداری کے باعث نظریاتی سیاست کے پسِ منظر میں چلے جانے کے عہد میں رائج الوقت نظام کو چیلنج کرنے والی ایک نئی سیاسی تنظیم کے لیے ایک بے کراں خلا موجود تھا۔

’’یہ سوال کہ آیا انسانی غور و فکر بجائے خود حقیقی وجود رکھتا ہے یا نہیں، کسی طرح بھی نظریاتی سوال نہیں، یہ عملی سوال ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ عمل میں اپنے غورو فکر کی صداقت ثابت کر کے دکھائے، یعنی اس کی اصلیت اور اس کی طاقت کو، اور ادھر والے رخ کو ثابت کرے۔ غور وفکر کے حقیقی وجود ہونے یا نہ ہونے کی بحث، جب اسے عمل سے بیگانہ کرکے زیر غور لایا جائے، محض عمل، خیالی بحث ہو کر رہ جاتا ہے۔ ‘‘ (مارکس، فیورباخ پر دوسرا تھیسس)

وزیرستان میں موجود کامریڈز کے مطابق مسلم لیگ (ن)  کی جیت بڑے پیمانے پر دھاندلی کا نتیجہ تھی۔ 11مئی کو الیکشن نتائج آنے کے فوراً بعد سے ہی کامریڈ علی وزیر کی فتح کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں تھی۔ 8مئی کو کامریڈ علی وزیر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران 30000 ہزار افراد پر مشتمل ریلی کی قیادت کی تھی۔ اس شاندار ریلی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مقامی لوگوں میں کتنے مقبول ہیں۔ سماجی دباؤ کی وجہ سے خواتین کی بہت بڑی تعداد اگرچہ اس ریلی میں شریک نہیں ہو سکی لیکن انتخابات کے دن بے شمار خواتین نے کامریڈ علی وزیر کو ووٹ دیا۔

بّرِاعظم یورپ اور ایشیا کو ملانے والا ترکی کا شہر استنبول 2 جون کی صبح خاموش تھا۔ گزشتہ رات طوفانی واقعات سے بھرپور تھی۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت رات ہونے والے مظاہروں کا ملبہ اور بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ صاف کررہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ رات کا عوامی طوفان ٹل گیا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے خوفزدہ حکمران بھی سمجھنے لگے تھے کہ ان کا بھیانک سپنا ختم ہو رہا ہے۔ لیکن جوں جوں اتوار کا دن ڈھلنے لگااستنبول کے تکسیم اسکوائر پر مجمع بڑھنے لگا، شام تک لاکھوں مظاہرین ایک بار پھر اس اسلامی جمہوری حکومت (جسے وہ بد ترین آمریت گردانتے ہیں) کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کر رہے تھے۔ دو دن پہلے ترکی کی فضاؤں میں بلند ہونے والے انقلابی نعروں سے تکسیم اسکوائر ایک بار پھر گونج رہا تھا اور اس گونج

...

28 مئی کو پورے ملک میں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا جشن منایا جارہا ہے۔ انسانی بربادی کے ان آلات کی نمائش کاہر طرف تماشا لگایا جائے گاتا کہ خلق خدا مزید مرغوب اور حکمرانوں کے جاہ وجلال کی مطیع ہوسکے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے لیکن ضرورت اور ایجاد کا باہمی تعلق درحقیقت جدلیاتی ہے۔ کوئی ایجاد جب سماج کے اکثریتی حصے کی پہنچ میں آجائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ضرورت بن جاتی ہے۔ بجلی کے حوالے سے بھی یہ بات بالکل درست ہے۔ بجلی انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ پنجابی میں ایک بہت دلچسپ روایتی کہانی ہے۔ ایک غریب کسان رات کے اندھیرے میں گندم کی بوری چھت پر لیکر جارہا تھا۔ اس کے ساتھی نے ماچس جلائی تاکہ سیڑھیوں کو روشن کرسکے۔ کچھ لمحوں بعد ماچس بجھ گئی۔ اس کسان نے غصے سے کہا ’’تم نے تو مجھ سے میرا اندھیرا بھی چھین لیا ہے۔‘‘ جب ماچس بجھی تو اس کی آنکھیں، جو اندھیرے کا عادی ہوگئی تھیں ، وہ پہلے کی طرح اندھیرے میں دیکھنے سے قاصر تھیں۔ بجلی، لوڈ شیڈنگ

...

گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ’صاف اور شفاف‘ عام انتخابات میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر سو فیصد سے زیادہ اور کچھ جگہوں پر دو سو فیصد ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں خاص طور پر صورتحال اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز رہی۔ڈیلی ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ’’اگرچہ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح 50 فیصد سے زیادہ تھی، تاہم مقامی بلوچ سیاسی کارکنان کے مطابق یہ شرح محض 3 فیصد رہی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں اور بلوچستان نیشنل فرنٹ، بلوچ ری پبلیکن پارٹی جیسی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بلوچ اکثریتی علاقوں میں پہیہ جام ہڑتالوں کی وجہ سے انتخابات سے قبل جلسے جلوس ممکن نہیں ہو سکے اور الیکشن کے روز صوبے بھر میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح بہت ہی کم

...

ایک سو ستائیس سال پہلے 1886ء میں شکاگو کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کے لمبے اوقات کار کے خلاف چلنے والی تحریک کو ریاستی دھشت گردی کے ذریعے خون میں ڈبو دیا گیا اورمزدوروں کے قتل عام کا مقدمہ بھی مزدور راہنماؤں پر درج کرکے بالآخر ان کو موت کی سزا دے دی

’’اگر ہم عام سوچ اور تاریخ کا مذاق نہیں اڑا رہے تو پھر یہ واضح ہے کہ جب تک مختلف طبقے وجود رکھتے ہیں ہم خالص ’’جمہوریت‘‘ کی بات نہیں کرسکتے، سرمایہ دارانہ جبر کے تحت یہ ’’جمہوریت‘‘ محدود، اپاہج، جھوٹی اور منافقانہ رہتی ہے جو امیروں کے لئے ایک جنت اور استحصال زدہ غریبوں کے لئے ایک پھندہ، ایک لعنت، ایک دھوکہ ہوتی ہے۔ ‘‘ (ولادیمیر لینن، 10اکتوبر1918ء)

پیپلز پارٹی کی الیکشن کمپیئن کے لئے طبقاتی جدوجہد کی طرف سے شائع کیا گیا لیف لیٹ

جب بھی کوئی سماجی نظام تاریخی طور پر متروک ہوجائے تو اس کا بحران معاشرے کی رگوں اور شریانوں میں ایک شورش اور خلفشار پیدا کردیتا ہے۔ ایسے معاشروں کی زندگی کا ہر پہلو، ہر شعبہ گلنے سڑنے لگتا ہے۔ حکمران اس نظام کو مسلط رکھنے کے لیے ہر حربہ، ہرہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں۔ آج عالمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے جس نے ہر ملک، ہر معاشرے میں کہرام مچا رکھا ہے۔

پنجاب اور پختوں خواہ میں بے پناہ وسائل کے استعمال سے منعقد کئے جانے والے ’’دائیں بازو‘‘ کے جلسوں کے برعکس الیکشن سے محض چند دن پہلے پورا سماج سناٹے میں ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ انتخابات کا دور دورہ ہو اور عام لوگ اس سے یوں لاتعلق ہوجائیں۔ ہم نے بچپن سے بے شمار انتخابات دیکھے ہیں، اتنا جوش خروش انتخابی جلسوں میں نہیں ہوتا تھا جتنا محلوں، دوکانوں، بازاروں اور گلی کوچوں میں۔ جہاں ووٹر، نوجوان، بچے اور بزرگ گرما گرم سیاسی بحثوں میں مصروف ہوا کرتے تھے۔ اپنی پسند کی پارٹی کے حق میں دلائل دینے والوں اور مخالف پارٹی کے خلاف چارج شیٹ کرنے والوں نے باہیں ٹانگی ہوتی تھیں اور بیچ بچاؤ کرانے والے روک رہے ہوتے تھے۔ بچے گلیوں میں اپنی اپنی پارٹی کے پرچم لے کر نعرے بازی کرتے۔ بزرگ

...