Urdu

گذشتہ دو ہفتوں سے دیوہیکل عوامی احتجاجوں کی لہر ایران بھر کے شہروں اور قصبوں میں پھیل چکی ہے۔ غربت، مہنگائی، افلاس کے ساتھ ساتھ ایرانی اشرافیہ بالخصوص ملا اشرافیہ کی دولت اور کرپشن کے خلاف پنپتا غم وغصہ خودرو انداز میں پھٹ پڑا۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق، ان احتجاجوں میں 21 کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ 1700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واشنگٹن سے لے کر لندن تک مغربی لیڈروں نے ایرانی عوام کے انسانی حقوق کے ’دفاع‘ میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔

ایران میں مسلسل احتجاجوں کا کل پانچواں دن تھا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مزید سخت اقدامات شروع کر دئے ہیں۔ پانچویں دن احتجاجوں کا حجم کچھ کم ہوا ہے، کچھ کریک ڈاؤن کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ ابھی تک تحریک کوکوئی مضبوط محور نہیں ملا جس کے ارد گرد منظم ہو کر تحریک بھرپور فعال ہو سکے۔ ریاست نے انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر کریک ڈاؤن کر کے رسائی انتہائی محدود کر دی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کئی احتجاجوں کی خبر، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور قصبوں سے، باہر کی دنیا تک نہیں پہنچ رہی۔

مندرجہ ذیل اعلامیہ عالمی مارکسی رجحان کے کیٹالان سیکشن کے کامریڈز نے جاری کیا ہے۔ اس میں 21 دسمبر کے ’’غیر قانونی اور زبردستی مسلط کردہ‘‘ کیٹالان کے انتخابات میں کامریڈز کی CUP کے لئے حمایت، 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ کی شدید مخالفت اور جمہوریہ کیٹالان کی تحریک کے لئے ضروری لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریر کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سابقہ صدور کی (الیکشن) مہم کا وہ وعدہ جسے وہ پورا کرنے سے قاصر رہے، میں پورا کر رہا ہوں۔ میرا آج کا یہ بیان اسرائیل فلسطین تنازعے کے حوالے سے ایک نویکلا زاویۂ نگاہ ہے جو نئے در وا کرے گا۔‘‘

1917ء میں برپا ہونے والا انقلاب روس بلاشبہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ تھا۔ 1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا اور اجتماعی ملکیت کی بنیادوں پر ایک غیر طبقاتی سماج تعمیر کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس میں فروری 1917ء میں جنم لینے والی انقلابی تحریک حتمی تجزئیے میں پہلی عالمی جنگ کی تباہی، شدید معاشی وریاستی بحران، بے انتہا غربت اور بدحالی جیسے معروضی عوامل کی پیداوار تھی لیکن اکتوبر 1917ء میں انقلاب کی کامیابی ان معروضی حالات کا خودرو نتیجہ ہر گز نہ تھی۔ یہ انقلابی تحریک بھی دیگر بے شمار عوامی

...

گزشتہ دو دہائیوں میں مارکسزم اور اس انقلابی ورثے کیخلاف کیا جانے والا غلیظ پروپیگنڈہ بالکل عیاں ہے۔ سوشلزم کے بجائے سٹالنزم (جو کہ مارکسزم نہیں بلکہ اس کی ایک مسخ شدہ اور ہولناک شکل تھی) کے انہدام کے بعد ایک کے بعد دوسرے محاذ پر میڈیا، یونیورسٹیاں، پروفیسر اور تاریخ دان کوئی ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے مارکسزم پر حملہ کر کے اس کو بدنام کیا جا سکے۔ یہاں ہم مارکسزم کے متعلق پھیلائے گئے کچھ عام مغالطوں کا مطالعہ کریں گے۔

انقلاب روس کے سو سال پر پوری دنیا میں اس عظیم انقلاب کی یاد میں تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ دوسری جانب محنت کش طبقے کی اس میراث پر سرمایہ داروں اور ان کے گماشتوں کی جانب سے حملوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ بھی پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ بہت سی نئی کتابیں اور مضامین شائع کیے جارہے ہیں جن میں اس انقلاب کے واقعات کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس پر ہر قسم کے غلیظ الزامات لگائے جاتے ہیں۔ آج پوری دنیا میں سرمایہ داری کا مکمل غلبہ ہے لیکن اس کے باوجود انسانیت سسک رہی ہے اور آبادی کا وسیع ترین حصہ غربت، ذلت اور محرومی کی اتھاہ گہرائیوں میں زندگی گزار رہا ہے۔ ہر جانب جنگیں، خانہ جنگیاں اور خونریزی نظر آتی ہے جہاں بے گناہوں کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ لیکن اس کے باوجود

...

’’روس اور دنیا کے انقلاب دونوں کی کامیابی کا انحصار دویا تین دن کی لڑائی پر ہے۔‘‘

میں یہ سطریں 8(21)اکتوبر کو لکھ رہا ہوں اور بہت کم امید ہے کہ یہ 9اکتوبر تک پیٹروگراڈ پہنچ جائیں گی۔ ممکن ہے کہ یہ بہت تاخیر سے پہنچیں کیونکہ شمالی سوویتوں کی کانگریس کی تاریخ 10اکتوبر طے ہو چکی ہے۔

لیکن پھر بھی میں اپنا ’’ایک تماشائی کا مشورہ‘‘ ضرور دینا چاہوں گاکیونکہ امکان ہے کہ پیٹروگراڈ سمیت پورے ’’علاقے‘‘کے مزدوروں اور سپاہیوں کا ایکشن جلد شروع ہو جائے گا اور ابھی اس کا آغاز نہیں ہوا۔

بدأ آلان وودز، محرر موقع الدفاع عن الماركسية marxist.com، جولة خطابية في أمريكا اللاتينية مع لقاءات من تنظيم الماركسيين في الأرجنتين وباراغواي والبرازيل. وستستمر الجولة في نوفمبر مع سلسلة من الاجتماعات في مدينة مكسيكو، التي ستكون من تنظيم إستيبان فولكوف (حفيد تروتسكي) ومتحف تروتسكي.

|تحریر: حمید علی زادے، ترجمہ: ولید خان|
29ستمبر 2017ءگزشتہ پیر کے دن لاکھوں عراقی کردوں نے ایک ریفرنڈم میں عراق سے علیحدگی اور ایک آزاد ریاست کے قیام کے حق میں ووٹ دیا۔ منتظمین کے مطابق 92.73 فیصد ووٹروں نے کرد آزادی کے حق میں ووٹ دیا جبکہ شرکت کی شرح 72.16 فیصد تھی۔ عراقی کرد عوام کی بھاری اکثریت نےواضح کر دیا ہے کہ ان کا عراق کی نیم فرقہ پرست مرکزی حکومت سے کوئی تعلق نہیں۔

جمعرات 2 اپریل کو ایران اور دنیا کے طاقتور ترین سامراجی ممالک نے ایران کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ابتدائی معاہدے کے خاکے پر دستخط کیے۔ اس میں ایران پر امریکہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد اقتصادی پابندیوں کے حوالے سے معاہدہ بھی شامل ہے۔ یہ امریکہ اور ایران کے درمیان بارہ سالہ تنازعہ کے خاتمے کے آغاز کی نشاندہی کر تی ہے۔ لیکن ان مذاکرات کے در پردہ کیا ہے اور اس معاہدے کا مطلب کیا ہے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نے 30 مارچ کو لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں اعلان فرما یاہے کہ ’’2018ء تک پنجاب کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا۔‘‘ موصوف نے یہ وضاحت بہرحال نہیں کہ وہ کسی فرقے کے مدرسے میں پڑھے گا یا کسی ’’کانونٹ‘‘ سکول میں داخل ہو گا، سرکاری سکول جائیگا یا نجلی سکول سے تعلیم خریدے گا، انگریزی میڈیم نصاب پڑھے گا یا اردو میڈیم؟ پنجابی حکمرانوں نے پنجاب میں پنجابی زبان، تہذیب اور ثقافت کو ویسے ہی قتل کر دیا ہے۔ اب پتا نہیں یہ بیان ٹاٹوں والے سکولوں کے لئے تھا یا ائیر کنڈیشنڈ فائیو سٹار سکولوں کے بارے۔ پنجاب کا ہر بچہ ایسے سکولوں میں تعلیم حاصل کرے گا جہاں پیدل فاصلے سے بچوں کو لینے کے لئے لمبی گاڑیوں کی طویل قطاریں ہوتی ہیں یا ان سکولوں میں جہاں کڑکتی

...

اس سال سپین میں جنرل الیکشن کی تیاری کی مہم کا آغاز ’’پوڈیموس‘‘ (Podemos) نے 31جنوری 2015ء کو میڈریڈمیں احتجاج کی کال دے کر کیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ احتجاج یونان میں سائریزا کی جیت کے فوراً بعد ہواہے جس میں لاکھوں لوگوں نے کٹوتیوں (Austerity) کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرین پرامید تھے کہ اس معاشی ذلت سے نجات ممکن ہے۔

ایک وقت تھا جب سفارش سے بڑے کام کروائے جاتے تھے۔ ان زمانوں میں منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی بھی ہوا کرتی تھی۔ آج کے زمانے میں یہ طریقے بہت ’’کمزور‘‘ ہوگئے ہیں۔ حکمران طبقے اور سامراجی کمپنیوں کی شرح منافع میں اضافہ اب ذخیر اندازی جیسے ’’قدیم‘‘ طریقوں سے ممکن نہیں رہا ہے۔ ماضی کی چوری چکاری اب معاشی ڈاکہ زنی میں بدل چکی ہے۔ ذات برادری، رشتہ داری یا دوستی کے رشتوں کو سرمائے کے جبر نے کچل دیا ہے۔ سرمائے کے بڑھتے ہوئے سماجی و اخلاقی کردار کی وجہ سے نوکریاں اب بکتی ہیں یا پھر سفارش کا تبادلہ سفارش سے کرنا پڑتا ہے۔ کام کے بدلے ہی کام ہوتا ہے۔ خونی رشتوں کی گرمائش بھی سرد پڑ گئی ہے۔ دوستیاں بڑی عریانی سے مطلب پرستی میں بدل گئی ہیں۔ باہمی گفتگو کے معیار گر کر مطلب اور ’’مقصد‘‘ تک

...

انسان کتنا ہی بے بس ہو، معاشرہ کتنا ہی بے حس ہوجائے لیکن رگ جان میں ایسے خلیے ضرور ہوتے ہیں جنہیں کوئی واقعہ سلگا دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت کرب اور اذیت کو جنم دیتی ہے لیکن پھر روح کے زخم بھی جاگ کر غصے کو جنم دیتے ہیں، ظلم و بربریت کے خلاف انتقام کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ افراد میں بکھرا ہوا دکھ جب شریانوں میں دوڑ کر ظلم سے انتقام کی اجتماعی تڑپ کو بیدار کرتا ہے تو بکھری ہوئی گھائل بغاوت مجتمع اور بیدار ہو جاتی ہے۔