Urdu

اقلیتوں کے لئے مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی قومی اسمبلی کی عیسائی ممبر آسیہ ناصر کی جانب سے غیر مسلموں پر بھی شراب نوشی کی پابندی کے لئے پیش کیا جانے والا بل مسترد ہو گیا ہے۔ اس بل کے سلسلے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی آسیہ ناصر کو چار دوسرے اقلیتی ممبران، ’’اسلامی نظریاتی کونسل‘‘ کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی اور درجن کے قریب ملاؤں کی آشیر آباد اور حمایت حاصل تھی۔ بل کے مسترد ہونے پر آسیہ کا کہنا تھا کہ ’’میں آج بہت اداس ہوں۔ میں اپنے موقف پر سختی سے قائم ہوں اور دوبارہ ایک ترمیم شدہ بل اسمبلی میں پیش کروں گی۔‘‘ دوسری طرف قانونی معاملات پر قومی اسمبلی کی سٹینڈنگ کمیٹی کا موقف ہے کہ ’’اس طرح کے قوانین ملک کی بدنامی کا باعث بنیں گے۔‘‘ یہ دونوں موقف اور بیانات اس منافقت

...

2013ء کی انتخابی مہم میں عمران خان کا وقتی ابھار شدید سماجی بحران، سیاسی جمود اورعمومی سوچ اور نفسیات کے گہرے ابہام کا نتیجہ تھا۔ یہ کیفیت ہمیں عالمی سطح پر کئی ممالک میں نظر آتی ہے۔ خاص کر 2008ء کے بعد سے اٹلی سے لے کر فلپائن تک ایسے لیڈر اور رجحانات ابھرکر غائب ہو رہے ہیں۔ ان میں فلمی اداکار، کھلاڑی، ٹیلی ویژن اینکر، کا میڈین، پادری اور ’’غیرسیاسی‘‘ شعبوں سے تعلق رکھنے والی مشہورومعروف شخصیات شامل ہیں۔ یہ افراد اپنی مقبولیت کے ذریعے سیاسی خلا کو پر کرتے ہیں، پھر اسی نظام کے رکھوالے بن کر اسکے استحصال کی تقویت بخشتے ہیں اور مسترد ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان کا مقصد و منشا ایک بحران زدہ سماج میں نچلے معیار کی سوچ کے تحت مسائل اور حالات کا سطحی تجزیہ کرنا اور ان سماجی اذیتوں کی

...

ہندوستانی مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ کئی دہائیوں کے بد ترین سیلاب نے ہر طرف تباہی پھیلا دی ہے۔ وہاں بھی ’’آسمانی آفات‘‘ غریبوں اور محروموں کو ہی بربادکرتی ہیں۔ جہاں ہندوبنیاد پرستوں نے نسل پرستی اور مذہبی فسطائیت کا زہر پھیلا رکھا ہے وہاں بھارتی ریاست بھی سیلاب میں گھرے عوام کو بچاؤ اور امداد دینے سے قاصر ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے خطے کی طرح اس ’’جنت بے نظیر‘‘ میں بھی مشکل کی گھڑی میں غریب ہی غریب کے کام آیاہے۔ برباد ہونے والے ہی ایک دوسرے کا سہارا بنے ہیں۔ محنت کش ہی محنت کشوں کا احساس کرنے والے ہیں۔ یہ سیلاب ہر قسم کی مذہبی بنیاد پرستی کو بھی ساتھ بہا لے گیا ہے۔ کہیں کسی بھوکے پنڈت اور اس کے خاندان کو سیلابوں میں گھرے مسلمان کشتی بانوں نے ڈوبنے سے بچایا اور کئی دنوں تک پناہ اور

...

پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے مرکزی چیئرمین اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مارکسسٹ رہنما کامریڈ ریاض حسین بلوچ پر کراچی میں ہونے والا قاتلانہ حملہ ایک بزدلانہ عمل ہے جس کی مذمت میں PTUDC نے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ مجرموں کو فوری طور پر منظرِ عام پر لا کر کڑی سزا دی جائے۔ ان خیالات کا اظہار PTUDC کے انٹرنیشنل سیکرٹری ڈاکٹر لال خان، پیپلز لیبر بیورو کے مرکزی سیکرٹری جنرل الیاس خان ایڈووکیٹ، PTUDC کے مرکزی رہنما آدم پال اور لاہور کے صدر اعجاز شاہ، YDAپنجاب کے رہنما ڈاکٹر فرحان گوہر، PTCL کے مزدور رہنما صابربٹ اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے کیا۔

13 ستمبر 2014 کو پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین (PTUDC) کے مرکزی چیئرمین ریاض بلوچ قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوگئے۔

نظریات سے عاری سیاست کی پارٹیاں اور رہنما ایسے شتر بے مہا بن جاتے ہیں جن کی کوئی سمت ہوتی ہے نہ مقصد اور منزل۔ حالیہ لانگ مارچوں اور دھرنوں کے سرخیل لیڈروں کی نان سٹاپ تقاریرمیں تذبذب، تضاد، مضحکہ خیز استدلال اور بے معنی وعظ و نصیحت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ یہ ’خطبات‘ ہر گزرتے دن کے ساتھ پیچیدہ اور فہم سے بالاتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ یہ کتنا بڑا المیہ ہے کہ ایک فرد کی تقریر میں تھوڑی سی تاخیر سے بھی ’کنسرٹ‘ کے شرکا کے جذبات ٹھنڈے پڑنے لگتے ہیں۔ ’’انقلاب‘‘ کا یہ تماشا ثقافت سے محروم حکمرانوں کے ایک مصنوعی شہر میں رچایا جارہا ہے جو معاشی اور صنعتی طور پر غیر اہم ہونے کے ساتھ ساتھ تاریخی اور سیاسی طور پر کسی انقلابی روایت سے عاری ہے۔

’’جرنیلوں نے جب فوجی کُو کرنا ہوتا ہے تو میڈیا پر باقاعدہ اعلان کے بعد کور کمانڈروں کی میٹنگ اور پھر پریس ریلیز جاری نہیں ہوا کرتی۔ ۔ ۔‘‘

ISIL کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں ’’خلافت‘‘ کے نفاذ اور کرد انتظامیہ کی طرف سے کردستان میں ریفرنڈم کے اعلان کے بعد عراق کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور ممکنہ جغرافیائی تقسیم کا تناظر زیادہ واضح ہوگیا ہے۔ مسلح جنگجوؤں کی نسبتاًچھوٹی تعداد کے ہاتھوں عراق کے بڑے علاقوں پر تیزی سے قبضہ کرنے سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ ایسا کیونکر ممکن ہوا؟ شمال میں موصل جیسے شہروں پر قبضہ کرنے والے گروپوں پر عراقی مسلح افواج کوبہت زیادہ عددی برتری حاصل تھی لیکن عراقی فوج ہوامیں اڑ گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ گہرائی میں کچھ ہو رہا ہے۔

یورپی پارلیمنٹ کے حالیہ انتخابات نے پورے براعظم کے سیاسی منظرنامے کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ فرانس، یونان اور بر طانیہ جیسے ممالک میں اسٹیبلشمنٹ مخالف پارٹیوں نے بڑی فتوحات حاصل کی ہیں جس کی وجہ سے بڑی سیاسی پارٹیوں میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھی ہیں۔ یہ موقف مکمل طور غلط ثابت ہو چکا ہے کہ یہ الیکشن دائیں بازو اور یہاں تک کہ فاشزم کی طرف جھکاؤ کا اظہار کررہے ہیں۔

15جون بروز اتوار کی صبح شمالی وزیرستان میں شروع ہونے والے فوجی آپریشن میں سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔ کاروائی کا آغاز فضائی حملوں سے کیا گیا۔ 18 جون کو آنے والی خبروں کے مطابق عسکریت پسندوں کے 60 فیصد ٹھکانے تباہ کر دئیے گئے ہیں جبکہ علاقے کے 40 فیصد حصے پر فوج نے کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ آپریشن کی فوری وجہ کراچی ایئرپورٹ پر ازبک دہشت گردوں کے حملے کو قرار دیا جارہا ہے۔ اس حملے کے بعد ریاست کے حاوی حصوں کی جانب سے راست قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا۔ سرکاری بیانات جو بھی ہوں گرین سگنل عسکری قیادت نے ہی دیا۔ عسکری قیادت کی جانب سے جمودتوڑنے کا فیصلہ کرنے کی بنیادی وجہ فوج

...

کراچی ائیر پورٹ پر دہشت گردوں کا حملہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں ہے۔ ایک عرصے سے دہشت گردی کا ناسور ایک معمول بن کر اس سماج میں پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ اس دہشت گردی کی کئی اقسام ہیں۔ ظاہری مقاصد اور تراکیب بھی مختلف ہیں۔ لیکن کراچی سے لے کر خیبر تک ہونے والی دہشت گردی میں ایک قدر بہر حال مشترک ہے: کاروائیاں کروانے والوں کی مسلسل اور بھاری سرمایہ کاری۔ ان بھاری رقوم کو دہشت گردی پر صرف کر کے ہزاروں لوگوں کا قتل عام کرنے والوں کے مقاصد سمجھے بغیر اس بربریت کی اصل وجوہات تک نہیں پہنچا جاسکتا۔ بیماری کی تشخیص کے بغیر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔

نریندرا مودی کی جانب سے حلف برداری کی تقریب پر میاں نواز شریف کو دی جانے والی دعوت، میاں صاحب کی قبولیت اور راشتریا بھون پہنچ جانے کے واقعات کو علاقائی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر غیر معمولی کوریج تو ملی ہے لیکن یہ سارے اقدامات اور واقعات بحث وتکرار اور تنازعات کا باعث بھی بنے ہیں۔

مریکیوں کے خوراک سے متعلق خراب رویوں کا شورتو بہت مچایا جاتا ہے لیکن ان رویوں کے اسباب پر بات نہیں ہوتی۔ مارکس نے واضح کیا تھا کہ حالات شعور کا تعین کرتے ہیں۔ آپ کا مادی اور سماجی ماحول آپ کے انتخاب کے حدود کا تعین کرکے چیزوں کی پسند و نا پسند کا فیصلہ کرتا ہے۔ زیادہ تر امریکیوں کے لیے خوراک کا انتخاب آمدن، وقت، دستیابی، تشہیر اور آس پاس رہنے والے انسانوں کے سماجی معیار پر منحصر ہے۔ انفرادی خواہشوں کا انحصار بھی سماجی اور ثقافتی روایات پر ہوتا ہے، جن کا تعین مادی حالات کرتے ہیں۔ اگر تمام انسان سائنسی طورپر تیار کردہ سستی اور نمکیات، چربی اورنشاستہ کی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے والی غذا خرید سکتے ہوں تو آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ان کی ’’مرضی‘‘ کیا ہوگی؟

عام انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کی بڑے پیمانے پر فتح اور دائیں بازو کے پاپولسٹ سیاسی رہنما کے طور پر نریندرا مودی کے ابھار نے نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں لبرل اور سیکولر دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کو حیران و پریشان کردیا ہے۔ یہ حضرات امید لگائے ہوئے تھے کہ شاید انتخابات کے نتائج کارپوریٹ میڈیا کی پیشین گوئی سے مختلف ہوجائیں لیکن BJP نے نہ صرف لوک سبھا میں گزشتہ کئی دہائیوں کی سب سے بڑی اکثریت حاصل کی ہے بلکہ کانگریس کے کئی سینئر رہنماؤں کو بھی خاک چاٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ کانگریس کی شکست میں اگرچہ کرپشن اور مہنگائی جیسے عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے تاہم BJP کی فتح کی وجوہات صرف یہاں تک ہی محدود نہیں ہیں۔

ترکی کے شہر سوما میں کوئلے کی کان میں ہونے والے دھماکے میں جاں بحق ہونے والے محنت کشوں کی تعداد 274 ہوگئی ہے جبکہ 100 سے زائد مزدور تاحال زیر زمین پھنسے ہوئے ہیں۔ یہ حادثہ ترکی میں گزشتہ ایک دہائی کی نام نہاد ’’معاشی ترقی‘‘ میں پوشیدہ بدترین استحصال کی صرف ایک جھلک ہے۔ ترکی کے عوام اس وقت شدید صدمے کی کیفیت میں ہیں۔ میڈیا پر ہلاک ہونے والے محنت کشوں کی لاشوں کی فوٹیج چلنے کے بعد عوام کے غم و غصے میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس وقت حادثے کی جگہ پر امدادی کارکنان کے علاوہ سینکڑوں محنت کش آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ جمع ہیں۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ آج کل پیپلز پارٹی قیادت نواز شریف کی تعریفوں کے پل باندھنے کے لئے کسی موقع کی تلاشِ مسلسل میں مصروف رہنے لگی ہے۔ 12 مئی کو پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبہ جاری رکھنے کے اقدام کو نواز شریف کا عظیم کارنامہ قرار دیا ہے۔ یہ سیاستدان بھی کیسے بھلے مانس ہیں۔ یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی کہ خارجہ پالیسی کا تعین کہیں اور ہوتا ہے، ایک دوسرے کو کبھی لعن طعن تو کبھی مبارک بادیں پیش کرتے رہتے ہیں۔ ریاست، سیاست اور معیشت کے ایسے کلیدی فیصلے سیاسی حکمران نہیں بلکہ مالیاتی سرمائے کے حاوی دھڑے اور سامراجی آقا کرتے ہیں۔

قدر کیا ہوتی ہے؟ انسانی ذہن 2000 سے زائد برسوں سے اس سوال میں الجھا ہوا ہے۔ کلاسیکی بورژوا ماہرین معیشت اور مارکس اس سوال کو حل کرنے کی جستجو کرتے رہے۔ بہت غور و فکر کے بعدانہیں درست طور پر سمجھ آ گیا کہ محنت ہی قدر کا ماخذ ہے۔ قدر کی یہی تھیوری بورژوا سیاسی معیشت کی بنیاد بنی، جس کا آغاز ایڈم سمتھ سے ہوتا ہے۔ اس سوال پر مارکس اور کلاسیکی بورژوا ماہرین معیشت میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

آج کل برصغیر پاک و ہند میں مذہب کے ٹھیکیداروں اور قومی شاونسٹوں کی خوب چاندی ہورہی ہے۔ ہندوستان میں نریندرا مودی پاکستان دشمنی کو جواز بنا کر ہندو بنیاد پرستی اور بھارتی نیشنل ازم کی آگ اگل رہا ہے تو پاکستان میں عمران خان، حمید گل اور حافظ سعید جیسے حضرات، جواب میں ’’قومی غیرت‘‘ کے نام پر مذہبی جنون، تعصب اور نفرت کو ہوا دے رہے ہیں۔ دونوں ممالک میں ہی منافرت پھیلانے والے ان قدامت پرست عناصر کا مقصد عوام کے ذہنوں پر رجعت مسلط کر کے اپنی سیاسی طاقت اور مال میں اضافہ کرنا ہے۔

اس سال یوم مئی ایک ایسی نیم مذہبی سرمایہ دارانہ حاکمیت میں منایا جارہا ہے جو محنت کشوں پر معاشی حملوں کی انتہا کررہی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پورا کرہ ارض شدید انتشار اور تلملاہٹ سے لرز رہا ہے۔ ایک عہد کی کوکھ سے دوسرا عہد جنم لے رہا ہے۔ 2014ء کا یوم مئی محنت کش طبقے اور نسل انسانی کے مقدر کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ رجعت کے ایک ایسے گھناؤنے دور کا اختتام ہورہا ہے جس میں تمام بنیادی انسانی قدریں پامال ہوکر رہ گئی تھیں۔

کرہ ارض پر کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری سماجی انتشار، بھوک، غربت، جہالت اور اخلاقی پستی کا سبب نہ بن رہی ہو۔ ایسی صورتحال میں محنت کش طبقہ اپنی تقدیر بدلنے کے لیے بارہا روایتی سیاسی پارٹیوں کو ٹھوکر مار کر تاریخ کے میدان میں اترتا رہا ہے لیکن کسی انقلابی قیادت کی عدم موجودگی میں یہ تحریکیں وقتی طور پر پسپائی کا شکار ہو رہی ہیں۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا تھا کہ ’’انسانی سماج کی تمام تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔‘‘ حکمران طبقہ مختلف حیلے بہانوں سے کبھی ملکی سالمیت اور حب الوطنی کا واسطہ دے کر تو کبھی مذہبی تعصب اور قومیت کے نعروں سے محنت کش طبقے کو تقسیم کر کے کچلتا ہے مگر پھر تاریخ میں وہ

...

گلگت بلتستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونیوالی احتجاجی تحریک اپنے فوری مطالبات سے آگے بڑھ کرسول نافرمانی اور انقلابی بغاوت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ گلگت کے گڑی باغ چوک اور سکردو کے یادگار چوک (جسے مظاہرین نے تحریر اسکوائر کا نام دیا ہے) میں ہزاروں افراد گزشتہ دو ہفتوں سے گندم کی سبسڈی میں خاتمے کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ، ریاستی جبر اور استحصال کے خلاف دھرنا دئیے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اس دھرنے میں شامل ہورہے ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی نظام کا عروج ہو یا زوال، حکمران اس کی قیمت محکوم طبقے سے ہی وصول کرتے ہیں۔ آج سرمایہ دارانہ نظام اپنی تین سو سالہ تاریخ کے بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ اس بحران سے نکلنے کا کوئی طریقہ اس نظام کے معیشت دانوں کے پاس نہیں ہے۔ تیسری دنیا کے سابق نو آبادیاتی ممالک میں آبادی کی وسیع اکثریت کو مغرب کے ترقی یافتہ سرمایہ دارانہ ممالک کا بلند معیار زندگی نصیب نہیں ہوا۔ لیکن یورپ اور امریکہ میں بھی وہ مراعات اور سہولیات محنت کش طبقے سے چھینی جارہی ہیں جو انہوں نے کئی صدیوں کی جدوجہد کے ذریعے حاصل کی تھیں۔

حالیہ دنوں میں خوراک اور زراعت کی تنظیم (FAO) نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں یہ دلچسپ خیال پیش کیا گیا کہ ’’ دنیا کو کیڑے کھانے پر قائل کیا جائے تاکہ بڑے پیمانے کی بھوک سے بچا جا سکے۔‘‘حقیقتاً آج لوگوں کو کیڑے کھلائے بغیر ان کی غذائی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔ اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ’مارکیٹ ‘ یعنی سرمایہ داری ہے۔

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں سیاست کے ناخداؤں اور معیشت کے ماہرین کے پاس معاشی شرح نمو میں اضافے کے لئے بیرونی سرمایہ کاری یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) کا نسخہ ہی بچا ہے۔ سماج کے سب کے اہم پہلو، یعنی معیشت کے بارے میں سیاسی افق پر مسلط تمام سیاسی جماعتوں کی پالیسی مشترک ہے۔ لبرل اور سیکولر سیاستدان ہوں، شریعت کے نفاذ کی بات کرنے والی اسلامی پارٹیاں یا پھر دائیں بازو کے اصلاح پسند رجحانات، سب نیو لبرل سرمایہ داری، آزاد منڈی کی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو چلانے پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان ’’ڈالروں کی بارش‘‘ کروانے کے چکر میں ہیں تو جماعت اسلامی جیسی مذہبی پارٹیاں امیر اسلامی ممالک کے متعلق العنان بادشاہوں اور آمروں سے ’’اسلامی سرمایہ کاری‘‘

...

ہندوستان ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی بدعنوان ترین سیاست کے حوالے سے بھی مشہورہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی جمہوریت میں دولت کی طاقت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ امریکہ سے لے کر جنوبی افریقہ تک، تمام انتخابات پیسے کے بلبوطے پر لڑے جاتے ہیں اور اصل مقابلہ مالیاتی سرمائے کے مختلف جگادریوں کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ آخری تجزئیے میں جیتتا ہمیشہ امیر ہی ہے اور شکست غریب کا مقدر بنتی ہے۔ یہی اس طبقاتی نظام کا دستور ہے اور اس سرمایہ دارانہ سماج میں رہتے ہوئے اس کے برعکس توقع کرنا محض خودفریبی اور دھوکہ دہی ہے۔

لاہور جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے آج ایک بار پھر محنت کش خواتین کے احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دو ہفتے پہلے پورے پنجاب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی کئی مہینے کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ آج اسی پنجاب اسمبلی کے سامنے نوجوان نرسز بھی اپنے حقوق کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس استحصالی نظام میں جہاں مزدور کو اس کا جائز حق دینا ظالم سرمایہ دار حکمرانوں کے لیے ایک ’’گناہ عظیم‘‘ بن گیا ہے وہاں اسی حکمران طبقے کی طرف سے 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے لاکھوں روپے خرچ کر کے منایا گیا اور بورژوازی کی نمائندہ خواتین کو

...

دنیا بھر سے اپنے قارئین کی پر زور فرمائش پر ہم طبقاتی جدوجہد کی 33ویں کانگریس 2014ء کے دونوں دنوں کی مکمل تصاویر شائع کر رہے ہیں۔ (فوٹو گرافی: کامریڈ علی منگول)

برسوں بیت گئے پاکستان کے عوام کی سماعتوں نے کچھ اچھا نہیں سنا۔ آنکھیں ہیں کہ ہر روز کسی نئے صدمے سے پھٹی ہی چلی جا رہی ہیں۔ احساس شل ہو چکے ہیں اور حق بولنے والوں کی زبان گونگی ہوتی جا رہی ہے اور میڈیا ہے کہ گولی، بارود، موت، جرائم، دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ جیسی لفاظی کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ کہنا کچھ بھی چاہ رہا ہو اصطلاحات یہی استعمال کرتا ہے۔

سوویت یونین کے انہدام کے بعد بائیں بازو کے لیڈروں، نظریہ دانوں اور سیاسی کارکنان کی ایک پوری نسل نظریاتی تنزلی اور مایوسی کا شکار ہوگئی تھی۔ دو دہائیاں گزر گئیں۔ تذبذب اور بیگانگی بڑھتی رہی۔ سٹالن ازم کے پاش پاش ہونے پر سامراجیوں نے مارکسزم کی ناکامی اور موت کا اعلان کردیا۔ مارکسسٹوں کو کتنی دہائیاں سٹالن ازم کو بے نقاب کرنے میں لگ گئیں لیکن جب سٹالن ازم کا بت ٹوٹا تو پھر ہر الزام، ہر جرم اور ہر ناکامی کے لئے مارکسزم کو مورد الزام ٹھہرایا جانے لگا۔ ایک زمانے میں ماسکو اور بیجنگ کی پوجا کرنے والے حکمرانوں کی اس یلغار کا حصہ بن گئے۔

طبقاتی جدوجہد کی 32ویں کانگریس 8-9 مارچ کو ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہونے جارہی ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی تیسری مجوزہ دستاویز ’’پاکستان تناظر‘‘ شائع کر رہے ہیں۔

PDF فائل ڈاؤن لوڈ کرنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

مستونگ میں ہزارہ کمیونٹی کا حالیہ قتل عام ماضی قریب میں شروع ہونے والے ایک ایسے سلسلے کی کڑی ہے جس کا انت پورے خطے میں بربریت کا بھیانک تناظر پیش کررہا ہے۔ شام اور مشرقِ وسطیٰ میں ایک دوسرے سے متصادم مذہبی آمریتیں پاکستان میں بھی معصوم لوگوں کو اپنی پراکسی جنگ کا ایندھن بناتی چلی جارہی ہیں۔ کیا یہ خونی کھیل کبھی ختم ہوگا یا مذہبی عقائد کو جواز بنا کر اس مظلوم قومیت کا ایک ایک بچہ ذبح کر دیا جائے گا؟اس نظام کی سیاست اور ریاست کے پاس اس دہشت گردی کا کوئی حل ہے نہ ہی حکمران اپنی رعایا کے اس حصے کو تحفظ فراہم کرنے کے خواہاں نظر آرہے ہیں۔

اس ملک کی اشرافیہ اور ان کی نمائندگی کرنے والے دانشور پچھلی کئی دہائیوں سے جمہوریت اور آمریت کی بحث کرتے چلے آرہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں اخبارات کی شہ سرخیوں کی زینت بننے والے پرویز مشرف کے نام نہاد ٹرائل نے اس بحث کو ایک بار پھر سے گرم کر دیا ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی سامراج نے سرد جنگ کے پس منظر میں اپنے سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لئے دنیا بھر میں فوجی آمریتیں مسلط کی تھیں۔ پاکستان میں ایوب خان اور ضیا الحق، چلی میں جنرل پنوشے اور سپین میں جنرل فرانکو سمیت سابقہ نوآبادیاتی ممالک میں دائیں بازو کی وحشیانہ آمریتوں کو مالی اور سفارتی امداد کے ذریعے مضبوط کیا گیا۔ سوویت یونین کے انہدام، چین میں سرمایہ داری کی بحالی اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد پیدا ہونے

...

بیسویں صدی کے عظیم مارکسسٹ فلاسفر، بالشویک انقلاب کے قائد اور تمام عمر سامراجیت کے خلاف عالمگیر سوشلسٹ انقلاب کی جنگ لڑنے والے محنت کش طبقے کے انتھک سپاہی کامریڈ ولادیمیر لینن کی 90ویں برسی کے موقع پر ہم ان کی شہرہ آفاق کتاب ’’سامراج، سرمایہ داری کی آخری منزل‘‘ اپنے قارئین کے لئے شائع کر رہے ہیں۔

طبقاتی جدوجہد کی 32ویں کانگریس 8-9 مارچ کو ایوان اقبال لاہور میں منعقد ہونے جارہی ہے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی پہلی مجوزہ دستاویز ’’عالمی تناظر‘‘ شائع کر رہے ہیں۔

19 جنوری کو بنوں میں ہونے والے بم دھماکے میں ایف سی کے 22 اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ 15 زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ 20 جنوری کی صبح راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے قریب آر اے بازار میں بم دھماکے سے تیرہ افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ بچوں سمیت انتیس سے زائد افراد زخمی ہیں۔ تحریک طالبان نے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے اور کہا ہے کہ ’’حکومت خلوص ثابت کرے تو مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔ ‘‘ اس بیان کا ہر لفظ اس ملک کے حکمرانوں کے منہ پر زور دارطمانچہ ہے۔

طالبان کے ساتھ ’’مذاکرات‘‘ اور ’’جنگ‘‘ کا معاملہ سٹینڈ پر کھڑے اس سائیکل کے مانند ہے جس کا پہیہ تو گھوم رہا ہے لیکن باقی سب کچھ ساکت ہے۔ ’’اچھے طالبان‘‘ اور ’’برے طالبان‘‘ کی بے معنی اصطلاحات ایک بار پھر استعمال کی جارہی ہیں۔ یہاں ’’اچھائی‘‘ اور ’’برائی‘‘ مطلق نہیں بلکہ اضافی ہے۔ امریکی سامراج کے پالے ہوئے طالبان پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کوبرے لگتے ہیں جبکہ پاکستانی ریاست کے ’’اسٹریٹجک اثاثے‘‘ امریکیوں کی نظر میں برے ہیں۔ پھر مذہبی جنونیوں کے کچھ مسلح گروہ ایسے بھی ہیں جو دونوں قوتوں کے لئے بیک وقت اچھے یا برے ہیں۔ اچھے برے طالبان کی پیچیدگیوں میں پھنسے ہوئے پاکستانی حکمرانوں کے بے حسی دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ نہ تو ان میں دہشتگردی اور مذہبی انتہا پسندی کے عفریت پر قابو پانے کی

...

کسی بھی قوم یا ملک کے دوبنیادی اثاثے ہوتے ہیں، اس کے باسی یا اسکے ذرائع پیداوار اور وسائل۔ اگر ہم پاکستان کے حکمرانوں کے بیانات اور تقاریر کاجائزہ لیں، ذرائع ابلاغ کے پروگراموں اور ترانوں پر غور کریں تو ہمیں ہر طرف سے ’’قومی مفادات‘‘، ’’حب الوطنی‘‘، ’’ملکی سا لمیت‘‘ وغیرہ کے نعرے ہی نعرے سنائی دیتے ہیں۔ ایسے لگتا ہے کہ ان حکمران طبقات کو ملک اور وطن کا اتنا درد ہے کہ وہ جان بھی دے دیں گے۔ لیکن اگر ان کی پالیسیوں، عزائم اور عملی وارداتوں کا جائزہ لیں تو یہ وطن پر جان نچھاور کرنے والے حکمران دوہرے معیاروں منافقت اور وطن فروشی کے سردار نظر آئیں گے۔ حب الوطنی، قوم پرستی اور ملکی سالمیتوں کے نعرے عوام کو اس شاونزم کی جذباتیت کے ذریعے ذہنی طور پر مطیع اور محکوم بنانے کے لیے

...

موجودہ حکومت کے دوسرے سیاسی اور انتظامی فیصلوں کی طرح بلدیاتی انتخابات کا انعقاد بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ سیاستدانوں کے تذبذب اور ٹھوس فیصلہ سازی میں ناکامی کے پیش نظر ہر معاملے میں عدلیہ مداخلت کررہی ہے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ریاستی معاملات میں عدلیہ کا کردار جتنا بڑھ گیا ہے اس کی مثال ملکی تاریخ میں نہیں ملتی ہے۔ اقتصادی اور سیاسی طور پر نحیف حکمران طبقے کے لئے فیصلے کرنا مشکل بلکہ ناممکن ہوتا چلا جارہا ہے۔ حکمران دراصل عدلیہ کی مداخلت سے خوش بھی ہیں کیونکہ اس طریقے سے پیچیدہ معاملات تاخیر زدگی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ عدالتی اور ریاستی نظام میں اشرافیہ کی سہولت کے لئے رکھے جانے والے چور راستوں کی وجہ سے کیس ہمیشہ کے لئے التوا کا شکار ہو کر عوام کی یادداشت اور

...

’’ذوالفقارعلی بھٹو کے ہئیر سٹائل اور باڈی لینگویج کی نقالی کر لینے سے پارٹی کو 1970ء کی طرح عوام میں مقبول نہیں بنایا جاسکتا۔ پارٹی کو ایک نئے جنم اور ازسر نو ابھار کے لئے ایک بار پھر انقلابی سوشلزم کا پروگرام اپنانا ہوگا۔‘‘

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے الفاظ کی حرارت میں اضافہ کرتے ہوئے 3 جنوری 2014ء کو یہ دھماکہ خیز بیان دیا ہے کہ وہ ’’اردو بولنے والے سندھیوں‘‘ کے لئے الگ صوبہ یا ملک بنانے کی طرف جائیں گے۔ یہ دراصل کراچی میں آپریشن کرنے والی پاکستانی ریاست کے لئے ایک دھمکی ہے۔ یوں محسوس ہورہا ہے کہ دو عشروں سے زیادہ عرصہ تک کسی نہ کسی شکل میں اقتدار کا حصہ رہنے کے بعد اب ایم کیو ایم کو اقتدار سے باہر رہنا مشکل محسوس ہورہا ہے۔ سرکاری طور پر کراچی میں جاری حالیہ آپریشن کا مقصد اگرچہ دہشت گرد وں اور بھتہ خوروں کا خاتمہ بتایا جارہا ہے تاہم محسوس یہ ہورہا ہے کہ انتخابی سیاست میں ایم کیو ایم کی برتری قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے ’’کچھ عناصر‘‘ بھی اس آپریشن کی زد میں آرہے ہیں۔

...

جہاں مالی مفادات، سیاسی طاقت اور خارجہ پالیسی پر اختلافات کی وجہ سے پاکستان کے حکمران طبقات کے مختلف دھڑوں کے درمیان تناؤ شدت پکڑ رہا ہے وہاں اس سماج کے باسیوں کی وسیع اکثریت کے لئے غربت، محرومی اور بے روزگاری کی اذیتوں میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔ یہ صورتحال بحثییت مجموعی سرمایہ دارانہ نظام کے شدید معاشی، سیاسی اور سفارتی بحران کی غماز ہے۔ لینن نے قبل از انقلاب صورتحال کی سب سے بڑی نشانی حکمران طبقے کے آپسی تضادات کی شدت کو قرار دیا تھا۔

تاریخ جتنی تاخیر سے مرتب ہوتی ہے، حقائق اتنے ہی واضح اور ٹھوس ہو کر منظر عام پر آتے ہیں۔ کسی بھی طبقاتی سماج میں تاریخ ہمیشہ حکمران طبقات مرتب کرتے ہیں۔ ریاستی مورخین اور سرکاری دانش ور تاریخی واقعات کو بالادست طبقات کے نظریات اور مفادات سے مطابقت رکھنے والے زاویوں سے پیش کرتے ہیں۔ جہاں بات نہ بن پائے وہاں ’’نظریہ سازش‘‘ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی دانشورانہ غیر دیانتداری کو ’’تاریخ کا قتل ‘‘کہا جاتا ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکمران طبقات کے باہمی تضادات خود بہت سے تاریخی حقائق کو عیاں اور بے نقاب کر دیتے ہیں۔

گزشتہ اتوار ونزویلا کے محنت کش عوام اور نوجوانوں نے ایک بار پھر انقلابی جوش و ولولے کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلدیاتی انتخابات میں یونائیٹڈ سوشلسٹ پارٹی آف ونزویلا (PSUV) کو شاندار فتح سے ہمکنار کیا ہے۔ انتخابات کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ آج بھی ونزویلا کے عوام رد انقلاب کے حملوں اور تمام تر مشکلات کے باوجود 2002ء میں ہوگو شاویز کی جانب سے شروع کئے گئے انقلابی عمل کا دفاع کرنے کے لئے پر عزم ہیں۔ سوشلسٹوں کو دائیں بازوکے 43فیصدکے مقابلے میں 54 فیصد ووٹ ملے۔ PSUV اور اس کے اتحادیوں نے 196 جبکہ دائیں بازو کی اپوزیشن نے 53 میونسپل نشستیں حاصل کیں۔ پچھلے چند مہینوں میں بولیوارین انقلاب کے حامیوں کی دائیں بازو پر انتخابی سبقت میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ اپریل میں ہونے والے صدارتی

...

، 7 اور 8دسمبر 2013ء کو میمن گوٹھ کراچی میں موسم سرما کے نیشنل مارکسی یوتھ سکول کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے 160 سے زائد کامریڈز نے شرکت کی۔ سکول میں مجموعی طور پر پانچ موضوعات زیر بحث آئے اور کامریڈز نے سیاسی اور نظریاتی بحثوں نے جوش و خروش سے حصہ لیا۔

اسلام آباد سے مظفر آباد جاتے ہوئے کوہالہ پل سے دریائے نیلم پار کیا جاتا ہے۔ جہاں کشمیر کے پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کی خوبصورتی دل کو لبھاتی ہے وہاں خستہ حال انفراسٹرکچر اپنی بوسیدگی کا احساس دلاتا ہے۔ کسی بھی ذی شعورانسان کو اس جنت بے نظیر کے قدرتی حسن سے زیادہ یہاں کے باسیوں کی بدحالی کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ چشموں کی فراوانی کے باوجود پینے اور استعمال کے پانی کا حصول ایک مشقت طلب کام ہے۔ سڑکیں ایک طرف سے بننا شروع ہوتی ہیں تو دوسری طرف سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ علاج معالجے کی سہولیات برائے نام ہیں۔ روزگار نا پید ہے۔ غربت عام ہے۔

’’اگر منڈیلا اور شاویز کی وفات پر سامراج کے سرخیل جریدے اکانومسٹ کی کوریج دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے منڈیلا ہیرو تھا اور شاویز ولن‘‘

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو شہر ترید (دریائے رائن کے کنارے والے پروشیا) میں پیدا ہوئے۔ مارکس کے باپ ایک یہودی وکیل تھے جنہوں نے 1824ء میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا۔ پورا گھرانہ خوش حال تھا، مہذب تھا مگر انقلابی نہیں تھا۔ ترید میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ پہلے بون میں پھر برلن یونیورسٹی میں، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ 1841ء تک ان کی باقاعدہ طالب علمی آخری منزل کو پہنچ گئی اورانہوں نے ایپیکیوریس کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ خیالات کے لحاظ سے کارل مارکس اس وقت تک فلسفی ہیگل کے عینی ( خیال پرستانہ) نظریے کو مانتے تھے۔ برلن

...

وینزویلا میں 8 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن ہونے جارہے ہیں اور اس سے پہلے ہی وہاں افواہ سازی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اشیا کی قیمتوں میں بدترین اضافے اور معیشت کو سبوتاژکرنے کی کوششیں بھی اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہیں۔ وینزویلاکے صدرماڈورونے اس سارے عمل کوحکومت کے خلاف ایک ’’سست رفتار بغاوت‘‘ (Slow Motion Coup) قراردیاہے۔ سرمایہ داروں اور سامراجیوں کے ایسے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے کئی سالوں کے دوران افراط زر کی شرح 74 فیصد جبکہ اشیا کی قلت کی شرح22فیصد تک جا چکی ہے۔