Urdu

دیوہیکل احتجاجی تحریک نے تھائی لینڈ کے سماج کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں جس نے حکومت کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا ہے۔ فوجی حکومت (جس کا دفاع بادشاہت اور بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام دونوں کر رہے ہیں) کا خاتمہ کرنے کے لیے اس تحریک کے صف اول میں موجود جوانوں کو محنت کش طبقے تک رسائی حاصل کرنی ہوگی۔

کورونا وباء کی دوسری لہر اس وقت یورپ کو تخت و تاراج کر رہی ہے۔ یہ صورتحال ناگزیر ہونے کے بجائے حکومتوں کی خوفناک پالیسی کا نتیجہ ہے جس کے تحت سرمایہ داروں کی دولت کو عوامی صحت پر فوقیت حاصل ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ مالکان زندگیوں اور روزگار کے تحفظ کی قیمت ادا کریں! وباء سے لڑنے کے لئے سرمایہ داری کا خاتمہ کر ڈالو!

اسٹیبلشمنٹ کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں کہ جو بائیڈن 2020ء صدارتی انتخابات جیت چکا ہے جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ سے تنگ کروڑوں امریکیوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ لیکن امریکی سماج میں پولرائزیشن بدستور موجود ہے اور خود بائیڈن اسی حکمران سیاست کا نمائندہ ہے جس کا اظہار ٹرمپ تھا۔ مزدوروں اور نوجوانوں کو حقیقی طبقاتی بنیادوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے متبادل کی اشد ضرورت ہے۔

مورخہ 8 نومبر رات تقریباً 1:30 بجے سادہ کپڑوں میں ملوث دو ویگو گاڑیاں اور تین پولیس موبائل سوار مسلح اہلکاروں نے پروگریسو یوتھ الائنس کے سرگرم کارکن امر فیاض کو لیاقت میڈیکل اینڈ ہیلتھ یونیورسٹی کے مین گیٹ کے سامنے واقع پانی پمپ سے بندوق کے زور پر اغوا کر لیا اور تادمِ تحریر امر فیاض لاپتہ ہے۔ امر فیاض گذشتہ کئی سالوں سے پروگریسو یوتھ الائنس سے وابستہ ہیں اور مفت تعلیم، طلبہ یونین کی بحالی، روزگار اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے کی جدوجہد میں سرگرم عمل ہیں۔ گزشتہ ہفتے انھوں نے ”مارکسزم؛ عہد حاضر کا واحد سچ“ نامی کتاب کا سندھی ترجمہ بھی کیا جو ان کی علم دوستی کا واضح ثبوت ہے۔

امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخابات کئی حوالوں سے اہمیت اختیار کر چکے ہیں اوران انتخابات کے نتائج کے اثرات یقیناپوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔ لیکن ٹرمپ اور جو بائیڈن میں سے کوئی بھی یہ الیکشن جیت جائے عالمی سطح پر جاری عدم استحکام، ورلڈ آرڈر کا بکھرتا شیرازہ اور مالیاتی بحران کی شدت کسی طور بھی کم نہیں ہو گی بلکہ پہلے کی نسبت کئی گنا زیادہ شدت سے آگے بڑھے گا۔ یہ دونوں امیدوار ہی حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور دونوں کا تعلق ہی دائیں بازو سے ہے۔ امریکہ کے محنت کش عوام کی اپنی کوئی سیاسی پارٹی ابھی تک موجود نہیں اور دونوں پارٹیاں، ریپبلکن اور ڈیموکریٹ، حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کرتی ہیں اور دونوں دائیں بازو کے نظریات کی حامل ہیں۔ گزشتہ چند سالوں سے برنی

...

حالیہ عرصے میں امریکی اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے اویغور عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک پر چین کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ امریکہ نے تو سنکیانگ میں تعینات چین کے اعلیٰ ریاستی حکام پر اس حوالے سے پابندیاں بھی عائد کر دی ہیں اور اویغور قوم پر چینی ریاست کے ظلم و جبر کی کہانیاں آئے دن مغربی ذرائع ابلاغ کی زینت بنی ہوتی ہیں۔ سرمایہ دارانہ پریس کے مطابق لاکھوں اویغور اس وقت حراستی مراکز میں قید ہیں جبکہ دیگر کو انتہائی جبر کا سامنا ہے۔ لیکن اب ایسا کیا ہوا کہ مغربی سامراجی روایتی منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اویغور عوام کی حالت زار پر شورو غوغا مچا رہے ہیں؟

29 ستمبر بروز منگل دہلی ہسپتال میں ایک دلت خاتون دم توڑ گئی، جس کو اتر پردیش کے ضلع ہتھ رس میں چار مردوں نے اجتماعی زیادتی اور اذیت کا نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے سے ملک بھر کی عوام میں شدید غصّہ پھیل رہا ہے۔ اس بھیانک اور وحشی حملے نے ایک بار پھر اس بربریت کی نشاندہی کر دی جس کا سامنا بھارت کی غریب اور نچلی ذات کی خواتین کو روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے اور جس کی جڑیں اس بوسیدہ سرمایہ دارانہ نظام میں پیوست ہیں۔

ہم محنت کشوں، طلبہ کارکنان اور دنیا بھر کی تنظیموں سے اپیل کرتے ہیں کہ ہیٹی کی جدوجہد کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں۔ اس کے لیے اس بیانیے کو دوسروں کے ساتھ شیئر کریں اور سوشل میڈیا پر مندرجہ ذیل ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے تصوریں اور اپنے بیانات لگائیں۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان حالیہ عرصے میں ہونے والی جنگ، سوویت یونین کے انہدام اور سرمایہ داریانہ بحالی کی خونی میراث ہے۔ یہ ایک بربریت زدہ جنگ ہے جس میں چاروں اطراف رجعتیت کا غلبہ ہے۔ اس جنگ میں مداخلت کرنے والی تمام سامراجی قوتیں مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہیں لیکن اصل مظلوم دونوں اطراف کا محنت کش طبقہ ہے جو اپنے قائدین کے سفاک اور رجعتی کھلواڑ کی قیمت اپنے خون سے ادا کر رہا ہے۔ صرف عالمگیریت اور طبقاتی جدوجہد محنت کشوں کو اپنے حقیقی دشمنوں، یعنی ان کے اپنا سرمایہ دار طبقے، کے خلاف صف آراء کر سکتی ہے۔

اس سال مارچ کے مہینے میں لوئی ول شہر کے تین پولیس افسران بریونا ٹیلر اور اس کے بوائے فرینڈ کے گھر کے اندر زبردستی گھس گئے۔ پولیس نے اپارٹمنٹ میں 32 فائر کیے اور گولیوں کی بوچھاڑ نتیجے میں ٹیلر دم توڑ گئی۔ سرمایہ دارانہ عدالتوں کے حالیہ فیصلے میں کسی بھی افسر پر ماورائے عدالت قتل کا فرد جرم عائد نہیں کیا گیا۔ فیصلے کے خلاف شدید غم و غصّے کا اظہار کیا گیا اور ملک کے کم از کم درجن شہروں میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے۔

کئی ہفتے جارج فلائڈ کے قتل پر نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف جنم لینے والے احتجاج پورے امریکہ کو جھنجھوڑتے رہے۔ سماج کی ہر پرت نے اس تحریک کی حمایت کی۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی یعنی تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی احتجاج میں کم از کم ایک مرتبہ شرکت کی۔ اگرچہ کچھ شہروں میں عوامی احتجاج ابھی بھی جاری ہیں لیکن زیادہ تر ملک میں عوامی سیلاب کا ریلا ختم ہو گیا ہے کیونکہ انہیں اس سے انقلابی راستہ نہیں ملا۔۔ فی الحال۔

مارکسی یونیورسٹی کا اختتام بھی اس کے آغاز کی طرح ناقابلِ یقین رجائیت کے ساتھ ہوا! مارکسی یونیورسٹی کے انعقاد سے لے کر اختتام تک 115 ممالک سے تقریباً 6500 افراد نے خود کو رجسٹر کرایا۔ شروعاتی سیشن کو تقریباً دس ہزار لوگوں نے دیکھا اور تقریب کے دوران تقریباً دو لاکھ اسی ہزار یوروز کے لگ بھگ چندہ بھی جمع کیا گیا۔ یہ دنیا میں کہیں بھی اعلیٰ معیار کی سیاسی بحثوں کے لحاظ سے بلاشبہ ایک حقیقی تاریخی واقعہ تھا۔ یہ سکول حقیقی مارکسی نظریات اور روایت کی قوت کا اور دنیا بھر سے اس تقریب کو کامیاب بنانے والے کامریڈز اور حامیوں کے انقلابی عزم کا ایک زبردست ثبوت تھا۔

14 جولائی کو نصف شب کے وقت پروگریسو یوتھ الائنس کراچی کے کارکن محمد امین کو ریاستی اداروں نے ان کے گھر سے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ تب سے پروگریسو یوتھ الائنس سوشل میڈیا پر مسلسل سراپا احتجاج ہے اور اب ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے کامیاب انعقاد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ ہمارا مطالبہ دو ٹوک اور واضح ہے کہ کامریڈ امین کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور اگر ان سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ مگر پروگریسو یوتھ الائنس یہ سمجھتا ہے کہ کامریڈ امین کی جبری گمشدگی کوئی مخصوص اور الگ تھلگ کاروائی نہیں ہے بلکہ ریاست کی طرف سے سیاسی کارکنوں، قلمکاروں، صحافیوں اور حکومتی و ریاستی پالیسیوں کے ناقدین کے خلاف عمومی

...

فلسطین کی آزادی کے لیے متحرک صامدون نیٹ ورک نے ایک کھلا خط جاری کیا ہے۔ آئی ایم ٹی کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے درج ذیل جواب میں فلسطین کی تحریکِ آزادی کی مکمل حمایت کرتے ہوئے جدوجہد کے درست طریقہ کار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اپنے اس خط میں صامدون نیٹ ورک نے تحریک آزادی کے کارکنان سے اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ ”فلسطینی قیادت کے جانے کا وقت آ گیا ہے!“۔ یہ خط بھی آئی ایم ٹی کے جواب کے بعد نیچے شائع کیا جا رہا ہے۔

نجی شعبے کی منافع خوری، بے دریغ پیداواری طور طریقے، ماحولیات کی تباہی اور طبی تحقیق میں کم تر سرمایہ کاری نے ایک ایسا طوفان برپا کر دیا ہے جس میں عالمی وبائیں عام ہوتی جا رہی ہیں اور ان کی روک تھام کے لیے ہماری صلاحیت معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ سرمایہ داری نے نہ صرف اس ان دیکھے اور قاتل دشمن کو جنم دیا ہے بلکہ اس کے خلاف جدوجہد میں یہ سب سے بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔