Urdu

10 نومبر 2019ء کو منعقد ہونے والے ہسپانوی انتخابات کا نتیجہ 28 اپریل کے انتخابات سے زیادہ سیاسی عدم استحکام کا باعث بن چکا ہے۔ اگرچہ ان انتخابات میں ایک مرتبہ پھر دائیں بازو کو شکست ہوئی لیکن سوشلسٹ پارٹی(PSOE) کی قیادت کا خیال غلط ثابت ہوا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ مضبوط پوزیشن بنا لیں گے اور UP قیادت کا لائحہ عمل۔۔سانچیز کو شکست اور نئے انتخابات کا انعقاد۔۔بھی غلط ثابت ہوا، جس کے نتیجے میں انہیں ووٹوں اور سیٹوں دونوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ سیاسی پولرائزیشن، جس میں کیٹالان قومی سوال کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، انتہائی دائیں بازو، کیٹالان حریت پسند پارٹیوں، باسک اور گیلیشئین قومی سوال کے استحکام میں اہم ثابت ہوا ہے۔

14 اکتوبر کو سانتیاگو دی چلی میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا جسے چلی کی تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج کہا گیا ہے۔ اور یہ درست ہے کہ یہ ریلی 1988ء میں ”NO“ مہم کی اختتامی ریلی جس میں دس لاکھ لوگ اکٹھے ہوئے تھے، سے زیادہ بڑی تھی۔ 24 اکتوبر جمعہ کے دن پورے ملک میں مختلف شہروں اور علاقوں میں ہونے والی ریلیاں ایمرجنسی نافذ ہونے، سڑکوں پر فوج اتارنے اور پینیرا حکومت کی طرف سے کرفیو لاگو ہونے کے ایک ہفتہ بعد منعقد ہوئیں۔ پورے ملک میں حکومت کے خلاف 20 لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر احتجاج کے لئے نکلے۔

یکم اکتوبر سے دیو ہیکل احتجاجوں اور ریڈیکل مظاہروں نے پورے عراق کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ اس مرتبہ بغداد سے شروع ہونے والی یہ بغاوت تیزی سے پورے ملک میں پھیل چکی ہے۔ عراقی افواج اور پولیس نے شدید ظلم و جبر کیا ہے جس کی وجہ سے کم از کم 150 اموات ہو چکی ہیں (کچھ ذرائع کے مطابق 300 سے زائد) اور 6ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔ لیکن اس خوفناک کریک ڈاؤن کے باوجود احتجاج نہیں رکے۔ 8 اکتوبر کے بعد ان میں ٹھہراؤ آیا ہے لیکن 25 اکتوبر کو پھر سے ملک گیر احتجاج کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔(یہ آرٹیکل جمعہ کو ہونے والے مظاہروں سے قبل لکھا گیا تھا۔ جمعے کے روز بھی بغداد، الناصریہ اور بصرہ سمیت پورے عراق میں مظاہرے ہوئے جن پر بدترین ریاستی جبر کیا گیا جس کے نتیجے میں 30افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات

...

چین کا قومی دن، جو یکم اکتوبر کو ماؤ کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کی یاد میں منایا جاتا ہے، ہمیشہ دھوم دھام اور فوجی طاقت کی نمائش پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن 70 ویں سالگرہ کے موقع پر شی جن پنگ نے تمام حدیں پار کر دیں، جس میں چین کی آج تک کی سب سے بڑی فوجی پریڈ اور نئے سپر سانک خود کار ڈرون طیاروں اور ایٹمی میزائلوں کی فخریہ نمائش بھی شامل تھی۔ پیغام صاف اور واضح تھا، جیسا کہ شی نے خود کہا، ”کوئی بھی طاقت اس عظیم قوم کے مقام و مرتبے کو متزلزل نہیں کر سکتی“۔

اینگلز نے 1873ء میں لکھا تھا کہ ”بارسلونا نے دنیا کے کسی بھی شہر سے زیادہ مورچہ بند لڑائیاں دیکھی ہیں“۔ کل بارسلونا نے اپنی روایت دوبارہ زندہ کر دی۔ مختلف ریپبلکن اور جمہور پسند تنظیموں نے پورے کیٹالونیا میں سیاسی قیدیوں کو ملنے والی سزاؤں کے خلاف پر امن مظاہروں کا اعلان کیا۔ بارسلونا اور دوسرے علاقوں میں مظاہرین سے نمٹنے والی کیٹالونی اور ہسپانوی پولیس نے مظاہرین، جن میں خاندان، بزرگ اور بچے بھی شامل تھے، پر لاٹھی چارج، ربڑگولیوں اور بے ہوش کرنے والے آلات سے حملہ کیا۔

لاطینی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں انقلابی تحریک پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ 14 اکتوبر کو لینن مورینو کی حکومت نے فرمان نمبر 883 منسوخ کر دیا۔ کئی دنوں کی جدوجہد اور تحرک جب بغاوت میں تبدیل ہو گئی تو مورینو کو انقلاب کے ہاتھوں حکومت ختم ہونے کے امکانات کے پیشِ نظر ایک اہم رعایت دینی پڑی۔ مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کی تحریک نے جزوی ہی سہی لیکن 8 اموات، 1340 زخمیوں اور 1192 گرفتاریوں کی قیمت ادا کر کے ایک اہم کامیابی اپنے نام کرلی ہے۔

پچھلے اتوار ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان کے ساتھ ایک فون کال کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ دونوں نے شمالی شام سے امریکی افواج کے انخلاء اور ترک فوج کشی پر اتفاق کر لیا ہے۔ کل سے حملہ شروع ہو چکا ہے۔

کشمیر میں ظلم و جبر کی ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے اور اس خطے کے تمام حکمران طبقات سمیت دنیا بھر کی سامراجی طاقتیں اس خونی کھیل میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ بیس روز سے زائد ہو چکے ہیں اور وادی کشمیر میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن جاری ہے اور وادی کی اسی لاکھ سے زائد آبادی کو موت کے منہ میں دھکیلا جا رہا ہے۔ سات لاکھ کے قریب فوج آزادی کے جذبے سے سرشار عوام کو کچلنے کی بھرپور کوششوں میں مصروف ہے۔ 5اگست کو مودی کے گھناؤنے فیصلے کے بعد سے اب تک تمام تر علاقے کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو بھی نہیں بخشا گیا اور ہر شخص کے لیے ہر قسم کی نقل و حرکت بند ہے ۔ اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہوتی جارہی ہے جبکہ ادویات کی عدم دستیابی اور علاج کی سہولیات نہ ملنے

...

5 اگست کو مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت اور باشندہ ریاست کے قانون کو تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی دفعات 370 اور35A کا خاتمہ صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی ہے۔ لمبے عرصے سے قائم ایک مخصوص توازن کو حتمی سمجھنے والوں اور اسی قسم کے حقائق سے اخذ کردہ فارمولوں کے ذریعے اس خطے کی سیاست، سماجی حالات اور سفارتی تعلقات کا تجزیہ کرنے والوں کے شعور کو اس اچانک اور غیر متوقع فیصلے نے اس قدر شدت سے جھنجوڑا ہے کہ ان کو اپنا دماغی توازن بحال کرنے اور نئی صورتحال کی تفہیم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں اس خطے کے حکمران طبقات کے کے کچھ دھڑوں کے ساتھ وہ سبھی لبرلز اور نام نہاد بائیں بازو کے خود ساختہ دانشور سر فہرست ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ کچھ بھی بدل

...

کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ خطے کی بعد از تقسیم تاریخ کا سب سے بڑا اور دھماکہ خیز اقدام ہے۔ آنے والے عرصے میں اپنے اثرات کے حوالے سے یہ ممکنہ طور پر تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ کہلائے گا۔ مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت کو اس نے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے اور ایک حوالے سے اس تنازعہ کی اب تک کی کیفیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ 5اگست 2019ءسے پہلے گزشتہ 72 سالوں کے دوران کشمیر تنازعہ کی ایک خاص حیثیت تھی جس کو پاک بھارت ساڑھے تین جنگوں ،دوطرفہ مذاکرات اور عالمی سفارتکاری سمیت کشمیر میں جاری تحریک کے مجموعی اثرات بھی تبدیل نہیں کر سکے، اس حیثیت کو بھارتی حکومت کے اس فیصلے نے مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن تبدیلی ہے جو اس پورے خطے کی سیاست، معیشت اور

...

بورس جانسن نے کل(24جولائی) 10 ڈاؤننگ سٹریٹ میں برطانیہ کے نئے نویلے وزیراعظم کے طور پر اپنی جگہ سنبھال لی۔ اس کی وزارت عظمیٰ کا دور گہرے بحران اور شدید طبقاتی جدوجہد سے عبارت ہو گا۔

اتوار، 26 مئی کو شمالی وزیرستان میں ہونے والے واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق اس میں آٹھ لوگوں کے قتل کی تصدیق سامنے آ رہی ہے جبکہ تیس کے قریب زخمی بھی ہیں۔ اس کے علاوہ ممبر قومی اسمبلی علی وزیر کو زیر حراست لے لیا گیا ہے اور ان پر مقدمہ قائم کرتے ہوئے آٹھ دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

سوڈان میں عبوری فوجی کونسل (TMC)اور انقلابی تحریک کے نمائندوں کے مابین مذاکرات کا عمل معطل ہو چکا ہے۔ اول تو یہ ہونے ہی نہیں چاہئیں تھے۔ لیکن اب وقت ہے کہ سوڈانی محنت کش طبقہ جارحانہ طرز عمل اپنائے۔

ایسٹر بغاوت کے 103سال مکمل ہونے کے موقع پر ہم اپنے قارئین کے لیے 2001ء میں لکھا گیا یہ آرٹیکل شائع کر رہے ہیں۔ آج ایسٹر بغاوت کو ایک صدی سے زائد عرصہ بیت چکا ہے مگر اس بغاوت کی بنیاد میں کار فرما تضادات آج بھی جوں کے توں موجود ہیں۔ بریگزٹ اور برطانوی سرما یہ داری کا بحران ان تضادات کو ایک بار پھر سطح پر لے آیا ہے۔ دیگر قومی تحریکوں کی طرح آئرلینڈ کا سوال آج بھی حل طلب ہے۔ جیمز کونولی اور ایسٹر بغاوت کے واقعات میں موجودہ نسل کے لیے سیکھنے کے لیے بہت سے اسباق ہیں۔

جھوٹے مقدمات میں گرفتار کیے گئے پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے سرگرم رہنما راول اسد کی درخواست ضمانت کر رد کرتے ہوئے ملتان کی عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ آج کینٹ پولیس نے تاخیری حربے استعمال کرنے کے بعد بالآخر دوپہر 2 بجے کے بعد راول اسد کو عدالت میں پیش کیا اور 14روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ راول کا استقبال کرنے کے لیے بڑی تعداد میں پروگریسو یوتھ الائنس ملتان کے کارکنان، وکلا اور صحافی احاطۂ عدالت میں موجود تھے۔ راول کی جانب سے پیش ہونے والے وکلا اپنے دلائل میں یہ واضح کیا کہ ایف آئی آر میں لگائے گئے تمام الزامات جھوٹ اور بے بنیاد ہیں۔ دن دیہاڑے پولیس کی جانب سے کیے گئے ایک قتل کے خلاف انصاف مانگنا کیسے جرم بن گیا۔ اسی کیس میں نامزد

...

عالمی مارکسی رجحان(IMT)، امریکی سامراج کی جانب سے وینزویلا میں حالیہ کُو کی کوشش کو مسترد کرتا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں انتہائی دیدہ دلیری سے وینزویلا میں صدر مادورو کی حکومت کو گرانے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔ یہ بولیوارین انقلاب پر پچھلے بیس سالوں میں ہونے والے حملوں کی ایک تازہ ترین قسط ہے، ان حملوں میں اس کُو سے پہلے فوجی کُو،پیراملٹری دخل اندازیاں، پابندیاں، سفارتی دباؤ، دنگا فساد اور قتل کی کوششیں شامل ہیں۔

یہ ایک جانی مانی حقیقت ہے کہ حادثے انسانوں کی زندگی اور تاریخ، دونوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کے دوران بہت سے حادثے اور غیر معمولی اتفاقات دیکھے ہیں، لیکن میں نے کبھی حالات کی اتنی غیر متوقع کڑیاں ملتے ہوئے نہیں دیکھیں جن کا میں یہاں ذکر کرنے جا رہا ہوں۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے انخلا کا وقت سر پر آن پہنچا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ جوں جوں یہ وقت گھٹتا جا رہا ہے برطانوی اور یورپی حکمران و سرمایہ دار طبقے کے سروں پر خطروں کی گھنٹیاں بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہیں۔ دو سال کے طویل وقت میں بھی ٹوری حکومت اور یورپی یونین بریگزٹ سے متعلق کوئی قابل عمل حل تلاش نہیں کر سکے۔ برطانوی وزیراعظم تھریسا مے اور یورپی یونین نے مشکل سے جو ڈیل کی، جب وہ برطانوی ہاؤس آف کامنز میں پہنچی تو ممبر ان پارلیمنٹ نے ووٹنگ کے عمل میں اس ڈیل کے پرخچے اڑا دیئے۔ اور ابھی تک بار بار کی ووٹنگ کے باوجود برطانوی حکمران بریگزٹ سے متعلق کوئی دوسرا حل پیش نہیں کر سکے۔ اس کی وجہ برطانوی حکمران طبقے اور حکمران جماعت میں موجود شدید پھوٹ ہے۔ 15جنوری کو پارلیمنٹ میں اس پر کی گئی

...

>جیسا کہ ہم پہلے بھی رپورٹ کر چکے ہیں کہ وینزویلا میں سامراجیوں اور ان کے کاسہ لیس لیما کارٹل کی سرکردگی میں کُو جاری ہے جب کہ اپوزیشن میں ان کے کٹھ پتلی اسے پایۂ تکمیل تک پہنچا رہے ہیں۔ 23جنوری کو جاری کُو اس وقت ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گیا جب ممبر پارلیمان گوائڈو نے جمہوریہ کے صدر کے بطور حلف اٹھایا۔

15 دسمبر کو مسلسل پانچویں ہفتے پیلی واسکٹ والے مظاہرین نے فرانس کی سڑکوں کا رخ کیا، جسے تحریک کی ’’پانچویں قسط‘‘ کا نام دیا گیا۔ یہ 10 دسمبر کو میکرون کی طرف سے اعلان کی جانے والی مراعات، پورے ہفتے جاری رہنے والے طالب علموں کے مظاہروں اور CGT ٹریڈ یونین کی جانب سے ایک روزہ ملک گیر احتجاج کے بعد ہوا۔ پانچ ہفتوں بعد تحریک کس مرحلے پر پہنچی ہے اور اس کا تناظر کیا ہے؟

15دسمبر 2018ء بروز ہفتہ، بختیار لیبر ہال لاہور میں پروگریسو یوتھ الائنس کے انتہائی شاندار مرکزی کنونشن کا انعقاد ہوا۔کنونشن میں ملک بھر سے طلبہ و طالبات اور بیروزگار نوجوانوں کی بڑی تعداد نے انتہائی نامساعد حالات کے باوجودشرکت کی۔کنونشن کا بنیادی مطالبہ ہر سطح پر مفت تعلیم کی فراہمی اور طلبہ یونین کی بحالی تھا۔ اس کے علاوہ دیگر مطالبات کے حق میں بھی قرار دادیں منظور کی گئیں جن میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات کی شدید مذمت شامل تھی۔کنونشن کی مقرر ہ جگہ ایوان اقبال کا مرکزی ہال تھی، مگر لاہور کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے عوام دشمن حربے استعمال کیے گئے اور مفت تعلیم اور طلبہ یونین کی بحالی کے نعروں پر ہونے والے اس کنونشن

...

فرانس کی سماجی اور سیاسی صورتحال خوفناک رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے۔ ایک ماہ سے کم عرصے میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک نے ملک کو انقلابی بحران کی دہلیز پر لا کھڑا کیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دہلیز پار بھی ہو سکتی ہے۔ تحریک کو آگے دھکیلنے میں کیا چیز فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؟

ریولوشن (IMT کا فرانسیسی سیکشن) کے طالب علم ممبران نے مونٹ پیلیئے یونیورسٹی میں ہونے والے عام اکٹھ میں مندرجہ ذیل قراردار منظور کی۔ یہ ٹولوز میں ایک طلبہ کے اکٹھ میں بھی پیش کی گئی(جس پر آج رائے شماری ہو گی) اور اسے نانٹیر اور لیون میں بھی پیش کیا جائے گا۔ اس میں پیلی واسکٹ والوں کی تحریک کی حمایت کی گئی ہے اور میکرون کی قابل نفرت حکومت کو گرانے کے لیے ہڑتالوں کی مہم چلانے کا کہا گیا ہے۔

فرانس میں ہونے والے ییلے یونز (پیلی واسکٹ والوں کے) مظاہرے ایک فیصلہ کن موڑ پر آ چکے ہیں۔ بڑھتے ہوئے انقلابی جذبات کی وجہ سے، جن سے اب حکومت کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہے، میکرون نے اپنا متکبر رویہ تبدیل کرتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کو ’’معطل‘‘ کرنے کا اعلان کیا ہے جس کی وجہ سے یہ تحریک شروع ہوئی تھی۔ یہ پسپائی ہفتے کے آخر میں سینکڑوں مظاہرین اور پولیس کے درمیان گلیوں میں ہونے والی لڑائیوں کے بعد دیکھنے میں آئی ہے جن کے نتیجے میں صرف پیرس میں ہی 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور کم از کم ایک جان گئی۔

22 نومبر کے دن میکسیکو سٹی میں موجودلیون ٹراٹسکی میوزیم کے ہال میں پر ایلن وڈز نے انگلستان کے انقلاب پر لیکچر دیا۔ گفتگوکا آغاز کرتے ہوئے ایلن نے کہا کہ پوسٹ ماڈرنسٹ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ تاریخ کے کوئی قوانین نہیں ہوا کرتے اور اسے سمجھنا نا ممکن ہے۔ لیکن ہمیں صدیوں کے دوران بار بار دہرائے جانے والے واقعات اور یہاں تک کہ جانے پہچانے کردار بھی نظر آتے ہیں۔ ملتے جلتے مادی حالات سے ایسے تاریخی واقعات رونما ہوتے ہیں جن میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی ہے۔

لاطینی امریکہ کے ملک کولمبیا میں دائیں بازو کے رجعتی امیدوار ایوان ڈیوق کو صدر بنے 100 دن کا عرصہ گزر چکا ہے۔ البیرتو کاراسکویلا کی بطور وزیر معاشیات تعیناتی واضح اعلان ہے کہ کولمبیئن محنت کش طبقے پر خوفناک حملوں کی تیاری کی جا رہی ہے۔

کینیڈئن یونین آف پوسٹل ورکرز (CUPW) کے 50 ہزار ممبران 22 نومبر سے سلسلہ وار ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ ٹروڈو کی لبرل حکومت نے ایک نام نہاد قانون ’کام پر واپسی‘ پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جس سے ہڑتالوں کا یہ سلسلہ غیر قانونی ہو جائے گا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کینیڈا میں ہڑتال کا حق غصب کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ایک ہڑتال مؤثر ہوتی ہے، اسے غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن ڈاک مزدور شدید غم و غصے میں ہیں اور قوی امکانات ہیں کہ وہ اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کریں گے۔ اس سلسلے میں فوری یکجہتی درکار ہے تاکہ CUPW کے مزدوروں میں یہ احساس مضبوط رہے کہ وہ جدوجہد میں اکیلے نہیں اور کینیڈئن اور عالمی محنت کش ان کے ساتھ بھرپور حمایت میں کھڑا ہے۔

’پیلی واسکیٹ‘ احتجاجی تحریک کا بڑھتا تحرک فرانسیسی طبقاتی جدوجہد میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو رہا ہے۔ کسی بھی پارٹی، یونین یا تنظیم کی عدم موجودگی میں لاکھوں افراد نے ڈیزل اور پیٹرول پر ٹیکس بڑھوتری کے خلاف اس تحریک میں حصہ لیتے ہوئے نام نہاد حکومتی رعایتوں اور دھمکیوں کو پیروں تلے روند ڈالا ہے۔ پیلی واسکیٹ تحریک کو بھاری عوامی حمایت بھی حاصل ہے۔

لیے تویہ کبھی شروع ہی نہیں ہوئی تھی! جدید ترین اعدادوشمار کے مطابق عالمی ارب پتی طبقے نے 2017ء میں انسانی تاریخ کی سب سے زیادہ دولت اکٹھی کی۔ ایک طرف مزدوروں، نوجوانوں اور غربا کو بحران کے ایک اور سال میں مزید کفایت شعاری کرنی پڑی ہے تو دوسری طرف UBS کے مطابق امرا کی دولت میں 20 فیصد اضافے کے ساتھ 6.9 ٹریلین پاؤنڈکا اضافہ ہوا ہے۔

(ہ کا دوسرا اور آخری حصہ شائع کر رہے ہیں۔ یہ خطاب جولائی 2001ء میں بارسلونا، سپین میں منعقدہ مارکسی سکول میں کیا گیا۔)

حالیہ مہینوں میں مزدوروں اور طلبہ کے اکٹھ کی سرمایہ نواز چینی ریاست کیخلاف جدوجہد زور پکڑتی جا رہی ہے۔ سرگرم طلبہ کے خلاف خوفناک کریک ڈاؤن اس کی واضح جھلک ہے۔اگرچہ کریک ڈاؤن کی وجہ مقامی JSAIC فیکٹری مزدوروں کی ایک حقیقی آزاد ٹریڈ یونین کی جدوجہد تھی اور حکومت کا سارا جبر ان مزدوروں اور طلبہ کے’JASIC یکجہتی‘ گروہ پر تھا لیکن یہ جھڑپ سماج میں پنپتی سماجی قوتوں کی سیاسی بے چینی کا درست اظہار ہے۔

ہم عالمی مارکسی رجحان کے ال سلواڈور(بلوک پاپولر جووینل)، ہنڈوراس (ازکویرادا مارکسستا) اور میکسیکو (لاازکویرادا سوشلستا) کے کامریڈوں کی جانب سے ان ہزاروں تارکین وطن کے کاروان کے لئے مشترکہ یکجہتی کا پیغام شائع کر رہے ہیں جو وسطی امریکہ سے ریاستہائے متحدہ امریکہ (USA) کی جانب گامزن ہے۔ یہ تارکین وطن شدید تعصب ، میڈیا کی طرف سے حملوں اور ریاستی جبر کا شکار ہیں۔ان کی حالت زار پورے خطے کے آلام و مصائب کا اظہار کرتی ہے جو امریکی سامراج اور مٹھی بھر امراء کی پالیسیوں سے برباد ہو چکا ہے۔

اگرچہ گزشتہ چند مہینوں میں برطانوی وزیر اعظم تھیریسا مے بطور رقاصہ مضحکہ خیز ثابت ہوئی ہے لیکن ایک معاملے میں اس کی ماہرانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ جو کام کل کیا جا سکتا ہے اسے پرسوں پر ڈال دو! یقیناًاس کی معاونت ماہر اساتذہ نے ہی کی ہے یعنی یورپی قائدین، جو پچھلی ایک دہائی سے سیاسی کھچڑی پکانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ لیکن مے اور اس کے مذاکراتی شریک جتنے مرضی پینترے بدل لیں، وہ حتمی نتائج سے بچ نہیں سکتے۔ آئیں بائیں شائیں کرنے کے باوجود برطانیہ اور یورپ ایک لرزہ خیز دھماکے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ بس سوال ہے کہ آخر کب تک!

برازیلی عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں بولسونارو فتحیاب ہو کر جمہوریہ کا ممکنہ صدر بننے کی مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے۔ 14.7 کروڑ ووٹروں میں سے 33 فیصد نے اس کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ہداد (ورکرز پارٹی، PT کا امیدوار) کو 21 فیصد ووٹ پڑے۔ تمام ووٹروں میں سے 27.32 فیصد (4کروڑ سے زائد)نے کسی امیدوار کو ووٹ نہیں ڈالا۔ گلی محلے کی سطح پر کم و بیش یہی جذبات موجود ہیں۔

دو ہفتے پہلے ٹرمپ نے 200 بلین ڈالر کی مزید چینی درآمدات پر ٹیرف لگانے کا اعلان کیا۔ اس اعلان پر چین کے علاوہ بڑے امریکی کاروباریوں کی طرف سے بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ جواب میں چین نے بھی امریکہ سے ہونے والی مزید 60 بلین ڈالر کی درآمدات پر محصول بڑھانے کا اعلان کر دیا۔ یہ تجارتی جنگ دونوں سامراجی ممالک کے درمیاں پچھلے عرصے سے چلے آرہے تناؤ کی غمازی کرتی ہے اور اس تجارتی جنگ نے ایک نئے عالمی معاشی بحران کے خطرے کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

ایک سال قبل یکم اکتوبر کو ہونے والا کیٹالونیا کی آزادی کا ریفرنڈم کیٹالونیا اور سپین کی پوری ریاست میں سیاسی حالات کا محور بن گیا تھا۔ عوام انتہائی تیزی سے سیاسی میدان میں داخل ہونے لگے جسے ہم ’’ریپبلکن اکتوبر‘‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ نچلی سطح سے بہت بڑا تحرک دیکھنے میں آیا جس نے ریاستی ڈھانچوں اور جنریلیٹیٹ (کیٹالان حکومت) کے رہنماؤں کی ہچکچاہٹ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، جو 1978ء کی تحریک کے بعد کی ریاست کے لیے گزشتہ چالیس برس میں سب سے بڑا مسئلہ ثابت ہوا۔

25 ستمبر 2018ء کو ہونے والی عام ہڑتال نے ارجنٹائن کی معیشت کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔محنت کش طبقے کی بہت بڑی طاقت کے مظاہرے میں ،پبلک ٹرانسپورٹ ،اسکول ،یونیورسٹیاں بند ہو کر رہ گئے، جبکہ اس دوران دوسرے ادارے، بینک بھی بند تھے اور صنعت بھی مفلوج تھی۔ یہ سب(عام ہڑتال) ایک ایسے وقت میں ہوا جب ارجنٹائن کا صدر ماکری آئی ایم ایف سے ایک بڑے بیل آؤٹ پیکیج اور رعایتیں حاصل کرنے کی کوشش میں امریکہ کے دورے پر تھا۔

20 ستمبر کو بیجنگ میں واقع چین کی سب سے پرانی یونیورسٹی ،پیکنگ یونیورسٹی (PKU) کی مارکسی سوسائٹی (MS) کے ایک نمائندے کا کھلا خط چینی سوشل میڈیا پر گردش کرنا شروع ہو گیا۔ خط میں تفصیل سے بیان کیا گیا کہ اس مہینے سوسائٹی کیمپس میں بطور طلبہ کلب دوبارہ رجسٹر ہونے کے لئے یونیورسٹی کے تدریسی عملے میں سے کسی ایک مشیر کی حمایت کی مقررہ شرط پوری نہیں کر پا رہی۔

آئن سٹائن نے کہا تھا ، ’’ایک ہی کام کو بار بار دہرائے جانا اور سمجھنا کہ اس سے نتائج مختلف نکلیں گے، احمقانہ پن ہوتا ہے۔‘‘ تو پھر مارکسسٹ آخر سوشلزم کی جدوجہدکو کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں، جب کہ یہ تجربہ ناکام ہو چکا ہے ؟ اس سوال کا جواب دینے کے لیے اس بات کو اچھی طرح سے سمجھنا ضروری ہے کہ سوویت یونین اور دیگر ایسے ممالک جو خود کو ’’سوشلسٹ‘‘ کہا کرتے تھے ان کے ساتھ کیا بیتی۔

10 سال پہلے 15 ستمبر 2008ء کو لیہمن برادرز، جو دنیا کا سب سے بڑا اور پرانا انویسٹمنٹ بینک ہے، نے غیر ادا شدہ قرضوں کے بوجھ تلے دبنے کے بعد دیوالیہ پن کی درخواست دائر کر دی۔ لیہمن برادرز کے انہدام سے ایک سلسلہ شروع ہو گیا جس میں دوسرے بینک، مالیاتی ادارے اور انشورنس کمپنیاں آنے والے دنوں اور ہفتوں میں یکے بعد دیگرے تاش کے گھر کی طرح گرنے لگے۔

میکسیکو شہر کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں طلبہ کے احتجاجوں کا نیا ریلا امڈ آیا ہے۔ دارالحکومت کی تمام بڑی یونیورسٹیوں کے طلبہUNAM(National Autonomous University of Mexico) کے 14 طلبا کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے باہر نکل آئے جنہیں پوروس (نیم فاشسٹ بدمعاشوں)نے اس ماہ کے آغاز میں مار مار کر زخمی کر دیا تھا۔

(اس بات پر کافی شور مچایا جا رہا ہے کہ اسرائیل کی ریاست کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے اور کیا نہیں۔ خاص طور پر برطانیہ میں جیرمی کاربن کی مبینہ ’’یہود دشمنی ‘‘ کے خلاف زہر آلود مہم چلائی جا رہی ہے ۔ درحقیقت یہ اسرائیل کی فلسطینی لوگوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں پر کسی بھی قسم کی تنقید کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے۔ ان حالات کی روشنی میں فرانسسکو میرلی نے نئے قانون کاجائزہ لیا ہے جس میں اسرائیل میں رہنے والے فلسطینیوں کے ساتھ امتیاز برتا گیا ہے اور انہیں باقاعدہ دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیا گیا ہے۔)

برطانیہ میں اداروں کو دوبارہ قومیائے جانے کی بحث کے ساتھ (ایک پالیسی جس کا جیرمی کاربن کی لیبر پارٹی نے وعدہ کیا ہے)، محنت کشوں کے کنٹرول اور مینجمنٹ کا خیال بھی دوبارہ سامنے آگیا ہے۔ یہاں تک کہ حزب اختلاف کے چانسلر (Shadow Chancellor) جان میکڈونل نے کہا ہے کہ دوبارہ قومیائی جانے والی کمپنیاں ماضی کی طرح نہیں چلائی جانی چاہیں بلکہ انہیں محنت کشوں کے زیر انتظام چلنا چاہیے۔

4اگست کوشام 5:41پر صدر ماڈورو پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ ایک فوجی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اس حملے میں صدر ماڈورو محفوظ رہے جبکہ نیشنل گارڈ کے سات ا ہلکارزخمی ہوئے ۔حملے کے بعد ٹی وی پر اپنے خطاب میں ماڈورو نے اس حملے کی ذمہ داری کولمبیا کے صدر یوان مینوئل سانتوز پر ڈال دی جو خطے میں امریکی سامراج کا گماشتہ ہے۔اس کے بعد ’ وینزویلا کی’ٹی شرٹ میں سپاہی‘‘ نامی ایک انتہائی دائیں بازو کی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔اس حملے سے واضح ہو گیا ہے کہ سامراجی طاقتیں کھل کر وینزویلا کی حکومت کیخلاف سازشیں کر رہی ہیں اور اس کا خاتمہ چاہتی ہیں ۔ اس عمل کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ دوسری جانب خود حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث بحران بڑھتا جا رہا ہے اور معیشت

...

اکثر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ سوشلزم نہیں چل سکتا کیونکہ اگر سب کو ’’مساوی اجرت دی جائے‘‘ تو ’’محنت‘‘ سے کام کرنے کا محرک ختم ہو جائے گا۔

لینن نے ایک مرتبہ ’’عالمی سیاست میں آتشیں مواد‘‘ کے نام سے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ لیکن آج کی عالمی صورتحال میں جتنا آتشیں مواد موجود ہے اس کا شاید اس بالشویک قائد نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جہاں نظر دوڑائیں عدم استحکام، شورش اور بربادی موجود ہے: روس اور یوکرائن تنازعہ؛ شام کی خونریز خانہ جنگی؛ ایران، اسرائیل اور سعودی عرب تنازعہ؛ فلسطین کا سلگتا سوال؛ اور افغانستان میں تاحال جاری طویل ناقابل حل جنگ۔

ترک معیشت نامیاتی بحران اور عدم استحکام کی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ کے ساتھ تیز تر ہوتی سیاسی چپقلش کے نتیجے میں ترک اسٹیل اور ایلومینیم پر امریکی تادیبی محصولات لاگو ہونے کی وجہ سے ترک لیرا کی قدر میں تیز ترین گراوٹ واقع ہوئی ہے۔ اپنی پست ترین سطح پر لیرا کی قدر اس سال جنوری کے مقابلے میں 40 فیصد کم تھی۔ اس کے بعد کرنسی کی قدر میں پیدا ہونے والے نام نہاد ’’استحکام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے ایک ڈالر کے بدلے میں اب 30 فیصد زیادہ لیرا حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

4 اگست کو شام 5 بج کر 41 منٹ پر اس روسٹرم کے قریب ایک زوردار دھماکا سنا گیا جہاں سے وینزویلا کا صدر نکولس ماڈورو کاراکاس میں بولیوار ایونیو کے مقام پر بولیوارین نیشنل گارڈ کی اکیاسیویں سالگرہ کے موقع پر ایک پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر ماڈورو اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے مگر نیشنل گارڈ کے 7 ارکان زخمی ہو گئے۔