یہ کیسا سماج ہے جہاں گاڑیوں کی بہتات ہے اور عوام ٹرانسپورٹ کی اذیت سے دوچار ہیں۔ ہر بندے کے ہاتھ میں موبائل فون ہے لیکن پاؤں میں جوتی نہیں ہے۔محلات نما کوٹھیوں پر مشتمل ہاؤسنگ اسکیمیں اگرپھیل رہی ہیں تو فٹ پاتھوں پر سونے والوں کا ہجوم بھی بڑھ رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی طاقت بن چکا ہے لیکن لوڈ شیڈنگ ہے کہ بڑھتی جارہی ہے۔ بجلی جتنی مہنگی ہے اسکی ترسیل اتنی ہی ناقابل اعتماد ہے۔ ایک طرف منرل واٹر کا کاروبار تیزی سے بڑھ رہا ہے اور دوسری جانب گندے پانی سے بیماریوں کی وباکروڑوں زندگیوں کو موت کی آغوش میں دھکیل رہی ہے۔ پرائیویٹ اسکولوں اور تعلیم کا کاروبار زوروں پر ہے لیکن آبادی میں ناخواندگی بڑھتی ہی چلی جارہی ہے۔ امیروں کے لئے فائیو سٹار ہسپتال کھلتے چلے جا رہے ہیں لیکن غریب دوائیوں سے بھرے میڈیکل سٹوروں کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ رہے ہیں۔ امراء کی شادیوں میں عروسی جوڑوں اور دکھاوے پر کروڑوں اخراجات ہورہے ہیں لیکن محنت کش گھرانوں میں ایسی بیٹیاں بھی کم نہیں کہ جہیز کے پیسے جوڑتے جوڑتے جن کے بالوں میں چاندی اتر چکی ہے۔ معاشی ترقی کی شرح میں جتنا اضافہ ہوتا ہے سماجی غربت اس سے زیادہ تیزی سے بڑھتی ہے۔

Cuatro activistas bolivarianos muertos, decenas de centros de salud, locales del PSUV, centros pre-escolares, abastos populares, etc atacados por bandas fascistas de la oposición "democrática". EEUU, la OEA y España se unen al coro exigiendo un recuento de los votos. Lo que hay en Venezuela es un intento de golpe de estado contra la voluntad democráticamente expresada del pueblo. 

El candidato bolivariano Nicolás Maduro ganó las elecciones presidenciales de Venezuela del 14 de abril por un estrecho margen. Con el 99,12% de los votos escrutados, hubo una participación del 78,71%. Maduro consiguió 7.505.378 votos (50,66%), y Capriles 7.270.403 (49,07%). Capriles declaró que no reconocía el resultado y exigió una auditoría del 100% de los votos.