Le puissant mouvement de protestation à Hong Kong entame un deuxième mois. Malgré une pression croissante de Pékin et du gouvernement de Carrie Lam, le mouvement continue de se radicaliser. Il passe des méthodes libérales bourgeoises aux méthodes de la lutte de classe. À bien des égards, quand Carrie Lam est sortie de l’ombre pour réagir à la grève générale, elle a eu raison de dire que le mouvement allait droit vers un « point de non-retour ».

5 اگست کو مودی حکومت کی جانب سے کشمیر کی خصوصی حیثیت کی ضمانت اور باشندہ ریاست کے قانون کو تحفظ فراہم کرنے والی آئین کی دفعات 370 اور35A کا خاتمہ صورتحال میں ایک بنیادی تبدیلی کی عکاسی ہے۔ لمبے عرصے سے قائم ایک مخصوص توازن کو حتمی سمجھنے والوں اور اسی قسم کے حقائق سے اخذ کردہ فارمولوں کے ذریعے اس خطے کی سیاست، سماجی حالات اور سفارتی تعلقات کا تجزیہ کرنے والوں کے شعور کو اس اچانک اور غیر متوقع فیصلے نے اس قدر شدت سے جھنجوڑا ہے کہ ان کو اپنا دماغی توازن بحال کرنے اور نئی صورتحال کی تفہیم میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ان میں اس خطے کے حکمران طبقات کے کے کچھ دھڑوں کے ساتھ وہ سبھی لبرلز اور نام نہاد بائیں بازو کے خود ساختہ دانشور سر فہرست ہیں جو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ کچھ بھی بدل نہیں سکتا ہر طرف جمود ہی جمود ہے، موجود توازن کو قائم رکھنا حکمران طبقات کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اس لئے اس کو بدل دینے والے اقدامات کے بارے میں تو حکمران طبقات کا کوئی بھی حصہ تصور تک نہیں کر سکتا، سامراجی طاقتوں کے بھی مفادات اسی صورتحال کو قائم رکھنے میں ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مودی حکومت کا یہ فیصلہ اس قسم کی سوچ رکھنے والوں کی سماعتوں پر ایک اچانک دھماکے کی زوردار آواز کی مانند ہے جس نے ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتوں کو عارضی طور پر معطل کر دیا ہے، اگرچہ یہ لوگ بے حس و حرکت نہیں ہوئے نہ ہی ان کی قوت گویائی معطل ہوئی ہے اسی لئے یہ چلتے پھرتے ہیں اور بولتے بھی ہیں لیکن تخیل کی حواس باختگی ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہی۔

ကက္(ရွ္)မီးယားနဲ႔ပတ္သက္လို႔ မိုဒီအစိုးရရဲ႕ ရက္ရက္စက္စက္ ႏွိပ္ကြပ္မႈေတြေၾကာင့္ (အာရွ)ေဒသတခုလံုး ထိတ္လန္႔တုန္လႈပ္သြားတယ္။ ၾသဂုတ္လ ၅ရက္ေန႔တုန္းက အျငင္းပြားေနတဲ့ ဂ်မ္မူ အိႏၵိယျပည္နယ္နဲ႔ ကက္(ရွ္) မီးယားျပည္နယ္တို႔ရဲ႕ ႏွစ္ေပါင္း ၇၀ၾကာ အဆင့္ေနရာကို (အိႏၵိယ)သမၼတအမိန္႔တခုတည္းနဲ႔ ပယ္ဖ်က္ပစ္လုိက္ တယ္။ တည္ဆဲ ဖြဲ႔စည္းပံုအေျခခံဥပေဒဆိုင္ရာ သတ္မွတ္ခ်က္ကိုလည္း ဘာဒီမိုကေရစီ လုပ္ထံုးလုပ္နည္းမွ က်င့္သံုးမေနပဲ ခ်က္ခ်င္းပယ္ဖ်က္ပစ္ခဲ့တယ္။