Urdu

وکرین پر روسی فوج کشی کو 100 سے زائد دن گزر چکے ہیں۔ اس وقت جنگ بندی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔ ابتداء میں روس نے کیف، سومی، چرنیہیف اور خارکیف کے گرد علاقوں پر تیزی سے قبضہ کر لیا تھا۔ بعد میں ان علاقوں سے پسپائی پر مغرب نے جو مغرور بڑھک بازی کی آج وہ قنوطی مایوسی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ روسی افواج برتر توپ خانے کے ساتھ دونباس میں سُستی لیکن ثابت قدمی سے بڑھ رہی ہیں۔ یوکرین کے نقصانات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ مغربی پابندیوں کے باوجود روس اپنی آئل اور گیس کی کمائی کو قائم رکھنے میں کامیاب رہا ہے جبکہ پابندیاں عالمی معیشت کو ایک نئی خوفناک کساد بازاری میں دھکیل رہی ہیں۔

ریل، میری ٹائم اور ٹرانسپورٹ یونین (RMT) نے ریلوے کا پہیہ جام کر دیا ہے، ٹوری پارٹی اور مالکان یونینوں کو تباہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں اور اس ساری صورتحال میں برطانیہ میں طبقاتی کشمکش تیز ہو رہی ہے۔ غلیظ پریس ”طبقاتی جنگ“ کا شور مچا رہا ہے۔ وہ پہلی مرتبہ سچ بول رہا ہے۔

براعظم امریکہ کے ممالک کی سربراہی کانفرنس روایتی طور پر ایک دکھاوا ہے جس میں شمالی اور جنوبی امریکی براعظموں کے سربراہان باقاعدگی سے ملاقات کرتے ہیں اور خیر سگالی کے اعلامیے جاری کرتے رہتے ہیں۔ امریکی صدر بائیڈن نے 6 تا 10 جون کو لاس اینجلیس میں جس کانفرنس کی سربراہی کی وہ ایک ایسی ہزیمت ثابت ہوئی جس سے پوری دنیا کو واضح ہو گیا کہ اب امریکہ کا اپنے ہی پچھواڑے میں تسلط کمزور ہو رہا ہے۔

13 جون کو ایکواڈور میں کنفیڈریشن آف انڈیجینس نیشنلٹیز (CONAIE) کی جانب سے معاشی حالات میں بہتری کے لیے ملک گیر ہڑتال کا آغاز کیا گیا۔ مطالبات میں پٹرول کی قیمتوں کو منجمد کرنا، بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں پر کنٹرول اور نجکاری کے منصوبے کی مخالفت شامل ہے۔ یہ مطالبات عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سربراہی میں عائد کردہ پابندیوں کو للکارتے ہیں۔

4 جون 2022ء بروز ہفتہ بنگلہ دیش کے چٹاگانگ ڈسٹرکٹ میں ڈچ-بنگالی ملکیت میں BM Inland Container Depot میں ایک بڑے دھماکے بعد آگ لگ گئی جس میں 49 افراد شہید اور تقریباً 300 زخمی ہو گئے۔ ابھی تفصیلات آ رہی ہیں لیکن یہ واضح ہو رہا ہے کہ مالکان کے منافعوں کے لیے مرنے والے محنت کشوں کے لاتعداد واقعات میں ایک اور کا اضافہ ہو چکا ہے۔

کینیڈا میں تیل کی قیمتیں تقریباً 2 ڈالر فی لیٹر تک بڑھ گئی ہیں۔ سال کے آغاز سے اب تک 50 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ محنت کش طبقے کے خاندانوں پر ایک بہت بڑا بوجھ ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اخراجات صوابدیدی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر مزدوروں کے پاس ان بلند قیمتوں کو ادا کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ کینیڈین عوام اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کام پر آنے جانے کے لیے خرچ کر رہے ہیں۔ مزدوروں کو اب تیل کی مہنگی قیمتوں سے جان چھڑانے کیلئے ایک منصوبہ بند معیشت کی اشد ضرورت ہے۔

اس وقت پوری دنیا کی توجہ یوکرین جنگ پر مرکوز ہے لیکن بحر الکاہل میں امریکہ اور چین کے درمیان اسی اہمیت سے بھرپور ایک اہم ٹاکرا شدت اختیار کر رہا ہے جس کا ایک ہی ہدف ہے کہ اس اہم خطے میں کس ملک کا تسلط ہو گا؟ درحقیقت اس وقت امریکی خارجہ پالیسی کا سارا محور بڑھتے چینی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے۔

عالمی مارکسی رجحان کے ہسپانوی سیکشن کے کامریڈز نے ویٹوریا گاستیز میں موجود کینیڈین ملٹی نیشنل کمپنی لینامار کے محنت کشوں سے ملاقات کی۔ وہ مالکان کے خلاف اجرتوں کو منجمد کرنے اور کام کی جگہ پر حالات مزید خراب ہونے کے خلاف مکمل ہڑتال پر ہیں۔ ان کی مثالی جدوجہد پر رپورٹمندرجہ ذیل ہے۔

ریلوے ملازمین نے ملازمتوں اور حفاظت کے لیے ہڑتال کے حق میں بھاری اکثریت سے ووٹ دیا ہے۔ جبکہ، ٹوری پارٹی یونین مخالف قوانین کو پر فیصلہ کن حملہ کرنے کی تیاری میں ہے۔ ٹریڈ یونین تحریک کو لڑاکا اور متحدہ جدوجہد کے ساتھ جواب دینا ہوگا۔

عالمی مارکسی رجحان کے امریکی سیکشن، ’سوشلسٹ ریوولوشن‘، نے امریکہ اور کینیڈا میں سٹار بکس کے ملازمین کی یونین بنانے کی جدوجہد کو پہلے دن سے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ فالو کیا ہے۔ اس وقت سینکڑوں سٹورز نے یا تو یونین قائم کرنے کے لیے ووٹ دیا ہے یا وہ تنظیم سازی کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ ہم اس وقت جاری کمپئین، جس میں فارچون 500 کمپنی کو یونین تسلیم کرنے اور یونین معاہددے پر بات کرنے پر زور دیا جا رہا ہے، کی بھرپور حمایت کرتے ہیں۔

پچھلے ہفتے سے ایران میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بنیادی خوراک کی اشیاء کی سبسڈی میں کٹوتیوں کے بعد خود رو احتجاجوں کا سلسلہ شروع ہے۔ کوکنگ آئل، مرغیوں، دودھ اور انڈوں جیسی بنیادی ضروری اشیاء کی قیمتوں میں 300 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ پچھلے ہفتوں میں ایک کلو آٹے کی قیمت میں 500 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سبسڈی کی کٹوتیوں کے نتیجے میں پاستا کی قیمت میں بھی 169 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس سے عوام کے حالات انتہائی بدتر ہو گئے ہیں، جو ایسے رد عمل کو جنم دے رہا ہے جس میں محنت کشوں کی جدوجہد کے ساتھ جڑت قائم کی جا رہی ہے، نتیجتاً ایک دھماکہ خیز مرکب تیار ہو رہا ہے۔

ترکی کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے معاشی بحران نے ترکی کے حکمران طبقے کو سیاسی بحران میں دھکیل دیا ہے۔ حکومتی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پی) اور انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی اس کی حمایتی نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) کے اندر تقسیم اور دراڑیں نظر آنے لگی ہیں۔ یہ واقعات انقلاب کا پیش خیمہ ہیں۔

سری لنکا میں ملک گیر عوامی تحریک کا آغاز ہوئے ایک مہینہ گزر گیا ہے، جس نے حکمران طبقے کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس تحریک نے قابلِ تعریف ثابت قدمی دکھائی ہے۔ نہ مون سون کی بارشیں، نہ سنہالی نئے سال کی تقریبات، اور نہ ہی ہر ممکن حربے سے واقف حکومت کی چالیں عوام کے غصّے کو ٹھنڈا کر سکی ہیں۔ مگر اس کے باوجود صدر گوٹابیا راجاپکشا اقتدار پر سختی سے قابض ہے، جس کی موجودگی عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔

امریکہ کے اندر نئی یونینز کا قیام اور اس میں محنت کشوں کی شمولیت دنیا بھر کے محنت کشوں کو متاثر کر کے ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہا ہے۔ حال ہی میں نیویارک کے اندر سٹیٹن آئی لینڈ کے مقام پر واقع ایمازون کے پہلے گودام میں آزادانہ ایمازون مزدور یونین (اے ایل یو) قائم کی گئی ہے۔ ہر ہفتے سٹاربکس کی درجنوں کافی کی دکانیں بھی سٹاربکس ورکرز یونائیٹڈ میں شامل ہو رہی ہیں۔ پہلی مرتبہ ایپل سٹور کے محنت کشوں کے ایک گروہ نے بھی کمیونیکیشن ورکرز آف امریکہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ نیشنل لیبر ریلیشنز بورڈ کو 2022ء میں ابھی تک...