امریکہ،جنہیں سرمایہ داری پر بہت ناز تھاوہ بت ٹوٹ گئے Print E-mail
By Alan Woods   
Tuesday, 07 October 2008

 

تحریر،، ایلن وڈز،، ترجمہ، آدم پال،،۔02.10.2008۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم غیر معمولی عہد میں رہتے ہیں۔ امریکہ میں مالیاتی بے چینی کے باعث ایسا خوف پیدا ہو رہا ہے جس کا پوری دنیا پر چھا جانے کا خطرہ ہے۔اس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کا شعور تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔ کل نیو یارک کی سنٹرل لیبر کونسل کی طرف سے ایک مظاہرے کی کال دی گئی جس میں ایک ہزار کے قریب محنت کشوں نے شرکت کی۔ اس میں تعمیراتی کام کے محنت کش، لوہے کے کارخانوں کے مزدور، پائپ فٹر، پلمبر اور دوسرے مزدوروں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ ٹیچرزاور دوسرے ملازمین بھی اس مظاہرے میں شریک تھے۔ اس مظاہرے کا مقصد، جسے دو دن سے کم نوٹس پر بلایا گیا تھا ، صدر کے اس منصوبے کے خلاف مظاہرہ کرنا تھا جس میں وال سٹریٹ کو سات ارب ڈالر کی سرکاری رقم دے کر بچانے کی کوشش کی جانی تھی۔ ’ رائٹرز ‘نامی خبر رساں ایجنسی نے یہ خبر کچھ اس طرح دی، ریل کے مزدور، مشینوں پر کام کرنے والے، سخت ہیٹ پہننے والے، ٹیچراور مزدور یونینوں کے دوسرے لوگوں نے نیو یارک اسٹاک ایکسچینج کے پاس جمعرات کو وال سٹریٹ کو بچانے کے امریکی حکومت کے منصوبے کے خلاف ریلی نکالی۔سینکڑوں مظاہرین نے اپنے یونین لیڈروں کی پر جوش حمایت کی جب انہوں نے قرضے کی منڈیوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور مالیاتی اداروں کو بحران سے نکالنے کے لئے سات ارب ڈالر کے منصوبے کو رد کیا۔ اے ایف ایل اورسی آئی او کے مرکزی صدرجان سوینی نے کہا کہ ”بش انتظامیہ چاہتی ہے کہ ہم وال سٹریٹ کو بچانے کی رقم ادا کریں اور ایسے منصوبے کی حمایت کریں جس میں ہمارے بحران کا کوئی حل نہیں۔ ہم اپنے ٹیکسوں میں دیئے جانے والے ڈالروں سے ان لاکھوں مزدوروں کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو مین سٹریٹ پر رہتے ہیں ، نہ کہ ان مراعات یافتہ ایگزیکٹوکی جو ہو شربا تنخواہیں لے رہے ہیں“۔ پلے کارڈوں پر نعرے درج تھے،’وال سٹریٹ کے لئے کوئی بلینک چیک نہیں‘،’ہماری محنت سے کمائی گئی پنشن لوٹ کا مال نہیں‘۔ مظاہرین نے کہا کہ حکومت یہ پیسے تعلیم ، صحت اور رہائش کی سہولتیں بہتر بنانے کے لئے بھی اتنی ہی آسانی اور جلدی سے خرچ کرے جتنے وہ وال سٹریٹ کو بچانے کے لئے کر رہی ہے۔یونائیٹڈ فیڈریشن فار ٹیچرز کے صدر راندیوین گارٹن نے کہا ،’ہم جانتے ہیں کہ معاشی مسائل کو حل کرنا ہے۔ لیکن ہم ایک موقع پرستانہ بچاو¿ کی بجائے ایک ذمہ دارانہ بچاو¿ چاہتے ہیں۔ اس کا مطلب اسی طرح ہے جیسے میرا باس مجھے ہر وقت کہتا ہے کہ ٹیچرز کا احتساب ہونا چاہئے، اسی طرح وال سٹریٹ کا بھی احتساب ہونا چاہئے“۔ مظاہرین بہت سخت غصے میں تھے۔جس بات پر سب سے زیادہ مثبت رد عمل سامنے آیا وہ یہ تھی کہ اگر یہ بچاو کی کوشش صرف امیروں کے لئے ہوئی تو عام ہڑتال کی جانی چاہئے۔ یہ محنت کش طبقے کے شعور میں ایک بہت بڑی تبدیلی کے آغاز کو ظاہر کرتی ہے ، اور ایسا صرف امریکہ میں ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”سو سال میں ایک دفعہ ہونے والا واقعہ“۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پچھلے چند ماہ میں مالیاتی منڈیوں کے ساتھ جو واقعات پیش آئے ہیں ان کی مثال ماضی قریب میں موجود نہیں۔ وہی بورژوا معیشت دان جو پہلے بحران کو ردکرتے تھے اب اگلے ساٹھ سال تک ایک شدید بحران کی باتیں کر رہے ہیں۔ امریکی فیڈرل ریزرو کے سابقہ چئیر مین ایلن گرین سپین نے موجودہ مالیاتی بحران کو ”سو سال میں ایک دفعہ ہونے والاواقعہ قرار دیا ہے“۔ وہ دراصل اناسی سال کی بات کر رہے ہیںکیونکہ انیس سو اڑتالیس میں قطعاً کوئی بحران نہیں تھا۔ لیکن معیشت دان وہمی لوگ ہوتے ہیں انیس سو بانویں کا ذکر کرنے سے خوفزدہ ہیں بالکل اسی طرح جیسے قدیم اسرائیل کے لوگ اپنے خدا کا نام نہیں لیتے تھے کہ کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آجائے۔ وہ منڈیوں پر لوگوں کااعتماد اٹھ جانے کی وجہ سے پریشان ہیںکیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اسی اعتماد ،، کے ہونے یا نہ ہونے ،، کی وجہ سے ہی عروج اور زوال آتے ہیں۔ لیکن درحقیقت عروج اور زوال کی بنیادیں معروضی حالات میں ہوتی ہیں۔ اعتماد کا ہونا یہ نہ ہونا، دراصل اصل صورتحال کی عکاسی کررہا ہوتا ہے گو یہ اعتماد بعد میں ان حالات کا حصہ بن جاتا ہے جو منڈی کو اوپر یا نیچے جانے میں مدددیتے ہیں۔ پچھلے چند ماہ میں اے آئی جی،بئیر سٹرنز،فینی مے،فریڈی میک،لحمین برادرز اور میرل لنچنے یا تو دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے یا پھر انہیں نیشنلائز کر لیا گیا ہے یا حکومت نے انہیں”بچا“ لیا ہے۔ ان کمپنیوں کا حجم اتنا بڑا تھا کہ ان کی ناکامی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ جیسے جیسے لوگوں پر معاشی بحران کی سنجیدگی واضح ہوتی جا رہی ہے ویسے ہی ان کے شعور میں ایک ایسی تبدیلی آرہی ہے جسے پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ چھبیس ستمبر کی صبح ایک اور خبر ملی کہ ایک اور بینک واشنگٹن میوچل جسے امریکی حکومت نے بند کر دیا تھا دیوالیہ ہو گیا ہے۔ اب تک یہ کسی امریکی بینک کی سب سے بڑی ناکامی ہے۔ اس بینک کے اثاثے جے پی مارگن چیز کو ایک اعشاریہ نو ارب ڈالر میں بیچ دئے گئے ہیں۔ یہ ایک سونامی کے برابر مالیاتی تباہی ہے ، اور ابھی یہ ختم نہیں ہوئی۔ معیشت دانوں کے اندازے دن بدن نیچے کی طرف جا رہے ہیں۔چھ ماہ پہلے آئی ایم ایف نے مالیاتی شعبے میں ایک ہزار ارب ڈالر کے نقصان اور عالمی معیشت میں سست روی کی پیشن گوئی کی تھی ۔ بہت سے معیشت دانوں نے اسے انتہائی مایوس کن تجزیہ قرار دیا تھا۔ لیکن اب وہ کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔ فنانشل ٹائمز میں سٹراس کاہن لکھتے ہیں، ”بہت سے نقصانات ہونا ابھی باقی ہیں۔ اور اب چونکہ مالیاتی بحران شدید ہو چکا ہے اس لئے واضح ہے کہ ایک بتدریج حل -جو موجودہ بحران کو حل کرنے کے لئے بھی جامع ہو اور بنیادی محرکات کو بھی درست کرے ہی امریکہ اور دنیا بھر کی وسیع تر معیشت کو نارمل طریقے پر واپس لا سکتا ہے“۔،،فنانشل ٹائمز، بائیس ستمبر دو ہزار آٹھ،، ہاں، بے شک یہ درست ہے کہ امریکی معیشت اب نارمل طریقے سے نہیں چل رہی۔بلکہ جہاں تک وال سٹریٹ کا تعلق ہے یہ در حقیقت رک چکی ہے۔جب میں یہ سطور لکھ رہا ہوں اس وقت امریکہ میں مالیاتی منڈیاںمفلوج ہو چکی ہیں اور امریکی حکومت کی جانب سے اس پیکج کی منتظر ہیں جس کے بعد ان کا خیال ہے کہ منڈی پر لوگوں کا اعتماد بحال ہو گا۔ صرف یہی حقیقت کہ ”آزاد منڈی“اپنی بقا کے لئے امریکہ کے ٹیکس گزاروں کی خطیر رقم کی مرہون منت ہے اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ وہ مکمل طو ر پر ”دیوالیہ “ہو چکی ہے، اس لفظ کے بالکل لغوی معنی کے مطابق۔ اب ”منڈی کے خفیہ ہاتھ“اور نجی کمپنیوں کے جذبے جیسے تمام سوالات کا انہیں جواب مل چکا ہے۔ اب حقیقی دنیا میں وال سٹریٹ اور لندن شہر کے جرات مند ، سچے اور کھرے کمپنیوں کے مالکان ہاتھ میں کاسہ لیے بھکاریوں کی طرح حکومت کے پاس جا رہے ہیں اور سوشل سکیورٹی کی درخواست کر رہے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ یہ بھکاری ارب پتی ہیں اور دھمکی دے کر پیسے مانگ رہے ہیں۔ اس وقت کیا نارمل رہ جاتا ہے جب ری پبلکن انتظامیہ جس کی قیادت آزاد منڈی کا ایک جنونی ،، بش،، کر رہا ہو، اہم سرمایہ کار بینکوں کو نیشنلائز کر لے؟ یا جب امریکی وزارت خزانہ ان لوگوں کو ایک کھرب ڈالر کی خطیر سبسڈی دے؟ پچھلے اتوار کو’ مارگن سٹینلے‘ اور’ گولڈ مین ساچیز‘ نے اپنی سرمایہ کار بینک کی حیثیت ختم کر لی اوراپنے آپ کو ”بینک ہولڈنگ“ کمپنی میں تبدیل کر لیا تا کہ امریکی خزانے تک مستقل رسائی حاصل کر سکیں۔ وال سٹریٹ سے دو اہم اداروں کا ختم ہونا بحران کی شدت اور سنجیدگی کی طرف اہم اشارہ ہے۔ جس تیزی سے مارگن سٹینلے نے سرمائے کی تلاش میں ایشیا کا رخ کیا ہے ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح دولت امریکہ سے باہر رخ کر رہی ہے۔ امریکی کانگریس ہچکچا رہی ہے جبکہ وزیر خزانہ ہنری پالسن،، بعض لوگوں کے خیال میں اب وہ امریکہ کا صدر ہے،، غصے میں پیچ و تاب کھا رہا ہے۔اسی دوران منڈیاں زوال پذیر ہیں اور کوئی بھی انہیں نیچے گرنے سے نہیں روک سکتا۔ امریکی کانگریس میں سات سو ارب کے پیکج کے متعلق یہ دلیل با بار دہرائی جا رہی ہے کہ ،’تم چاہتے ہو ہم یہ اربوں روپیہ بغیر کسی روک ٹوک اور گارنٹی کے دے دیں۔ یہ ایسے ہی ہے کہ ان بینکاروں کو ان کی بد انتظامی پر نوازا جائے جو یہ کہہ رہے ہیں کہ اس رقم سے وہ منڈی کے زوال کو روکنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ یہ ایک بہت اچھا سوال ہے جس کا ہنری پالسن ، جارج بش یا کسی اور کے پاس کوئی جواب نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آزاد منڈی کے تقدس کی وکالت کرنے والے اب منڈی کو اپنے آپ سے بچانے کے لئے حکومتی مداخلت کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ لیکن اب وہ اپنی ہی منطق کی بھینٹ چڑھی چکے ہیں، آزاد منڈی کی معیشت کی پاگل منطق۔ موجودہ مالیاتی بحران جس کی پیشن گوئی مارکسسٹوں نے بہت پہلے کر دی تھی در حقیقت اس بے ہنگم قیاس آرائیوں(speculation)کے ایک لمبے عرصے پر محیط ہے جس نے تاریخ کا سب سے بڑا بلبلہ پیدا کیا۔ جب جمعے کو امریکی حکومت نے مالیاتی شعبے کے لئے سات سو ارب ڈالر کے پیکج کا اعلان کیا تو منڈی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ لیکن یہ ساری خوشی دھری کی دھری رہ گئی جب کانگریس نے اس منصوبے میں تاخیر کا اعلان کر دیا۔سوموار تک امریکی ڈالر وال سٹریٹ کے بحران کے باوجود حیران کن حد تک مضبوطی سے کھڑا رہا۔ لیکن کانگریس کے اس فیصلے کے بعد اور امریکی بینکوں کی نازک صورتحال کی بدولت یہ تیزی سے نیچی کی جانب گرا جس کی وجہ سے وہ تمام اشیاءجن کی قیمتوں کا تعین امریکی ڈالر میں ہوتا ہے تیزی سے مہنگی ہوئیں۔ دنیا کی اہم کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں دو فیصد تک کمی واقع ہوئی ۔ یور و کی قدر میں دو اعشاریہ چھ فیصد تک اضافہ ہوا۔ تیل کی قیمتوں میں تیز ترین تبدیلی آرہی ہے۔ ڈالر کی قدر میں گراوٹ کے بعد تیل کی قیمتوں میں پچھلے چند دنوںمیں ہونے والی تیز ترین کمی کا رجحان دوبارہ اضافے میں تبدیل ہو گیا اور تیل کی قیمتیں دوبارہ بڑھنے لگیں۔ سومواربائیس ستمبر کو تیل کی قیمتوں میں ستر افیصد اضافہ ، ایک دن میں ہونے والاتاریخ کا سب سے بڑا اضافہ تھا۔ یہ عراق میں امریکی مداخلت کے بعد کے اضافے سے بھی زیادہ تھا۔ منگل کو ایک مرتبہ پھر تیل کی قیمتیں تین ڈالر کمی کے بعد ایک سو چھ ڈالر پر آ گئیںاور آنے والے دنوں میں ان قیمتوں میںمزید کمی متوقع ہے۔ یہ شدید قلابازیاںجہاں ڈالر کی حرکت کی عکاسی کرتی ہیں وہیں پر ان لوگوں کی حرکات و سکنات کی بھی جو ان اشیاءکی تجارت میں شریک ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے تک سرمایہ دار مکانوں کی منڈی میںقیاس آرائیاں کر رہے تھے۔ جب وہ زوال پذیر ہو گئی تو انہوں نے استحصال کرنے کے لئے دوسری اشیاءکیطرف توجہ مرکوز کر دی۔ کوئی بھی ایسی شے جس سے منافع کمایا جا سکے جیسے تیل، غذائی اشیائ، فن کے نمونے، کچھ بھی۔ قیاس آرائیوںکو کنٹرول اور ریگولیٹ کرنے کے تمام مطالبات کے باوجود اسے کنٹرول نہیں کیا جاسکا۔یہ بالکل ہائیڈرا کے پودے کی طرح ہے، اگر آپ اس کا ایک سر کاٹ دیں تو اس کے درجن بھر سر اور ابھر آتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ امیروں کے لئے -سوشلزم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ان معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے باعث بہت سے لوگوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کر دیا ہے کہ یہ کیسا معاشی نظام ہے جس میں اتنی بد انتظامی ہے۔ جب سرمایہ دارانہ ریاست مالیاتی اداروں کو خود ہی نیشنلائز کرنا شروع کر دے تو یہ خیال عمومی طور پر پروان چڑھتا ہے کہ ہمیں آخر نجی بینکاروں اور سرمایہ داروں کی کیا ضرورت ہے؟ اسی وجہ سے سیاست دان نیشنلائزیشن کے لفظ سے اتنے خوفزدہ ہوتے ہیں جتنا شیطان مقدس پانیوںسے۔ وہ ہر قیمت پر ایسے رستے ڈھونڈنا چاہتے ہیں جس میں نیشنلائزیشن کئے بغیر ریاست بینکوں کو سرمایہ مہیا کر سکے۔ سرمائے کی ایسی نئی شکلیںایجاد کرنے کی کوشش جس میں ملکیت اور کنٹرول نجی ہاتھوں میں رہے۔ لیکن بالآخر وہ اپنی خواہشات کے بر عکس ان بینکوں کو قومیانے پر مجبور ہیں جو دھڑام سے گر رہے ہیں۔ یہ معیشت کے اہم شعبے کی نجی ملکیت کا خوفناک نتیجہ ہے۔ دیکھنے میں بالکل ایک حیران کن تضاد لگتا ہے کہ جس ملک میں منڈی کے جرائم اور سرمایہ کاروں کی لالچ کا واویلا کیا جا رہا ہے وہ ملک امریکہ ہے، یہ محض اتفاق نہیں۔ آزاد کمپنیوں کی سر زمین جہاں سرمایہ داری کی نفسیات کی عوام میں انتہائی گہری جڑیں ہیں ، یہ وہی وہ سر زمین ہے جہاںآج بڑے کاروباروں کے خلاف شدید ترین ر د عمل پایا جاتا ہے۔ یہ حقیقت سیاستدانوں کی تقریروں میں عیاں ہے ، خاص طور ہر صدارتی امیدواروں کی تقریروں میں۔ ریپبلکن پارٹی کاا میدوار ڈیموکریٹ امیدوار کے مقابلے میں زیادہ واویلا کر رہا ہے۔ یہ سب اس لئے ہے کیونکہ وہ الیکشن جیتنا چاہتاہے۔ جان میکین دیکھ رہا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیوں کے دفاتر میں ہونے والے فیصلوں اور ان بد عنوان قیاس آرائیوں کے خلاف ایک رد عمل پایا جاتا ہے۔ اور وہ وہی کچھ کہہ رہا ہے جو لوگ سننا چاہتے ہیں۔ کیا یہ انتہائی غلط بات نہیں تھی کہ بئیر سٹرنز جو اب دیوالیہ ہو چکی ہے ، غلط حکمت عملی پر چلتے ہوئے دولت کے وسیع ذخائر اکٹھے کر رہی تھی ، جس حکمت عملی کی وجہ سے وہ اب تباہ ہوئی ہے۔ اور اب امریکی ٹیکس گزار ان مالیاتی اداروں کے جرائم کی سزا کیوں بھگتیں اور ان کو بچانے کے لئے سات سو ارب ڈالر کیوں ادا کریں۔ گزشتہ سال تیس ستمبر دو زہزار سات تک فیڈرل گورنمنٹ کو تریپن ارب ڈالر کا مالیاتی خسارہ تھا جو فی کس ایک سو پچہتر ہزار ڈالر اور فی خاندان چار سو پچپن ہزار ڈالر بنتے ہیں۔ یہ بوجھ ہر سال فی شخص چھ اعشاریہ چھ سو ڈالر سے نو اعشاریہ نو سو ڈالر تک بڑھ جاتا ہے۔ صحت کی انشورنس کے ادار ے میڈی کئیر کا اس خسارے میں حصہ چوتیس ہزار ارب ڈالر ہے اور اگلے دس سال میں میڈی کئیر کے پاس پیسے ختم ہو جائیں گے۔ سوشل سکیورٹی پروگرا م میں بھی اگلے دس سال تک پیسے ختم ہو جائیں گے۔ جو بھی صدارتی انتخاب جیتے اور جو بھی کانگریس کو کنٹرول کرے اسے عام شہریوں کے معیار زندگی میں شدیدکمی کرنی پڑے گی۔ وہی سرمایہ دار جنہوں نے فیڈرل ریزرو اور حکومت سے اربوں ڈالر لئے ہیں وہی اب بجٹ میں اخراجات میں شدید کمی کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہ سرکاری اخراجات میں کمی اور صحت کے نظام میں اصلاحات کرنے کی بات کر رہے ہیں جس کا واضح مطلب صحت کے اخراجات میں کمی ہے۔ صحت پر خرچ کرنے کے لئے کوئی پیسے نہیں، نہ ہی تعلیم پریا بوڑھوں کی پنشن پر۔ لیکن ان موٹی بلیوںاور بڑے بینکوں کے لئے بہت پیسے ہیں۔ یہ واضح تضاد لاکھوں لوگوں کے شعور میں سرایت کر رہا ہے اوراس کے مستقبل میں شدید نتائج نکلیں گے۔ قرضوں کا بھاری بوجھ آنے والی نسلوں کے کندھوں پر ڈال دیا جائےگا۔ جنہیں معیار زندگی میں کمی اور دوسرے سماجی اخراجات میں کمی کی صورت میں ان قرضوں کی قیمت چکانی پڑے گی۔ اس سے ناگزیر طورپر شعور میں تیز ترین تبدیلیاں مرتب ہوں گی۔ امریکی عوام کو اس عمل سے تکلیف دہ اسباق حاصل ہوئے ہیں۔سکول جانے والے بچوں، بیماروں اور بوڑھوں کے لئے کوئی پیسے نہیں لیکن بات جب بڑے کاروباروں اور بینکوں کی آئے تو حکومت خالی چیک بک لے کر فوراً پہنچ جاتی ہے۔ غریبوں کے پاس بش انتظامیہ کے لیے ماسوائے حقارت کے کچھ نہیں۔ اس آزاد سر زمین پر ہر ایک کو امیر ہونے کا حق ہے!اگر لوگ خود غریب رہنا چاہیں تو یہ ان کی اپنی غلطی ہے!انہیں کچھ کوشش کرنی چاہئے یا پھر وہ خود ہی قبر میں جا کر مر جائیں۔ آزاد منڈی کے ریپبلکن پیامبروں کا یہی پیغام ہے۔ لیکن جب امیر ترین لوگوں کا مسئلہ آتا ہے تو جارج بش بہت نرم رویہ اختیار کرتا ہے۔کیونکہ یہ لکھا جا چکا ہے،”جس کے پاس پہلے سے ہے،اس کو اور بہت کچھ دیا جائے گا؛اور جس کے پاس کچھ نہیں ، تو جوکچھ اس کے پاس ہے وہ بھی چھین لیا جائے گا©“۔ ہم جانتے ہیں کہ جارج بش اچھی کتابوں پر ایمان رکھتا ہے۔لیکن ہمیں شک ہے کہ مالیاتی اداروں کو بچانے کی اس کی خواہش کا عیسائیت کے نظریہ خریات سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا تعلق خوف اور پریشانی سے ہے۔ امریکی حکمران طبقات کو اپنے پیروں تلے ایک بہت بڑی کھائی بنتی ہوئی نظر آئی اور انہوں نے اس عالمی بحران کو بچانے کے لئے جلد بازی میں بہت سے قدم اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک جنونی آزاد منڈی کا صدر ٹیکس گزاروں کے سات سو ارب ڈالر بینکوں کو دینے کے لئے بے تاب ہے۔ اس فیصلے کو ملکی اور عالمی منڈی میں خراج تحسین پیش کیا گیا۔ سات صنعتی ممالک کے ادارے جی سیون کے ممبران نے کہا کہ ”وہ امریکہ کے غیر معمولی اقدامات کو خوش آمدید کہتے ہیں“۔ لیکن دوسرے ممالک نے کہا کہ وہ فوری طور پر ان دیوالیہ اثاثوں پر رقم خرچ کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یورپ اور دوسرے ممالک کے سرمایہ دار بیٹھ کر امریکی سرمایہ داروں کے کرتب دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ اس تمام خرابی کی ذمہ داری بھی انہی پر ہے۔ یہی سوال امریکہ کے ہر گلی کوچے میں اٹھایا جا رہا ہے، اور کیپٹل حل میں بھی یہی سوال در پیش ہے۔ امریکی کانگریس کی شکل میں صدر کو فوری طور پر ایک مسئلے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کانگریس کے مرد اور خواتین بش کی طرح سرمایہ داری کو بچانا نہیں چاہتے یا ان کی سرمایہ دارانہ نظام کی وفاداری میں کوئی کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن وہ اپنی بقا سے زیادہ وفادار ہیں۔ وہ سرمایہ داری، منڈی،بینکاروں ، وال سٹریٹ اور دوسرے اداروں کے خلاف ایک شدید رد عمل محسوس کر رہے ہیں۔ اس مقصد کے لئے دی جانے والی خطیر رقم اس بات کا ثبوت ہے۔ بش کے اس منصوبے پر عملدرآمد کا مطلب ہے کہ ہر امریکی ٹیکس دینے والے شخص کی جیب سے نو ہزار چار سو ڈالر نکا ل کر ان لوگو ںکو دئے جائیں جنہوں نے یہ بحران پیدا کیا ہے۔ کانگریس کے اراکین اس حقیقت پر سوچ رہے ہیں اور انتخابات بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔ ڈیموکریٹ امریکی معیشت کو دوبارہ زندہ کرنے کے لئے اقدامات کی دوسری طرز کی بات کر رہے ہیں۔ وہ بنیادی سماجی ڈھانچے میںبہتری، گھروں کو گرم رکھنے کے لئے مدد اور دوسرے ٹیکسوں میں چھوٹ کی بات کر رہے ہیں جس سے صارف کا فائدہ ہو۔ لیکن انتظامیہ اور ری پبلکن مزاحمت کر رہے ہیں۔ بینکاروں کے لئے پیسے؟ ہاں کیوں نہیں۔عام امریکیوں کے لئے پیسے ؟ معذرت، تجوری خالی ہے۔ یہ وہ باتیں ہیں جو اب حقیقت بن کر عام لوگوں کو ڈس رہی ہیں۔ جیسا کہ خیال کیا جا سکتا ہے ، ڈیموکریٹ پارٹی کے صدارتی امیدوار بارک اوبامانے اپنی ایک تقریر میں مالیاتی کنٹرول(ریگولیشن) کو جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا جس میں اداروں کی مداخلت زیادہ ہو اور بینکوں اور ادھار کا کام کرنے والی کمپنیاں شامل نہ ہوں۔ اس نے کہا کہ،” ہم واشنگٹن کو بغیر کسی احتساب اور شرائط کے بلینک چیک نہیں دے سکتے جبکہ آج جو بحران ہے اس کی وجہ ہی احتساب کی کمی اور چیک ایند بیلنس کا نہ ہونا تھا“۔ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار کا رد عمل زیادہ حیران کن تھا کیونکہ وہ بھی اپنے مد مقابل سے پیچھے نہیں رہ سکتا،ظاہر ہے یہ الیکشن کا سال ہے اور الفاظ نہایت سستے ہوتے ہیں۔ جان میکین نے کہاکہ ”یہ منصوبہ مجھے بہت ہی بے چین کر رہا ہے۔ ہماری قوم کی تاریخ میں پہلے کبھی اتنی طاقت اور پیسہ ایک شخص میں مرتکز نہیں ہوا تھا۔ جب ہم ٹیکس گزاروں کے ایک کھرب ڈالر کی بات کرتے ہیں تو’ یقین جانیں‘ مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا“۔ میکین نے ڈیموکریٹ پارٹی کے اس مطالبے کی حمایت بھی کی کہ جن کمپنیوں کو بچایا جا رہا ہے ان کے مالکان کی آمدنی کی بالائی حد چار لاکھ ڈالر سالانہ مقرر کی جائے۔ یہ بش کی پالیسیوں کے بالکل الٹ ہے جس کا کہنا ہے کہ بالائی حد مقرر کئے جانے سے بینکوںکی حوصلہ شکنی ہو گی۔ سینٹ اور کانگریس میں موجود بزرگ ڈیموکریٹ یہ تجاویز دے رہے ہیں کہ زیادہ کڑی نگرانی کی جائے،جو کمپنیاں اس اسکیم میں شامل ہو رہی ہیں ان میں حکومت کے شئیرز زیادہ مقرر کئے جائیں،قرضے معاف کرنے کاا ختیار متعلقہ عدالتوں کو دیا جائے ا ور جو کمپنیاں اپنے اثاثے حکومت کو فروخت کر رہی ہیں ان کے مالکان کی تنخواہ کی بالائی حد مقرر کی جائے۔ وزیر خزانہ پالسن اس بات کی مخالفت کر رہا ہے کہ متاثرہ کمپنیوںکو پیسے دینے سے پہلے ان کے اثاثے خریدکر حکومت کو منتقل کرنے کی شرط رکھی جائے۔ اس کے خیال میں ایسا کرنے سے صرف وہی بینک آگے آئیں گے جو دیوالیہ پن کے قریب ہیں۔ ڈیموکریٹ اراکین کے اس اختلاف کی وجہ سے کہ دئیے جانے والے پیسے پر زیادہ کنٹرول ہونا چاہئے، امدادی کاروائی میں تاخیر کر دی ہے جس سے منڈی میں مزید گراوٹ آئی ہے۔ آخر جب منڈی نے درخواست کی ہے تو اس پر عملدرآمد ہونا چاہئے! صدر بش نے کانگریس کو کہا تھا کہ ” اس منصوبے کا مقصد صرف مالیاتی بحران کو فوری طور پر حل کرنا ہے“۔ لیکن جیسا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ کانگریس عوامی رائے کے دباو¿ میں ہے جس کی حدت میں تیز ی سے اضافہ ہو رہاہے۔ کانگریس کے اراکین کو بہت سی ای میل اور ٹیلی فون آر ہے ہیں جن میں ان کے حلقے کے لوگ امیرو ں کے لئے اس منصوبے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ وہ اس غم و غصے سے خوفزدہ ہیں اور اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ منصوبے پر دستخط کرنے سے ہچکچا رہے ہیں۔ کانگریس تمام مسئلے کی ذمہ داری انتظامیہ پر ڈال رہی ہے۔ صدر کانگریس کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے کہ وہ مالیاتی بحران سے نمٹنے کے منصوبے میں تاخیر کر رہی ہے۔،، بش نے ٹی وی پر قوم سے خطاب میں بالکل یہی الفاظ استعمال کئے تھے،، ۔ اجلاس کے دوران پارہ چڑھ جاتا ہے ۔ کانگریس کے اراکین ایک دوسرے پر چیختے ہیں اور لڑپڑتے ہیں۔ کیپٹل ہل میں اس سے پہلے ایسا کب ہوا تھا ، یاد نہیں! اور پہلے کب امریکہ اتنے بڑے مالیاتی بحران میں گھرا تھا! اورامریکی عوام پہلے کب اتنے باغی اور غصے میں کب آئے تھے!کانگریس کے اراکین کا یہ رویہ اس لئے ہے کیونکہ وہ اپنے پیروں کے نیچے آگ لگی دیکھ رہے ہیں۔ وہ اب جو بھی کریں گے غلط کریں گے۔ اگر وہ منصوبے پر دستخط کر دیتے ہیں تو وہ لاکھوں امریکیوں کی نفرت مول لیں گے۔ جب برطانوی ٹی وی پر ایک عورت سے انٹرویو کرتے ہوئے اسے اس منصوبے کے متعلق پوچھا گیا تو اس نے نہایت غصے سے کہا،”میں ابھی گیارہ گھنٹے کی ڈیوٹی کر کے آئی ہوں اور ہفتے میں ساٹھ گھنٹے کام کرتی ہوں۔ اب وہ میری تنخواہ میں سے دو ہزار تین سو ڈالر لے کر بینکاروں کو دینا چاہتے ہیں“۔ یہ امریکہ میں بسنے والے لاکھوں لوگوں کا عمومی رویہ ہے۔ لیکن اگر وہ دستخط کرنے سے انکار کرتے ہیں تو امریکی سٹاک مارکیٹوں میں اور تیز گراوٹ آئے گی جس کے باعث انیس سو اناتیس کی طرز کا بحران آنے کا خطرہ ہے۔ وہ موت کی دو انتہاوں کے درمیان پھنس چکے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بورژوازی کی مایوسی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سرمایہ دار طبقہ پاگل پن کی انتہاو¿ں میں ہچکولے کھا رہا ہے۔ انتہا درجے کی رجائیت اور اچھے مستقبل کے خیالات سے اب وہ مایوسی کی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ بحرِ اوقیانوس کے دونوں جانب جہاں پہلے غیر منطقی خوشی تھی اب وہاں مایوسی اورغم ہے۔ پہلے بھی ایسے ہی ہوتا رہا ہے بورژوازی پاگل پن کی انتہاو¿ں میں گھری رہتی ہے۔ ایک منٹ پہلے تک دعوت چل رہی ہوتی ہے اور دولت کے بڑے بڑے ذخائر بنائے جا رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے ہی لمحے سب ختم ہو جاتا ہے اور مایوسی چھا جاتی ہے۔ جب آخر کار بحران سر پر پہنچ جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ شراب نوشی کی رات کی محفل کے بعد صبح ہوئی ہے۔ رات تک تمام لوگ دنیا سے بے خبرجشن منا رہے تھے۔ لیکن صبح کی تیز روشنی میں ایک دوسری کہانی ہے۔ مرد و خواتین رات کے نشے کی وجہ سے سر درد محسوس کر رہے ہیں۔ وہ سچے دل سے وعدہ کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ کبھی شراب نہیں پئیں گے لیکن ایسا صرف اگلی دعوت تک ہوتا ہے۔ قیاس آرائیوں کاموجودہ بحران اس عمومی اصول سے مختلف نہیں ۔ صرف مایوسی کی انتہا بہت زیادہ ہے اور اسی کی وجہ وہ بے تحاشہ بلندی ہے جہاں وہ پہنچ چکے تھے۔ یہ تاریخ کا سب سے بڑا بلبلہ یا قیاس آرائیوں پر مبنی عروج تھا۔ یہ وال سٹریٹ کے اس سے پچھلے عروج کی نسبت بہت بڑا تھا۔ اتنے خراب حالات کے باوجود سرمایہ دار اپنے آپ کو تسلیاں دے رہے ہیں ہم ابھی بھی بچ گئے ہیں کیونکہ اس سے برا وقت بھی آسکتا تھا۔ فنانشل ٹائمز کچھ عرصہ پہلے لکھا ہے، ” گریٹ کریش کا آغاز اسی سال پہلے ہوا تھالیکن اب ہم کسی اور صدی میں رہ رہے ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ یہ موجودہ صدی کا بد ترین بحران ہے یا نہیں لیکن بہترین بات یہ ہے کہ انیس سو تیس سے لے کر اب تک کوئی برا سانحہ نہیں ہوا‘۔ یہ بات دو حوالوں سے دلچسپ ہے۔ جو لوگ عرصہ دراز سے یہ بات کرتے آرہے ہیں کہ گریٹ کریش جیسا واقعہ اب دوبارہ نہیں ہو سکتا اور ایسا کوئی امکان نہیں، آنکھ جھپکے بنانہ صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ ایسا ممکن ہے بلکہ یہ بہت اچھا ہوا کہ اب تک ایسا نہیں ہوا۔ ڈومینیک سٹراس کاہن لکھتا ہے، ”دیکھنا یہ ہے کہ کم از کم ابھی تک وسیع تر معیشت میں کیا نہیں ہوا۔- ایک بہت بڑے زوال کا آغازشاید زوال نہ ہونے کے باعث بہت سے لوگ ہاو¿سنگ کے بلبلے کے پھٹنے کی درستگی امریکہ میں قرضوں کی عدم ادائیگی کو بد قسمتی اور بڑے مالیاتی اداروں کے خاتمے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ “ بحران کے دوران قیمتوں کی گراوٹ دراصل اس پہلے افراط زر میں ان قیمتوں کے اضافے کو متوازن کرتی ہے۔ اس لحاظ سے اسے ”درستگی“ کہا جا سکتا ہے۔ لیکن ہم اس سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ بورژوا معیشت دان زوال کی اصطلاح کو تبدیل کرلیتے ہیں تا کہ یہ کم سنجیدہ لگے۔ پہلے وہ لفظ ،،بے چینی ،، استعمال کرتے تھے۔، پھر زوال،گراوٹ، سست روی اور اب درستگی۔ جب ہم منڈی کی اپنے آپ کو ٹھیک کرنے کی حیرت انگیز قوت کو مانتے ہیں، جو جادو کے ذریعے بغیر کسی انسانی مداخلت کے خود ہی ایسا کرتی ہے تو ہم منڈی کی اپنے آپ کو”درست“ کرنے کی کوشش پر کیوں اعتراض کریں گے؟ اس موضوع پر ہم نے عالمی تناظر دو ہزار آٹھ میں لکھا تھا، ”ایک زلزلے کو بھی ضروری ’درستگی‘ کے طور پر پیش کیا جاسکتاہے، جو زمین کی تہہ کو ایڈجسٹ کرتا ہے۔ آخر کار سب کچھ ٹھیک ہو جاتا ہے اور زندگی دوبارہ معمول پر آجاتی ہے۔ لیکن یہ تجربہ اپنے پیچھے نقصان کے تکلیف دہ نشان چھوڑجاتا ہے، بہت سے دیہات صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں،درخت اکھڑ جاتے ہیں،فصلیں تباہ ہو جاتی ہیںاور ہزاروں لوگ مارے جاتے ہیں اور زخمی ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ زلزلے کے بعد نارمل زندگی اتنی آسانی سے شروع نہیں ہوتی۔ کچھ زلزلے تو اتنے تباہ کن ہوتے ہیں اور اپنے پیچھے اتنی بربادی چھوڑ جاتے ہیں کہ ان کے اثرات کئی سالوں تک محسوس ہوتے رہتے ہیں“۔ مندرجہ بالا سطور ’درستگی‘کے نتائج کی درست وضاحت کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مالیاتی سرمائے کی آمریت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا عہد اجارہ دارانہ سرمایہ داری کا عہد ہے۔ اس کا ایک پہلو مالیاتی سرمائے کا مکمل غلبہ ہے۔ برطانیہ جو پہلے دنیا کی ورکشاپ تھی اب ایک طفیلیہ معیشت میں تبدیل ہو چکا ہے، جو بہت کم پیدا کرتی ہے اور وہاںزیادہ غلبہ مالیاتی سرمائے اور سروسز،،خدمات،، کے شعبے کا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسے مثبت انداز میں دیکھا جا رہا تھا اور کہا جا رہاتھا کہ اس طرح ہم عالمی معیشت میں ہونے والی تبدیلیوں سے محفوظ رہ