مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کے طبل بج رہے ہیں۔ امریکی سامراج بحر روم میں شام کے قریب اپنا بحری بیڑہ لنگر انداز کئے ہوئے ہے اور اس برباد ملک پر بارود کی برسات کرنے پر تلا ہوا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے سوموار کو پریس کانفرنس میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا الزام بشارالاسد کی حکومت پر عائد کیا ہے۔ دوسری جانب شام کی حکومت نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ اور رجعتی عرب بادشاہتوں کے پروردہ مذہبی جنونیوں کو اس کیمیائی حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق ابھی تک حتمی طور پر مجرم کا تعین نہیں کیا جاسکتا اور تفتیش کے لئے مزید وقت درکار ہے۔ روس، جوکہ اس تنازعے کا اہم فریق ہے، کی وزارت خارجہ نے بیان جاری کیا ہے کہ کیمیائی حملہ شامی باغیوں نے کیا ہے اور اس کا مقصد شام پر براہ راست امریکی جارحیت کا جواز تراشنا تھا، اس بیان کے مطابق بہت سی ویب سائیٹس پر حملے سے قبل ہی یہ خبریں چلنا شروع ہو چکی تھیں کہ شامی فوج نے معصوم شہریوں پر کیمیائی ہتھیار استعمال کئے ہیں۔ غرضیکہ فریقین ایک دوسرے پر مسلسل الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

’’اس میزائل گردی سے انفراسٹرکچر، توانائی اور پانی کی فراہمی کے ذرائع کی جو تباہی ہوگی اس کاخمیازہ کون بھگتے گا؟ وہ بچے، بوڑھے اور عورتیں ہی سب سے زیادہ اس جارحیت کی زد میں آئیں گے جن کا رونا رو کر امریکہ سامراجی جارحیت کرنے کی طرف جارہا ہے‘‘

شام میں 30 ماہ سے جاری بھیانک خانہ جنگی میں ایک لاکھ سے زائد افراد ہلاک جبکہ کئی لاکھ زخمی، اپاہج اور بے گھر ہوچکے ہیں۔ دو دن پہلے دارلحکومت دمشق کے قریب باغیوں اور سرکاری فوج کے درمیان ایک تصادم کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متاثرین کے درد ناک مناظر سامنے آئے ہیں۔ دونوں اطراف اس حملے کا الزام ایک دوسرے پر عائد کررہی ہیں۔ اس واقعے کے بعد امریکی ریاست کے کچھ دھڑوں کی جانب سے صدر اوباما پر تنازعے میں براہ راست فوجی مداخلت کے لئے دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔ امریکہ کی قدامت پرست ریپبلکن پارٹی کے ایک لیڈر جان مکین نے اوباما حکومت پر دباؤ ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر اس معاملے کو دبا دیا گیا تو دنیا بھر کے ظالم آمروں کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی چھوٹ مل جائے گی۔‘‘ ڈیموکریٹک پارٹی کے خارجہ امور کی کمیٹی میں نمائندے ایلیٹ اینگل نے کہا ہے کہ ’’اگر ہم اپنے اتحادیوں سے مل کر اسد کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے قاتلانہ استعمال کے خلاف رد عمل نہیں کریں گے تو جارح ممالک اس کو سبز بتی سمجھیں گے۔‘‘ امریکہ کے ایک روشن خیال مفکر گور وائیڈل نے امریکی سیاست کے بارے میں کہا تھا کہ ’’امریکہ میں ایک سرمایہ دارانہ پارٹی ہے جس کے دو دائیں بازو کے دھڑے (ریپبلکن اور ڈیموکریٹ) ہیں۔‘‘

7 اور 8 جولائی2013ء کوکشمیر کے شہر راولاکوٹ میں نیشنل مارکسی سکول (گرما) کا انعقاد کیا گیا جس میں پورے پاکستان سے 270 سے زائدکامریڈز نے شرکت کی۔ دو روز تک جاری رہنے والا یہ سکول مجموعی طور پر چارسیشن پر مشتمل تھا۔ سکول سے ایک دن پہلے راولاکوٹ میں ایک یوتھ کانفرنس کا انعقاد بھی کیا گیا تھا۔

مورخہ 6 جولائی کوجموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیر اہتمام منعقدہ ’’سوشلسٹ کشمیر کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ سائنسی سوشلزم تاریخ کا واحد سچ ہے جو انسانیت کے بہتر اور محفوظ مستقبل کی نوید ثابت ہو سکتا ہے۔ سوشلزم کشمیر سمیت تمام محکوم قومیتوں کے قومی اور طبقاتی استحصال کے خاتمے کا ضامن نظریہ ہے جس پر کاربند ہوتے ہوئے اس خطہ سے سرمایہ داری کا خاتمہ کر کے ایک غیر طبقاتی اور استحصال سے پاک سماج کا قیام عمل میں لایا جا سکتا ہے۔ قومی جمہوری انقلاب اور سرمایہ دارانہ بنیادوں پر قومی علیحدگی کے نظریات تاریخ کی کسوٹی پر متروک ہو چکے ہیں، سرمایہ دارانہ نظام عالمی طور پر متروک ہو کر پوری دنیا میں انسانیت کو بربریت میں دھکیل رہا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری، توانائی کا بحران، غربت، لاعلاجی، جہالت اور فرسودگی دنیا کی بڑی اکثریت کا مقدر بن چکی ہے جبکہ ایک فیصد حکمران طبقات پوری دنیا کی دولت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں، ایسے حالات میں سرمایہ داری نظام کو اکھاڑے بنا کسی بھی محکوم قومیت کے قومی اور طبقاتی استحصال کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ 

جاہ و جلال سے بھرپور نواز شریف کی حلف برداری کی تقریب اورنئی جمہوری حکومت کے قیام کو حکمرانوں کے ذرائع ابلاغ نے عوام کے شعور پر مسلط کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔ ایک جمہوری حکومت سے دوسری جمہوری حکومت تک اقتدار کی منتقلی کو بہت بڑا کارنامہ قرار دیا جارہا ہے لیکن یوں محسوس ہوتا ہے کہ حلف برداری کے بعد نواز شریف کی الیکشن مہم میں کئے گئے ’انقلاب‘ کے وعدے سبز باغ بن کے رہ گئے ہیں۔ حکومت کی یہ جمہوری تبدیلی، اس نظام کی ظلمتوں سے بدحال پاکستان کے کروڑں محنت کش عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں لائے گی۔ یہاں جمہوریت دولت کی لونڈی ہے۔ حالیہ انتخابات میں انتخابی مہم پر اخراجات کی بہت سی حدین مقرر کی گئیں لیکن سب جانتے ہیں یہ پاکستان کی تاریخ کے مہنگے ترین انتخابات تھے۔ یہاں کے محنت کشوں کو صرف ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ ووٹ لینے کا حق ان مٹھی بھر لوگوں کے پاس ہی ہے جو سیاست کے کاروبار میں کروڑوں روپے کی سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔

مصر ی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی مظاہرے تادم تحریر جاری ہیں۔ مصری وزارتِ داخلہ کی اپنی رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ لوگ پورے ملک میں سڑکوں پر موجود ہیں۔ بعض عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ’’تاریخ کے سب سے بڑے سیاسی مظاہرے‘‘ ہیں اور مظاہرین کی تعداد تین کروڑ تک بتائی جارہی ہے۔ یہ تحریک 2011ء سے کئی گنا بڑی ہے۔ مظاہرین نے قاہرہ میں واقع اخوان امسلمون کے مرکزی دفتر کو نذر آتش کر دیا ہے۔ پورے مصر میں اخوان المسلمون کا شائد ہی کوئی دفترایسا ہو جسے عوام نے اپنے قہر کا نشانہ نہ بنایا ہو۔ ریاست ہوا میں معلق ہے۔ مصری حکام کے مطابق اب تک پانچ وزراء محمد مورسی کی کابینہ سے استعفیٰ دے چکے ہیں۔ فوج نے مورسی حکومت کو مظاہرین کے مطالبات پورے کرنے کے لئے 48 گھنٹے کہ مہلت دی ہے۔ تشدد کے مختلف واقعات میں اب تک 16 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ مظاہرین کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور قوی امکان ہے کہ آنے والے دنوں میں تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔

22 جون کو کشمیر ریجن کی سالانہ ریجنل کانگریس کا انعقاد راولاکوٹ میں کیا گیا۔ عمومی طور پر کشمیر میں ترقی پسند سیاست میں ایک گراوٹ اور زوال کے ماحول کے باوجود IMT کے کشمیر ریجن کی کانگریس اپنی کامیابی کا ثبوت خود ہے۔487 کامریڈز نے کشمیر کے تمام اضلاع سے بھرپور انقلابی جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کی۔

قطر میں طالبان کے دفتر کے ’’افتتاح‘‘ اور مذاکرات کے امکانات کے بارے میں گرما گرم خبریں میڈیا پر گردش کر رہی ہیں۔ قطر کے رجعتی حکمرانوں نے جو محل نما دفتر طالبا ن کو دیا ہے اس سے سعودی اور خلیجی بادشاہتوں کی طرف سے طالبان کے کچھ گروہوں کی پشت پناہی اور اس خطے میں اپنی اجارہ داری داری قائم رکھنے کی پالیسی پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ طالبان نے اپنا پرچم لہرا کر اس دفتر کو ’’اسلامی امارات‘‘ کے مرکز کا درجہ دیا ہے جس پر حامد کرزئی بہت برہم ہے۔ اس نے القاعدہ سے ناطے توڑنے اور موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کرنے کی قبل از مذاکرات شرائط کو رد کر کے امریکی وزیرخارجہ جان کیری کو یہ بیان دینے پر مجبور کیا ہے کہ ’’مذاکرات اپنے آغاز سے پہلے ہی ناکام ہوسکتے ہیں۔‘‘ امریکی کٹھ پتلی حکومت کے صدر حامد کرزئی کا اپنے آقاؤں سے ایسا ترش رویہ امریکہ سامراج کے زوال کو عیاں کردیا ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں میں شکست اور بڑھتے ہوئے داخلی تضادات کے بعد تاریخ کی سب سے بڑی فوجی، تکنیکی اور اقتصادی سلطنت کی کمزوری اور لاچارگی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ لیون ٹراٹسکی کا آج سے اسی سال قبل امریکی سامراج کے بارے کیا گیا تجزیہ کہ ’’امریکی سامراج وہ دیو ہے جس کے پاؤں مٹی سے بنے ہوئے ہیں‘‘ آج درست ثابت ہورہا ہے۔

2008ء میں سرمایہ دارانہ نظام کی تاریخ کے سب سے بڑے معاشی کریش کے بعد یورپ، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی معیشتیں بحالی کی بجائے مزید اقتصادی و مالیاتی بحرانوں میں ڈوبتی چلی جارہی ہیں۔ عالمی سرمایہ داری کے ماہرین کا خیال تھا کہ ’’ابھرتی‘‘ ہوئی معیشتیں (جن میں برازیل، روس، ہندوستان، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں )سرمائے کے ڈوبتے ہوئے سفینے کو سہارا دیں گی اور سرمایہ داری کو اس عالمی بحران سے نکالنے میں کردار ادا کریں گی، لیکن پچھلے پانچ سالوں میں حکمرانوں کی یہ امیدیں اور خواب چکنا چور ہوچکے ہیں۔ چین کی شرح نمو 11 فیصد سے کم ہو کر 7.2 فیصد، ہندوستان کی 10 فیصد سے 5.5 فیصد جبکہ برازیل کی شرح نمو 7فیصد سے گر کر 0.9 فیصد تک آگئی ہے۔ یہ تمام تر ممالک جہاں سرمایہ دارانہ نظام کی تشکیل اور استواری مکمل نہیں ہوئی ہے، اس تنزلی سے سماجی انتشار کا شکار ہو چکے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں عمران خان کی سونامی ’آنے اور چھا جانے‘ میں ناکام ہو گئی ہے۔ انتخابات کے نتائج آنے کے ساتھ تحریکِ انصاف کے حامیوں کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ مالیاتی سرمائے کے جبر اور پیپلز پارٹی کی موجودہ موقع پرست قیادت کی غداری کے باعث نظریاتی سیاست کے پسِ منظر میں چلے جانے کے عہد میں رائج الوقت نظام کو چیلنج کرنے والی ایک نئی سیاسی تنظیم کے لیے ایک بے کراں خلا موجود تھا۔

’’یہ سوال کہ آیا انسانی غور و فکر بجائے خود حقیقی وجود رکھتا ہے یا نہیں، کسی طرح بھی نظریاتی سوال نہیں، یہ عملی سوال ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ عمل میں اپنے غورو فکر کی صداقت ثابت کر کے دکھائے، یعنی اس کی اصلیت اور اس کی طاقت کو، اور ادھر والے رخ کو ثابت کرے۔ غور وفکر کے حقیقی وجود ہونے یا نہ ہونے کی بحث، جب اسے عمل سے بیگانہ کرکے زیر غور لایا جائے، محض عمل، خیالی بحث ہو کر رہ جاتا ہے۔ ‘‘ (مارکس، فیورباخ پر دوسرا تھیسس)