پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

بعد كل تلك الضجة الكبيرة والدعاية والمناورات الصاخبة داخل أروقة الأمم المتحدة، ها هو ما يسمى بوقف إطلاق النار في سوريا قد فشل فجأة وبشكل مخجل ولا رجعة فيه. لقد كان في الواقع مجهضا، مات حتى قبل ولادته.

اگرچہ، دسمبر کے آخر اور جنوری میں ایران کو ہلا دینے والی تحریک بیٹھ چکی ہے اور کچھ بھی حل نہیں ہوا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ یہ تحریک دہائیوں سے پنپتے غم و غصہ اور بے چینی کا اظہار تھی۔

خواتین کے اس عالمی دن کے موقع پر ہم اپنے قارئین کے لئے عظیم انقلابی رہنما روزا لکسمبرگ کی تقریر کا اردو ترجمہ شائع کر رہے ہیں جو کہ روزا لکسمبرگ نے 1912ء میں جرمنی میں خواتین کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئی کی۔ اس تقریر میں روزا یہ بیان کرتی ہے کہ خواتین کے یکساں سیاسی حقوق کے حصول کیلئے عوامی تحریک، محنت کش طبقے کی آزادی کی عمومی لڑائی کے اظہار کے سوا کچھ بھی نہیں، اسی میں اس کی طاقت اور مستقبل پوشیدہ ہے۔

بالإضافة إلى المجموعات التي سبق ذكرها، كان هناك تيار آخر حاضر في كونفرانس براغ، وإن بصفة "غير رسمية". كانت الشرطة السرية القيصرية، الأوخرانا، قد نجحت في وضع مخبريها في أعلى مستويات المسؤولية داخل الحزب، وكان بعضهم، وبالضبط اثنين منهم، حاضرين خلال المؤتمر البلشفي التأسيسي، بدون علم بقية المندوبين. لم يكن مندوب موسكو سوى العميل المخبر السيئ السمعة: رومان مالينوفسكي، العضو في فريق الدوما البلشفي، والذي رافقه في هذه المناسبة عميل آخر هو أ. رومانوف، مندوب المنطقة الصناعية المركزية. كانت كل خطابات وقرارات الكونفرانس معروفة للشرطة بسبب تقاريرهما المفصلة. وفي محاولة لحماية أعضاء اللجنة المركزية الجديدة من خطر الاعتقال، تم استخدام أساليب سرية خاصة للحماية من الشرطة. فقد كتب كل مندوب لقب من يرشحهم لعضوية اللجنة ثم سلم الورقة إلى لينين. حتى النتيجة لم تعلن خلال الكونفرانس. لكن رومان مالينوفسكي، الذي كان مخبرا ذو مهارات عالية، كان قد قام بعمل فعال جدا لكسب ثقة لينين. نجح مالينوفسكي ليس فقط في الحصول على أسماء أعضاء اللجنة المركزية، بل وتمكن أيضا من الحصول على أسماء فريق الدوما. كان هناك مخبرون داخل جميع أجهزة الحزب في روسيا. وتعرض الحزب لسلسلة من غارات الشرطة في بيترسبورغ في فبراير ومارس 1912. وفي رسالة مؤرخة بـ 28 مارس، كتب لينين بقلق أن "أوضاعنا سيئة هناك".

رجائیت اور امید کی ایک لہر پچھلے بدھ سے جنوبی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، جب سے جیکب زوما صدارت کے عہدے سے مستعفی ہوا ہے۔ زوما کی صدارت کا 9 سالہ بدعنوانی سے عبارت دور بالآخر ختم ہونے پر سب نے سکون کا سانس لیا۔ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ’’صبحِ نو‘‘ طلوع ہونے کی نوید سنا رہے ہیں۔ لیکن مارکس وادیوں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ جنوبی افریقہ کو درپیش بحران کا تعلق کسی ایک شخص، پارٹی یا حکمران طبقے کے کسی ایک ٹولے سے نہیں ہے۔ سیاسی بحران مجموعی طور پر سرمایہ داری کے بحران کا محض ایک اظہار ہے۔ اور جب تک یہ نظام باقی ہے، صرف چہرے تبدیل کرنے سے کسی قسم کی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔

(یہ مضمون، venezuelanalysis.com پر شائع ہوا تھا جس میں رکارڈو واز نے وینزویلا کی صورتحال کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ عالمی سامراجی یلغار سے بچنے کے لیے وینزویلا کی عوام کو یہ لڑائی اپنی قومی گماشتہ بورژوازی کے خلاف لڑنی ہوگی۔)

پیپسی کولا فیکٹری فیصل آباد کے محنت کش گذشتہ روز 29 جنوری کو اس وقت ہڑتال پر چلے گئے جب ان کے 3 ساتھی محنت کشوں کو انتظامیہ کی جانب سے بغیر کوئی وجہ بتائے، بغیر کسی پیشگی نوٹس کے نوکری سے برخاست کردیا۔ اصل میں یہ تینوں محنت کش تنخواہوں اور دیہاڑی میں اضافہ کیلئے سرگرم تھے، جو ایک طرف محنت کشوں کو تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کرنے کی اپیل کرتے تھے تو دوسری جانب انتظامیہ کے سامنے اس مطالبہ کو رکھتے تھے۔ اس نام نہاد ملٹی نیشنل کمپنی کے مزدوروں کو نہ تو مستقل روزگار کی سہولت موجود ہے نہ دوسری مراعات۔ چند ماہ قبل اسی فیکٹری کی انتظامیہ نے کئی سالوں سے کام کرتے آرہے مزدوروں کو حیلے بہانوں سے مکالنا شروع کردیا جس کے خلاف محنت کشوں میں شدید غم وغصہ موجود تھا۔ کئی ملازمین جو کہ مستقل ہونے والے تھے ان کو نکال باہر کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کا استقبال اپنے ہی نرالے انداز میں کیا: فلوریڈا میں امرا کی تسکین کے لئے اپنے پر تعیش تفریحی ’مار آ لاگو‘ کلب میں اپنے سیاسی اور سماجی حواریوں کے ساتھ جس میں امریکی سماج کی اشرافیہ کے تمام نمائندگان، فلمی ستاروں سے لے کر ارب پتیوں تک، موجود تھے۔

قریباً سات سال قبل 2011ء میں بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پچھلے چند دنوں سے تیونس کے نوجوانوں نے ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرتبہ، آئی ایم ایف کے ایما پر مسلط ہونے والے مجوزہ بجٹ کیخلاف پورے ملک میں احتجاج لہر دوڑگئی ہے۔ درجنوں سرگرم احتجاجیوں کو گرفتار اور ایک احتجاجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ’’Fech Nastannou؟‘‘ (ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟) تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک آمر کا تخت الٹنے کے باوجود غربت، بیروزگاری اور مستقبل سے مایوسی کے مسائل حل نہیں ہو سکے جن کی وجہ سے 2011ء کی دیوہیکل تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

Upcoming Events
No events found