>جمعرات کے روز ٹرمپ کے کینیڈا، جاپان، میکسیکو اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدے کی ڈیڈ لائن گزر گئی۔ کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کا مطلب یہ ہے کہ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم پر جن محصولات کی دھمکی دی تھی وہ لاگو ہو گئے ہیں۔ اس اقدام کے ساتھ ٹرمپ نے عالمگیریت کی نفی کا آغاز کر دیا ہے۔ ہفتے کے دن ہونے والی G7 کی میٹنگ میں باقی 6 ملکوں کے وزرائے خزانہ امریکہ کے خلاف متحد ہو گئے اور امریکہ کے فیصلے پر اپنی ’’مشترکہ تشویش اور مایوسی‘‘ کا اظہار کیا۔

تامل ناڈو انڈیا میں درجنوں پر امن مظاہرین کو ریاستی اداروں نے اس وقت موت کے گھاٹ اتار دیا جب وہ ایک ایسی فیکٹری کی بندش کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے جو ماحول کی خرابی اور مقامی لوگوں کی اموات کا باعث بن رہی تھی۔ لوئی تھامس تامل ناڈو سے رپورٹ کرتے ہیں۔

یہ مضمون اپریل 1939ء میں لکھا گیا، یہ ٹراٹسکی کے قتل سے قبل انقلابی مارکسزم کی سچائی کے متعلق اس کی آخری تحریروں میں سے ایک ہے۔ یہ مضمون 1939ء میںOtto Ruhleکی جانب سے کی جانے والی مارکس کی سرمایہ کی تلخیص کے تعارف کے طور پر لکھا گیا تھا۔ اسے ایک پمفلٹ کے طور پر بھی شائع کیا گیا تھا۔ یہ پمفلٹ انٹرنیٹ پر سب سے پہلے ’’مارکسزم کے دفاع میں(marxist.com)‘‘ ویب سائٹ پر شائع ہواتھا۔

سرمایہ دارانہ نظام کے سنجیدہ نمائندے اس خدشے کو لے کر سخت خوفزدہ ہیں ہیں کہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری یہ تجارتی تنازعہ کہیں کھلی معاشی جنگ میں نہ تبدیل ہو جائے۔ فنانشل ٹائمز کے ایک حالیہ اداریے میں ایسوسی ایٹ ایڈیٹر مارٹن وولف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چین کے ساتھ 337 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کو کم کرنے کی غرض سے چینی مصنوعات پر (آنے والے دو سالوں میں) 200 ارب ڈالر کے ٹیرف لاگو کرنے کے منصوبے کو انتہائی غیر ذمہ داری پر مبنی پاگل پن قرار دیا۔ مگر ٹرمپ کے پاگل پن میں ہی اس کا طریقہ واردات چھپا ہے۔ وہ غالباً ڈرا دھمکا کر بدمعاشی سے ڈیل کرنے کے فن کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ بہر طور ٹرمپ کا اشتعال انگیز رویہ پہلے سے ہی زبوں حال عالمی معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے جا رہا ہے۔

پیر کے دن ایک طرف یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کے افتتاح کا تماشا چل رہا تھا جبکہ اسی وقت دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی سنائپرز نے 59 فلسطینی مظاہرین کو قتل اور 2700 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے بدترین مظالم کے باوجود، غزہ کے فلسطینیوں کی 1948ء کے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق اور 12 سال سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف عوامی تحریک ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اپنی جھوٹ، غلط بیانی اور منافقت سے بھرپور تقریر میں اس نے اعلان کیا کہ اس کی حکومت پھر سے ایران پر ’’بد ترین معاشی پابندیاں‘‘ لاگو کرے گی۔

سال 2018ء کا یوم مئی ایک ایسے عہد میں منایا جائے گا جب سرمایہ داری کی تاریخ کا سب سے گہرا اور بد ترین بحران دسویں سال میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں پورے کرۂ ارض پر تلاطم خیز تبد یلیاں رونما ہوئی ہیں۔ انقلابات اور رد انقلابات،جنگیں اور خانہ جنگیاں،پرانی سامراجی طاقتوں کا زوال اور نئی سامراجی قوتوں کا ابھار،کئی ریاستوں کا انہدام اور تیزی سے بدلتے ہوئے عالمی تعلقات،شدید معاشی بحران اور بے نظیر طبقاتی تفاوت،بے تحاشہ زائد پیداواری صلاحیت اور بے تحاشہ غربت وقلت،صنعتی آٹومیشن میں بے مثال بڑھوتری اور خوفناک بیروز گاری،ایک طرف محنت کشوں کی عام ہڑتالیں تو دوسری طرف داعش جیسی انسانیت سوز رجعتی تنظیموں کا ابھار،بڑھتا ہوا سامراجی جبر اور محکوم قومیتوں کی تیز ہوتی جدوجہد،سماجوں کی بڑھتی ہوئی پولرائزیشن اور ریڈکلائزیشن،ماضی کی سیاسی روایتوں کا انہدام اور دائیں اور بائیں بازو کی نئی سیاسی قوتوں کا جنم،گزشتہ نسل کی حالات سے مایوسی اور نئی نسل کی سیاسی بیداری،اور انہی سب طوفانی واقعات سے لازمی نتائج اخذ کرتے ہوئے عالمی سطح پر آگے بڑھتا طبقاتی شعور۔

پاکستان میں ایک نئی سیاست کا جنم ہو چکا ہے جبکہ پرانی سیاست بستر مرگ پر دم توڑرہی ہے۔ایک طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں صرف جھوٹ کا ہی بول بالا تھا۔ ٹی وی کے مذاکروں سے لے کر اخباروں کے کالموں تک، لیڈروں کی تقریروں سے لے کر بینروں اور پوسٹروں تک ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ تھا۔ہر لیڈر اور سیاسی پارٹی جلسوں اور جلوسوں میں ترقی اور خوشحالی لانے کے دعوے کرتی تھی لیکن عملی طور پر ان کی تمام تر سیاست مفاد پرستی، ٹھیکوں، رشوت خوری، کرپشن، بد عنوانی، فراڈ اور زیادہ سے زیادہ لوٹ مار پر مبنی تھی۔خواہ مذہب کے نام پر سیاست کی تجارت کرنے والی پارٹیاں ہوں یا قوم پرستی کے نام پر کاروبار چمکانے والی پارٹیاں،اسٹیبلشمنٹ کے وفادار اور پالتو سیاستدان ہوں یا مزدوروں کے نام پر ووٹ کھانے والی پارٹیاں ہر طرف ایک ہی اصول تھا کہ سیاست سب سے منافع بخش کاروبار ہے اور جو اس سے مفاد حاصل نہیں کرتا وہ بیوقوف ہے۔تمام سیاسی کارکنوں کو بھی یہی تربیت دی جا تی تھی اور انہیں بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے لیڈروں کے تلوے چاٹنے کی مشقیں کروائی جاتی تھیں۔ پارٹیوں کے لیڈر اپنے سے بڑے لیڈر یا پھر کسی جرنیل ، جج یا بیوروکریٹ کے سامنے یہی مشقیں دہراتے تھے جبکہ پاکستانی ریاست پر براجمان یہ حکمران سامراجی آقاؤں کے تلوے چاٹ کر اسی سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے۔

1883ء میں جب لندن میں کارل مارکس کی وفات ہوئی تو اسے لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں اس کی بیوی کے ساتھ دفن کیا گیا جو دو سال قبل وفات پا گئی تھی۔ اس موقع پر مارکس کے چند قریبی ساتھی موجود تھے جن میں اس کا دیرینہ دوست، نظریاتی ساتھی اور انقلابی دوست فریڈرک اینگلزبھی تھا۔ اس موقع پراپنے مختصر مگر جامع تاریخی خطاب کا اختتام اینگلز نے ان الفاظ پر کیا تھا، ’’اس کا نام اور کام صدیوں تک زندہ رہے گا۔‘‘

سولر پینلز، واشنگ مشینوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر بھاری محصولات لگانے کے بعد ٹرمپ اب چین سے جھگڑا مول لینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس کی نئی تجاویز کے نتیجے میں60 ارب ڈالر کی چینی برآمدات متاثر ہوں گی جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

6مارچ 2018ء کو پورے مہاراشٹر سے 35ہزار کسانوں نے ممبئی کی طرف زمینوں کے مالکانہ حقوق، قرضوں کی معافی، پیدا کردہ اجناس کی مناسب قیمت، آدی واسیوں کی عزت و تکریم اور زراعت کے شعبے میں بہتری(ہندوستان کی آدھی مزدور قوت اور معیشت کا 14 فیصد) کے مطالبات کے ساتھ مارچ کیا۔

اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کرنے میں مصروف تھا، کسی نے کردوں کی خلاف اس وحشیانہ کارروائی پر کوئی توجہ نہیں دی جنہوں نے ترکی پر کبھی حملہ نہیں کیا۔

Upcoming Events
No events found