تیس نومبر کو سرکاری شعبے کے بیس لاکھ سے زیادہ محنت کشوں نے ہڑتال کی۔فی الواقعہ یہ سرکاری شعبے کی عام ہڑتال تھی۔ہڑتال میں شریک محنت کشوں کی تعداد 1979ء کے ’’بے چین موسم سرما‘‘ اور حتیٰ کہ 1926ء کی عام ہڑتال سے زیادہ تھی۔ یہاں تک کہ بڑے تاجروں کے اخبار فنانشل ٹائمز نے بھی حیران کن طور پراس ہڑتال کو ’’بلا شبہ تاریخی‘‘ قرار دیا۔

نیشنل یوتھ مارکسی سکول کا انعقاد، 2 تا 4 دسمبر، ایسے حالات میں ہوا جب خصوصا محنت کش طبقہ او ر نوجوان عالمی طور پر میدان عمل میں اترتے چلے آرہے ہیں۔وہ معاشی بحران کے پیش نظر عوام پر کیے جانے والے حملوں کا نا صرف جواب دے رہے ہیں بلکہ اس بحران کے رد عمل میں جنم والی تحریکوں کا تجربہ ہر گزرتے لمحے نسل انسانی کے شعور پر یہ بات واضح کر رہا ہے کہ اب معاملات اس سرمایہ دارانہ نظام میں بہتری کی طرف نہیں جا سکتے اوراس نظام کے متبادل کی جستجو اور تڑپ بھی ساتھ ساتھ بڑھتی چلی جا رہی ہے۔آج اس کرۂ ارض کا انسان مارکس کی لکھتوں میں ایک بار پھر اپنے عذابوں کی نجات تلاش کر نے کی سوچ رہاہے۔خود عالمی حکمران طبقے کا ایک حصہ بڑی احتیاط کے ساتھ یہ تسلیم کرنے پر مجبورر ہو رہا ہے کہ’’ مارکس سرمایہ داری کے بارے میں ٹھیک کہہ گیا تھا!!!

کہا جاتا ہے کہ تاریخ خود کو دہراتی ہے، لیکن در حقیقت ایسا کبھی بھی یکساں انداز میں نہیں ہوتا بلکہ تاریخ خود کو ایک بلند تر پیمانے پر دہراتی ہے۔ کسی بھی سماج میں عوام کا عمومی شعور نہ تو جامد ہوتا ہے اور نہ ہی سدا ایک سا رہتا ہے۔ یہ مسلسل تبدیلی، بہاؤ اور حرکت کی کیفیت میں رہتا ہے۔ غداریاں اور شکستیں اسے پیچھے دھکیلتے ہیں لیکن طبقاتی جدوجہد میں احیائے نو اسے نئی بلندیوں پر لے جاتی ہے۔