منگل22مئی کو کینیڈا نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سول نافرمانی کا تجربہ کیا۔ڈھائی لاکھ سے لے کر ساڑھے تین لاکھ تک نوجوان اور محنت کش مانٹریال کی سڑکوں پر نکل آئے اور اس ایمرجنسی قانون کو اپنے پاؤں تلے روند دیا جس کے تحت کسی بھی قسم کے مظاہرے کیلئے پولیس سے آٹھ گھنٹے پہلے منظوری لینی لازمی ہوتی ہے۔ مظاہرین نے سرکاری روٹ کو مسترد کردیا اور ریاستی حدودووقیود سے باہر نکل آئے۔

بنگلہ دیش کی افرادی قوت کا دو تہائی حصہ دیہات میں ہے جبکہ مجموئی قومی پیدارا (GDP) میں زراعت کا حصہ صرف 19فیصد ہے۔برآمدات کا ساٹھ فیصد کپڑے کی صنعت سے وابستہ ہے اور بنگلہ دیش کپڑا برآمد کرنے والا دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے۔ اور شاید کپڑا بنانے والوں کے لیے یہ سستا ترین اور سب سے زیادہ منافع بخش ملک ہے۔ تاہم مزدوروں کے حالات انتہائی ہولناک ہیں جن میں زیادہ تر خواتین شامل ہیں۔ ایک صحافی کو کسی محنت کش نے بتایا کہ ’’ بنگلہ دیش میں کپڑے کی صنعت میں وہ لڑکیا ں خوش قسمت تصور کی جاتی ہیں جو جسم فروشی کے دھندے میں شامل ہو پائیں‘‘۔وہ مشقت، انتہائی کم اجرت، جنسی اور گھریلو زیادتیوں سے بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس کے باوجود وہ پرولتاریہ کا سب سے لڑاکا حصہ ہیں۔ ناقص وائیرنگ، تالہ بند گیٹ اور انتہائی آتش گیر مواد سے بھرے کارخانوں میں گزشتہ پانچ سالوں کے دوران کم از کم500 مزدور آتش زدگی کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ زیادہ تر محنت کش ورکشاپوں میں فرش پر سوتے ہیں تا کہ جاگتے ہی فور۱ً کام شروع کر سکیں اور اکژ وہ ایک ماہ تک اسی طرح رہتے ہیں۔ اوسط اجرت 36ڈالر ماہانہ ہے جو دو وقت کی روٹی کے لیے بھی ناکافی ہے۔ حد سے زیادہ کام اور بے رحمانہ استحصال کا شکار یہ مزدور جن فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں وہ دنیا کے بڑے بڑے کپڑوں کے برانڈوں کے لیے مال تیار کرتی ہیں۔ بنگلہ دیش میں کپڑے تیار کرنے والے بڑے امریکی برانڈوں میں ٹومی ہل فگر(Tommy Hilfiger)،نائی کی(Nike)، ایڈی ڈاس(Adidas)، پوما(Puma) اور رالف لورین(Ralph Lauren) شامل ہیں۔

ایرانی سماج میں بہت بڑے تضادات پنپ رہے ہیں۔عوام معاشی بحران کے بوجھ تلے دبے جا رہے ہیں۔غربت، بے روزگاری اور سب سے بڑھ کر افراط زر کروڑوں لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین رہا ہے۔ اتنی مایوسی اور نا امیدی پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی اور سماج ایک بارود کا ڈھیر بن چکا ہے جو پھٹنے کے لیے تیا ر ہے۔

Upcoming Events
No events found