گزشتہ سال سے ایران سرمایہ داری کے گہرے ہوتے ہوئے بحران کی زد میں ہے، جوکہ گزشتہ چندماہ میں شدید افراطِ زر (Hyper Inflation) اور ایرنی کرنسی کی قدر میں کمی کا باعث بنا ہے۔ ایران کے حالیہ سفر میں موجودہ صورتحال کا تناظر زیادہ واضح ہوااور خاص طور پر یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ عام لوگ بگڑتی ہوئے حالات کے ساتھ کیسے نبرد آزما ہیں۔

دسمبر1971ء میں پاکستان کے دولخت ہونے کے اصل ذمہ داران کا تعین کرنے کی لا متناہی بحث نے حقیقی سوال کو الجھانے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ افراد، اداروں اور حادثاتی واقعات کو دوش دے کر اس تقسیم میں ریاست اور نظام کے کردار کی پردہ پوشی کی جاتی رہی ہے۔ مختلف رجحانات رکھنے والے بورژا دانشور اپنے تجزیوں میں اس واقعہ کو مختلف رنگ دیتے ہیں۔ مذہبی شاؤنسٹ عناصر شازشی تھیوریوں (Conspiracy Theories)  کا سہارا لیتے ہیں جبکہ آزاد خیال دانشوروں (Liberals) کی جانب سے اس سارے عمل کی وجہ کو قومی جبر تک محدود کر دیا جاتا ہے۔