رجائیت اور امید کی ایک لہر پچھلے بدھ سے جنوبی افریقہ کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، جب سے جیکب زوما صدارت کے عہدے سے مستعفی ہوا ہے۔ زوما کی صدارت کا 9 سالہ بدعنوانی سے عبارت دور بالآخر ختم ہونے پر سب نے سکون کا سانس لیا۔ درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والے تجزیہ نگار ’’صبحِ نو‘‘ طلوع ہونے کی نوید سنا رہے ہیں۔ لیکن مارکس وادیوں نے کئی مرتبہ وضاحت کی ہے کہ جنوبی افریقہ کو درپیش بحران کا تعلق کسی ایک شخص، پارٹی یا حکمران طبقے کے کسی ایک ٹولے سے نہیں ہے۔ سیاسی بحران مجموعی طور پر سرمایہ داری کے بحران کا محض ایک اظہار ہے۔ اور جب تک یہ نظام باقی ہے، صرف چہرے تبدیل کرنے سے کسی قسم کی کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئے گی۔

(یہ مضمون، venezuelanalysis.com پر شائع ہوا تھا جس میں رکارڈو واز نے وینزویلا کی صورتحال کا دلچسپ تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس میں انہوں نے یہ بیان کیا ہے کہ عالمی سامراجی یلغار سے بچنے کے لیے وینزویلا کی عوام کو یہ لڑائی اپنی قومی گماشتہ بورژوازی کے خلاف لڑنی ہوگی۔)

پیپسی کولا فیکٹری فیصل آباد کے محنت کش گذشتہ روز 29 جنوری کو اس وقت ہڑتال پر چلے گئے جب ان کے 3 ساتھی محنت کشوں کو انتظامیہ کی جانب سے بغیر کوئی وجہ بتائے، بغیر کسی پیشگی نوٹس کے نوکری سے برخاست کردیا۔ اصل میں یہ تینوں محنت کش تنخواہوں اور دیہاڑی میں اضافہ کیلئے سرگرم تھے، جو ایک طرف محنت کشوں کو تنخواہوں میں اضافہ کا مطالبہ کرنے کی اپیل کرتے تھے تو دوسری جانب انتظامیہ کے سامنے اس مطالبہ کو رکھتے تھے۔ اس نام نہاد ملٹی نیشنل کمپنی کے مزدوروں کو نہ تو مستقل روزگار کی سہولت موجود ہے نہ دوسری مراعات۔ چند ماہ قبل اسی فیکٹری کی انتظامیہ نے کئی سالوں سے کام کرتے آرہے مزدوروں کو حیلے بہانوں سے مکالنا شروع کردیا جس کے خلاف محنت کشوں میں شدید غم وغصہ موجود تھا۔ کئی ملازمین جو کہ مستقل ہونے والے تھے ان کو نکال باہر کیا گیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے سال کا استقبال اپنے ہی نرالے انداز میں کیا: فلوریڈا میں امرا کی تسکین کے لئے اپنے پر تعیش تفریحی ’مار آ لاگو‘ کلب میں اپنے سیاسی اور سماجی حواریوں کے ساتھ جس میں امریکی سماج کی اشرافیہ کے تمام نمائندگان، فلمی ستاروں سے لے کر ارب پتیوں تک، موجود تھے۔

قریباً سات سال قبل 2011ء میں بن علی کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد پچھلے چند دنوں سے تیونس کے نوجوانوں نے ایک نئی تحریک کا آغاز کر دیا ہے۔ اس مرتبہ، آئی ایم ایف کے ایما پر مسلط ہونے والے مجوزہ بجٹ کیخلاف پورے ملک میں احتجاج لہر دوڑگئی ہے۔ درجنوں سرگرم احتجاجیوں کو گرفتار اور ایک احتجاجی کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ’’Fech Nastannou؟‘‘ (ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟) تحریک اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایک آمر کا تخت الٹنے کے باوجود غربت، بیروزگاری اور مستقبل سے مایوسی کے مسائل حل نہیں ہو سکے جن کی وجہ سے 2011ء کی دیوہیکل تحریک کا آغاز ہوا تھا۔

گذشتہ دو ہفتوں سے دیوہیکل عوامی احتجاجوں کی لہر ایران بھر کے شہروں اور قصبوں میں پھیل چکی ہے۔ غربت، مہنگائی، افلاس کے ساتھ ساتھ ایرانی اشرافیہ بالخصوص ملا اشرافیہ کی دولت اور کرپشن کے خلاف پنپتا غم وغصہ خودرو انداز میں پھٹ پڑا۔ اب تک کے اندازوں کے مطابق، ان احتجاجوں میں 21 کے قریب لوگ مارے جا چکے ہیں جبکہ 1700 سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ واشنگٹن سے لے کر لندن تک مغربی لیڈروں نے ایرانی عوام کے انسانی حقوق کے ’دفاع‘ میں ایک طوفان بدتمیزی برپا کر رکھا ہے۔

ایران میں مسلسل احتجاجوں کا کل پانچواں دن تھا۔ اس دوران سیکورٹی فورسز نے مزید سخت اقدامات شروع کر دئے ہیں۔ پانچویں دن احتجاجوں کا حجم کچھ کم ہوا ہے، کچھ کریک ڈاؤن کی وجہ سے اور کچھ اس وجہ سے کہ ابھی تک تحریک کوکوئی مضبوط محور نہیں ملا جس کے ارد گرد منظم ہو کر تحریک بھرپور فعال ہو سکے۔ ریاست نے انٹرنیٹ اور ذرائع ابلاغ پر کریک ڈاؤن کر کے رسائی انتہائی محدود کر دی ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ کئی احتجاجوں کی خبر، خاص طور پر چھوٹے شہروں اور قصبوں سے، باہر کی دنیا تک نہیں پہنچ رہی۔

مندرجہ ذیل اعلامیہ عالمی مارکسی رجحان کے کیٹالان سیکشن کے کامریڈز نے جاری کیا ہے۔ اس میں 21 دسمبر کے ’’غیر قانونی اور زبردستی مسلط کردہ‘‘ کیٹالان کے انتخابات میں کامریڈز کی CUP کے لئے حمایت، 1978ء کے ریاستی سیٹ اپ کی شدید مخالفت اور جمہوریہ کیٹالان کی تحریک کے لئے ضروری لائحہ عمل کا اعلان کیا گیا ہے۔

بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری طور پر یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کا یہ بیان نام نہاد امن مذاکرات کی حقیقت کو عیاں کرتا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ایک تقریر کے دوران ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یروشلم کو سرکاری طور پر اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔ سابقہ صدور کی (الیکشن) مہم کا وہ وعدہ جسے وہ پورا کرنے سے قاصر رہے، میں پورا کر رہا ہوں۔ میرا آج کا یہ بیان اسرائیل فلسطین تنازعے کے حوالے سے ایک نویکلا زاویۂ نگاہ ہے جو نئے در وا کرے گا۔‘‘

1917ء میں برپا ہونے والا انقلاب روس بلاشبہ انسانی تاریخ کا عظیم ترین واقعہ تھا۔ 1871ء میں صرف دو ماہ کیلئے قائم رہنے والے پیرس کمیون کو چھوڑ کر انقلاب روس تاریخ کا وہ پہلا واقعہ تھا جس میں کروڑوں محنت کشوں نے نوجوانوں اور چھوٹے کسانوں کی قیادت کرتے ہوئے اقتدار پر قبضہ کیا اور اجتماعی ملکیت کی بنیادوں پر ایک غیر طبقاتی سماج تعمیر کرنے کی شعوری کوشش کی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روس میں فروری 1917ء میں جنم لینے والی انقلابی تحریک حتمی تجزئیے میں پہلی عالمی جنگ کی تباہی، شدید معاشی وریاستی بحران، بے انتہا غربت اور بدحالی جیسے معروضی عوامل کی پیداوار تھی لیکن اکتوبر 1917ء میں انقلاب کی کامیابی ان معروضی حالات کا خودرو نتیجہ ہر گز نہ تھی۔ یہ انقلابی تحریک بھی دیگر بے شمار عوامی بغاوتوں کی طرح ضائع ہو جاتی اگر اس کی قیادت کرنے کیلئے بالشویک پارٹی موجود نہ ہوتی۔ وہ بالشویک پارٹی جس کا خالق، نظریہ دان اور سیاسی قائد لینن تھا۔ بلاشبہ انقلاب کے دوران بالشویک پارٹی کے ہزاروں کیڈرز اور دیگر کئی قائدین نے بھی انتہائی اہم کردار ادا کیا، لیکن تمام تر تاریخی شواہد اس امر کی گواہی دیتے ہیں کہ لینن اور ٹراٹسکی(خاص طور پر اول الذکر) کے بغیر انقلاب کی کامیابی نا ممکن تھی۔ اسی طرح انقلاب سے پہلے کے طویل عرصے میں انقلابی پارٹی کی تعمیر کے ہر مرحلے میں ہمیں لینن کا بطور نظریہ دان، سیاسی قائد اور منتظم ایک کلیدی کردار نظر آتا ہے۔ انقلاب روس اور اس کے نتیجے میں تخلیق ہونے والی دنیا کی تاریخ لینن کے ذکر کے بغیر بالکل ویسے ہی ادھوری ہے جیسے جدید یورپ کی تاریخ نپولین کے تذکرے کے بغیر نامکمل ہے۔ وہ بلا شبہ مارکس اور اینگلز کو آج تک میسر آنے والا سب سے بہترین شاگرد تھااور مارکسزم کو عمل میں ڈھالنے کے اپنے ہنر کی بدولت دنیا بھر کے محنت کشوں کا عظیم استاد۔ لیکن لینن کو یہ مقام کیونکر حاصل ہوا؟ کیا اس میں کچھ ایسی پیدائشی صفات تھیں جو کسی اور میں نہیں ہو سکتیں یا پھر اس کے پاس کوئی ایسا خفیہ جادوئی منتر تھا جس کا صرف اسے ہی علم تھا۔ کچھ ایسا تو ہر گز نہ تھا پھر لینن کی عظمت اور اس کے تاریخی مقام کی وضاحت کیسے کی جا سکتی ہے؟ اس سوال کا جواب کھوجنا ہی اس تحریر کا بنیادی مقصد ہے اور یہی وہ خراج تحسین ہے جس کا لینن حقدار ہے۔