24 مارچ کو سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے اور ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب کیاجس میں عوام کا شائبہ تک نہیں تھا۔ آئین، قانون اور پارلیمانیت ایسی ہولناک قیاس آرائیاں ہیں جنہوں نے پاکستانی نام نہاد دانشوروں کو عجیب و غریب سیاسی توہمات کا شکار کردیا ہے

نجانے کتنی مرتبہ ہم نے یونیورسٹی پروفیسروں، ماہرینِ معاشیات، سیاست دانوں اور صحافیوں کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ مارکس غلط تھا اوراگرچہ اسے سرمایہ داری کے متعلق تھوڑا بہت علم ضرور تھا لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کی توانائی اور اسکے بحرانات سے نکل کر ہمیشہ آگے بڑھنے صلاحیت کو سمجھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران جب یہ نظام تاریخ کے بد ترین بحران میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو وقتاً فوقتاً ’ماہرین‘ یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ مارکس درست تھا۔ اس کی تازہ ترین مثال جریدہ ٹائم میں 25 مارچ 2013ء کو چھپنے والا ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے ’مارکس کا انتقام:طبقاتی جدوجہد کے ہاتھوں بدلتی دنیا‘۔

23  مارچ  1931ء کو برطانوی سامراج اور سرمایہ داری سے برِ صغیرِہند کے عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رام راج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔ برطانوی سامراجی حکومت اپنے خلاف عوامی تحریک میں بائیں بازو کے ریڈیکل رجحان کے ابھرنے سے بہت خوفزدہ تھی۔ ان نوجوان انقلابیوں کو تو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد ابھرنے والے عوامی غم و غصے اور بغاوت نے نو آبادیاتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہندوستان کی صورتحال کے متعلق 1932ء میں یہاں آئے ہوئے ایک برطانوی پادری سی ایف اینڈریوز نے لکھا کہ ’’ ہندوستان کی موجودوہ کیفیت انیس سو سال قبل کی سلطنتِ روم جیسی ہے۔ وہاں بھی ظاہری طور پر ایسا ہی شاندار امن قائم تھا،لیکن بظاہر پر امن نظر آنے والے اس علاقے کے اندر ایک سلگتا ہوا خلفشار یک دم آتش فشانی لاوے کی طرح دھرتی کو پھاڑکر باہر آنا شروع ہو گیا ہے‘‘۔

لاہور کے مرکزی علاقے بادامی باغ میں واقع عیسائیوں کی بستی جوزف کالونی میں 178 گھروں کو مذہبی جنونیت کے زیرِ اثر جلا کر راکھ کر دینے کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سے پاکستانی سماج میں سرائیت شدہ بیماری کو عیاں کر دیا ہے۔ ایک غضب ناک ہجوم کے ہاتھوں ہونے وا لے اس وحشیانہ حملے کی وجہ ایک عیسائی نوجوان کی جانب سے مبینہ طور پر شراب کے نشے میں ایک مسلمان دوست کے ساتھ ہو نے والی تکرار کے دوران کہے گئے ’’توہین آمیز کلمات‘‘ بتائی جا رہی ہے۔

پاکستان کی حکمران سیاسی اشرافیہ ایک مرتبہ پھر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سرگرم ہے۔ میڈیا ان انتخابات کے گرد بحثوں کو بڑھاوا دے رہاہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر انتخابات کے انعقاد کے بارے میں ہی خدشات کا اظہار کیا جارہاہے تو دوسری طرف جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر کوئی زیادہ سے زیادہ جتن کرنے کے ناٹک کر رہا ہے۔ عوام کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ انتخابات ان کے تمام مسائل حل کر دیں گے۔ ان کو اتنا مخدوش اس لیے بنایا جارہا ہے کہ محنت کش ان کے لیے ترسیں اور بلک بلک کر ان حکمرانوں اور ان کی پروردہ ریاست سے ان انتخابات کے انعقاد کے لیے فریاد کریں۔

9 اور 10مارچ کو ’’طبقاتی جدوجہد‘‘ کی 32ویں کانگریس کے موقع پر پاکستان بھر سے ہزاروں مارکسسٹ ایوان اقبال لاہور میں اکٹھے ہوئے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی مکمل رپورٹ شائع کرر ہے ہیں۔

كما شرحنا في الجزء الأول، الثورة العربية أسقطت عدة أنظمة استبدادية، ولكن بسبب غياب بديل ثوري عمالي واضح، تم ملئ الفراغ من قبل الأحزاب الإسلامية. ولكن فور وصولها إلى السلطة، بدأت هذه القوى تكشف عن طبيعتها الحقيقة الرجعية، وبذلك أعدت الأرضية لموجة ثانية من الحراك. مما أثر على سوريا وباقي دول المنطقة؟

’’ہر گزرتے دن کے ساتھ میرا یقین اس بات پر پختہ ہو تا جارہا ہے کہ انسانیت کو اب سرمایہ دارانہ سماج سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ طریقوں سے سرمایہ داری کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ ایسا سوشلزم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، حقیقی سوشلزم کے ذریعے جو برابری اور انصاف پر مبنی ہو۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ ایسا جمہوری طریقہ کار سے کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ جمہوریت نہیں جو واشنگٹن دنیا بھر پہ تھونپتا ہے۔‘‘ (ہوگو شاویز، 31 جنوری 2005)

دنیا کی انتہائی منافع بخش ملٹی نیشنل کمپنی کوکا کولاپاکستان میں بھی اپنے شرح منافع کے لئے مزدوروں کا بدترین استحصال کر رہی ہے۔ اس منافع بخش ادارے میں ملازمین کو روزگار کا تحفظ حاصل نہیں جس کی وجہ سے آئے دن جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔کوکاکولا گوجرانوالہ میں 600 سے زائد ورکر ڈیلی ویجز پر ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ سرکاری طورپر 9000 روپے ظاہر کی جاتی ہے لیکن انہیں 5سے 6ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔

مورخہ 6 فروری کی صبح بائیں بازو کے نمایاں رہنما چوکری بیلید کو ان کے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیاجس کے رد عمل میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حکمران جماعت النہدا پارٹی کو قتل کا ذمہ دار گردانتے ہوئے اسکے دفاتر کو آگ لگا دی۔