امریکہ میں رجعتی عیسائی بنیاد پرستوں کی جانب سے’’مسلمانوں کی معصومیت‘‘ نامی ایک گھٹیا، بے ہودہ اور اسلام مخالف فلم جسے جولائی میں انٹر نیٹ پر لگایا گیا، کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں امریکی سفارت خانوں پر حملے اور لیبیا میں بن غازی میں امریکی کونسل خانے کے چار سفارت کاروں کا قتل بھی شامل ہے۔ہم ان سب کی وجوہات کا جائزہ لیں گے۔

گزشتہ دنوں آدھے سے زیادہ بھارت بجلی کی بندش کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوب گیااور زندگی معطل ہو کے رہ گئی۔اس ایک واقعے سے ہی ’’چمکتے بھارت‘‘ (Shining India)کی معاشی ترقی کا پول کھل گیا جس کا ڈھنڈورا پوری دنیا کے سامنے پیٹا جا رہا ہے۔تیسری دنیا کے ممالک میں منڈی کی معیشت کے تحت حاصل ہونے والی زیادہ شرح نمو اور بوسیدہ سماجی انفراسٹرکچر کے درمیان پایا جانے والا تضاد بھی کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔در حقیقت بھارت کے جی ڈی پی کی زیادہ شرح نمو سے غربت کم ہونے کی بجائے اسی شرح سے بڑھی ہے۔پچھلے عشرے میں جب بھارتی معیشت کی شرح نمو اوسطاً9فیصد رہی ہے، خطِ غربت کے نیچے ایک ڈالر یومیہ پر گزارہ کرنے والے افراد کی تعداد 770ملین سے بڑھ کے 860ملین ہو چکی ہے۔

کراچی میں کپڑے کے کارخانے میں لگنی والی ہولناک آگ جس میں 289مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے اور کئی سو جھلس کر شدید زخی ہو گئے، جہاں کسی قید خانے کی طرح دروازے مقفل تھے، ایسے واقعات پاکستانی مزدوروں کے لیے معمول بن چکے ہیں۔اس واقعے سے وہ حالات عیاں ہو گئے ہیں جن میں مزدوروں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

چند سال پہلے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتاتھا کہ جب ماحولیاتی تبدیلیاں اخبارات کی شہہ سرخیاں نہ بنتی تھیں۔ امریکی سیاستدان ایلگور کی جانب سے بنائی جانے والی ماحولیات پر بننے والی دستاویزی فلمAn Inconvenient Truth’’ایک ناخوشگوار حقیقت‘‘کو لاکھوں لوگوں نے دنیا بھر میں سینماؤں پر دیکھا۔کنزرویٹوپارٹی نے خودکو ماحولیات کا چمپئین ثابت کرنے کیلئے نئے رنگ روپ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ماحولیات بارے رنگ بازیاں کرتے ہوئے لوگوں کو اس بات کیلئے تیار کرنے کی کوشش کی گئی کہ سبز رنگ کی بقا اور بحالی کیلئے نیلے رنگ کو ووٹ دیاجائے۔یہاں تک کہ رجعتیت کے مہان رہنما جارج بش کو بھی اس بات پر مجبورہونا پڑگیا تھاکہ وہ ماحولیات کو ایک قابل ترجیح مسئلہ تسلیم کرے۔

گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے آپ کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں، خاص طور پر ایم کیوایم، اس بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حالت زار کی اصل وجہ جاگیر داری ہے اور اس کا خاتمہ کر کے ہی ملک کو تمام تر مصائب سے نکالا جا سکتا ہے۔یہ نقطہ نظر در اصل ان چھوٹے کاروباری عناصر (Petty Bourgeois)اور مافیوزی سرمایہ داری (جرائم اور کالے دھن پر مبنی سرمایہ داری) کو بچانے کے لئے اپنایا گیا ہے جس کے سہارے یہ پارٹیاں اپنی سماجی و معاشی ساکھ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔سابقہ بائیں بازو اور لبرل دانشور پچھلی کئی دہائیوں سے یہ گردان دہرا رہے ہیں کہ پاکستان ایک جاگیردارانہ ملک ہے اور جاگیرداری کا خاتمہ ’قومی جمہوری‘ یا سرمایہ دارانہ انقلابات سے ہی ممکن ہے۔لیکن پچھلے 65سالوں سے پاکستانی بورژوازی، جاگیر داری کے نشانات اور اس سے منسلک مخصوص جاگیردارانہ ذہنیت مٹانے میں ناکام رہی ہے۔حالات و واقعات یہی بتاتے ہیں کہ موجودہ حکمران طبقات اور بحران زدہ سرمایہ داری، جاگیرداری کی باقیات جنہیں یہ دانشور جاگیردارانہ رشتوں کا نام دیتے ہیں، مٹانے کے قابل نہیں ہیں۔

پاکستان معرض وجود میں آنے ساتھ ہی شدید عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ سے مذہب کے نام پر بنائے گئے اس ملک کی بقا اور یکجہتی کے متعلق شکوک و شبہات جنم لیتے رہے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ملک ٹوٹ جانے کی اس بحث میں شدت آئی ہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے دانشوروں کے اس حصے کے خیالات کو تقویت ملی جن کے اس ملک کی لمبے عرصے تک بقا کے متعلق شکوک و شبہات تھے۔ اس واقعے کے بعد سے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کی قیاس آرائی زبان زد خاص و عام ہو چکی ہے خاص طور پران صوبوں میں جہاں قومی جبر واضح شکل میں موجود رہا ہے۔

نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے اور جمہوریت اور آزادی کی نئی شروعات کے اٹھارہ برس بعد، ماریکانا کے علاقے میں لون من کمپنی کی ملکیت میں پلاٹینم کی کانوں کے 44کان کنوں کا گزشتہ جمعرات کے روز پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل اور 100 محنت کشوں کوشدید ز خمی کرنے کے واقعے نے جنوبی افریقہ کے پرولتاریہ کے اذیت ناک حالات اور تکلیف دہ زندگی کو دنیا بھر کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ سفید فام نسل پرست حکومت سے نام نہاد آزادی حاصل کرنے کے بعد کے سالوں میں بے شمار تحریکوں کو ریاستی جبر کے ذریعے کچلا جا چکا ہے۔اس واقعے نے 1960ء میں اس وقت کی نسل پرست حکومت کے ہاتھوں شار پ ویل میں60سیاہ فاموں کے سفاکانہ قتل عام کی یاد تازہ کر دی ہے۔

 

اس وقت شام کے اندر لڑائی اس کے دو سب سے بڑے شہروں،دمشق اور حلب (الیپو) کے اندر تک پھیل چکی ہے،ہم یہ سمجھ سکتے اور کہہ سکتے ہیں کہ شام کی یہ بے چینی پچھلے کچھ مہینوں کے اندر ایک اپنی نوعیت کی مسلح گوریلا لڑائی میں بدل چکی ہے جسے شام کی آزاد فوج کی قیادت میں لڑ ا جارہاہے۔دیکھنا سمجھنا یہ ہے کہ شام اس وقت کدھر جارہاہے،وہاں کیاہورہاہے؟انقلاب کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ جانچنا ہے کہ انقلاب کی کیفیت کیاہے اور کیا امکانات ہیں؟