گزشتہ کچھ عرصے سے اپنے آپ کو سیکولر کہنے والی پارٹیاں، خاص طور پر ایم کیوایم، اس بات کی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ پاکستان کی موجودہ حالت زار کی اصل وجہ جاگیر داری ہے اور اس کا خاتمہ کر کے ہی ملک کو تمام تر مصائب سے نکالا جا سکتا ہے۔یہ نقطہ نظر در اصل ان چھوٹے کاروباری عناصر (Petty Bourgeois)اور مافیوزی سرمایہ داری (جرائم اور کالے دھن پر مبنی سرمایہ داری) کو بچانے کے لئے اپنایا گیا ہے جس کے سہارے یہ پارٹیاں اپنی سماجی و معاشی ساکھ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔سابقہ بائیں بازو اور لبرل دانشور پچھلی کئی دہائیوں سے یہ گردان دہرا رہے ہیں کہ پاکستان ایک جاگیردارانہ ملک ہے اور جاگیرداری کا خاتمہ ’قومی جمہوری‘ یا سرمایہ دارانہ انقلابات سے ہی ممکن ہے۔لیکن پچھلے 65سالوں سے پاکستانی بورژوازی، جاگیر داری کے نشانات اور اس سے منسلک مخصوص جاگیردارانہ ذہنیت مٹانے میں ناکام رہی ہے۔حالات و واقعات یہی بتاتے ہیں کہ موجودہ حکمران طبقات اور بحران زدہ سرمایہ داری، جاگیرداری کی باقیات جنہیں یہ دانشور جاگیردارانہ رشتوں کا نام دیتے ہیں، مٹانے کے قابل نہیں ہیں۔

پاکستان معرض وجود میں آنے ساتھ ہی شدید عدم استحکام کا شکار ہے جس کی وجہ سے مذہب کے نام پر بنائے گئے اس ملک کی بقا اور یکجہتی کے متعلق شکوک و شبہات جنم لیتے رہے ہیں۔وقت گزرنے کے ساتھ ملک ٹوٹ جانے کی اس بحث میں شدت آئی ہے۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے دانشوروں کے اس حصے کے خیالات کو تقویت ملی جن کے اس ملک کی لمبے عرصے تک بقا کے متعلق شکوک و شبہات تھے۔ اس واقعے کے بعد سے پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جانے کی قیاس آرائی زبان زد خاص و عام ہو چکی ہے خاص طور پران صوبوں میں جہاں قومی جبر واضح شکل میں موجود رہا ہے۔

نسلی امتیاز کی پالیسی کے خاتمے اور جمہوریت اور آزادی کی نئی شروعات کے اٹھارہ برس بعد، ماریکانا کے علاقے میں لون من کمپنی کی ملکیت میں پلاٹینم کی کانوں کے 44کان کنوں کا گزشتہ جمعرات کے روز پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ قتل اور 100 محنت کشوں کوشدید ز خمی کرنے کے واقعے نے جنوبی افریقہ کے پرولتاریہ کے اذیت ناک حالات اور تکلیف دہ زندگی کو دنیا بھر کے سامنے عیاں کر دیا ہے۔ سفید فام نسل پرست حکومت سے نام نہاد آزادی حاصل کرنے کے بعد کے سالوں میں بے شمار تحریکوں کو ریاستی جبر کے ذریعے کچلا جا چکا ہے۔اس واقعے نے 1960ء میں اس وقت کی نسل پرست حکومت کے ہاتھوں شار پ ویل میں60سیاہ فاموں کے سفاکانہ قتل عام کی یاد تازہ کر دی ہے۔

 

اس وقت شام کے اندر لڑائی اس کے دو سب سے بڑے شہروں،دمشق اور حلب (الیپو) کے اندر تک پھیل چکی ہے،ہم یہ سمجھ سکتے اور کہہ سکتے ہیں کہ شام کی یہ بے چینی پچھلے کچھ مہینوں کے اندر ایک اپنی نوعیت کی مسلح گوریلا لڑائی میں بدل چکی ہے جسے شام کی آزاد فوج کی قیادت میں لڑ ا جارہاہے۔دیکھنا سمجھنا یہ ہے کہ شام اس وقت کدھر جارہاہے،وہاں کیاہورہاہے؟انقلاب کیا ہے اور سب سے بڑھ کر یہ جانچنا ہے کہ انقلاب کی کیفیت کیاہے اور کیا امکانات ہیں؟

یونان کا بحران ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ موجودہ الیکشنوں سے پیشتر بے شمار یقین دہانیاں کروائی گئیں تھیں لیکن ہر کوئی جانتا ہے کہ نقصانات کو کم سے کم کرنے کے لئے در حقیقت یونان کو یورو زون نکالنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں جس کا تمام تر ملبہ بعد میں ’’غیر ذمہ دار‘‘ یونانی شہریوں پر ڈال دیا جائے گا۔

21مئی کو بروز سوموار کامریڈ ابراہم ریواس کو قتل کرنے کی ایک ناکام کاشش کی گئی۔ریواس National Union of Workers of Helados اور حال ہی میں قائم کی گئی National Federation of Workers in Food, Beverages and Other Companiesکے جنرل سیکرٹری ہیں جو کہ گروپو پولر کی ملکیت میں موجود 21کمپنیوں کے مزدوروں کو منظم کر رہی ہے۔وہ بولیویرین انقلاب کے سر گرم کارکن اور مارکسی رجحان (Luche de Clases)کے حامی ہیں۔

منگل22مئی کو کینیڈا نے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سول نافرمانی کا تجربہ کیا۔ڈھائی لاکھ سے لے کر ساڑھے تین لاکھ تک نوجوان اور محنت کش مانٹریال کی سڑکوں پر نکل آئے اور اس ایمرجنسی قانون کو اپنے پاؤں تلے روند دیا جس کے تحت کسی بھی قسم کے مظاہرے کیلئے پولیس سے آٹھ گھنٹے پہلے منظوری لینی لازمی ہوتی ہے۔ مظاہرین نے سرکاری روٹ کو مسترد کردیا اور ریاستی حدودووقیود سے باہر نکل آئے۔

حد سے زیادہ دھوم دھڑکا کرنے والی عدلیہ کے ہاتھوں ایک نسبتاً کمزور وزیرِ اعظم کی معزولی ریاست کے مختلف حصوں کے مابین جاری لڑائیوں ہی کا ایک تسلسل ہے۔ پاکستانی ریاست کے اندرونی تضادات کے پیچھے پاکستانی حکمران طبقے کے مفادات کا تحفظ کار فرما ہے۔ ریاست کے ان نام نہاد ستونوں کے مابین جاری یہ اندرونی جھگڑا سماج میں پھیلی گہری بے قراری کا اظہار ہے جو اب ایک تباہ کن طوفان کی شکل اختیار کر چکا ہے اورجو اس نظام اور سیاست کے تابع سماجی ڈھانچوں کو برباد کر سکتا ہے۔ ایک کے بعد دوسری سول اور فوجی حکومتوں کی جانب سے سرمایہ دارانہ نظام کو بچانے اور مسلط رکھنے کی معاشی پالیسیوں نے سماج کو تاراج اور اس دھرتی کے باسی عوام پر بے رحمانہ طریقے سے معاشی اور سماجی مظالم ڈھائے ہیں۔سامراجی کی ڈاکہ زنی، فوجی اخراجات اور حکمران طبقات کی لوٹ مار نے سرمایہ دارانہ غلامی میں رہنے والے 19 کروڑ بے یارو مددگار انسانوں کے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔ بنیادی ڈھانچہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، مہنگائی جان لیوہ،غربت اذیت ناک، بنیادی ضروریات نایاب یا پھر اسطاعت سے باہر ہیں اور عوام کی وسیع اکثریت کی زندگی جہنم بن چکی ہے۔ 50ڈگری کی جھلساتی گرمی میں ملک کے بیشتر حصوں میں بیس گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہی عوام کے صبر کے پیمانے کو پھاڑ دینے کے لیے کافی ہے۔