مئی میں ہالینڈے کے اقتدار میں آنے کے بعدسے فرانس میں بیروزگاری کی شرح ہر مہینے تیزی سے بلند ہوتی چلی جارہی ہے۔اس وقت یہاں بیروزگاروں کی تعدادتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔اگر ہم ان میں وہ لوگ بھی شمارکرلیں کہ جو محض چند گھنٹوں کی جاب کررہے ہیں یا جنہیں کوئی باقاعدہ روزگار میسر نہیں ہے تو یہ تعدادساڑھے چارملین تک جا پہنچتی ہے۔اندازہ لگایاگیاہے کہ مزید دس لاکھ افراد روزگار سے باہرہیں۔وہ مراعات سے بھی محروم ہیں اور ان کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی۔اس بات کے بہت ہی کم امکان ہیں کہ مستقبل قریب تک بیروزگاری کی شرح میں یہ اضافہ کسی طور بھی کم ہو پائے گا۔آنے والے دنوں میںCitro235n-PSAآٹھ ہزار روگار ختم کررہی ہے،جبکہ ائرفرانس بھی پانچ ہزار روزگار ختم کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ان کے علاوہAlcatel-Lucent, Sanofi, SFR, Bouygues Telecom, Hewlett-Packard, Conforama, Doux, Groupama, Puma, Castorama, Novandie, Nouvelles Fronti232resسمیت کئی دوسرے ادارے اور کاروبار بھی اپنے کام کرنے والوں کی تعداد کم کرنے کے اعلانات کرچکے اور کرتے چلے جارہے ہیں۔اکیلے تعمیرات کے شعبے میں ہی سے 2012ء کے دوران35000روزگارختم ہونے جارہے ہیں۔اولاندے حکومت اس کیفیت میں مکمل بے بس ولاچار نظر آنے کا تاثر دے رہی ہے لیکن حقیقت میں بات کہیں آگے کی ہے۔اولاندے اور اس کی کابینہ کے لوگوں نے سرمایہ دارانہ نظام کا قیدی بننے کا رضاکارانہ فیصلہ کر رکھاہے۔ اور وہ بھی ایک ایسی حالت میں کہ جب یہ نظام زوال پذیری کی زد میں آیاہواہے۔بلاشبہ امیر، امیرتر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کیلئے کوئی بھی بحران،بحران نہیں ہے۔لیکن ان کا یہ نظام قائم ہی اس شرط پر ہے کہ باقی سماج ان کی اس امارت کیلئے قیمت اداکرتا رہے۔

آج 7اکتوبر 2012ء کو وینزویلا میں ہو رہے انتخابات تاریخ ساز اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات کے تنائج کے اثرات نہ صرف وینزویلا اور لاطینی امریکہ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے بلکہ ان سرحدوں کے پار بہت دور تک عوام کے شعور اور طبقاتی جدوجہد کی رفتار پر اثر انداز ہوں گے۔یہ حادثاتی طور پر یا محض کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مغربی سامراجی ممالک کے حکمران اشرافیہ کے ماہرین، منصوبہ سازوں اور میڈیا کی ان انتخابات کے نتائج میں بہت زیادہ دلچسپی اور توجہ مرکوز ہے۔ ان کی جانب سے شاویز کو ڈکٹیٹر، جابر، مطلق العنان حاکم، منشیات کا سوداگر، امریکہ کا دشمن اور دہشت گردجیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ان کی پیش کردہ تصویر کے مطابق وینزویلاایک پر تشدداور غیر محفوظ ملک ہے جہاں جرائم، کرپشن اور افرا تفری کا راج ہے،لیکن وہ گزشتہ دہائی کی شاندار کامیابیوں اور سماجی ترقی یا ماضی کی حکومتوں سے ورثے میں ملنے والی سماجی عدم مساوات کی وجوہات کا ذکر نہیں کرتے۔ شاویز کے خلاف یہ توہین آمیز حملے بے سبب نہیں۔ وہ بولیویرین تحریک کی فتح سے خوفزدہ ہیں۔ ایران، شمالی کوریا اور اسلامی بنیاد پرستی وغیرہ کے خلاف ان کی لفاظی کی حقیقت کچھ اور ہے۔

گزشتہ شام سرمایہ داروں کا دلال میڈیا جس وقت تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، ہوگو شاویز کی الیکشن کیمپین کے اختتام پر مرکزی کاراکاس کی شاہراہیں سرخ طوفان کی زد میں تھیں۔

آج 3اکتوبر کو اچانک شروع ہونے والے بڑے مظاہرے میں ہزاروں افراد تہران کے بازار میں سڑکوں پر نکل آئے۔نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین پورے بازار میں پھیل گئے اور ایک بنک کی عمارت کو تباہ کر دیا۔مظاہرے دراصل حالیہ عرصے میں ہونے والی تیز ترین مہنگائی، ایرانی ریا ل کے انہدام اور حکومت کی جانب سے ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم نہ کرنے کے خلاف تھے۔

28ستمبر کو بر صغیر کے معروف ترین انقلابی بھگت سنگھ کا 105واں یومِ پیدائش تھا۔ لڑاکا جدوجہد کے ذریعے انقلابی تبدیلی اور برطانوی راج کا تختہ الٹنے کی اس کی دلیرانہ جدوجہد کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ 23مارچ 1931ء کی صبح طلوعِ آفتاب کے وقت،23 برس کی کم سن عمر میں سامراجی غاصبوں نے بھگت سنگھ کو موت کی نیند سلا دیا، لیکن وہ اس خطے کی طبقاتی جدوجہد کی تاریخ میں امر ہو گیا۔ مارکسی تھیوری کو سمجھنے اورانقلابی کیڈر بنانے کے لیے قید اورشدید سیاسی سرگرمی کے دوران اپنے ساتھیوں کی تربیت کرنے کا جذبہ اس کی ان تھک جدوجہد کا خاصا تھا۔

سولہ برس قبل 20ستمبر1996ء کی شام جب رات میں ڈھل رہی تھی، اس وحشی ریاست نے بیالیس سالہ میر مرتضیٰ بھٹو کا بدن گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اسے پاکستانی سیاست کی سب سے معروف رہائش گاہ ، اس کے گھر 70کلفٹن کراچی کے سامنے اسکے چھ ساتھیوں کے ہمراہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اس پر ستم یہ ہے کہ اس وقت اس کی بہن ملک کی وزیر اعظم اور چیف ایگزیکٹیو تھی۔ اس دن سے سازش کی ان گنت تھیوریاں (Conspiracy Theories)اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن کوئی بھی مجرم پکڑا نہیں گیا اور نہ ہی کوئی قانونی کاروائی ہوئی ہے ۔ ریاستی اداروں کے جن افراد کو اس قتل میں نامزد اور گرفتار کیا گیا تھا وہ آج بھی آزاد پھر رہے ہیں۔

امریکہ میں رجعتی عیسائی بنیاد پرستوں کی جانب سے’’مسلمانوں کی معصومیت‘‘ نامی ایک گھٹیا، بے ہودہ اور اسلام مخالف فلم جسے جولائی میں انٹر نیٹ پر لگایا گیا، کے خلاف دنیا کے مختلف ممالک میں مظاہرے ہو رہے ہیں جن میں امریکی سفارت خانوں پر حملے اور لیبیا میں بن غازی میں امریکی کونسل خانے کے چار سفارت کاروں کا قتل بھی شامل ہے۔ہم ان سب کی وجوہات کا جائزہ لیں گے۔

گزشتہ دنوں آدھے سے زیادہ بھارت بجلی کی بندش کی وجہ سے اندھیروں میں ڈوب گیااور زندگی معطل ہو کے رہ گئی۔اس ایک واقعے سے ہی ’’چمکتے بھارت‘‘ (Shining India)کی معاشی ترقی کا پول کھل گیا جس کا ڈھنڈورا پوری دنیا کے سامنے پیٹا جا رہا ہے۔تیسری دنیا کے ممالک میں منڈی کی معیشت کے تحت حاصل ہونے والی زیادہ شرح نمو اور بوسیدہ سماجی انفراسٹرکچر کے درمیان پایا جانے والا تضاد بھی کھل کر سامنے آ جاتا ہے۔در حقیقت بھارت کے جی ڈی پی کی زیادہ شرح نمو سے غربت کم ہونے کی بجائے اسی شرح سے بڑھی ہے۔پچھلے عشرے میں جب بھارتی معیشت کی شرح نمو اوسطاً9فیصد رہی ہے، خطِ غربت کے نیچے ایک ڈالر یومیہ پر گزارہ کرنے والے افراد کی تعداد 770ملین سے بڑھ کے 860ملین ہو چکی ہے۔

کراچی میں کپڑے کے کارخانے میں لگنی والی ہولناک آگ جس میں 289مرد، عورتیں اور بچے مارے گئے اور کئی سو جھلس کر شدید زخی ہو گئے، جہاں کسی قید خانے کی طرح دروازے مقفل تھے، ایسے واقعات پاکستانی مزدوروں کے لیے معمول بن چکے ہیں۔اس واقعے سے وہ حالات عیاں ہو گئے ہیں جن میں مزدوروں کو کام کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

چند سال پہلے ایک دن بھی ایسا نہیں گزرتاتھا کہ جب ماحولیاتی تبدیلیاں اخبارات کی شہہ سرخیاں نہ بنتی تھیں۔ امریکی سیاستدان ایلگور کی جانب سے بنائی جانے والی ماحولیات پر بننے والی دستاویزی فلمAn Inconvenient Truth’’ایک ناخوشگوار حقیقت‘‘کو لاکھوں لوگوں نے دنیا بھر میں سینماؤں پر دیکھا۔کنزرویٹوپارٹی نے خودکو ماحولیات کا چمپئین ثابت کرنے کیلئے نئے رنگ روپ میں ڈھالنے کی کوشش کی۔ ماحولیات بارے رنگ بازیاں کرتے ہوئے لوگوں کو اس بات کیلئے تیار کرنے کی کوشش کی گئی کہ سبز رنگ کی بقا اور بحالی کیلئے نیلے رنگ کو ووٹ دیاجائے۔یہاں تک کہ رجعتیت کے مہان رہنما جارج بش کو بھی اس بات پر مجبورہونا پڑگیا تھاکہ وہ ماحولیات کو ایک قابل ترجیح مسئلہ تسلیم کرے۔