پاکستان کی سیاست میں عمران خان کی سونامی ’آنے اور چھا جانے‘ میں ناکام ہو گئی ہے۔ انتخابات کے نتائج آنے کے ساتھ تحریکِ انصاف کے حامیوں کی امیدیں دم توڑ گئیں۔ مالیاتی سرمائے کے جبر اور پیپلز پارٹی کی موجودہ موقع پرست قیادت کی غداری کے باعث نظریاتی سیاست کے پسِ منظر میں چلے جانے کے عہد میں رائج الوقت نظام کو چیلنج کرنے والی ایک نئی سیاسی تنظیم کے لیے ایک بے کراں خلا موجود تھا۔

’’یہ سوال کہ آیا انسانی غور و فکر بجائے خود حقیقی وجود رکھتا ہے یا نہیں، کسی طرح بھی نظریاتی سوال نہیں، یہ عملی سوال ہے۔ انسان پر لازم ہے کہ عمل میں اپنے غورو فکر کی صداقت ثابت کر کے دکھائے، یعنی اس کی اصلیت اور اس کی طاقت کو، اور ادھر والے رخ کو ثابت کرے۔ غور وفکر کے حقیقی وجود ہونے یا نہ ہونے کی بحث، جب اسے عمل سے بیگانہ کرکے زیر غور لایا جائے، محض عمل، خیالی بحث ہو کر رہ جاتا ہے۔ ‘‘ (مارکس، فیورباخ پر دوسرا تھیسس)

وزیرستان میں موجود کامریڈز کے مطابق مسلم لیگ (ن)  کی جیت بڑے پیمانے پر دھاندلی کا نتیجہ تھی۔ 11مئی کو الیکشن نتائج آنے کے فوراً بعد سے ہی کامریڈ علی وزیر کی فتح کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں شروع کر دی گئیں تھی۔ 8مئی کو کامریڈ علی وزیر نے اپنی انتخابی مہم کے دوران 30000 ہزار افراد پر مشتمل ریلی کی قیادت کی تھی۔ اس شاندار ریلی سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ مقامی لوگوں میں کتنے مقبول ہیں۔ سماجی دباؤ کی وجہ سے خواتین کی بہت بڑی تعداد اگرچہ اس ریلی میں شریک نہیں ہو سکی لیکن انتخابات کے دن بے شمار خواتین نے کامریڈ علی وزیر کو ووٹ دیا۔

بّرِاعظم یورپ اور ایشیا کو ملانے والا ترکی کا شہر استنبول 2 جون کی صبح خاموش تھا۔ گزشتہ رات طوفانی واقعات سے بھرپور تھی۔ شہری اپنی مدد آپ کے تحت رات ہونے والے مظاہروں کا ملبہ اور بکھرا ہوا کوڑا کرکٹ صاف کررہے تھے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ رات کا عوامی طوفان ٹل گیا ہے۔ ایوانوں میں بیٹھے خوفزدہ حکمران بھی سمجھنے لگے تھے کہ ان کا بھیانک سپنا ختم ہو رہا ہے۔ لیکن جوں جوں اتوار کا دن ڈھلنے لگااستنبول کے تکسیم اسکوائر پر مجمع بڑھنے لگا، شام تک لاکھوں مظاہرین ایک بار پھر اس اسلامی جمہوری حکومت (جسے وہ بد ترین آمریت گردانتے ہیں) کے خاتمے تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کر رہے تھے۔ دو دن پہلے ترکی کی فضاؤں میں بلند ہونے والے انقلابی نعروں سے تکسیم اسکوائر ایک بار پھر گونج رہا تھا اور اس گونج سے حکمرانوں کے محلات کانپ رہے تھے۔ ہر طرف سرخ پرچم سربلند تھے۔ مظاہرین ’’حکومت مستعفی ہو جائے‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے احتجاج میں شریک ایک نوجوان نے کہا ’’ہم آخر تک یہیں رہیں گے۔ ہم کہیں نہیں جارہے۔ حکومت کے گرنے تک احتجاج جاری رہے گا۔ ہم اس جابرانہ حکومت کے مسلسل دباؤ سے اکتا چکے ہیں۔‘‘

28 مئی کو پورے ملک میں پاکستان کے ایٹمی طاقت ہونے کا جشن منایا جارہا ہے۔ انسانی بربادی کے ان آلات کی نمائش کاہر طرف تماشا لگایا جائے گاتا کہ خلق خدا مزید مرغوب اور حکمرانوں کے جاہ وجلال کی مطیع ہوسکے۔

اکثر کہا جاتا ہے کہ ضرورت ایجاد کی ماں ہوتی ہے لیکن ضرورت اور ایجاد کا باہمی تعلق درحقیقت جدلیاتی ہے۔ کوئی ایجاد جب سماج کے اکثریتی حصے کی پہنچ میں آجائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ضرورت بن جاتی ہے۔ بجلی کے حوالے سے بھی یہ بات بالکل درست ہے۔ بجلی انسانی زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ پنجابی میں ایک بہت دلچسپ روایتی کہانی ہے۔ ایک غریب کسان رات کے اندھیرے میں گندم کی بوری چھت پر لیکر جارہا تھا۔ اس کے ساتھی نے ماچس جلائی تاکہ سیڑھیوں کو روشن کرسکے۔ کچھ لمحوں بعد ماچس بجھ گئی۔ اس کسان نے غصے سے کہا ’’تم نے تو مجھ سے میرا اندھیرا بھی چھین لیا ہے۔‘‘ جب ماچس بجھی تو اس کی آنکھیں، جو اندھیرے کا عادی ہوگئی تھیں ، وہ پہلے کی طرح اندھیرے میں دیکھنے سے قاصر تھیں۔ بجلی، لوڈ شیڈنگ اور پاکستانی عوام کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔

گزشتہ ہفتے منعقد ہونے والے ’صاف اور شفاف‘ عام انتخابات میں کچھ پولنگ سٹیشنوں پر سو فیصد سے زیادہ اور کچھ جگہوں پر دو سو فیصد ٹرن آؤٹ دیکھنے میں آیا۔ بلوچستان میں خاص طور پر صورتحال اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز رہی۔ڈیلی ٹائمز میں چھپی ایک رپورٹ کے مطابق ’’اگرچہ الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹ ڈالنے کی شرح 50 فیصد سے زیادہ تھی، تاہم مقامی بلوچ سیاسی کارکنان کے مطابق یہ شرح محض 3 فیصد رہی۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ عسکریت پسندوں کی جانب سے دھمکیوں اور بلوچستان نیشنل فرنٹ، بلوچ ری پبلیکن پارٹی جیسی قوم پرست جماعتوں کی جانب سے بلوچ اکثریتی علاقوں میں پہیہ جام ہڑتالوں کی وجہ سے انتخابات سے قبل جلسے جلوس ممکن نہیں ہو سکے اور الیکشن کے روز صوبے بھر میں ووٹ ڈالنے والوں کی شرح بہت ہی کم رہی۔‘‘

ایک سو ستائیس سال پہلے 1886ء میں شکاگو کے صنعتی علاقوں میں مزدوروں کے لمبے اوقات کار کے خلاف چلنے والی تحریک کو ریاستی دھشت گردی کے ذریعے خون میں ڈبو دیا گیا اورمزدوروں کے قتل عام کا مقدمہ بھی مزدور راہنماؤں پر درج کرکے بالآخر ان کو موت کی سزا دے دی

’’اگر ہم عام سوچ اور تاریخ کا مذاق نہیں اڑا رہے تو پھر یہ واضح ہے کہ جب تک مختلف طبقے وجود رکھتے ہیں ہم خالص ’’جمہوریت‘‘ کی بات نہیں کرسکتے، سرمایہ دارانہ جبر کے تحت یہ ’’جمہوریت‘‘ محدود، اپاہج، جھوٹی اور منافقانہ رہتی ہے جو امیروں کے لئے ایک جنت اور استحصال زدہ غریبوں کے لئے ایک پھندہ، ایک لعنت، ایک دھوکہ ہوتی ہے۔ ‘‘ (ولادیمیر لینن، 10اکتوبر1918ء)

جب بھی کوئی سماجی نظام تاریخی طور پر متروک ہوجائے تو اس کا بحران معاشرے کی رگوں اور شریانوں میں ایک شورش اور خلفشار پیدا کردیتا ہے۔ ایسے معاشروں کی زندگی کا ہر پہلو، ہر شعبہ گلنے سڑنے لگتا ہے۔ حکمران اس نظام کو مسلط رکھنے کے لیے ہر حربہ، ہرہتھکنڈا استعمال کرتے ہیں۔ آج عالمی طور پر سرمایہ دارانہ نظام بھی ایسی ہی کیفیت کا شکار ہے جس نے ہر ملک، ہر معاشرے میں کہرام مچا رکھا ہے۔