بلدیہ ٹاؤن کراچی اور پلاسٹک فیکٹری لاہور کے شہدا کا بدلہ صرف استحصالی نظام کو بدل کر ہی لیا جا سکتا ہے۔سرمایہ دار اپنے شرح منافع میں اضافے کی خاطر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔مزدوروں کے حقوق اور تحفظ کے لئے بنائے گئے حکومتی ادارے ایک ڈھونگ ہیں۔اسمبلیوں میں بیٹھے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں سے اچھائی کی کوئی توقع مزدوروں کو نہیں ہونی چاہیے۔ان خیالات کا اظہار پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کیمپین کی طرف سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کراچی اور لاہور کے شہداء کے لئے منعقد کئے گئے تعزیتی ریفرنس میں خطاب کرتے ہوئے پارس جان، قمرالزماں خان، سیدزمان، احسان قادری، مسعود افضل، ڈاکٹر اسلم نارو، نعیم مہاندرا، حیدر چغتائی، عبدالرؤف، خلیل بخاری، محمد بوتا، محبوب خان، غلام ربانی بلوچ، ندیم محمداور فضل محمود نے کیا۔

2007ء میں آمریت اور جمہوریت کا ایک بے ہودہ ملغوبہ بکھرنے لگا تھا۔ معاشی شرح نمو کا تیز ابھار آٹھ سالوں میں سماج میں تضادات کو مٹانے کی بجائے ان کو بھڑکا گیا تھا۔ہر روز 10 ہزار انسان غربت کی لکیر سے نیچے گر رہے تھے۔زندگی مزید اجیرن ہو کر رہ گئی تھی۔ سماج میں اضطراب اور اور ہلچل تیز ہو رہی تھی۔ دہشت گردی کی سامراجی جنگ پورے معاشرے میں خلفشار کو بڑھا رہی تھی۔اس معاشی سماجی اور اقتصادی بحران میں شدت سے حکمرانوں کے ایوان لرزنا شروع ہو گئے تھے۔اس سرمائے کی استحصالی جمہوریت کی متوالی سول سوسائٹی حرکت میں آگئی تھی۔ جابر انہ ریاست کے ایک ہی مقصد اور کردار کے حامل اداروں کے باہمی تضادات جو سماج میں ابھرتے ہوئے لاوے سے پھٹ رہے تھے وہاں عدلیہ کی آزادی کے نام پر اسی نظام کو آسرا دینے کیلئے ہر نظریاتی تفریق اور طبقاتی کشمکش کو ہذف کرتے ہوئے درمیانے طبقے کے افراد و وکلاء کی تحریک کے نام پر ایک غیر سیاسی تحریک کو چلانے کی کوشش کر رہے تھے حکمرانوں کے چند سنجیدہ ماہرین نیچے سے ابھرنے والی غیر سول (Uncivil) سوسائٹی یعنی محنت کشوں اور محروم عوام کی تحریک کے خوف سے اس سول سوسائٹی کی تحریک کو طبقاتی کشمکش کو زائل کرنے کی کوشش میں سرگرم تھے۔لیکن سول سوسائٹی کی تحریک ایک محدود پیمانے پر چلتی رہی محنت کش عوام اس کو دیکھتے رہے۔ محظوظ ہوتے رہے۔لیکن اس تحریک کے مقاصداور مطالبات میں نہ تو ان کے مسائل کا حل تھا نہ ہی انکے دل کو لگتی تھی۔ ان کے اندر جلنے والے آگ ٹھنڈی نہیں ہورہی تھی۔ ان کے اندر کسی اور راستے اور مقصد و منزل کی جستجو بھڑک رہی تھی۔

7اکتوبر، بروز اتوار ہونے والے انتخابات میں وینزویلا کے صدر ہوگو شاویز ایک بار پھر اپنے حریف ہینرک کیپریلس کے 44.54فیصد کے مقابلے میں 54.84فیصدووٹ لے کر مناسب مارجن کے ساتھ فتح سے ہمکنار ہوئے۔بولیوارین انقلاب کے سفر میں یہ ایک اور اہم فتح ہے جسے انقلاب کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے۔

آج پوری دنیا میں انقلابی نوجوان، حریت پسند اور محنت کش چے گویرا کی 45ویں برسی منا رہے ہیں۔8اکتوبر1967ء کوCIAکی اطلاع پربولیویا کے 1800سے زائد سپاہیوں نے ’یورو روائن‘کے علاقے میں واقع چے گویرا کے گوریلا کیمپ کا محاصرہ کر لیا۔چے کے بہت سے ساتھی اس لڑائی میں مارے گئے اور وہ خود، دو گولیاں لگنے سے شدید زخمی ہوگیاجس کے بعد اسے گرفتار کر کے ’لا ہیگویرا‘ میں واقع عارضی فوجی چوکی میں لایا گیا۔گرفتاری کے بعد چے نے انٹیلی جنس افسروں کے کسی سوال کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔اگلے دن 9اکتوبر کی دوپہر کو بولیویا کے صدر رین بیرینٹوس کے حکم پر، چے کو گولی مار کے قتل کر دیا گیا۔مرنے سے کچھ منٹ پہلے ایک بولیوین سپاہی نے چے سے پوچھا ’’کیا تم اپنی لافانی زندگی کے بارے میں سوچ رہے ہو؟‘‘، چے نے جواب دیا ’’نہیں! میں انقلاب کی لا فانیت کے بارے میں سوچ رہا ہوں‘‘۔چے گویرا کے آخری الفاظ کچھ یوں تھے ’’میں جانتا ہوں تم مجھے مارنے کے لئے آئے ہو۔ گولی چلاؤ بزدل! تم صرف ایک انسان کی جان لے رہے ہو!‘‘۔

سوات ایسی جگہ ہے جو لوگوں کے لئے طالبان اور مذہبی انتہا پسندی کے حوالے سے جانی جاتی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ پہلے طالبان اور مذہبی انتہا پسندوں کی آماجگاہ رہی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس کہ ایک لمبے عرصے تک یہ خطہ پاکستانی فوج اور اس کے اپنے ہی پیدا کردہ خونی درندوں کے درمیان میدان جنگ بنا رہا ہے۔ لیکن اس لڑائی کے دوران بھی وہاں پر موجود کامریڈز نے اس عمل کی حقیقت کو ہر ایک موقع پر لوگوں کے سامنے ایکسپوز کیا اور وہاں کے غریب عوام کے ساتھ کھڑے رہے اور جبر کا نشانہ بھی بنتے رہے۔ مگر اب وہی خطہ مارکسی نظریات اور قوتوں سے لیس ہو رہا ہے اور اس سلسلے میں 13، 14 اور 15جولائی کو تین روزہ نیشنل مارکسی سکول کا انعقاد سوات میں کیا گیا۔جس میں پورے پاکستان سے 225کامریڈز شامل ہوئے۔

مئی میں ہالینڈے کے اقتدار میں آنے کے بعدسے فرانس میں بیروزگاری کی شرح ہر مہینے تیزی سے بلند ہوتی چلی جارہی ہے۔اس وقت یہاں بیروزگاروں کی تعدادتیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔اگر ہم ان میں وہ لوگ بھی شمارکرلیں کہ جو محض چند گھنٹوں کی جاب کررہے ہیں یا جنہیں کوئی باقاعدہ روزگار میسر نہیں ہے تو یہ تعدادساڑھے چارملین تک جا پہنچتی ہے۔اندازہ لگایاگیاہے کہ مزید دس لاکھ افراد روزگار سے باہرہیں۔وہ مراعات سے بھی محروم ہیں اور ان کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی۔اس بات کے بہت ہی کم امکان ہیں کہ مستقبل قریب تک بیروزگاری کی شرح میں یہ اضافہ کسی طور بھی کم ہو پائے گا۔آنے والے دنوں میںCitro235n-PSAآٹھ ہزار روگار ختم کررہی ہے،جبکہ ائرفرانس بھی پانچ ہزار روزگار ختم کرنے کا ارادہ کئے ہوئے ہے۔ان کے علاوہAlcatel-Lucent, Sanofi, SFR, Bouygues Telecom, Hewlett-Packard, Conforama, Doux, Groupama, Puma, Castorama, Novandie, Nouvelles Fronti232resسمیت کئی دوسرے ادارے اور کاروبار بھی اپنے کام کرنے والوں کی تعداد کم کرنے کے اعلانات کرچکے اور کرتے چلے جارہے ہیں۔اکیلے تعمیرات کے شعبے میں ہی سے 2012ء کے دوران35000روزگارختم ہونے جارہے ہیں۔اولاندے حکومت اس کیفیت میں مکمل بے بس ولاچار نظر آنے کا تاثر دے رہی ہے لیکن حقیقت میں بات کہیں آگے کی ہے۔اولاندے اور اس کی کابینہ کے لوگوں نے سرمایہ دارانہ نظام کا قیدی بننے کا رضاکارانہ فیصلہ کر رکھاہے۔ اور وہ بھی ایک ایسی حالت میں کہ جب یہ نظام زوال پذیری کی زد میں آیاہواہے۔بلاشبہ امیر، امیرتر ہوتے چلے جارہے ہیں اور ان کیلئے کوئی بھی بحران،بحران نہیں ہے۔لیکن ان کا یہ نظام قائم ہی اس شرط پر ہے کہ باقی سماج ان کی اس امارت کیلئے قیمت اداکرتا رہے۔

آج 7اکتوبر 2012ء کو وینزویلا میں ہو رہے انتخابات تاریخ ساز اہمیت کے حامل ہیں۔ ان انتخابات کے تنائج کے اثرات نہ صرف وینزویلا اور لاطینی امریکہ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے بلکہ ان سرحدوں کے پار بہت دور تک عوام کے شعور اور طبقاتی جدوجہد کی رفتار پر اثر انداز ہوں گے۔یہ حادثاتی طور پر یا محض کوئی اتفاق نہیں ہے کہ مغربی سامراجی ممالک کے حکمران اشرافیہ کے ماہرین، منصوبہ سازوں اور میڈیا کی ان انتخابات کے نتائج میں بہت زیادہ دلچسپی اور توجہ مرکوز ہے۔ ان کی جانب سے شاویز کو ڈکٹیٹر، جابر، مطلق العنان حاکم، منشیات کا سوداگر، امریکہ کا دشمن اور دہشت گردجیسے القابات سے نوازا گیا ہے۔ان کی پیش کردہ تصویر کے مطابق وینزویلاایک پر تشدداور غیر محفوظ ملک ہے جہاں جرائم، کرپشن اور افرا تفری کا راج ہے،لیکن وہ گزشتہ دہائی کی شاندار کامیابیوں اور سماجی ترقی یا ماضی کی حکومتوں سے ورثے میں ملنے والی سماجی عدم مساوات کی وجوہات کا ذکر نہیں کرتے۔ شاویز کے خلاف یہ توہین آمیز حملے بے سبب نہیں۔ وہ بولیویرین تحریک کی فتح سے خوفزدہ ہیں۔ ایران، شمالی کوریا اور اسلامی بنیاد پرستی وغیرہ کے خلاف ان کی لفاظی کی حقیقت کچھ اور ہے۔

گزشتہ شام سرمایہ داروں کا دلال میڈیا جس وقت تصویر کا دوسرا رخ پیش کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا، ہوگو شاویز کی الیکشن کیمپین کے اختتام پر مرکزی کاراکاس کی شاہراہیں سرخ طوفان کی زد میں تھیں۔

آج 3اکتوبر کو اچانک شروع ہونے والے بڑے مظاہرے میں ہزاروں افراد تہران کے بازار میں سڑکوں پر نکل آئے۔نعرے لگاتے ہوئے مظاہرین پورے بازار میں پھیل گئے اور ایک بنک کی عمارت کو تباہ کر دیا۔مظاہرے دراصل حالیہ عرصے میں ہونے والی تیز ترین مہنگائی، ایرانی ریا ل کے انہدام اور حکومت کی جانب سے ان دونوں حقیقتوں کو تسلیم نہ کرنے کے خلاف تھے۔

28ستمبر کو بر صغیر کے معروف ترین انقلابی بھگت سنگھ کا 105واں یومِ پیدائش تھا۔ لڑاکا جدوجہد کے ذریعے انقلابی تبدیلی اور برطانوی راج کا تختہ الٹنے کی اس کی دلیرانہ جدوجہد کئی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ 23مارچ 1931ء کی صبح طلوعِ آفتاب کے وقت،23 برس کی کم سن عمر میں سامراجی غاصبوں نے بھگت سنگھ کو موت کی نیند سلا دیا، لیکن وہ اس خطے کی طبقاتی جدوجہد کی تاریخ میں امر ہو گیا۔ مارکسی تھیوری کو سمجھنے اورانقلابی کیڈر بنانے کے لیے قید اورشدید سیاسی سرگرمی کے دوران اپنے ساتھیوں کی تربیت کرنے کا جذبہ اس کی ان تھک جدوجہد کا خاصا تھا۔

سولہ برس قبل 20ستمبر1996ء کی شام جب رات میں ڈھل رہی تھی، اس وحشی ریاست نے بیالیس سالہ میر مرتضیٰ بھٹو کا بدن گولیوں سے چھلنی کر دیا۔ اسے پاکستانی سیاست کی سب سے معروف رہائش گاہ ، اس کے گھر 70کلفٹن کراچی کے سامنے اسکے چھ ساتھیوں کے ہمراہ موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اس پر ستم یہ ہے کہ اس وقت اس کی بہن ملک کی وزیر اعظم اور چیف ایگزیکٹیو تھی۔ اس دن سے سازش کی ان گنت تھیوریاں (Conspiracy Theories)اور الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن کوئی بھی مجرم پکڑا نہیں گیا اور نہ ہی کوئی قانونی کاروائی ہوئی ہے ۔ ریاستی اداروں کے جن افراد کو اس قتل میں نامزد اور گرفتار کیا گیا تھا وہ آج بھی آزاد پھر رہے ہیں۔