’پارٹی ڈسپلن‘‘ کی خلاف ورزی پر اے این پی سے حال ہی میں نکالے گئے سابق وفاقی وزیر، اعظم خان ہوتی نے پارٹی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ 28 اکتوبر کو پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اسفند یار ولی، افراسیاب خٹک اور ان کے ٹولے نے ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض پشتون قوم کا سودا کیا ہے، یہ لوگ اے این پی کے 800شہدا کے خون سے اپنے محلوں کے چراغ روشن کر رہے ہیں، پچھلے پانچ سالوں میں اے این پی کو فروخت کیاگیا، افراسیاب خٹک نے امریکہ سے خفیہ معاہدہ کروایا۔ ۔ ۔‘‘ دوسری طرف اے این پی کی قیادت نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور اعظم ہوتی کے ہی بیٹے امیر حیدر ہوتی سے جوابی پریس کانفرنس کروائی ہے جس میں امیر ہوتی نے اپنے والد کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ماموں اسفند یار پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اس خاندانی لڑائی کے منظر عام پر آنے سے اے این پی اور خیبر پختونخواہ میں ایک سیاسی اور ثقافتی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔

جنگ کے شروع ہونے سے پہلے تک بالشویک پارٹی سوشل ڈیموکریٹک انٹرنیشنل کا حصہ تھی۔ 4 اگست 1914ء کو جرمنی کی سوشل ڈیموکریسی نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد یہ تعلق ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا اور بالشویزم اور سوشل ڈیموکریسی کے درمیان ایک نا ختم ہونے والا اور غیر مصالحانہ جدوجہد کا دور شروع ہو گیا۔

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں ہر سربراہ مملکت کا سب سے زیادہ توجہ طلب بیرونی دورہ، امریکہ کا ہوتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں رائج معاشی، سماجی اور اقتصادی نظام کا عالمی سطح پر حتمی آقا امریکہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ تاریخ کی سب سے طاقتور معاشی و سیاسی قوت اور دنیا کا پولیس مین بن کر ابھرا تھا۔ اس سے پیشتر یہ کردار بڑی حد تک برطانوی سامراج ادا کرتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ماسوائے پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملے کے، امریکی سرزمین جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی تھی لیکن جنگ کے پانچ سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ میں حالت جنگ کے ایمرجنسی قوانین نافذ رہے۔ ان جبری قوانین کے ذریعے امریکی محنت کشوں کے حقوق صلب کئے گئے اور ان کے بھرپور استحصال سے بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کی شکل میں قدر زائد کا ذخیرہ جمع کیا گیا۔ عالمی جنگ کے اختتام تک یورپ اور جاپان برباد ہوچکے تھے۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے برطانیہ اوریورپ کی دوسری سامراجی قوتوں کی معاشی، صنعتی اور عسکری طاقت مفلوج ہو چکی تھی چنانچہ عالمی سرمایہ داری کو بچانے اور سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدودکرنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ جیمز مارشل نے یورپ اور جاپان کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا جسے ’’مارشل پلان‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارشل پلان کے تحت جنگ کے دوران اکٹھی ہونے والی امریکی صنعتی پیداوار کو یورپ اور دوسرے تباہ حال ممالک میں صرف کرکے امریکی سرمایہ داروں نے بے پناہ مالیاتی فائدہ اٹھایا اور یوں امریکہ دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا۔ ساری سرمایہ دارانہ دنیا اس کی مقروض ہوچکی تھی چنانچہ امریکہ نے عالمی پولیس مین اور غالب سامراج کا رتبہ حاصل کر لیا۔