پاکستان کی حکمران سیاسی اشرافیہ ایک مرتبہ پھر انتخابات میں حصہ لینے کے لیے سرگرم ہے۔ میڈیا ان انتخابات کے گرد بحثوں کو بڑھاوا دے رہاہے۔ ایک طرف دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر انتخابات کے انعقاد کے بارے میں ہی خدشات کا اظہار کیا جارہاہے تو دوسری طرف جمہوریت اور انتخابات کے لیے ہر کوئی زیادہ سے زیادہ جتن کرنے کے ناٹک کر رہا ہے۔ عوام کو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہ انتخابات ان کے تمام مسائل حل کر دیں گے۔ ان کو اتنا مخدوش اس لیے بنایا جارہا ہے کہ محنت کش ان کے لیے ترسیں اور بلک بلک کر ان حکمرانوں اور ان کی پروردہ ریاست سے ان انتخابات کے انعقاد کے لیے فریاد کریں۔

9 اور 10مارچ کو ’’طبقاتی جدوجہد‘‘ کی 32ویں کانگریس کے موقع پر پاکستان بھر سے ہزاروں مارکسسٹ ایوان اقبال لاہور میں اکٹھے ہوئے۔ ہم اپنے قارئین کے لئے اس کانگریس کی مکمل رپورٹ شائع کرر ہے ہیں۔

كما شرحنا في الجزء الأول، الثورة العربية أسقطت عدة أنظمة استبدادية، ولكن بسبب غياب بديل ثوري عمالي واضح، تم ملئ الفراغ من قبل الأحزاب الإسلامية. ولكن فور وصولها إلى السلطة، بدأت هذه القوى تكشف عن طبيعتها الحقيقة الرجعية، وبذلك أعدت الأرضية لموجة ثانية من الحراك. مما أثر على سوريا وباقي دول المنطقة؟

’’ہر گزرتے دن کے ساتھ میرا یقین اس بات پر پختہ ہو تا جارہا ہے کہ انسانیت کو اب سرمایہ دارانہ سماج سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ لیکن سرمایہ دارانہ طریقوں سے سرمایہ داری کا خاتمہ ممکن نہیں بلکہ ایسا سوشلزم کے ذریعے ہی کیا جاسکتا ہے، حقیقی سوشلزم کے ذریعے جو برابری اور انصاف پر مبنی ہو۔ میں اس بات کا بھی قائل ہوں کہ ایسا جمہوری طریقہ کار سے کیا جاسکتا ہے، لیکن وہ جمہوریت نہیں جو واشنگٹن دنیا بھر پہ تھونپتا ہے۔‘‘ (ہوگو شاویز، 31 جنوری 2005)

دنیا کی انتہائی منافع بخش ملٹی نیشنل کمپنی کوکا کولاپاکستان میں بھی اپنے شرح منافع کے لئے مزدوروں کا بدترین استحصال کر رہی ہے۔ اس منافع بخش ادارے میں ملازمین کو روزگار کا تحفظ حاصل نہیں جس کی وجہ سے آئے دن جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے۔کوکاکولا گوجرانوالہ میں 600 سے زائد ورکر ڈیلی ویجز پر ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کر رہے ہیں جن کی تنخواہ سرکاری طورپر 9000 روپے ظاہر کی جاتی ہے لیکن انہیں 5سے 6ہزار روپے ماہانہ ادا کیے جاتے ہیں۔

مورخہ 6 فروری کی صبح بائیں بازو کے نمایاں رہنما چوکری بیلید کو ان کے گھر کے سامنے قتل کر دیا گیاجس کے رد عمل میں ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور حکمران جماعت النہدا پارٹی کو قتل کا ذمہ دار گردانتے ہوئے اسکے دفاتر کو آگ لگا دی۔

بلوچستان میں ہزارہ اہلِ تشیع کے ہولناک، بے رحم اور لامتناہی قتل عام نے اس خطے میں بھڑکتی ہوئی آگ، قومی سوال اور فرقہ وارانہ تصادم کی پیچیدگی کو ایک مرتبہ پھر انتہائی دلخراش انداز میں بے نقاب کر دیا ہے۔

شاویز کی خرابی صحت کو بہانہ بنا کر وینزویلا کے حکمران طبقات اور سامراج نے بولیویرین انقلاب کو کمزورکرنے کی اپنی مہم کو اور بھی تیز کردیاہے جس سے محنت کش طبقے اور غریبوں کا غم و غصہ پھٹنے کے امکانات بھی بڑھ گئے ہیں۔

ریاست کے کچھ حصوں، سامراج اور حکمران طبقات کے دھڑوں کی جانب سے حقیقی انقلابی تحریک کو دبائے رکھنے اور اسے منقسم کرنے کے لیے تحریک کے نام پر ایک اور ڈھونگ رچایا جا رہا ہے۔ دائیں بازو کے پر جوش خطیب مولا ناطاہر القادری کے ’لانگ مارچ‘ پر کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے پانی کی طرح بہائے جار ہے ہیں۔ پیسو ں کے ڈھیر تلے دب چکے سرمایہ دارانہ میڈیا پر بہت بڑی مہم شروع ہے جس سے لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے پہلے سے خوفزدہ حکمران ہیجان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ ٹی وی سے شہرت پانے والے اس شخص کے راتوں رات عروج پر سماج میں کئی طرح کی سازشی تھیوریاں اور قیاس آرائیاں گردش کر رہی ہیں۔

کسی بھی انقلابی پارٹی کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار فیصلہ کن حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ مارکسزم لینن ازم کے نظریات سے مسلح ہو کر ہی نوجوان اپنی تمام تر توانائیوں کو مجتمع کرتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام پر کاری ضربیں لگا کر اسے پاش پاش کر سکتے ہیں۔ لینن نے نظریاتی تعلیم و تربیت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’انقلابی تھیوری کے بغیر کوئی انقلابی تحریک نہیں چل سکتی‘‘۔ انقلابی سوشلزم اور مارکسزم کے نظریات کی پیاس کو بجھانے اور نظریاتی تعلیم و تربیت کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے ملک بھر سے بڑی تعداد میں نوجوان گزشتہ دنوں کینجر جھیل (ٹھٹھہ) کے کنارے جمع ہوئے جہاں 7، 8 اور 9 دسمبر کو نیشنل مارکسی سکول کا انعقاد کیا گیا۔ انقلابی جوش و جذبے نے ہزاروں کلو میٹر کے فاصلے سمیٹ کر رکھ دئیے اور مہنگائی و بیروزگاری کے اس عہد میں تما م تر مالی مشکلات کے باوجود 180 سے زائد کامریڈز نے سکول میں شرکت کی۔