اسلام آباد سے مظفر آباد جاتے ہوئے کوہالہ پل سے دریائے نیلم پار کیا جاتا ہے۔ جہاں کشمیر کے پہاڑوں، دریاؤں اور وادیوں کی خوبصورتی دل کو لبھاتی ہے وہاں خستہ حال انفراسٹرکچر اپنی بوسیدگی کا احساس دلاتا ہے۔ کسی بھی ذی شعورانسان کو اس جنت بے نظیر کے قدرتی حسن سے زیادہ یہاں کے باسیوں کی بدحالی کی طرف متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ چشموں کی فراوانی کے باوجود پینے اور استعمال کے پانی کا حصول ایک مشقت طلب کام ہے۔ سڑکیں ایک طرف سے بننا شروع ہوتی ہیں تو دوسری طرف سے ٹوٹنے لگتی ہیں۔ علاج معالجے کی سہولیات برائے نام ہیں۔ روزگار نا پید ہے۔ غربت عام ہے۔

’’اگر منڈیلا اور شاویز کی وفات پر سامراج کے سرخیل جریدے اکانومسٹ کی کوریج دیکھیں تو یہ محسوس ہوتا ہے جیسے منڈیلا ہیرو تھا اور شاویز ولن‘‘

کارل مارکس 5 مئی 1818ء کو شہر ترید (دریائے رائن کے کنارے والے پروشیا) میں پیدا ہوئے۔ مارکس کے باپ ایک یہودی وکیل تھے جنہوں نے 1824ء میں مسیحی فرقے پروٹسٹنٹ کا مذہب قبول کر لیا۔ پورا گھرانہ خوش حال تھا، مہذب تھا مگر انقلابی نہیں تھا۔ ترید میں جمنازیم کی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد مارکس نے یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ پہلے بون میں پھر برلن یونیورسٹی میں، انہوں نے قانون کی تعلیم حاصل کی اور خاص طور سے تاریخ اور فلسفہ کا مطالعہ کیا۔ 1841ء تک ان کی باقاعدہ طالب علمی آخری منزل کو پہنچ گئی اورانہوں نے ایپیکیوریس کے فلسفے پر اپنا تحقیقی مقالہ ڈاکٹری کی سند حاصل کرنے کے لئے پیش کر دیا۔ خیالات کے لحاظ سے کارل مارکس اس وقت تک فلسفی ہیگل کے عینی ( خیال پرستانہ) نظریے کو مانتے تھے۔ برلن میں بھی ان کا حلقہ ’’ہیگل کے بائیں بازو والے حامیوں‘‘ کا تھا (مثلاً برونو باؤئر وغیرہ)۔ ان لوگوں کی کوشش یہ رہتی تھی کہ ہیگل کے فلسفے سے لا مذہبیت کے خیالات اور انقلابی نتیجے اخذ کریں۔

وینزویلا میں 8 دسمبر کو بلدیاتی الیکشن ہونے جارہے ہیں اور اس سے پہلے ہی وہاں افواہ سازی، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری، اشیا کی قیمتوں میں بدترین اضافے اور معیشت کو سبوتاژکرنے کی کوششیں بھی اپنی انتہاکو پہنچ چکی ہیں۔ وینزویلاکے صدرماڈورونے اس سارے عمل کوحکومت کے خلاف ایک ’’سست رفتار بغاوت‘‘ (Slow Motion Coup) قراردیاہے۔ سرمایہ داروں اور سامراجیوں کے ایسے اقدامات کے نتیجے میں پچھلے کئی سالوں کے دوران افراط زر کی شرح 74 فیصد جبکہ اشیا کی قلت کی شرح22فیصد تک جا چکی ہے۔

بجلی، پٹرولیم اور اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد شاید کوئی کسر باقی رہ گئی تھی کہ اب دوا ساز کمپنیوں کی ’’پرزور فرمائش‘‘ پر ادویات کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا جارہا ہے۔ پاکستان میں ادویات اور علاج معالجے کی سہولیات عام آدمی کی پہنچ سے پہلے ہی باہر ہیں۔ مسلم لیگ کی حکومت ہر چیز کی قیمت میں اضافہ کررہی ہے۔ سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے منافعے اور اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں جبکہ محنت کشوں کی اجرتیں اور غریب عوام کی آمدن میں اضافے کی بجائے کمی ہورہی ہے۔

23 نومبر کو جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ کے قریب کامونکی میں واقع ماسٹر ٹائل کے گیٹ کے سامنے سینکڑوں برطرف ملازمین نے پر زور احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران فیکٹری میں کام کرنے والے محنت کش بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے اور فیکٹری میں ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا جس کے نتیجے میں فیکٹری میں کام بند ہوگیا۔

بالشویک انقلاب کی 96ویں سالگرہ کے موقع پر کامریڈ لال خان حیدر آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بالشویک انقلاب کی حاصلات اور سوویت یونین کی زوال پزیری کی وجوہات پر روشنی ڈال رہے ہیں۔

صدیوں سے حکمران روس کے ظالم اور جابر بادشاہوں کی سرزمین پر جنہیں زار کہا جاتا تھا اکتوبر 1917ء کا انقلاب انسانی تاریخ کا سب سے اہم واقعہ تھا۔ پہلی دفعہ محنت کش، محروم اور صدیوں سے ظلم اور استحصال کا شکار اکثریت نے براہ راست اقتدار پر قبضہ کیا اور ایک مزدور ریاست تشکیل دی۔ عوام کے لیے روٹی، کپڑا، مکان، علاج اور تعلیم سمیت تمام بنیادی ضروریات کا مسئلہ حل ہوا اورانسان تسخیر کائنات کی راہ پر گامزن ہوا جس میں پہلی دفعہ کوئی شخص اس کرہ ارض کی حدود سے باہر نکل کر خلا میں داخل ہوا۔

ڈرون حملے ہوں یا ملالہ کی کتاب کا ’’معمہ‘‘، میڈیا پر ہونے والی ہر بحث و تکرار کو موجودہ نظام کی حدود و قیود تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ آزاد خیال اور قدامت پرست، دونوں طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی عقل اور دانش سرمایہ داری کی اخلاقیات، سیاسیات اور معاشیات سے آگے دیکھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں۔ اسلامی پارٹیاں اور دایاں بازو اس سماجی جمود کے عہد میں معاشرے پر چھائی ظاہری رجعت کے بلبوطے پر جارحانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مذہبی اور دائیں بازو کے یہ دانشور امریکی سامراج کے جبر و استحصال کے خلاف پائی جانے والی عوامی نفرت کو بنیاد پرستی کے راستوں پر ڈال کر سماج کو ماضی بعید کے اندھیروں میں غرق کر دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے معاشی بحران، سیاسی انتشار اور سماجی خلفشار نے عوام کی نفسیات کو شل کر کے سیاسی بے حسی کی کیفیت کو جنم دیا ہے۔ لیکن ان اذیت ناک حالات میں بھی عام آدمی کے لئے رجعتی سیاست دانوں کے دلائل میں کوئی کشش موجود نہیں ہے۔ ’’غیر سول‘‘ سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے یہ کروڑوں ’’جاہل‘‘ انسان اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ماضی کے تعصبات اور مذہبی بنیاد پرستی میں ان کے مسائل کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔ چنانچہ سماج کی بھاری اکثریت رجعتی ملاؤں اور مذہبی رہنماؤں سے نہ تو متاثر ہے اور نہ ہی ان کی سیاسی حمایت کرتی ہے۔ دوسری طرف وہ لبرل اور سیکولر حضرات ہیں جنہیں کسی انقلابی تبدیلی کا کوئی ادراک نہیں، اگر کبھی تھا تو یہ لوگ اس سے منحرف ہوچکے ہیں۔ یہ لبرل دانشور جب ’’میڈیا مناظروں‘‘ امریکی سامراج کے بارے میں معذرت خواہانہ رویہ اپناتے ہیں تو مذہبی عناصر بغیر کسی منطقی دلیل کے بھی اپنے آپ کو سرخرو سمجھتے ہیں۔

’پارٹی ڈسپلن‘‘ کی خلاف ورزی پر اے این پی سے حال ہی میں نکالے گئے سابق وفاقی وزیر، اعظم خان ہوتی نے پارٹی قیادت پر بدعنوانی کے الزامات عائد کئے ہیں۔ 28 اکتوبر کو پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’اسفند یار ولی، افراسیاب خٹک اور ان کے ٹولے نے ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے عوض پشتون قوم کا سودا کیا ہے، یہ لوگ اے این پی کے 800شہدا کے خون سے اپنے محلوں کے چراغ روشن کر رہے ہیں، پچھلے پانچ سالوں میں اے این پی کو فروخت کیاگیا، افراسیاب خٹک نے امریکہ سے خفیہ معاہدہ کروایا۔ ۔ ۔‘‘ دوسری طرف اے این پی کی قیادت نے سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ اور اعظم ہوتی کے ہی بیٹے امیر حیدر ہوتی سے جوابی پریس کانفرنس کروائی ہے جس میں امیر ہوتی نے اپنے والد کی مذمت کرتے ہوئے اپنے ماموں اسفند یار پر لگائے گئے تمام الزامات کو مسترد کیا ہے۔ اس خاندانی لڑائی کے منظر عام پر آنے سے اے این پی اور خیبر پختونخواہ میں ایک سیاسی اور ثقافتی طوفان کھڑا ہوگیا ہے۔

جنگ کے شروع ہونے سے پہلے تک بالشویک پارٹی سوشل ڈیموکریٹک انٹرنیشنل کا حصہ تھی۔ 4 اگست 1914ء کو جرمنی کی سوشل ڈیموکریسی نے جنگ کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد یہ تعلق ہمیشہ کے لئے ٹوٹ گیا اور بالشویزم اور سوشل ڈیموکریسی کے درمیان ایک نا ختم ہونے والا اور غیر مصالحانہ جدوجہد کا دور شروع ہو گیا۔

پاکستان کی 66 سالہ تاریخ میں ہر سربراہ مملکت کا سب سے زیادہ توجہ طلب بیرونی دورہ، امریکہ کا ہوتا ہے۔ اسکی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں رائج معاشی، سماجی اور اقتصادی نظام کا عالمی سطح پر حتمی آقا امریکہ ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ تاریخ کی سب سے طاقتور معاشی و سیاسی قوت اور دنیا کا پولیس مین بن کر ابھرا تھا۔ اس سے پیشتر یہ کردار بڑی حد تک برطانوی سامراج ادا کرتا تھا۔ دوسری عالمی جنگ کے دوران ماسوائے پرل ہاربر پر جاپانی فضائی حملے کے، امریکی سرزمین جنگ کی تباہ کاریوں سے محفوظ رہی تھی لیکن جنگ کے پانچ سال سے زائد عرصے کے دوران امریکہ میں حالت جنگ کے ایمرجنسی قوانین نافذ رہے۔ ان جبری قوانین کے ذریعے امریکی محنت کشوں کے حقوق صلب کئے گئے اور ان کے بھرپور استحصال سے بڑے پیمانے پر صنعتی پیداوار کی شکل میں قدر زائد کا ذخیرہ جمع کیا گیا۔ عالمی جنگ کے اختتام تک یورپ اور جاپان برباد ہوچکے تھے۔ جنگ کی تباہ کاریوں سے برطانیہ اوریورپ کی دوسری سامراجی قوتوں کی معاشی، صنعتی اور عسکری طاقت مفلوج ہو چکی تھی چنانچہ عالمی سرمایہ داری کو بچانے اور سوویت یونین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدودکرنے کے لئے امریکی وزیر خارجہ جیمز مارشل نے یورپ اور جاپان کی تعمیر نو کا منصوبہ پیش کیا جسے ’’مارشل پلان‘‘ کہا جاتا ہے۔ مارشل پلان کے تحت جنگ کے دوران اکٹھی ہونے والی امریکی صنعتی پیداوار کو یورپ اور دوسرے تباہ حال ممالک میں صرف کرکے امریکی سرمایہ داروں نے بے پناہ مالیاتی فائدہ اٹھایا اور یوں امریکہ دنیا کا امیر ترین ملک بن گیا۔ ساری سرمایہ دارانہ دنیا اس کی مقروض ہوچکی تھی چنانچہ امریکہ نے عالمی پولیس مین اور غالب سامراج کا رتبہ حاصل کر لیا۔

Upcoming Events
No events found