7 اپریل 2013ء کو نشر ہونے والے نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں کامریڈ لال خان، کامریڈ فریڈ ویسٹن اور کامریڈ کلاڈیو  بیلوٹی پاکستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں سیاسی  تبدیلی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کر ہے ہیں۔

چار اپریل کو پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کی چونتیسویں برسی منائی گئی۔ 1979ء کو اس روز پاکستان کی تاریخ کے ظالم ترین آمر ضیا الحق نے انہیں تختہ دار پر قتل کر دیالیکن اگر ہم پیپلز پارٹی کے 1970ء اور 2013ء کے انتخابی منشوروں کا موازنہ کریں تو ان دستاویزات کی معاشی، سماجی اور طبقاتی سیاست میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ حالیہ برس میں آنے والے انتخابات پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ اقتدار کے بعد منعقد ہو رہے ہیں۔ اس مخلوط حکومت کے دوران معاشی وسیاسی پالیسیاں تباہ کن رہی ہیں اور پیپلز پارٹی کے کئی پرانے کارکنان کو بھی یہ ماننے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ حکومت اور اسمبلیوں کے پانچ سال مکمل کر لینے کو بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے اور جشن منایا جارہا ہے کہ جمہوری حکومت اور انتقالِ اقتدار میں کسی اور ادارے (یعنی فوج) نے مداخلت نہیں کی۔

مارکسزم کی سچائی کو آج پوری دنیا کے حالات ثابت کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام آج حالتِ مرگ کو پہنچ چکا ہے۔ گزشتہ سال 2011ء انقلابی اٹھانوں کا سال تھا اور ان تمام تر انقلابی تحریکوں نے ثابت کیا کہ یہ نظام انسانوں کو سہولتیں دینے سے قاصر ہو چکا ہے اور اس نظام میں انسانی سماج کو آگے بڑھانے کی سکت ختم ہو چکی ہے۔ مگر یہ اپنی نزع کے عالم میں بھی ہر طرف بربادیاں بکھیر رہا ہے اور نسلِ انسانی ان اذیتوں سے کراہ رہی ہے۔ ...

پاکستان پوسٹ آفس ڈائریکٹوریٹ جنرل ایمپلائز یونین اسلام آباد کے انتخابات 11 مارچ 2013 کو منعقد ہوئے۔ انتخابی نتائج کے مطابق PTUDC کے کامریڈز کے انقلابی گروپ نے 70% ووٹ لیکر پیپلز پارٹی قیادت اور نام نہاد ’انقلابیوں‘ کے حمایت یافتہ اتحاد گروپ کو تاریخ کی شرمناک شکست سے دوچار کیا۔ ممکنہ شکست سے بچنے کے لئے اتحاد گروپ نے حالیہ انتخابات کورکوانے کی ہر ممکن کوشش کی اور پیپلز پارٹی کی وفاقی وزارتِ اطلاعات اور پیپلز لیبر فیڈریشن کے حکومتی آشیرباد سے ہائیکورٹ اور NIRC میں دو دفعہ ان انتخابات کے خلاف حکمِ امتناہی حاصل کیا۔

تیرے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن

تو اس  آنچل  سے  اک  پرچم  بنا  لیتی  تو  اچھا تھا

مجاز لکھنوی کی یہ نظم 1930ء کی دہائی میں لکھی گئی تھی لیکن اس میں تحریر سے نصف صدی قبل افغانستان کے ایک واقعے کی گونج سنائی دیتی ہے۔میوند کی ملالئی جولائی 1880ء میں میدان جنگ میں ماری گئی جب اس کی عمر صرف 17سال تھی اور وہ برطانوی اور ہندی افواج کے خلاف دوسری افغان جنگ میں برسرِ پیکار تھی۔ کہا جاتا ہے کہ ملالئی نے، جسے ملالہ بھی کہا جاتا ہے،اپنے دوپٹے سے عَلم بنایا اور زندگی و موت کی جدوجہد میں اپنے افغان ساتھیوں قیادت کی۔

پیپلز پارٹی2013ء کی انتخابی مہم کا آغاز چیئر مین ذولفقار علی بھٹو کے 34 ویں یومِ شہادت (4 اپریل)  کو کر رہی ہے۔ ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت اور خصوصاً ان کی شہادت اس ملک کی طبقاتی کشمکش کی تاریخ میں بے پناہ اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی نسبت سے وہ پاکستان کی عوامی سیاست میں ایک میراث ایک روایت کا درجہ اختیار کر گئے تھے، لیکن ایسی تاریخی روایات روزروز جنم نہیں لیتیں بلکہ ان مخصوص غیر معمولی لمحات، واقعات اور حالات میں ابھرتی ہیں جب محنت کش تاریخ کے میدان میں ایک انقلابی تحریک میں طبقاتی بنیادوں پر یکجا ہو کر اترتے ہیں۔ ایسے حالات میں سماج ایک انقلابی کیفیت میں داخل ہو جاتا ہے اور محنت کش طبقات اس بوسیدہ استحصالی نظام اور اس کی پروردہ سرمایہ دارانہ ریاست کو اکھاڑ کر ایک نئے سماج کی بنیاد رکھنے کی کاوش کرتے ہیں۔ ذولفقار علی بھٹو کی شخصیت کے تاریخ پر نقش ہونے میں بھی اصل کردار 1968-69 ء کے انقلاب کا ہی تھالیکن دوسری جانب ذولفقار علی بھٹو میں بھی غیر معمولی تاریخی لمحات اور عوام کی انقلابی امنگوں کو پرکھنے اور محسوس کرنے کی صلاحیت موجود تھی۔

24 مارچ کو سابق صدر اور جنرل پرویز مشرف کراچی ایئر پورٹ پر پہنچے اور ایک ایسے جلسہ عام سے خطاب کیاجس میں عوام کا شائبہ تک نہیں تھا۔ آئین، قانون اور پارلیمانیت ایسی ہولناک قیاس آرائیاں ہیں جنہوں نے پاکستانی نام نہاد دانشوروں کو عجیب و غریب سیاسی توہمات کا شکار کردیا ہے

نجانے کتنی مرتبہ ہم نے یونیورسٹی پروفیسروں، ماہرینِ معاشیات، سیاست دانوں اور صحافیوں کو یہ دعویٰ کرتے سنا ہے کہ مارکس غلط تھا اوراگرچہ اسے سرمایہ داری کے متعلق تھوڑا بہت علم ضرور تھا لیکن وہ سرمایہ دارانہ نظام کی توانائی اور اسکے بحرانات سے نکل کر ہمیشہ آگے بڑھنے صلاحیت کو سمجھنے میں ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن گزشتہ چند برسوں کے دوران جب یہ نظام تاریخ کے بد ترین بحران میں دھنستا چلا جا رہا ہے تو وقتاً فوقتاً ’ماہرین‘ یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ مارکس درست تھا۔ اس کی تازہ ترین مثال جریدہ ٹائم میں 25 مارچ 2013ء کو چھپنے والا ایک مضمون ہے جس کا عنوان ہے ’مارکس کا انتقام:طبقاتی جدوجہد کے ہاتھوں بدلتی دنیا‘۔

23  مارچ  1931ء کو برطانوی سامراج اور سرمایہ داری سے برِ صغیرِہند کے عوام کی آزادی اور نجات کے انقلابی ہیرو بھگت سنگھ اور اس جدوجہد میں شریک اس کے کامریڈوں سکھ دیو تھاپر اور شیوا رام راج گرو کو لاہور سینٹرل جیل میں تختہ دار پرلٹکا دیا گیا تھا۔ برطانوی سامراجی حکومت اپنے خلاف عوامی تحریک میں بائیں بازو کے ریڈیکل رجحان کے ابھرنے سے بہت خوفزدہ تھی۔ ان نوجوان انقلابیوں کو تو موت کی نیند سلا دیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد ابھرنے والے عوامی غم و غصے اور بغاوت نے نو آبادیاتی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہندوستان کی صورتحال کے متعلق 1932ء میں یہاں آئے ہوئے ایک برطانوی پادری سی ایف اینڈریوز نے لکھا کہ ’’ ہندوستان کی موجودوہ کیفیت انیس سو سال قبل کی سلطنتِ روم جیسی ہے۔ وہاں بھی ظاہری طور پر ایسا ہی شاندار امن قائم تھا،لیکن بظاہر پر امن نظر آنے والے اس علاقے کے اندر ایک سلگتا ہوا خلفشار یک دم آتش فشانی لاوے کی طرح دھرتی کو پھاڑکر باہر آنا شروع ہو گیا ہے‘‘۔

لاہور کے مرکزی علاقے بادامی باغ میں واقع عیسائیوں کی بستی جوزف کالونی میں 178 گھروں کو مذہبی جنونیت کے زیرِ اثر جلا کر راکھ کر دینے کے واقعہ نے ایک مرتبہ پھر سے پاکستانی سماج میں سرائیت شدہ بیماری کو عیاں کر دیا ہے۔ ایک غضب ناک ہجوم کے ہاتھوں ہونے وا لے اس وحشیانہ حملے کی وجہ ایک عیسائی نوجوان کی جانب سے مبینہ طور پر شراب کے نشے میں ایک مسلمان دوست کے ساتھ ہو نے والی تکرار کے دوران کہے گئے ’’توہین آمیز کلمات‘‘ بتائی جا رہی ہے۔