اس سال یوم مئی ایک ایسی نیم مذہبی سرمایہ دارانہ حاکمیت میں منایا جارہا ہے جو محنت کشوں پر معاشی حملوں کی انتہا کررہی ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ پورا کرہ ارض شدید انتشار اور تلملاہٹ سے لرز رہا ہے۔ ایک عہد کی کوکھ سے دوسرا عہد جنم لے رہا ہے۔ 2014ء کا یوم مئی محنت کش طبقے اور نسل انسانی کے مقدر کیلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ رجعت کے ایک ایسے گھناؤنے دور کا اختتام ہورہا ہے جس میں تمام بنیادی انسانی قدریں پامال ہوکر رہ گئی تھیں۔

کرہ ارض پر کوئی ایسا خطہ نہیں جہاں سرمایہ دارانہ نظام کی زوال پذیری سماجی انتشار، بھوک، غربت، جہالت اور اخلاقی پستی کا سبب نہ بن رہی ہو۔ ایسی صورتحال میں محنت کش طبقہ اپنی تقدیر بدلنے کے لیے بارہا روایتی سیاسی پارٹیوں کو ٹھوکر مار کر تاریخ کے میدان میں اترتا رہا ہے لیکن کسی انقلابی قیادت کی عدم موجودگی میں یہ تحریکیں وقتی طور پر پسپائی کا شکار ہو رہی ہیں۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف کمیونسٹ مینی فیسٹو میں لکھا تھا کہ ’’انسانی سماج کی تمام تاریخ طبقاتی کشمکش کی تاریخ ہے۔‘‘ حکمران طبقہ مختلف حیلے بہانوں سے کبھی ملکی سالمیت اور حب الوطنی کا واسطہ دے کر تو کبھی مذہبی تعصب اور قومیت کے نعروں سے محنت کش طبقے کو تقسیم کر کے کچلتا ہے مگر پھر تاریخ میں وہ لمحے بھی آتے ہیں جب دہائیوں پر مشتمل استحصال اور محرومیوں کی مقدار کسی معمولی سے واقعے سے بھی معیار میں بدل جاتی ہے۔ انقلابی تحریکیں ایسے ہی حالات میں جنم لیتی ہیں۔

گلگت بلتستان میں گندم کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شروع ہونیوالی احتجاجی تحریک اپنے فوری مطالبات سے آگے بڑھ کرسول نافرمانی اور انقلابی بغاوت کی جانب بڑھ رہی ہے۔ گلگت کے گڑی باغ چوک اور سکردو کے یادگار چوک (جسے مظاہرین نے تحریر اسکوائر کا نام دیا ہے) میں ہزاروں افراد گزشتہ دو ہفتوں سے گندم کی سبسڈی میں خاتمے کے ساتھ ساتھ مہنگائی، بیروزگاری، لوڈ شیڈنگ، ریاستی جبر اور استحصال کے خلاف دھرنا دئیے ہوئے ہیں جبکہ دوسرے علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں لوگ اس دھرنے میں شامل ہورہے ہیں۔