4اگست کوشام 5:41پر صدر ماڈورو پر اس وقت قاتلانہ حملہ ہوا جب وہ ایک فوجی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔اس حملے میں صدر ماڈورو محفوظ رہے جبکہ نیشنل گارڈ کے سات ا ہلکارزخمی ہوئے ۔حملے کے بعد ٹی وی پر اپنے خطاب میں ماڈورو نے اس حملے کی ذمہ داری کولمبیا کے صدر یوان مینوئل سانتوز پر ڈال دی جو خطے میں امریکی سامراج کا گماشتہ ہے۔اس کے بعد ’ وینزویلا کی’ٹی شرٹ میں سپاہی‘‘ نامی ایک انتہائی دائیں بازو کی دہشت گرد تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔اس حملے سے واضح ہو گیا ہے کہ سامراجی طاقتیں کھل کر وینزویلا کی حکومت کیخلاف سازشیں کر رہی ہیں اور اس کا خاتمہ چاہتی ہیں ۔ اس عمل کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے۔ دوسری جانب خود حکومت کی غلط پالیسیوں کے باعث بحران بڑھتا جا رہا ہے اور معیشت دیوالیہ ہو چکی ہے۔ادھورے انقلاب کے یہی نتائج نکلتے ہیں جس میں سرمایہ دار ی کو مکمل طور پر اکھاڑ کر مزدور ریاست نہیں قائم کی گئی اور ابھی تک حکومت سرمایہ دارانہ پالیسیوں کو لاگو کر رہی ہے۔

لینن نے ایک مرتبہ ’’عالمی سیاست میں آتشیں مواد‘‘ کے نام سے ایک مضمون تحریر کیا تھا۔ لیکن آج کی عالمی صورتحال میں جتنا آتشیں مواد موجود ہے اس کا شاید اس بالشویک قائد نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔ جہاں نظر دوڑائیں عدم استحکام، شورش اور بربادی موجود ہے: روس اور یوکرائن تنازعہ؛ شام کی خونریز خانہ جنگی؛ ایران، اسرائیل اور سعودی عرب تنازعہ؛ فلسطین کا سلگتا سوال؛ اور افغانستان میں تاحال جاری طویل ناقابل حل جنگ۔

ترک معیشت نامیاتی بحران اور عدم استحکام کی کیفیت میں داخل ہو چکی ہے۔ امریکہ کے ساتھ تیز تر ہوتی سیاسی چپقلش کے نتیجے میں ترک اسٹیل اور ایلومینیم پر امریکی تادیبی محصولات لاگو ہونے کی وجہ سے ترک لیرا کی قدر میں تیز ترین گراوٹ واقع ہوئی ہے۔ اپنی پست ترین سطح پر لیرا کی قدر اس سال جنوری کے مقابلے میں 40 فیصد کم تھی۔ اس کے بعد کرنسی کی قدر میں پیدا ہونے والے نام نہاد ’’استحکام‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے ایک ڈالر کے بدلے میں اب 30 فیصد زیادہ لیرا حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

4 اگست کو شام 5 بج کر 41 منٹ پر اس روسٹرم کے قریب ایک زوردار دھماکا سنا گیا جہاں سے وینزویلا کا صدر نکولس ماڈورو کاراکاس میں بولیوار ایونیو کے مقام پر بولیوارین نیشنل گارڈ کی اکیاسیویں سالگرہ کے موقع پر ایک پریڈ سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر ماڈورو اس قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے مگر نیشنل گارڈ کے 7 ارکان زخمی ہو گئے۔

جنوبی عراق میں جاری احتجاجی تحریک اپنے دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکی ہے۔ 8 جولائی اتوار کے روزحکومت کی جانب سے بجلی اور صاف پانی جیسی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر احتجاج شروع ہوا۔ مظاہرین مقامی آبادی کے لیے نوکریوں کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔

13 جولائی، 2018ء کے منحوس دن برطانیہ میں 2003ء کے عراق جنگ مخالف احتجاجوں کے بعد منظم ہونے والے سب سے بڑے احتجاجوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کا استقبال کیا۔ اس احتجاج کا دیو ہیکل حجم ہی برطانوی سماج میں موجود بے پناہ غم و غصے اور بغاوت کی نشاندہی کرنے کے لئے کافی ہے۔

تھریسا مئے ابھی محض تین ہفتے قبل اپنے یورپ نواز ممبران پارلیمنٹ کی کھوکھلی بغاوت سے جانبر ہی ہوئی تھی کہ اب ایک بار پھر اپنی پارٹی کے سخت گیر انخلا پسند دھڑے سے نبرد آزما ہے، جس کی وجہ سے پچھلے سال کے عام انتخابات کے بعد سے تاحال تھریسا حکومت کا یہ سب سے بڑا اور خوفناک بحران ہے۔

ایسا ہونا طے نہیں تھا۔ نیویارک کے موجودہ کانگریس کے ممبر جو کرولی، جو کوئینز کاؤنٹی کی ڈیموکریٹک پارٹی کا سربراہ بھی ہے اور ڈیموکریٹس کے دوبارہ اکثریت میں آنے کی صورت میں اس نے ایوان کے سپیکر کے طور پر نینسی پیلوسی کی جگہ بھی لینا تھی، کو ایک 28 سالہ کارکن الیگزینڈریا اکاسیو کورٹیز نے شکست دے دی جو اپنے آپ کو ایک سوشلسٹ کہتی ہے اور DSA کی ممبر ہے۔

کل 2 جولائی کو عوام نے بہت بڑی تعداد میں میکسیکو کے عام انتخابات میں حصہ لیا۔ جس میں 18,229 عوامی نشستوں کا فیصلہ ہونا تھا، لیکن ان میں سے سب سے اہم صدارت کی نشست تھی۔ میسر معلومات کے مطابق 8 کروڑ 90 لاکھ سے زیادہ رجسٹرڈ ووٹرز میں سے یہ میکسیکو کی تاریخ کی سب سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی شرح تھی۔

امریکی ’’جمہوریت‘‘ ایک ایسی مشین ہے جسے صدیوں میں اس طرح سے کامل بنایا گیا ہے کہ چاہے جو بھی منتخب ہو بینکوں اور ارب پتیوں کے مفادات کی اچھے سے ترجمانی ہوتی رہے۔ تو پھر ڈونلڈ ٹرمپ، جو طاقت کے اصولوں کے مطابق کھیلنے سے انکار کرتا ہے، امریکہ کا پینتالیسواں صدر کیسے بن گیا؟

Upcoming Events
No events found