پیر کے دن ایک طرف یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کے افتتاح کا تماشا چل رہا تھا جبکہ اسی وقت دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی سنائپرز نے 59 فلسطینی مظاہرین کو قتل اور 2700 سے زائد کو زخمی کر دیا۔ اسرائیلی فوج کے بدترین مظالم کے باوجود، غزہ کے فلسطینیوں کی 1948ء کے فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق اور 12 سال سے جاری اسرائیلی ناکہ بندی کے خلاف عوامی تحریک ہرگزرتے دن کے ساتھ شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

منگل کے روز ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ہونے والی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی دستبرداری کے فیصلے کا اعلان کیا۔ اپنی جھوٹ، غلط بیانی اور منافقت سے بھرپور تقریر میں اس نے اعلان کیا کہ اس کی حکومت پھر سے ایران پر ’’بد ترین معاشی پابندیاں‘‘ لاگو کرے گی۔

پاکستان میں ایک نئی سیاست کا جنم ہو چکا ہے جبکہ پرانی سیاست بستر مرگ پر دم توڑرہی ہے۔ایک طویل عرصے سے یہاں کی سیاست میں صرف جھوٹ کا ہی بول بالا تھا۔ ٹی وی کے مذاکروں سے لے کر اخباروں کے کالموں تک، لیڈروں کی تقریروں سے لے کر بینروں اور پوسٹروں تک ہر طرف جھوٹ ہی جھوٹ تھا۔ہر لیڈر اور سیاسی پارٹی جلسوں اور جلوسوں میں ترقی اور خوشحالی لانے کے دعوے کرتی تھی لیکن عملی طور پر ان کی تمام تر سیاست مفاد پرستی، ٹھیکوں، رشوت خوری، کرپشن، بد عنوانی، فراڈ اور زیادہ سے زیادہ لوٹ مار پر مبنی تھی۔خواہ مذہب کے نام پر سیاست کی تجارت کرنے والی پارٹیاں ہوں یا قوم پرستی کے نام پر کاروبار چمکانے والی پارٹیاں،اسٹیبلشمنٹ کے وفادار اور پالتو سیاستدان ہوں یا مزدوروں کے نام پر ووٹ کھانے والی پارٹیاں ہر طرف ایک ہی اصول تھا کہ سیاست سب سے منافع بخش کاروبار ہے اور جو اس سے مفاد حاصل نہیں کرتا وہ بیوقوف ہے۔تمام سیاسی کارکنوں کو بھی یہی تربیت دی جا تی تھی اور انہیں بھی اپنے مفادات کے حصول کے لیے لیڈروں کے تلوے چاٹنے کی مشقیں کروائی جاتی تھیں۔ پارٹیوں کے لیڈر اپنے سے بڑے لیڈر یا پھر کسی جرنیل ، جج یا بیوروکریٹ کے سامنے یہی مشقیں دہراتے تھے جبکہ پاکستانی ریاست پر براجمان یہ حکمران سامراجی آقاؤں کے تلوے چاٹ کر اسی سلسلے کو پایہ تکمیل تک پہنچاتے تھے۔

1883ء میں جب لندن میں کارل مارکس کی وفات ہوئی تو اسے لندن کے ہائی گیٹ قبرستان میں اس کی بیوی کے ساتھ دفن کیا گیا جو دو سال قبل وفات پا گئی تھی۔ اس موقع پر مارکس کے چند قریبی ساتھی موجود تھے جن میں اس کا دیرینہ دوست، نظریاتی ساتھی اور انقلابی دوست فریڈرک اینگلزبھی تھا۔ اس موقع پراپنے مختصر مگر جامع تاریخی خطاب کا اختتام اینگلز نے ان الفاظ پر کیا تھا، ’’اس کا نام اور کام صدیوں تک زندہ رہے گا۔‘‘

سولر پینلز، واشنگ مشینوں، اسٹیل اور ایلومینیم پر بھاری محصولات لگانے کے بعد ٹرمپ اب چین سے جھگڑا مول لینے کے لئے پر تول رہا ہے۔ اس کی نئی تجاویز کے نتیجے میں60 ارب ڈالر کی چینی برآمدات متاثر ہوں گی جبکہ ان اقدامات کے نتیجے میں دنیا کی سب سے بڑی اور طاقتور ترین معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ شروع ہونے کے خطرات بڑھتے چلے جا رہے ہیں۔

6مارچ 2018ء کو پورے مہاراشٹر سے 35ہزار کسانوں نے ممبئی کی طرف زمینوں کے مالکانہ حقوق، قرضوں کی معافی، پیدا کردہ اجناس کی مناسب قیمت، آدی واسیوں کی عزت و تکریم اور زراعت کے شعبے میں بہتری(ہندوستان کی آدھی مزدور قوت اور معیشت کا 14 فیصد) کے مطالبات کے ساتھ مارچ کیا۔

اتوار کے دن ترک فوجوں نے نام نہاد شامی باغی دستوں کی مدد سے شمال مشرقی شام کے کرد اکثریتی شہر عفرین پر قبضہ کر لیا۔ اسی دوران جب مغربی میڈیا دمشق کے مضافاتی شہر غوطہ میں بشارالاسد حکومت کی اسلامی انتہا پسندوں کے خلاف جارحیت کی مذمت کرنے میں مصروف تھا، کسی نے کردوں کی خلاف اس وحشیانہ کارروائی پر کوئی توجہ نہیں دی جنہوں نے ترکی پر کبھی حملہ نہیں کیا۔

پچھلے ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹیل اور ایلومینیم کی درآمدات پر ٹیرف بڑھانے کے ارادے کا اعلان کیا جو پوری دنیا کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ عالمی معیشت کو ایک اور گہرے بحران کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

بعد كل تلك الضجة الكبيرة والدعاية والمناورات الصاخبة داخل أروقة الأمم المتحدة، ها هو ما يسمى بوقف إطلاق النار في سوريا قد فشل فجأة وبشكل مخجل ولا رجعة فيه. لقد كان في الواقع مجهضا، مات حتى قبل ولادته.

اگرچہ، دسمبر کے آخر اور جنوری میں ایران کو ہلا دینے والی تحریک بیٹھ چکی ہے اور کچھ بھی حل نہیں ہوا۔ لیکن ایک بات تو طے ہے کہ یہ تحریک دہائیوں سے پنپتے غم و غصہ اور بے چینی کا اظہار تھی۔

خواتین کے اس عالمی دن کے موقع پر ہم اپنے قارئین کے لئے عظیم انقلابی رہنما روزا لکسمبرگ کی تقریر کا اردو ترجمہ شائع کر رہے ہیں جو کہ روزا لکسمبرگ نے 1912ء میں جرمنی میں خواتین کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئی کی۔ اس تقریر میں روزا یہ بیان کرتی ہے کہ خواتین کے یکساں سیاسی حقوق کے حصول کیلئے عوامی تحریک، محنت کش طبقے کی آزادی کی عمومی لڑائی کے اظہار کے سوا کچھ بھی نہیں، اسی میں اس کی طاقت اور مستقبل پوشیدہ ہے۔

بالإضافة إلى المجموعات التي سبق ذكرها، كان هناك تيار آخر حاضر في كونفرانس براغ، وإن بصفة "غير رسمية". كانت الشرطة السرية القيصرية، الأوخرانا، قد نجحت في وضع مخبريها في أعلى مستويات المسؤولية داخل الحزب، وكان بعضهم، وبالضبط اثنين منهم، حاضرين خلال المؤتمر البلشفي التأسيسي، بدون علم بقية المندوبين. لم يكن مندوب موسكو سوى العميل المخبر السيئ السمعة: رومان مالينوفسكي، العضو في فريق الدوما البلشفي، والذي رافقه في هذه المناسبة عميل آخر هو أ. رومانوف، مندوب المنطقة الصناعية المركزية. كانت كل خطابات وقرارات الكونفرانس معروفة للشرطة بسبب تقاريرهما المفصلة. وفي محاولة لحماية أعضاء اللجنة المركزية الجديدة من خطر الاعتقال، تم استخدام أساليب سرية خاصة للحماية من الشرطة. فقد كتب كل مندوب لقب من يرشحهم لعضوية اللجنة ثم سلم الورقة إلى لينين. حتى النتيجة لم تعلن خلال الكونفرانس. لكن رومان مالينوفسكي، الذي كان مخبرا ذو مهارات عالية، كان قد قام بعمل فعال جدا لكسب ثقة لينين. نجح مالينوفسكي ليس فقط في الحصول على أسماء أعضاء اللجنة المركزية، بل وتمكن أيضا من الحصول على أسماء فريق الدوما. كان هناك مخبرون داخل جميع أجهزة الحزب في روسيا. وتعرض الحزب لسلسلة من غارات الشرطة في بيترسبورغ في فبراير ومارس 1912. وفي رسالة مؤرخة بـ 28 مارس، كتب لينين بقلق أن "أوضاعنا سيئة هناك".

MARXIST.COM HOLIDAY BREAK

In Defence of Marxism will be publishing irregularly over the holiday period, and will resume regular output on 1 September.