کئی ہفتے جارج فلائڈ کے قتل پر نسل پرستی اور پولیس تشدد کے خلاف جنم لینے والے احتجاج پورے امریکہ کو جھنجھوڑتے رہے۔ سماج کی ہر پرت نے اس تحریک کی حمایت کی۔ ایک اندازے کے مطابق امریکی یعنی تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ افراد نے کسی نہ کسی احتجاج میں کم از کم ایک مرتبہ شرکت کی۔ اگرچہ کچھ شہروں میں عوامی احتجاج ابھی بھی جاری ہیں لیکن زیادہ تر ملک میں عوامی سیلاب کا ریلا ختم ہو گیا ہے کیونکہ انہیں اس سے انقلابی راستہ نہیں ملا۔۔ فی الحال۔

مارکسی یونیورسٹی کا اختتام بھی اس کے آغاز کی طرح ناقابلِ یقین رجائیت کے ساتھ ہوا! مارکسی یونیورسٹی کے انعقاد سے لے کر اختتام تک 115 ممالک سے تقریباً 6500 افراد نے خود کو رجسٹر کرایا۔ شروعاتی سیشن کو تقریباً دس ہزار لوگوں نے دیکھا اور تقریب کے دوران تقریباً دو لاکھ اسی ہزار یوروز کے لگ بھگ چندہ بھی جمع کیا گیا۔ یہ دنیا میں کہیں بھی اعلیٰ معیار کی سیاسی بحثوں کے لحاظ سے بلاشبہ ایک حقیقی تاریخی واقعہ تھا۔ یہ سکول حقیقی مارکسی نظریات اور روایت کی قوت کا اور دنیا بھر سے اس تقریب کو کامیاب بنانے والے کامریڈز اور حامیوں کے انقلابی عزم کا ایک زبردست ثبوت تھا۔

14 جولائی کو نصف شب کے وقت پروگریسو یوتھ الائنس کراچی کے کارکن محمد امین کو ریاستی اداروں نے ان کے گھر سے اٹھا کر جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔ تب سے پروگریسو یوتھ الائنس سوشل میڈیا پر مسلسل سراپا احتجاج ہے اور اب ایک ہفتہ گزر جانے کے بعد ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کے کامیاب انعقاد کا سلسلہ بھی شروع کیا جا چکا ہے۔ ہمارا مطالبہ دو ٹوک اور واضح ہے کہ کامریڈ امین کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور اگر ان سے کوئی جرم سرزد ہوا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے۔ مگر پروگریسو یوتھ الائنس یہ سمجھتا ہے کہ کامریڈ امین کی جبری گمشدگی کوئی مخصوص اور الگ تھلگ کاروائی نہیں ہے بلکہ ریاست کی طرف سے سیاسی کارکنوں، قلمکاروں، صحافیوں اور حکومتی و ریاستی پالیسیوں کے ناقدین کے خلاف عمومی ریاستی ردعمل کا ہی تسلسل ہے۔ بیرونی دباؤ، داخلی انتشار اور معاشی تناؤ کے باعث ریاست اس قدر بوکھلاہٹ اور تذبذب کا شکار ہے کہ وہ ہلکی سی بھی تنقید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس لیے بائیں بازو کی انقلابی قوتوں کے ساتھ ساتھ دیگر ترقی پسندوں اور حتیٰ کہ دائیں بازو کے لبرل لکھاریوں کو بھی ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ آج مطیع اللہ جان کا اغوا اور پی ٹی ایم کے لیڈر فضل خان ایڈووکیٹ پر قاتلانہ حملہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس طرح کے اقدامات ریاستی طاقت نہیں بلکہ اس کی کمزوری کی علامات ہیں۔ پروگریسو یوتھ الائنس اور ریڈ ورکرز فرنٹ عوام کی جمہوری آزادیوں پر ہر قسم کے حملے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام جبری طور پر اغوا کیے گئے سیاسی و سماجی کارکنوں اور صحافیوں کو فی الفور بازیاب کیا جائے اور آئندہ کے لیے اس طرز کی غیر آئینی اور آمرانہ پالیسیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ وہ وقت گزر چکا جب کسی کو بھی غدار قرار دے کر عقوبت خانوں میں ڈال دیا جاتا تھا اور جو بھی ریاستی بیانیہ سامنے لایا جاتا تھا، عوام کی اکثریت اسے قبول کر لیتی تھی۔ اب لوگوں نے سوال اٹھانا شروع کر دیئے ہیں۔ سوال کرنے والوں کو مار دینے یا لاپتہ کر دینے سے سوال قتل نہیں ہو سکتے۔ سوال نہ صرف یہ کہ اپنی جگہ موجود ہیں بلکہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ ایک آواز دبائی جائے گی تو سینکڑوں لوگ ہم آواز ہو کر بولیں گے، سینکڑوں آوازوں کا گلہ گھونٹا جائے گا تو ہزاروں، لاکھوں اور کروڑوں آوازوں کا ہجوم حکمران طبقے کی نیندیں حرام کر دے گا۔