Urdu

انہیں کیڑے کھانے دو۔ ۔ ۔ ’’غذا اور سرمایہ داری کا مستقبل‘‘

Written by Luca Lombardi Tuesday, 08 April 2014
PrintE-mail

حالیہ دنوں میں خوراک اور زراعت کی تنظیم (FAO) نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں یہ دلچسپ خیال پیش کیا گیا کہ ’’ دنیا کو کیڑے کھانے پر قائل کیا جائے تاکہ بڑے پیمانے کی بھوک سے بچا جا سکے۔‘‘حقیقتاً آج لوگوں کو کیڑے کھلائے بغیر ان کی غذائی ضروریات پوری کی جاسکتی ہیں۔ اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ ’مارکیٹ ‘ یعنی سرمایہ داری ہے۔

 

قانونی لوٹ مار

Written by Lal Khan Wednesday, 02 April 2014
PrintE-mail

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ممالک میں سیاست کے ناخداؤں اور معیشت کے ماہرین کے پاس معاشی شرح نمو میں اضافے کے لئے بیرونی سرمایہ کاری یا فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (FDI) کا نسخہ ہی بچا ہے۔ سماج کے سب کے اہم پہلو، یعنی معیشت کے بارے میں سیاسی افق پر مسلط تمام سیاسی جماعتوں کی پالیسی مشترک ہے۔ لبرل اور سیکولر سیاستدان ہوں، شریعت کے نفاذ کی بات کرنے والی اسلامی پارٹیاں یا پھر دائیں بازو کے اصلاح پسند رجحانات، سب نیو لبرل سرمایہ داری، آزاد منڈی کی معیشت اور بیرونی سرمایہ کاری کے ذریعے معیشت کو چلانے پر یقین رکھتے ہیں۔ عمران خان ’’ڈالروں کی بارش‘‘ کروانے کے چکر میں ہیں تو جماعت اسلامی جیسی مذہبی پارٹیاں امیر اسلامی ممالک کے متعلق العنان بادشاہوں اور آمروں سے ’’اسلامی سرمایہ کاری‘‘ کروانے کی خواہاں ہیں۔ دیگر پارٹیاں چین جیسے ’’پاکستان کے دوست ممالک‘‘ کو اکٹھا کر کے سرمایہ کاری اور اقتصادی امداد کی بھیک مانگنے کا پروگرام پیش کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے ایسے لبرل سرمایہ دار اور سیاستدان ہیں جو ہندوستان سے تجارت میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ امریکی اور یورپ کی سامراجی اجارہ داریوں کو سرمایہ کاری کے لئے ’’سازگار حالات‘‘ فراہم کرنے پر بھی کم و بیش سب متفق ہیں۔

 

مایہ کی نگریہ میں جمہوریت کا بازار

Written by Lal Khan Friday, 28 March 2014
PrintE-mail

ہندوستان ’’دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت‘‘ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی بدعنوان ترین سیاست کے حوالے سے بھی مشہورہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کی جمہوریت میں دولت کی طاقت فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ امریکہ سے لے کر جنوبی افریقہ تک، تمام انتخابات پیسے کے بلبوطے پر لڑے جاتے ہیں اور اصل مقابلہ مالیاتی سرمائے کے مختلف جگادریوں کے درمیان ہی ہوتا ہے۔ آخری تجزئیے میں جیتتا ہمیشہ امیر ہی ہے اور شکست غریب کا مقدر بنتی ہے۔ یہی اس طبقاتی نظام کا دستور ہے اور اس سرمایہ دارانہ سماج میں رہتے ہوئے اس کے برعکس توقع کرنا محض خودفریبی اور دھوکہ دہی ہے۔

   

لاہور:پنجاب حکومت کو شرمناک شکست، نوجوان نرسز کی شاندار فتح

Written by Pakistan Trade Union Defence Campaign – Lahore Tuesday, 25 March 2014
PrintE-mail

نرسوں اور عوام دشمن پنجاب حکومت کا معرکہ نرسوں نے جیت لیا اور اپنے تمام مظالم اور گھناؤنے ہتھکنڈوں کے باوجود حکومت کو شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

 

لاہور: نوجوان نرسز کا احتجا جی دھرنا

Written by عاطف علی Friday, 14 March 2014
PrintE-mail

لاہور جسے پاکستان کا دل کہا جاتا ہے آج ایک بار پھر محنت کش خواتین کے احتجاج کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دو ہفتے پہلے پورے پنجاب سے لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی کئی مہینے کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پنجاب اسمبلی کے سامنے دھرنا دیا تھا۔ آج اسی پنجاب اسمبلی کے سامنے نوجوان نرسز بھی اپنے حقوق کے لئے سراپا احتجاج ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس استحصالی نظام میں جہاں مزدور کو اس کا جائز حق دینا ظالم سرمایہ دار حکمرانوں کے لیے ایک ’’گناہ عظیم‘‘ بن گیا ہے وہاں اسی حکمران طبقے کی طرف سے 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن بڑے زور و شور سے لاکھوں روپے خرچ کر کے منایا گیا اور بورژوازی کی نمائندہ خواتین کو ایوانِ اقبال میں بلا کر محنت کش خواتین سے’’ اظہار یکجہتی ‘‘کیا گیا۔ یاد رہے کہ پنجاب کے حکمرانوں نے اپنی روایتی بدمعاشی اور ہڈ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 8 مارچ کو پہلے سے طے شدہ مزدوروں کے اکٹھ کو سبوتاژ کرنے کے لیے ’’خواتین ڈے‘‘ کا ڈھونگ رچایاتھا۔ آج اسی ایوانِ اقبال کے قریب نوجوان نرسز حکمران طبقے کی منافقت کو بے نقاب کررہی ہیں۔ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر خواتین کے استحصال کے حوالے سے دوسرا سب سے خطرناک ملک قرار دیا گیا ہے۔ یہاں پر محنت کش خواتین کو طبقاتی استحصال کے ساتھ ساتھ جنسی استحصال کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ریاست کے وظیفہ خوار ملاؤں نے عورتوں کو سماج کی سب سے مظلوم پرت بنا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں ان حالات میں میں کسی محنت کش خاتون کے لئے گھر سے باہر نوکری کے لئے نکلنا بھی کسی معرکے سے کم نہیں ہے وہاں خواتین کا اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانا حکمران طبقے اور اس کے حواریوں کے لئے کیسے قابل برداشت ہوسکتا ہے؟

   

کانگریس 2014ء تصاویر میں

Written by The Struggle (Pakistan) Wednesday, 12 March 2014
PrintE-mail

دنیا بھر سے اپنے قارئین کی پر زور فرمائش پر ہم طبقاتی جدوجہد کی 33ویں کانگریس 2014ء کے دونوں دنوں کی مکمل تصاویر شائع کر رہے ہیں۔ (فوٹو گرافی: کامریڈ علی منگول)

 

سوشلزم: عورت کی نجات

Written by آمنہ فارق Friday, 07 March 2014
PrintE-mail

برسوں بیت گئے پاکستان کے عوام کی سماعتوں نے کچھ اچھا نہیں سنا۔ آنکھیں ہیں کہ ہر روز کسی نئے صدمے سے پھٹی ہی چلی جا رہی ہیں۔ احساس شل ہو چکے ہیں اور حق بولنے والوں کی زبان گونگی ہوتی جا رہی ہے اور میڈیا ہے کہ گولی، بارود، موت، جرائم، دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ جیسی لفاظی کا اس قدر عادی ہو چکا ہے کہ کہنا کچھ بھی چاہ رہا ہو اصطلاحات یہی استعمال کرتا ہے۔

   

Page 1 of 44

Home » Other languages

Related articles