Urdu

آدمی اور انسان

Written by Lal Khan Wednesday, 01 April 2015
PrintE-mail

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف صاحب نے 30 مارچ کو لاہور میں ہونے والی ایک تقریب میں اعلان فرما یاہے کہ ’’2018ء تک پنجاب کا ہر بچہ تعلیم حاصل کرے گا۔‘‘ موصوف نے یہ وضاحت بہرحال نہیں کہ وہ کسی فرقے کے مدرسے میں پڑھے گا یا کسی ’’کانونٹ‘‘ سکول میں داخل ہو گا، سرکاری سکول جائیگا یا نجلی سکول سے تعلیم خریدے گا، انگریزی میڈیم نصاب پڑھے گا یا اردو میڈیم؟ پنجابی حکمرانوں نے پنجاب میں پنجابی زبان، تہذیب اور ثقافت کو ویسے ہی قتل کر دیا ہے۔ اب پتا نہیں یہ بیان ٹاٹوں والے سکولوں کے لئے تھا یا ائیر کنڈیشنڈ فائیو سٹار سکولوں کے بارے۔ پنجاب کا ہر بچہ ایسے سکولوں میں تعلیم حاصل کرے گا جہاں پیدل فاصلے سے بچوں کو لینے کے لئے لمبی گاڑیوں کی طویل قطاریں ہوتی ہیں یا ان سکولوں میں جہاں کڑکتی دھوپ اور جما دینے والی سردی میں میلوں چل کر بچے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر ’’کمرہ جماعت‘‘ چھت سے بھی محروم ہوتا ہے۔ یہ بھی نہیں پتا کہ میاں صاحب کسی سرکاری پروگرام کا ذکر کر رہے ہیں یا پھر بچی کھچی سرکاری تعلیم کی نجکاری کے لئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ’’پرائیویٹ پبلک پارٹنر شپ‘‘ کے معجزات پر مشتمل کوئی مہم ہو۔ ویسے میاں صاحب نے یہ بھی نہیں سوچا کہ تمام بچے پڑھیں گے تو ان جیسے سیٹھ گھرانوں کی سفائیاں کون کرے گا،برتن کون دھوئے گا، گھریلو مشقت کون کرے گا؟یہ کام آخر بیگمات کے کرنے کے تو ہرگزنہیں! اور پھر ان کے طبقے کو سستی چائلڈ لیبر کہاں سے ملے گی؟

 

سپین: ’’پوڈیموس‘‘ کی ریلی میں انسانوں کا سمندر

Written by In Defence of Marxism Monday, 09 February 2015
PrintE-mail

اس سال سپین میں جنرل الیکشن کی تیاری کی مہم کا آغاز ’’پوڈیموس‘‘ (Podemos) نے 31جنوری 2015ء کو میڈریڈمیں احتجاج کی کال دے کر کیا جس میں لاکھوں لوگوں نے شرکت کی۔ یہ احتجاج یونان میں سائریزا کی جیت کے فوراً بعد ہواہے جس میں لاکھوں لوگوں نے کٹوتیوں (Austerity) کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔مظاہرین پرامید تھے کہ اس معاشی ذلت سے نجات ممکن ہے۔

 

بدلتے رشتے

Written by Lal Khan Thursday, 22 January 2015
PrintE-mail

ایک وقت تھا جب سفارش سے بڑے کام کروائے جاتے تھے۔ ان زمانوں میں منافع خوری کے لئے ذخیرہ اندوزی بھی ہوا کرتی تھی۔ آج کے زمانے میں یہ طریقے بہت ’’کمزور‘‘ ہوگئے ہیں۔ حکمران طبقے اور سامراجی کمپنیوں کی شرح منافع میں اضافہ اب ذخیر اندازی جیسے ’’قدیم‘‘ طریقوں سے ممکن نہیں رہا ہے۔ ماضی کی چوری چکاری اب معاشی ڈاکہ زنی میں بدل چکی ہے۔ ذات برادری، رشتہ داری یا دوستی کے رشتوں کو سرمائے کے جبر نے کچل دیا ہے۔ سرمائے کے بڑھتے ہوئے سماجی و اخلاقی کردار کی وجہ سے نوکریاں اب بکتی ہیں یا پھر سفارش کا تبادلہ سفارش سے کرنا پڑتا ہے۔ کام کے بدلے ہی کام ہوتا ہے۔ خونی رشتوں کی گرمائش بھی سرد پڑ گئی ہے۔ دوستیاں بڑی عریانی سے مطلب پرستی میں بدل گئی ہیں۔ باہمی گفتگو کے معیار گر کر مطلب اور ’’مقصد‘‘ تک محدود ہوگئے ہیں۔ معاشی اونچ نیچ نہ صرف سماجی رتبے کا پیمانہ بن گئی ہے بلکہ ہر رشتے میں سرایت کرکے جذبات کو مفلوج اور مادی مفادات کے تابع کررہی ہے۔

   

بربریت!

Written by The Struggle (Pakistan) Thursday, 18 December 2014
PrintE-mail

انسان کتنا ہی بے بس ہو، معاشرہ کتنا ہی بے حس ہوجائے لیکن رگ جان میں ایسے خلیے ضرور ہوتے ہیں جنہیں کوئی واقعہ سلگا دیتا ہے۔ ابتدا میں یہ کیفیت کرب اور اذیت کو جنم دیتی ہے لیکن پھر روح کے زخم بھی جاگ کر غصے کو جنم دیتے ہیں، ظلم و بربریت کے خلاف انتقام کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں۔ افراد میں بکھرا ہوا دکھ جب شریانوں میں دوڑ کر ظلم سے انتقام کی اجتماعی تڑپ کو بیدار کرتا ہے تو بکھری ہوئی گھائل بغاوت مجتمع اور بیدار ہو جاتی ہے۔

 

امریکہ: ’’کمتر برائی‘‘ کا نامراد نظریہ!

Written by John Peterson Wednesday, 10 December 2014
PrintE-mail

ذرائع پیداوار کی ذاتی ملکیت عالمی سطح پر ایک بند گلی میں داخل ہوچکی ہے۔ نظام اپنی موت آپ مر رہا ہے اور یہ صورتحال ترقی یافتہ ترین سرمایہ دارانہ ملک پر ناگزیر طور پر گہرے سیاسی اور سماجی اثرات مرتب کر رہی ہے۔ فرانسس فوکویاما، جس نے سوویت یونین کے انہدام کے بعد مشہور زمانہ ’’تاریخ کے خاتمے‘‘ کا اعلان کیا تھا، اب کہتا ہے کہ ’’امریکہ دیگر جمہوری سیاسی نظاموں کی نسبت زیادہ سیاسی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔‘‘ سادہ لفظوں میں سرمایہ داری اور اس کے ادارے سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔

   

کہاں سے آتی ہے یہ کمک؟

Written by Lal Khan Friday, 28 November 2014
PrintE-mail

امریکی وزیر دفاع چک ہیگل کے استعفے نے اس بحران کو مزید عیاں کر دیا ہے جس سے امریکی سامراج داخلی اور خارجی طور پر دو چار ہے۔ اس سے چند روز قبل امریکی پارلیمنٹ کے وسط مدتی انتخابات میں اوبامہ کی ڈیموکریٹک پارٹی کو بدترین شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بیشتر ڈیموکریٹ امیدوار تو انتخابی مہم میں خود کو اوباما اور اس کی پالیسیوں سے دور ثابت کرتے رہے۔

 

کارپوریٹ گدھ

Written by Lal Khan Monday, 24 November 2014
PrintE-mail

آج کے عہد کا سب سے گہرا تضاد انتہاؤں کو چھوتی ہوئی معاشی ناہمواری ہے۔ بہتات میں بھی قلت ہے۔ دولت کے انبار چند ہاتھوں میں مجتمع ہورہے ہیں۔ ذرائع پیداوار اور جدید ٹیکنالوجی میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ کرہ ارض پر موجود تمام انسانوں کی ضروریات سے کہیں زیادہ پیداوار کی جاسکتی ہے لیکن نسل انسان کی اکثریت غربت، محرومی اور ذلت میں غرق ہوتی چلی جارہی ہے۔ یہ کارل مارکس ہی تھا جس نے آج سے تقریباً ڈیڑھ سو سال قبل سرمایہ دارانہ نظام کی اساس واضح کرتے ہوئے لکھا تھاکہ’’ایک جانب دولت کا ارتکاز درحقیقت عین اسی وقت دوسری جانب بدحالی، مشقت کی اذیت، غلامی، جہالت، ظلم اور ذہنی پسماندگی کا ارتکاز ہے۔‘‘

   

Page 1 of 49

Home » Other languages

Related articles