عالمی سرمایہ دارانہ بحران کے باعث دنیا بھر کے نوجوانوں کے حالات اپنی پچھلی نسلوں کے مقابلے میں بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ برطانیہ میں سرمایہ دار طبقے کے نمائندہ رسالے فنانشل ٹائمز کے حالیہ آرٹیکل سے بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے۔ بحران کے باعث نوجوانوں میں ابھرتی بغاوت سے حکمران طبقہ خوف زدہ ہے۔ فنانشل ٹائمز ایک اخبار ہی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں اور امیر لوگوں کیلئے ایک رابطے کا مخصوص ذریعہ ہے۔ اپنے اِن قارئین کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور حال ہی میں یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والوں سے گفت و شنید کرنے کے بعد، فنانشل ٹائمز نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ نوجوان نسل موجودہ نظام سے بیزار کیوں ہے۔ ایک طرف تو نوکریوں کے مواقع بہت کم ہیں جیسا کہ فنانشل ٹائمز کے مطابق، اس سال او ای سی ڈی ممالک میں نوجوانوں میں بیروزگاری کی شرح 18 فیصد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ دوسرا مسئلہ ہاؤسنگ کا ہے جیسا کہ فنانشل ٹائمز اپنے قارئین کیلئے وضاحت کرتا ہے:

​​جنوبی کوریا کی حالیہ پروڈکشن سکویڈ گیم شاندار طریقے سے سرمایہ داری کی تلخ حقیقت، یعنی شدید مقابلہ بازی کو بے نقاب کرتی ہے۔ ایک جانب یہ نیٹ فلِکس کی مقبول ترین سیریز بن چکی ہے جبکہ دوسری جانب کوریا کے محنت کش عام ہڑتال کی تیاری کر رہے ہیں۔

چین کے تین شمال مغربی صوبوں میں کئی ہفتوں سے لوڈ شیڈنگ جاری ہے۔ لوڈ شیڈنگ کی یہ پالیسی آگے بھی جاری رہے گی اور اسے مزید پھیلایا جائے گا، گو کہ ابھی کے لیے یہ شمال مغرب میں سب سے شدید ہے۔ یہ صوبے چین کے سابقہ صنعتی مراکز ہیں، جو سرمایہ داری کی جانب واپسی کے بعد بے روزگاری سے تباہ ہو چکے ہیں۔ ابھی یہاں پر لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جس کے باعث پبلک سروسز اور گھرانے دونوں تباہی کا شکار ہیں۔