Urdu

دوسری عالمی جنگ کے بعد اٹلی میں اس وقت شدید ترین معاشی، سیاسی اور سماجی بحران میں ڈوبا ہوا ہے اور جیو سیپے کونتے کی حکومت مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماریو در اغی نامی شخص نجات دہندہ بن کر پہنچ گیا ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ اس بورژوا ٹیکنوکریٹ کے پاس اطالوی محنت کشوں کو درپیش مسائل کا کوئی حل موجود نہیں۔

ایران کے طول و عرض میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ دسمبر کے آغاز سے اب تک 240 ہڑتالیں اور احتجاج ہو چکے ہیں۔ احتجاج سماج کی ہر پرت میں پھیل رہے ہیں جن میں طلبہ، بازاری (تاجر)، ریٹائرڈ حضرات، بے روزگار اور ہر شعبے کے مزدور شامل ہیں۔

گزشتہ روز انڈیا سے کسان راہنما داتار سنگھ گِل کی موت کی انتہائی افسوسناک اور غمناک خبر موصول ہوئی۔ داتار سنگھ مودی سرکار کے خلاف جاری، وقت کے ساتھ پھیلتی اور مضبوط ہوتی کسان تحریک کے سرکردہ راہنماؤں میں سے ایک تھے۔ داتار سنگھ کرتی کسان یونین کے پنجاب میں صدر بھی تھے۔ ان کے خاندان، دوستوں اور کامریڈز سے ہم اظہارِ تعزیت کرتا ہوں۔

30 جنوری کو گلوبل سیکورٹی بل، نام نہاد سیپریٹ ازم بل اور ثقافتی اداروں کی جاری بندش کے خلاف پیرس اور پورے فرانس میں بڑے مظاہرے منعقد ہوئے۔ ان مظاہروں کی قیادت ہزاروں نوجوان کر رہے تھے جو بظاہر لامتناہی جاری رہنے والی وباء کے عرصے میں مسلسل ریڈیکلائز ہو رہے ہیں (چونکہ کیمپس بھی بند ہیں) اور گلی سڑی میکرون حکومت کا مقابلہ کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔

6 فروری کے دن تیونس کے دارلحکومت تونس کی سڑکوں پر ہزاروں افراد اسلامی پارٹی انّہداء کے خلاف ”عوام حکومت کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں“ کے نعرے لگاتے ہوئے امڈ آئے۔ اس وقت یہ پارٹی مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ فساد کش پولیس نے مرکزی تونس میں پہلے ہی ناکہ بندی کر دی تھی تاکہ گاڑیاں اور

...

سال 2021ء کو شروع ہوئے ایک مہینہ ہی گزرا ہے مگر یہ سال ابھی سے جدید روس کی تاریخ کا فیصلہ کن موڑ نہ بھی سہی تو بہت زیادہ اہمیت کا حامل ضرور ہے۔ روسی سرمایہ داری کے مجتمع شدہ تضادات کی وجہ سے حکمرانوں کی تمناؤں کے برعکس نیا سال، ایک نئے آغاز کی کوئی خوشخبری ساتھ لے کر نہیں آیا۔ بلکہ اس کی بجائے ان تضادات میں روز بروز شدت آتی جا رہی ہے اور یہ سوال مزید واضح ہوتا جا رہا ہے کہ مستقبل کیا ہوگا، ”سوشلزم یا بربریت؟“

میانمار کے جرنیلوں نے آنگ سان سو چی کے خلاف اچانک ’کُو‘ کر کے اس سراب کا خاتمہ کر ڈالا (جو پہلے سے ہی دم توڑ رہا تھا) کہ امریکی ریاست کی سرپرستی میں میانمار کی لبرلائزیشن ممکن ہے۔

عالمی سرمایہ داری کا حالیہ بحران انتشار، تذبذب، معاشی و سفارتی ہیجان اور سب سے بڑھ کر عوام کے روزمرہ پر تباہ کن اثرات مرتب کرنے کے حوالے سے ماضی کے تمام بحرانوں پر سبقت لے گیا ہے۔ دنیا بھر کے ماہرین معیشت، دانشور اور پروفیسر صاحبان بحران کا کوئی حل پیش کرنے کی بجائے بحران کی تما م تر ذمہ داری کرونا وائرس پر لاد کر بری الذمہ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بحران کے نتیجے میں پھیلنے والی بیروزگاری، افلاس اور بھوک کو تقدیر کا لکھا قرار دے کر ممکنہ عوامی غیض و غضب سے محفوظ رہا جا سکے۔ لیکن دوسری طرف اسی بحران کے دوران ارب پتیوں کے اثاثوں اور بینک بیلنس میں ہونے والے ہوشربا اضافوں اور قومی اور سامراجی ریاستوں کی طرف سے نظام کو بچانے کے لیے سرمایہ داروں کو دیئے جانے والے کھربوں ڈالر

...

انتونیو گرامچی 1937ء میں مسولینی کی فاشسٹ حکومت کے دوران دس سال جیل میں گزارنے کے بعد وفات پا گیا۔ اتنے سال گزرنے کے باوجود بھی، تاحال اس کے خیالات پر بحث جاری ہے اور اُن کی دوبارہ سے تشریح کی جا رہی ہے۔ گرامچی کون تھا؟ اس سوال کے ہر قسم کے عجیب و غریب اور حیرت انگیز جوابات دیے جا رہے ہیں جن میں پیٹی بورژوا تدریسی دانشوروں اور مزدور تحریک میں موجود ترمیم پسندوں کی جانب سے جعل سازی نہیں تو ابہام پیدا کرنے کی کوششیں ضرور شامل ہیں۔

ہم نے انڈیا میں جاری کسان تحریک پر کئی مضامین شائع کیے ہیں ([4] [3] [2] [1]) اور ایک کسان لیڈر کا انٹرویو بھی نشر کیا ہے۔ موجودہ مضمون میں ہم موجودہ صورتحال کا تجزیہ کرتے ہوئے سرمایہ

...

ہائیرونوموس بوش ہر دور کے لحاظ سے ممتاز ترین اور ایک حقیقی مصور تھا۔ اس کے فن پارے پانچ سو سال قبل تخلیق کیے گئے تھے لیکن آج بھی حیران کن طور پر جدید سرئیلزم کا شاہکار لگتے ہیں۔ یہ ایک ایسی پریشان حال دنیا کا آرٹ ہے جو کہ متضاد رجحانات ]کی کھینچا تانی[ کے باعث نُچی پھٹی پڑی ہے، ایک ایسی دنیا جہاں سے عقل کا چراغ گُل کر دیا گیا ہے اور جہاں درندگی کی خونخوار جبلتیں بازی جیت چکی ہیں۔ ایک دہشت، تشدد اور وباؤں سے بھری دنیا، جاگتی آنکھوں سے دیکھا جانے والا ایک بھیانک سپنا۔ مختصراً۔۔۔ایک ایسی دنیا جو کہ بالکل ہماری آج کی دنیا جیسی ہے، خاص طور پر موجودہ وباء کے جیسی۔ ایلن ووڈزؔ نے ہائیرونوموس بوشؔ کا تاریخی مادی نکتہ نظر سے جائزہ لیا ہے جو کہ پہلی مرتبہ 23 دسمبر 2010ء کو شائع ہو ا

...

2021ء کا آغاز ایک دھماکے کے ساتھ ہوا۔ اگر امریکہ میں سرمایہ دارانہ بحران کی گہرائی کے بارے میں کوئی ابھی تک شکوک و شبہات کا شکارتھا تو حالیہ واقعات نے ان کا خاتمہ کر ڈالا ہے، اور یہ تو محض شروعات ہے۔ امریکی خانہ جنگی کے ہنگامہ خیز دنوں میں بھی امریکی پارلیمان پر اس طرح کا دھاوا کسی نے نہیں بولا تھا، جبکہ امریکی صدر اس کی حوصلہ افزائی کر رہا تھا! انسدادِ دہشت گردی کی ہنگامی صورت حال میں تمام اقدامات بروئے کار لائے گئے اور راہداریوں میں آنسو گیس پھینکے گئے، اطلاعات کے مطابق کم از کم ایک شخص گولی لگنے سے مارا گیا۔ سابقہ صدر جارج بش کے الفاظ میں یہ مناظر کسی تیسری دنیا کے ملک کا نقشہ پیش کر رہے تھے، نہ کہ عالمی سامراجیت کے گڑھ کا۔

بورس جانسن اپنے بریگزٹ معاہدے کا بڑی دھوم دھام سے اعلان کرتے ہوئے ایک خوشحال اور آزاد مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔ لیکن برطانوی سرمایہ داری پر تاریک بادل منڈلا رہے ہیں اور ایک ہولناک طوفان پنپ رہا ہے۔ اس غلیظ ٹوری حکومت کو ختم کرنا پڑے گا۔

کورونا ویکسین کی مختلف اقسام کے دھیرے دھیرے گردش میں آنے سے کروڑوں عوام کے لیے امید کی کرن جاگ اٹھی ہے، جنہوں نے وباء کی وجہ سے سال کا زیادہ تر حصّہ بظاہر نہ ختم ہونے والی عمر قید میں گزارا ہے۔ دوا ساز سرمایہ داروں کے لیے صحت جیسی بنیادی سہولیات (جس کی ترقی عوام کے پیسوں سے ممکن بنائی جاتی ہے) کسی کھلی تجوری سے کم نہیں، جس کو لوٹنے کا کوئی بھی موقع وہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اس کے ساتھ ساتھ سامراجی قوتوں کی ذخیرہ اندوزی اور بڑی دوا ساز کمپنیوں کے بینک اکاؤنٹس کی وجہ سے دنیا کے غریب ترین حصوں میں ویکسین کی رسائی ممکن نہیں ہو پاتی۔

بورس جانسن اور ٹوریز نے بڑھتی ہوئی تباہی کا الزام کورونا وائرس کی نئی قسم پر لگانے کی کوشش کی ہے۔ مگر جن حالات میں عوام گھر چکے ہیں، اس کی اصل وجہ حکمران طبقے کی لاپرواہی ہے۔ ہمیں وباء کے حوالے سے ایک بے باک سوشلسٹ مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے۔