Urdu translation of Iran: The active participation of workers is necessary for final victory (3 January 2010)
چنگاری ڈاٹ کام،27.01.2010۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔(ایران میں تحریک کی شدت اور گرمی میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہاہے ۔ طاقت ریاست و حکومت کے ہاتھوں سے پھسل کر نیچے گلیوں، محلوں اور سڑکوں پر منتقل ہو چکی ہے ۔ ایک حقیقی سماجی تبدیلی کی خواہش اور جستجو ایران کے عوام کو انقلابی تحریک کی طرف دھکیلتی چلی جارہی ہے ۔ ذیل میں ہم عالمی مارکسی رحجان کے کامریڈمزیاررازی کا ایران کے محنت کش طبقے کے نام کھلا خط شائع کر رہے ہیں )۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔ ۔۔ ۔ میرے محترم محنت کش ساتھیو! ۔ ۔ ۔ آج ہم ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکے ہیں کہ جب استحصالی سرمایہ دارانہ ریاست کو اکھاڑ پھینکنے کےلئے عوام کی تحریک ایک نئی طاقت اور جرات کے ساتھ سرگرم ہو چکی ہے ۔ ایران کے محنت کش طبقے نے پچھلی تین دہائیوں کے دوران جس قدر جبر،تشدداور اذیت وذلت بھگتا ہے وہ شاید کسی اور سماجی پرت نے نہیں بھگتا ۔ ایرانی سماج میں کوئی اور سماجی قوت ایسی نہیں ہے کہ جس نے ایک بے رحم سرمایہ دارحکومت کی طرف سے معاشی، سماجی ا ور اخلاقی حملوں کا اتنی مدت تک اور اتنی شدت سے سامنا کیاہو۔ ایران میں خواہ بنیادپرستوں کی آمریت رہی ہے یا پھر نام نہاد اصلاح پسندوں کی حکمرانی، یہ آپ ایران کے محنت کش ہی تھے کہ جنہوں نے اپنے اوپر ہونے والے تمام تر حملوں کے باوجود( کہ جن میں بے روزگار کئے جانے سے لے کر اجرتوں میں کمی اور کٹوتی تک اور گرفتاریوں ، تشددسے لے کر اپنے ساتھی مزدوربہن بھائیوں کی ہلاکتوں جیسے بھیانک وسفاک حملے شامل ہیں)اس تمام کے خلاف اپنی جدوجہد کو ہر حال اور ہر حالات میں جاری وساری رکھا۔ اور یہ جدوجہد پورے تیس سالوں پر محیط ہے۔ اس سال یوم مئی کے موقع پر آپ نے جس طرح سے بھرپور شرکت کی اور تما م تر جبروتشدد کے باوجود بھی مختلف اداروںاور فیکٹر یوں میں مزدوروں کا عالمی دن منایااور ریاستی و سرمایہ دارانہ استحصال کے خلاف ہڑتالوں کو منظم اور متحرک کیا۔ آپ نے فیکٹری سکیورٹی یونٹس ، لیبر ہاﺅسزاور اسلامی لیبر کونسلوں جیسے ریاستی ڈھانچوںکی جکڑبندیوں کے خلاف جس طرح مزاحمت کئے رکھی ہے اور آپ کی اس عظیم جدوجہد کو دنیا بھر کی مزدورتحریک نے اپنے لئے مشعل راہ بھی بنایا ہے بلکہ اس کا ساتھ بھی دیا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ اس جدوجہد نے ہی ایران کی دوسری استحصال زدہ سماجی پرتوں کے بھی دل وجان کو گرمایا اور راستہ دکھایا ہے ۔ آپ ہی ایران کا وہ سب سے اہم اور معتبر سماجی طبقہ ہیں جو بلاشک وشبہ سب سے زیادہ، سب سے شاندار تاریخی تجربے کے امین ہیں۔ آج سے ٹھیک تیس سال پہلے آپ نے ہی اپنی طاقت اور تنظیم وتحریک کی مدد سے امریکی سامراج کی سب سے بڑی اتحادی بادشاہت کا تختہ اکھاڑ کر پھینک دیاتھا ۔ تیل،گیس پےیروکیمیکل ، سٹیل ، تانبے اور دیگر بڑی صنعتوں میں ہونے والی ہڑتالوں نے ہی شاہ ایران کی بادشاہت کے تابوت میں فیصلہ کن آخری کیل ٹھونکی تھی ۔ دنیا بھر کے لوگ اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں یا شعروادب کی تقریبات میں پڑھی جانے والی شاعری نہیں یا سیاسی تنظیموںکے دانشوروںکی دانش نے نہیں بلکہ صرف اور صرف ایران کے محنت کشوںکی زندہ و پائندہ شرکت و مداخلت نے ہی شاہ ایران کے تخت کا دھڑن تختہ کیا تھا۔ اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ یہ محنت کش طبقے کی اجتماعی عام ہڑتال تھی جس نے بادشاہ اور بادشاہت دونوںکو دفن کر کے تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکا تھا۔ اس حوالے سے آپ کی تاریخ سے آشنا دنیا بھر کے آپ کے محنت کش بھائی اس بات کو سمجھتے بھی ہیں ، جانتے بھی اور مانتے بھی ہیں کہ شاید یہ انیس سو سترہ میں روس کے انقلاب کے بعدکی یہ محنت کش طبقے کی سب سے بڑی اور اہم کامیابی تھی ۔ جو آپ نے ایران کے محنت کشوں کے ہاتھوں تاریخ کے صفحات میں رقم کی تھی ۔ اور آپ کی یہ عظیم الشان کامیابی دوسروں کےلئے مشعل راہ ثابت ہوئی ۔ اور آج تک مزدورطبقے اور مزدور تحریک کےلئے حوصلے اور اسباق کے سامان لئے ہوئے ہے ۔ آپ نے ہی ان دنوں میں چندہی ہفتوں کے اندراندرمحنت کشوںکی بہت بڑی بڑی کونسلیں منظم کی تھیں کہ جنہوں نے شاہ ایران کی سلطنت کے جبرواستبدادکے بظاہر مضبوط ومستحکم ڈھانچے کو دنوں میں ہی راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر کے رکھ دیا تھا ۔ اور صرف دنیا بھر کے محنت کش ہی نہیں بلکہ آج کی ایران کی سرمایہ داراور خونخوار ریاست بھی اس سے اچھی طرح واقف و آگاہ ہے کہ وہ کسی طرح کا بھی جبروتشدد کرلے، کسی بھی قسم کی پابندیاں لگالے ، کسی قسم کی بھی معاشی بربریت اختیارکرلے لیکن وہ آپ کے حوصلوں اورآپ کی طاقت کو شکست نہیں دے سکتی ۔ اور اس کےلئے یقینی طورپر آپ سب ایرانی محنت کشوں کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ۔ ہم سب آپ کی اس شاندار و جاندار جدوجہد کو سلام پیش کرتے ہیں۔ آپ محنت کشوں نے بارہ جون دو ہزار نو کے صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا ۔ مثال کے طور پرالیکشن سے پہلے بس ورکروں کی یہ پوزیشن تھی کہ ”آج بس ورکروں اور ان کے خاندانوں کو یہ ترغیب دی جا رہی ہے کہ وہ اس الیکشن میں حصہ لیں لیکن ہمیں اس کا کوئی فائدہ اور کوئی حاصل وصول نظر نہیں آرہا ۔ کیونکہ ہم مزدور تیس سالوں سے ہر قسم کے الیکشن میں حصہ لے چکے اور ان کا تجربہ کر چکے ہیں جن میں اصلاح پسند صدر خاتمی کا الیکشن بھی شامل تھا ۔(elections and labour organizations - the Union of Workers of Tehran and Suburbs Bus Company)اسی طرح ایران کی کار ساز کمپنی خودرونے بھی ، جس میں تیس ہزار کے قریب محنت کش کام کرتے ہیں ، حسب ذیل پوزیشن اختیار کی تھی”ہم خودروکے کارکن اس الیکشن میں کسی طور حصہ نہیں لیں گے ۔ ہمیں صرف اسی جمہوری الیکشن میں حصہ لینا چاہئے کہ جس میں محنت کش طبقے کے مفادات کا بھی کوئی خیال رکھا جائے ۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ الیکشن کسی طور بھی جمہوری نہیں ہوگا“۔ لہٰذاہم یہ دیکھتے ہیں کہ آپ محنت کش بھائیوں نے بجا طور پر الیکشن کی نوعیت اور کیفیت کو سمجھااور بالکل درست فیصلہ کیا کہ جون کے صدارتی الیکشن کا بائیکاٹ کیا جائے ۔ لیکن پھر اس کے بعد آپ محنت کشوں نے دیکھا کہ الیکشن کے بعد جوصورتحال سامنے آئی اس نے واقعات کے ایک مختلف سلسلے کو جنم دیا۔ اورخاص طور پر تو حالیہ ترین عاشورہ محرم کے موقع پر ہونے والے واقعات تو بالکل ہی مختلف رنگ اور انداز میں سامنے آئے ہیں کہ جو کسی طورپر بھی کسی اصلاح پسند لیڈرکی طرف سے نہیں کہے گئے تھے بلکہ ایران کے نوجوانوں کی طرف سے ہی خودروانداز میں پھوٹے ہیں۔ یہ بات بھی آپ محنت کشوں کے علم میں ہے کہ اصلاح پسند موسوی نے سوموار پندرہ جون کوہونے والی عوامی احتجاجی ریلی کو منسوخ کرنے کا اعلان کردیاتھا لیکن ایران کے نوجوانوں نے اس اعلان کو یکسر مسترد کردیا اور وہ سڑکوں پر بھی نکلے اور ریلی بھی نکالی تھی۔ ایران کا ہر اصلاح پسندلیڈرہرقسم کی کوششیں کر رہاہے کہ وہ ایران کی بالادست حکمرانی کے ساتھ اپنی اپنی پوزیشن کے حصول کےلئے کسی نہ کسی سمجھوتے کا رستہ نکال لے ۔ ان کا نہ کوئی ارادہ ہے نہ ان میں سے کسی کی یہ منشاہے کہ وہ ایران کے عوام کےلئے کسی قسم کے حقوق یا مفادات کو اپنا وطیرہ اور مسئلہ بنائیں۔ نہ ہی ان کو اس بات کی چنتا اور پرواہ ہے کہ ایران کو سچی جمہوریت سے ہی روشناس کرایاجائے ۔ دوسرے الفاظ میں ایران کے لاکھوں ،کروڑوں افراد اپنی رضا اپنی منشااور اپنی جرات کے ساتھ واقعات کا سلسلہ رواں دواں رکھے ہوئے ہیں،اور وہ بھی اپنے قدامت پسند اور مصالحت پر آمادہ لیڈروں کی حکم عدولی کرتے ہوئے ۔ اور یہ بات بھی یاد رکھی جانی اور سمجھنی چاہئے کہ یہ سبھی سرگرمیاں زیادہ عرصے تک شاید برقرار نہیں رہ سکیں گی کیونکہ اس تحریک کو ایک تجربہ کار مزدورقیادت کی کمی اور غیرموجودگی کا سامنا ہے ۔ یہ تحریک حقیقی اور بروقت نعروں کے ساتھ ساتھ مناسب تنظیم سے محروم چلی آرہی ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اصلاح پسند لیڈروں کو اس تحریک کو زائل کرنے کا موقع مل جائے گا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محنت کش بھائیواور بہنو! ۔ اس وقت کی سب سے اہم اور ناگزیر ضرورت یہی ہے کہ آپ ایک طبقے کے طورپر واقعات میں واضح اور بھرپور مداخلت کریں ۔ آپ کو اس تحریک میں قیادت کے مسئلے کو فی الفور حل کرنا اور اس خلا کو پر کرنا چاہئے ۔ ایران کے لاکھوں افراد کو آپ کی رہنمائی اور ساتھ کی ضرورت ہے ۔ ایرانی عوام کی انقلابی تحریک میںآپ کی موجودگی، آپ کی شمولیت اور آپ کی رہنمائی کا درست اور موثر اظہار فیکٹریوں اور کام کی جگہوں پر ہڑتالیں منظم کرکے ہوسکتاہے ۔ اب آپ اس پوزیشن میں ہیں کہ عوام کی جراتمندتحریک کا حصہ بنتے ہوئے اور ان کی تائید وحمایت حاصل کرتے ہوئے ، اصلاح پسند قیادت کی تنقید اور نکتہ چینی کی پرواہ کئے بغیر آپ احمدی نژاد کی حکومت کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں ۔ اب وقت آگیاہے کہ آپ اپنے مطالبات کے ساتھ تاریخ کے اس منظر میں اپناآپ سامنے لے آئیں۔ اور تاریخ و تحریک کو ایک نیا رنگ روپ، نیا جوش و جذبہ فراہم کریں۔ یہ ضروری ہے کہ آپ مربوط طریقے سے محنت کشوں کی ہڑتالی کمیٹیاں قائم اور منظم کریں ۔ ان کمیٹیوں کو آپس میں مربوط ومنسلک کرتے ہوئے آپ محنت کش مل کر ایک دن اور کوئی وقت مقرر کرسکتے ہیں کہ جب فیکٹریوں میں عام ہڑتال کی جائے ۔ اور جب ایران بھر میں مختلف فیکٹروں اور کام کی جگہوں پر باہمی مشورے اور جڑت کے ساتھ کام کو روکا جائے اور محنت کشوں کے حقیقی مطالبات سامنے لائے جائیں ۔ آپ کے پاس بیش بہا تجربات کا خزانہ بھی موجود ہے جسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے اور لایا جانا چاہیے۔ ابھی کچھ سال پہلے اصفہان کی باریش فیکٹری اور پچھلے سال ہفت تاپہ فیکٹری، کردستان ٹیکسائل ملزاور ایران خودرو فیکٹری میں ہونے والی ہڑتالیں وغیرہ وہ سب تجربے ہیں جن کو سامنے رکھتے ہوئے محنت کش پیش قدمی کرتے ہوئے تحریک میں شامل ہو سکتے ہیں اور اس کی قیادت بن سکتے ہیں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محنت کش ساتھیو! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہڑتال کا حق دنیا کے ہر ایک مزدورکا انتہائی بنیادی حق ہے ۔ اور اس مطالبے کو تب تک استعمال میں اور کام میں لایا جاسکتا ہے کہ جب تک سبھی محنت کشوں کے سبھی مسائل حل اور مطالبات پورے نہیں ہو جاتے۔ ہمہ قسم ٹریڈ یونین مطالبات مثال کے طورپر غیراداکردہ اجرتوںاور پنشنوں وغیرہ کی فوری ادائیگی۔ اسی کے ساتھ جمہوری مطالبات جن میں سبھی سیاسی قیدیوں پر مقدمات کے خاتمے اور اسیروں کی فوری رہائی، اظہارکی آزادی، ملنے اور اجتماع کرنے کی آزادی، پریس کی آزادی اور ہڑتال کرنے کے حق کی آزادی اور آزادانہ مزدورتنظیمیں قائم کرنے اور ان کے کام کرنے کے حق جیسے مطالبات شامل ہیں ، جنہیں سامنے لایا جاسکتاہے ۔ ان سبھی مطالبات کو دوسرے عبوری مطالبات کے ساتھ جوڑاجاسکتاہے اور جوڑا بھی جائے یعنی ورکروں کے کنٹرول اورافراط زر کی شرح کے ساتھ ساتھ اجرتوں میں اضافہ وغیرہ۔ اگر حکومت ان جائز اور بنیادی مطالبات پر چشم پوشی یا انہیں تسلیم اور نافذکرنے سے انکار کرتی ہے تو آپ کام کو روک دینے کا حق استعمال کر سکتے ہیںاورفیکٹریوں سمیت کام کی جگہوں پر مزدوروں اور کارکنوںکاکنٹرول قائم کرتے ہوئے بے کار قسم کے مینیجر وں کو بے دخل کردیاجائے ۔ پیداواراور اس کی ترسیل کا فریضہ سبھی محنت کش خود اپنے ذہنوں اور ساتھیوں کی باہمی مشاورت کے ساتھ اپنے کنٹرول میںلے سکتے ہیں ۔ شاہ ایران کے خلاف تحریک کے دوران بھی ایران کے محنت کشوں نے یہی کچھ بآسانی کردکھایاتھا اور تب انہیں اس کا تجربہ بھی نہیں تھا لیکن انہوں نے چند ہی دنوں میں ایسا کر کے دکھا دیاتھا ۔ اب بھی ایسا ہوسکتاہے اور کوئی سابقہ تجربہ نہ ہوتے ہوئے بھی محنت کشوں کی کونسلیں قائم کرتے ہوئے ورکروں کا جمہوری کنٹرول قائم کیا جاسکتاہے ۔ شاہ ایران کی وحشی حکمرانی کے خلاف محنت کش طبقے کے انقلاب کرنے کا تجربہ ان پر یہ راز کھول گیاتھا کہ وہ یہ بھی کرسکتے ہیں اور وہ بھی ۔ اور وہ بھی ایک انقلاب کے کامیاب نتیجے کے ساتھ۔ اب اور آج کہ جب سرمایہ داری کی دلال حکومت ٹوٹ پھوٹ کا شکارا ور انتشارکی زد میں آچکی ہوئی ہے ۔ اور ایسے میں کہ جب لاکھوں کروڑوں افراد اس جابرانہ حکومت سے بر سرپیکار ہونے کےلئے ہر قسم کے جبروتشددکے خوف سے آزادہوکر اس کا مقابلہ کرتے اور اس کو کمزورکرتے ہوئے سڑکوں پر نکلے ہوئے ہیں اور نکلتے آرہے ہیں ۔ ایسے وقت ‘ ایسی کیفیت میں ایران کے عظیم محنت کش بھی اپنے مطالبات سامنے بھی لا سکتے ہیں اور انہیں جیت بھی سکتے ہیں۔ محنت کش ساتھیو! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کے عملی اقدامات ایران کے نوجوانوں کو نہ صرف حوصلوں بلکہ جدوجہدکے نئے راستوں سے روشناس کراتے چلے جائیں گے۔ آپ کی شمولیت اور مداخلت سے ایران کی نوجوان نسل اپنی انقلابی سرکشی کے جذبے کو نام نہاد اصلاح پسند قیادت سے فوری طورپر الگ کر لے گی۔ اور جلدہی یہ تحریک ریڈیکل مطالبات کے گرد منظم ومتحرک ہو جائے گی ۔ ساتھیو! ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آپ کا ہر قدم، ہر ایک قدم حال میں جاری تحریک کو ایک بالکل نئے مستقبل سے روشناس اور مزین کراسکتاہے ۔ اپنے دفاع کے نام اور نعرے کے ساتھ ایران کے لاکھوں افرادکے جمہوری حقوق کی جدوجہد کی حماےت کی حامل ایک اجتماعی عام ہڑتال کا آپ کا عمل نہ صرف ایران کے عوام بلکہ سارے خطے اور ساری دنیاکے مظلوم طبقات کےلئے وقت کی سب سے اولین سب سے اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔










