مشعل کی شہادت پاکستان میں ابھرتی ہوئی طلبہ تحریک میں ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ مشعل کی جدوجہد اور قربانی کو سرخ سلام پیش کرتے ہیں اور یہ عزم کرتے ہیں کہ اس کی جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ مشعل کا قتل پولیس، فوج اور سیکیورٹی سمیت اس ٹوٹ کر بکھرتی ریاست کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مشعل کا بہیمانہ قتل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پولیس، فوج سمیت تمام ادارے ناکام ہوچکے ہیں۔ تعلیمی اداروں کی سیکیورٹی طلبہ کو اپنے ہاتھ میں لینی ہوگی۔ مشعل کی جدوجہد کو جاری رکھنا ہمارا انقلابی فریضہ ہے۔ مشعل کے بہیمانہ قتل میں شریک پولیس، فوج، یونیورسٹی انتظامیہ اور دہشت گرد طلبہ تنظیموں کے افراد کو فوری سزائے موت دی جائے ۔مشعل کا قاتل یہ سرمایہ دارانہ نظام اور اس کا حکمران طبقہ ہے اور اس نظام زر کو اکھاڑ پھینک کر ہی مشعل کے خون کا حقیقی بدلا چکایا جا سکتا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی مشعل اس طرح کے ہتھکنڈوں کے استعمال سے قتل نہ کیا جائے۔مارکسزم کے نظریات ہی انسانیت کو درپیش مسائل کا درست حل پیش کرتے ہیں اور مشعل کے کمرے میں لگے مارکس اور چی گویرا کے پوسٹر مشعل کے نظریات کی غمازی کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں جمعیت اور دیگر غنڈہ گرد تنظیمیں ریاستی پشت پناہی کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور ان کا ایجنڈاطلبہ کو اپنے حقیقی مسائل کے خلاف جدوجہد سے روکنا ہے۔ طلبہ یونین کی انقلابی بنیادوں پر فوری بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مفت تعلیم اور روزگار ہمارا حق ہے اور یہ حق حکمران طبقے سے چھین کر لینا پڑے گا۔مشعل کی راہ پروگریسو یوتھ الائنس کی راہ ہے اور آخری فتح تک ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے۔ ان خیالات کا اظہار 22اپریل کو الحمرا آرٹس کونسل میں ہونے والے پروگریسو یوتھ الائنس(PYA)

دودھ کا دودھ اورپانی کا پانی ہو چکا۔ مشال کے قتل کے اصل محرکات چھپانے کی ہر کوشش بری طرح ناکام ہو ئی ہے۔ اس ناکامی سے دلبرداشتہ پالیسی سازوں نے اب پاناما کیس اور دیگر نان ایشوز میں عوامی غم وغصے کو زائل کرنے کی واردات شروع کر دی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مٹھی بھر جنونی ملاؤں اور مذہبی وحشیوں کے علاوہ آبادی کی بھاری اکثریت نے مشال خان کے قتل پر نہ صرف خون کے آنسو بہائے ہیں بلکہ ریاست، نظام، حکمرانوں، ملاؤں اور سیاستدانوں کے خلاف دل کھول کر نفرت اور حقارت کا اظہار بھی کیا ہے۔ جوں جوں مشال خان قتل کیس میں پیشرفت ہو رہی ہے یہ غم و غصہ کم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یاد رہے کہ شروع میں اس بہیمانہ واقعے کی خبر کو ہی دبانے کی کوشش کی گئی تھی۔ لیکن دوسرے دن جونہی یہ خبر اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچنا شروع ہوئی تو زیادہ تر لوگوں کا پہلا ردِ عمل اس واقعے کے ذمہ داران کے خلاف نفرت اور مشال خان سے ہمدردانہ جذبات پر مبنی تھا۔ اس میں یہ بات خاص طور پر قابلِ ذکر ہے کہ مشال خان بے گناہ ہے اور اس نے کسی قسم کی توہینِ مذہب کا ارتکاب نہیں کیا، یہ بات تیسرے یا چوتھے دن جا کر واضح ہوئی تھی۔ پہلا عوامی ردِ عمل ان سب باتوں سے قطع نظر بحیثیتِ مجموعی مشال خان کی حمایت میں ابھرا۔ مشال خان کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والوں نے توہینِ مذہب کے اس قانون کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کا فیصلہ شاید اس لیے کیا ہو گا کہ اس سے وہ یکطرفہ طور پر عوامی حمایت جیتنے میں کامیاب ہو جائیں گے، کوئی اس قتل کے حوالے سے سنجیدہ

يوم الأحد 05 فبراير، تحركت آلة النظام الدكتاتوري القمعية، مرة أخرى، لتكسر عظام المحتجين في منطقة الريف، شمال المغرب. حدث ذلك، حسب ما جاء في بيان لجنة الإعلام والتواصل للحراك الشعبي بإقليم الحسيمة، على اثر دعوة نشطاء الحراك الشعبي بالحسيمة لتخليد ذكرى رحيل عبد الكريم الخطابي، «عبر تجمعات حاشدة بساحة (كالا بونيطا)، والتي كان يفترض فيها تقديم الوثيقة النهائية لمطالب الساكنة [...]».

أطلقت تركيا للمرة الأولى حملة للتدخل العسكري المباشر في سوريا وأرسلت الدبابات والطائرات الحربية، عبر الحدود، في حملة منسقة مع مقاتلي المعارضة السورية، لاستهداف مواقع تسيطر عليها داعش، وخاصة بلدة جرابلس الإستراتيجية.

أصدرت رابطة العمل الشيوعي، الفرع المغربي، للتيار الماركسي الأممي، العدد الثاني من جريدة الثورة (مارس 2016) والذي تضمن مقالا حول الموقف من حزب الله في ضوء تصنيفه كتنظيم إرهابي من طرف مجلس وزراء داخلية العرب، وردود فعل التنظيمات اليسارية المعبرة عن إدانتها لهذا التصنيف او المتضامنة مع حزب الله، إضافة الى مقال مفصل عن الحرب في سوريا، وكذلك مقال آخر عن استحالة استمرار الرأسمالية وضرورة الاشتراكية بديلا جذريا وواقعيا ونهائيا لكل المآسي التي أتت بها الرأسمالية، ومقالات أخرى

بكل سرور نزف نحن موقع ماركسي إلى قراءنا والمتعاطفين معنا وعموم الطبقة العاملة والمناضلين الاشتراكيين الثوريين واليساريين والنقابيين في العالم العربي بأسره، خبر إصدار مناضلي رابطة العمل الشيوعي، الفرع المغربي للتيار الماركسي الأممي، للعدد الأول من جريدة "الثورة" وهو الاسم الجديد الذي اختاره الرفاق لجريدتهم وننشر هنا افتتاحية ومحتويات العدد الأول

أيها العمال الطليعيون، أيها الشباب والمثقفون الثوريون، نضع بين أيديكم هذا العدد الجديد من جريدتكم الشيوعي، بعد فترة توقف عن الصدور سببها الإكراهات الهائلة التي تواجه الإعلام الثوري في ظل ظروف النضال الصعبة التي تعرفونها. إن وعينا، في هذا المرحلة العاصفة، التي نشهدها محليا وجهويا وعالميا، بأهمية النظرية ونشر الأفكار الماركسية الثورية هو ما يجعلنا مصرين رغم كل الصعاب على إصدار جريدتنا لتقدم منظورا ثوريا وبديلا اشتراكيا للعمال الطليعيين والشباب الثوري الباحث عن بديل، لأن وضوح الرؤية هو الضمانة ضد السقوط في مستنقع الإحباط والعبثية والكلبية والانحطاط الأخلاقي والمعنوي.

أعلن رئيس الوزراء اليوناني أليكسيس تسيبراس للتو أنه سيتنحى عن منصبه. لقد خسر أغلبيته البرلمانية وحدث الانشقاق داخل حزب سيريزا مع إعلان زعيم الجناح اليساري، لفازانيس، عن تشكيل حزب جديد: حزب الوحدة الشعبية. وفي خطاب متلفز له الليلة الماضية قال تسيبراس إن حكومة سيريزا تقدم استقالتها وتدعو لانتخابات مبكرة، وقال إنه ما يزال على اليونانيين مواصلة النضال لكن اليونان "ملزمة بالالتزام" بما يسمى بحزمة الإنقاذ الأخيرة. ما الذي يعنيه هذا؟

في شهر غشت 1914، غرقت أوروبا في حرب دفعت العمال إلى مواجهة بعضهم البعض. نتج ذلك الصراع عن المنافسة بين كتلتين إمبرياليتين متصارعتين عازمتين على غزو الأسواق ومصادر المواد الخام والسيطرة السياسية على المستعمرات. جمعت الكتلة الأولى (فرنسا وبريطانيا) القوى المكتفية والتي تحس بالإشباع نتيجة النهب الاستعماري والتي كانت تريد الحفاظ على هذه السيطرة؛ وتحالفت مع الإمبريالية الروسية، "سجن الشعوب" التي كانت لديها طموحاتها التوسعية الخاصة.

قبل 100 عام، في الخامس من شتنبر 1915، اجتمعت مجموعة صغيرة من الاشتراكيين الأمميين في قرية سويسرية صغيرة تدعى زيمروالد. وكانت هذه هي المحاولة الأولى لتوحيد هؤلاء الاشتراكيين الذين كانوا يعارضون الحرب.