کینیڈا: ڈاک مزدوروں پر حملہ؛فوری یکجہتی کی اپیل!

کینیڈئن یونین آف پوسٹل ورکرز (CUPW) کے 50 ہزار ممبران 22 نومبر سے سلسلہ وار ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ ٹروڈو کی لبرل حکومت نے ایک نام نہاد قانون ’کام پر واپسی‘ پارلیمنٹ میں پیش کیا ہے جس سے ہڑتالوں کا یہ سلسلہ غیر قانونی ہو جائے گا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ کینیڈا میں ہڑتال کا حق غصب کیا جا رہا ہے۔ جیسے ہی ایک ہڑتال مؤثر ہوتی ہے، اسے غیر قانونی قرار دے دیا جاتا ہے۔ لیکن ڈاک مزدور شدید غم و غصے میں ہیں اور قوی امکانات ہیں کہ وہ اس قانون کی کھلی خلاف ورزی کریں گے۔ اس سلسلے میں فوری یکجہتی درکار ہے تاکہ CUPW کے مزدوروں میں یہ احساس مضبوط رہے کہ وہ جدوجہد میں اکیلے نہیں اور کینیڈئن اور عالمی محنت کش ان کے ساتھ بھرپور حمایت میں کھڑا ہے۔

[Source]

اس ہڑتال کے بنیادی مطالبات میں شہری اور دیہی ڈاک مزدوروں میں تنخواہ کی عدم مساوات ہے جس کا سب سے زیادہ شکار خواتین ہیں اور بے تحاشا کام اور جبری اوور ٹائم کے نتیجے میں رونما ہونے والے جسمانی نقصانات ہیں۔ اس وقت ہر چار میں سے ایک کی شرح کے ساتھ کینیڈئن پوسٹ مزدور اس سیکٹر میں سب سے زیادہ زخمی ہونے والے مزدور ہیں۔ مزدور حکومت کی بے حسی سے تنگ آ چکے ہیں اور اب ان مذاکرات کے ذریعے ان مسائل کے مستقل حل کے لئے پرعزم ہیں۔

ضرورت سے کم مزدور نوکری پر رکھنے کی پالیسی کس قدر تباہ کن ہے اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ سلسلہ وار ہڑتالوں کی محدود حکمت عملی اور اوور ٹائم پر پابندی کے نتیجے میں تمام ڈاک خانوں کو ایک مخصوص بندش کا سامنا ہے اور اب تک کینیڈا پوسٹ کئی سو ملین ڈالر کا نقصان اٹھا چکی ہے۔

’کام پر واپسی‘: ہڑتالی عمل کے حق پر حملہ

کینیڈا پوسٹ ایک عوامی کارپوریشن ہے جو ویسے تو آزاد تصور کی جاتی ہے لیکن حقیقت میں حکومت کا اس پر بے پناہ اثرورسوخ ہے۔ بڑے کاروباری کرسمس سیل کے دورانیے میں آنے والے سب سے زیادہ سیل والے دن ’بلیک فرائی ڈے‘سے پہلے حکومتی کاروائی کا چیخ چیخ کر مطالبہ کر رہے ہیں۔ ہڑتالوں کی وجہ سے ایمازون اور دیگر کینیڈا پوسٹ پر منحصر کمپنیوں کی سیل میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ ٹروڈو لبرل حکومت مزدوروں کو کچلنے کی تیاریاں کرتے ہوئے ایک بار پھر ثابت کر رہی ہے کہ وہ حقیقت میں بڑے کاروباریوں کے ملازم ہیں۔ ان اقدامات کے برعکس ٹروڈو اپنے آپ کو مزدوروں کا ہمدرد بنا کر پیش کرتا رہتا ہے اور اس نے 2011ء میں ہارپر کنزرویٹیو حکومت کے CUPW کے خلاف ملتے جلتے اقدام کی مخالفت کی تھی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ جس دن وفاقی لبرل حکومت نے اعلان کیا کہ ڈاک مزدوروں کے لیے خزانہ خالی ہے، اس سے محض ایک دن پہلے بڑے کاروباروں کے لئے 16 ارب ڈالر کی ٹیکس چھوٹ کا اعلان کیا گیا۔ یہ خوفناک تضاد مزدور تحریک میں موجود سرگرم کارکنان کے لئے واضح پیغام ہے جو پچھلے چند سالوں میں لبرلز کی حمایت کرتے آئے ہیں۔

کام پر واپسی قانون ایک ایسا شکنجا ہے جو ہر گزرتے دن کے ساتھ کینیڈا میں مشترکہ سودے بازی کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ پبلک سیکٹر میں موجود مالکان کو سودے بازی کا کوئی شوق نہیں اور وہ سکون سے بیٹھ کر انتظار کرتے رہتے ہیں کہ کب حکومت کسی ہڑتال کو غیر قانونی قرار دے گی۔ مزدوروں کی کمر توڑنے کے لئے اب یہ ہتھیار نجی سیکٹر میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کے قوانین ہڑتالوں کی معیاد کو کم نہیں کرتے۔ اس کے برعکس ان غیر جمہوری قوانین نے مزدوروں کے اضطراب میں اور زیادہ اضافہ کیا ہے۔ صورتحال یہ ہو چکی ہے کہ مزدوروں کے حل طلب مسائل کی موجودگی میں ہڑتال کی حمایت میں 80فیصد، 90 فیصد یہاں تک کہ 100 فیصدووٹ ڈلنا عام بات ہو چکی ہے۔ موجودہ ہڑتال کی حمایت میں CUPW کو 95 فیصد ووٹ ملے اور ایک مزدور دشمن قانون اتنی آسانی سے موجود غم و غصے کو تحلیل نہیں کر سکے گا۔ یہاں اب سوال یہ ہے کہ کیا مزدوروں کے مسائل ابھی حل ہوں گے یا پھر انہیں لٹکا دیا جائے گا تاکہ ان کا رد عمل چند سال بعد اور زیادہ شدت سے پھٹ کر سامنے آئے۔

بدقسمتی سے ابھی تک کینیڈئن یونینز کی قیادت نے مزدوروں کو مایوس ہی کیا ہے۔ عام ممبران کے غصے کے باوجود انہوں نے ابھی تک کام پر واپسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی۔ اب صورتحال یہ بن چکی ہے کہ ہڑتال کرنے کے حق کو غصب کرنا معمول بنتا جا رہا ہے۔ معیار زندگی گرتا جا رہا ہے اور مالکان مزدوروں پر خدا بنے بیٹھے ہیں۔ یہ صورتحال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کوئی ایک یونین ہمت کر کے اس قانون اور ریاست کی خلاف ورزی نہیں کرتی۔ یونین اشرافیہ ایک ہی راگ الاپ رہی ہے کہ ابھی اس اقدام کا وقت نہیں آیایا مزدور ابھی تیار نہیں ہیں۔ وہ مزدوروں کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنا خوف چھپاتے ہیں۔ لیکن کینیڈا پوسٹ کی ہڑتال میں واضح ہے کہ عام ممبران آخری حد تک جدوجہد کرنے کے لئے تیار ہیں۔ ڈاک خانوں پر قبضہ اور بغیر اجازت کام چھوڑ ہڑتال کے واقعات خود رو ہوتے جا رہے ہیں۔ یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ ’اگر ابھی نہیں تو پھر کب؟ اگر CUPW نہیں تو پھر کون؟‘۔ یہ ہڑتال ڈاک مزدوروں کی ہڑتال سے بڑھ کر تمام مزدوروں کے ہڑتال کے حق کی جدوجہد بن چکی ہے۔ ’’ایک مزدور عورت کی ایک ہی کام کے لیے مرد مزدور سے کم اجرت ناقابل قبول‘‘ کی ہڑتال بن چکی ہے۔ ’’مزدور اپنے اجسام کو کاروباریوں کے منافعوں کے لئے قربان نہیں کریں گے‘‘ کی ہڑتال بن چکی ہے۔

کام پر واپسی قانون کینیڈئن چارٹر کی روح کے خلاف ہے ، اس موقف پربارہا یونینز عدالتوں میں کیس جیت چکی ہیں ۔ 2011ء میں بھی CUPW کیس جیتی تھی۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کورٹ کا فیصلہ ہونے تک اس مزدور دشمن قانون کی پاسداری کی جائے۔ جب یونینز ان غیر قانونی قوانین کی پاسداری کرتی ہیں تو اس اقدام سے مزدور تحریک کو نقصان پہنچتا ہے اور کئی سال بعد حق میں آیا فیصلہ بھی کوئی مسئلہ حل نہیں کر پاتا۔ یونین ہڑتال کو جاری رکھتے ہوئے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرے گی بلکہ یہ حکومت ہے جو اس قسم کے قوانین منظور کر کے قانون توڑ رہی ہے۔ انیسویں صدی میں کینیڈا میں تمام یونینز غیر قانونی تھیں۔ یونین ممبران کو ’اجرتوں میں اضافے کی سازش‘کی پاداش میں گرفتار کر لیا جاتا تھا۔ اگر مزدوروں نے ان قوانین کی خلاف ورزی نہ کی ہوتی تو آج ایک بھی یونین موجود نہ ہوتی۔

CUPW مزدوروں کے ساتھ بھرپور یکجہتی!

ایک گزشتہ مضمون میں ہم نے واضح کیا تھا کہ CUPW کی شاندار لڑاکا روایات موجود ہیں جیسے کہ

’’ 1974-1976ء کے عرصے میں CUPW نے غیر قانونی ہڑتالیں کیں جن کے نتیجے میں کم اجرتی روزگار پر موجود خواتین کو مردوں کے برابر اجرت کا حق دیا گیا۔ 1978ء میں ٹروڈو سینئر کے ساتھ کئی مہینوں کے ناکام مذاکرات کے بعد ایک قانونی ہڑتال کی گئی ۔ جس دن یہ ہڑتال کی گئی اسی دن کام پر واپسی قانون داغ دیا گیا۔ قانون کی پاسداری کے بجائے مزدوروں نے اس کی مخالفت کا فیصلہ کیا جس کی پاداش میں CUPW کے قائد جان کلاڈ پیرو کو تین مہینوں کے لئے جیل بھیج دیا گیا۔ 1981ء میں CUPW نے دوران زچگی اجرتی چھٹی کے حق کے لئے ایک بار پھر ہڑتال کی۔ مزدوروں کی مزاحمت کے خوف سے۔۔ایسے افراد جو کسی قانون کو توڑنے پر خوفزدہ نہیں تھے۔۔منیجمنٹ نے فوری طور پر مطالبہ منظور کر لیا جس کے بعد CUPW کینیڈا کی وہ پہلی یونین بن گئی جس نے اپنے ممبران کے لئے دوران زچگی اجرتی چھٹی کا حق جیتا۔ اگر کسی ایک یونین کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ بغاوت اس کی سرشت میں ہے تو وہ CUPW ہے۔ یہی وجہ سے کہ ٹروڈو کو یہ ہڑتال توڑنے کی بہت جلدی ہے۔ اس کو امید ہے کہ کینیڈا کی روایتی طور پر سب سے زیادہ لڑاکا یونین کی ہڑتال توڑ کر دیگر یونینز کو مایوس کیا جا سکتا ہے‘‘۔

اس روح پرور کہانی اور مزدوروں کے جدوجہد کرنے کے عزم کے ساتھ ساتھ یہ امکانات بھی موجود ہیں کہ یونین کی موجودہ قیادت کینیڈئن یونینز کے سرنگوں ہونے کی روایت کو توڑ ڈالے۔ موجودہ CUPW کا صدر مائک پلیسیک جوانی میں کینیڈئن IMT کے پیپر ’فائٹ بیک‘ کا باقاعدہ لکھاری تھا جس دوران اس نے کئی مرتبہ کام پر واپسی قانون کی مخالفت کی۔ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہم CUPW میں موجود ان افراد کی حمایت کریں جو ٹروڈو حکومت کے غیر جمہوری حملے کے سامنے جھکنا نہیں چاہتے۔ CUPW کی پوری قیادت کو ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہوئے ممبران کے مفادات کا تحفظ کرنا ہو گا۔ وقت آ گیا ہے کہ بڑے کاروباروں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دیا جائے۔

یہ بھی اہم ہے کہ مزدور تحریک CUPW کی حمایت میں متحد ہو۔ کینیڈئن لیبر کانگریس (CLC) کو فرض شناسی کے ساتھ عوامی احتجاج اور یکجہتی ہڑتالیں منظم کرنی چاہیے۔ جن یونینز کے حقوق پامال کیے گئے ہیں انہیں ہراول دستے کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ایک قابل ذکر تحریک بنتی ہے تو پھر ٹروڈو حکومت کو پسپائی اختیار کرنی پڑے گی۔ ان کے پاس یونین مخالف اقدامت کا کوئی حق موجود نہیں اور وہ 2019ء کے قومی انتخابات کی تیاریوں کے لئے بائیں بازو کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔ CLC کو فوری طور پر ایک فنڈ کا اجراء کرنا چاہیے تاکہ CUPW کی غیر قانونی ہڑتالوں کے نتیجے میں ممکنہ جرمانوں اور قانونی کاروائیوں میں امداد کی جا سکیں۔ ہر جگہ ڈاک مزدوروں کی حمایت میں یکجہتی کمیٹیاں بنانی چاہیے اور CUPW کو ہر کام کی جگہ پر اپنے نمائندے بھیج کر مزدوروں کی وسیع تر پرتوں کو جدوجہد کا حصہ بنانا چاہیے۔ ایک کا دکھ سب کا دکھ ہے اور CUPW اس وقت ہر مزدور کے ہڑتال کے حق کے لئے جدوجہد کر رہی ہے۔

یہ صرف ایک قومی ہڑتال نہیں ہے بلکہ ایک عالمی تحریک ہے۔ پوری دنیا میں اس وقت ڈاک محکموں کو نجکاری اور کٹوتیوں کا سامنا ہے۔ مزدوروں پر جبری کفایت شعاری مسلط کی جا رہی ہے اور ان کے ہڑتال کے حق کو غصب کیا جا رہا ہے۔ اگر کینیڈا جیسے نام نہاد ’جمہوری‘ ملک میں ہڑتال کا حق غصب کر لیا جاتا ہے تو ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ باقی دنیاکے مزدوروں کے لئے اس کے کیا نتائج ہوں گے۔ ہڑتال کی وجہ سے کینیڈا پوسٹ کو پوری دنیا سے ڈاک آنا بند ہو گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ پوری دنیا سے یکجہتی آنا بھی بند ہو جائے!

ہم اپنے حامیوں، چاہے چیدہ چیدہ افراد ہوں یا مقامی یونین ممبران، نوجوان تنظیموں یا پارٹی ممبران، سب سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کینیڈا پوسٹ کے لئے یکجہتی پیغامات بھیجیں۔ مہربانی فرما کر اعلان کریں کہ:

1۔ ہم خواتین کے لئے یکساں اجرت اور زخمی ہونے کے بحران کے خلاف آپ کی جدوجہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

2۔ محنت کش طبقے کا سب سے اہم حق ہڑتال کا حق ہے۔ ہم غیر جمہوری ’کام پر واپسی‘ قانون کی خلاف ورزی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔

3۔ آپ اکیلے نہیں ہیں، ہم آپ کی ہر ممکن مدد کریں گے، ’ایک کا دکھ سب کا دکھ!‘

یہ پیغامات مندرجہ ذیل پتوں پر ارسال کریں:
CUPW: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Mike Palecek: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
Labour Fightback: This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ہم ہڑتال پر موجود مزدوروں تک یہ پیغامات پہنچائیں گے۔